Pages

Monday, 9 April 2018

خود_کلامی

ہم بھی عجیب ہیں۔
اتنے عجیب کہ بس!!
جہالت کا نام معصومیت رکھ چھوڑا ہے۔
شعور کا چالاکی
آزادی اظہار پر قدغن لگا کر "تربیت" کرتے ہیں
اور منافقت معاشرتی اقدار کہلاتی۔ 
چوں چوں کا مربہ ترتیب پانے کے بعد خاندانی نظام کہلاتا ہے۔
اور استحصال کا نام ہے محبت۔

ہم بھی عجیب ہیں۔

منیر نیازی کہتا ہے۔

اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہیے

پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہیے۔

#خود_کلامی


جگنو کے لیے



خوبصورتی کے سارے استعارے معصومیت کے سارے نام۔ جگنو کے لیے۔
پتا ہے آج میں نے فیلنگ پھپھو کیوں نہیں لگائی کیونکہ آپ کا میرا تعلق ہر زمینی رشتے سے اوپر ہے۔
ممکن ہے یہ بات آپ کو سمجھ نہ آئے کچھ سال لیکن جب سمجھ آئے گی تو مجھے یقین ہے آپ کو اچھا لگے گا پارو جگنو۔آپ آنا کی تتلی ہو۔ جس کے پروں کے رنگ محبت کی کہانیوں میں گھلے ہوئے ہیں اور جس کی مسکراہٹ زندگی کی دھوپ چھاؤں میں دھنک بن کر آنا کے تخیل کو نئے رمز سکھاتی ہے۔
میری خواہش ہے آپ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور اس پر آنکھ کا خوبصورت تاثر اتنا گہرا اتنا مستقل ہو کہ آپ کسی اور تاثر کو یاد نہ کر سکیں۔
کچھ مہینے پہلے جب آپ بیمار ہوئیں تھیں تو میں نے ایک کہانی لکھی تھی جو کبھی کسی کو نہیں پڑھوا سکی۔ اس کا کچھ حصہ یہاں لگاتی ہوں شائد میں اور آپ سمجھ سکیں آنا کے لیے جگنو کتنا پیارا ہے۔

آئیم سوری ایمل۔
میں بالکل اچھی آنا نہیں ہوں۔
کل جب آپ کو انجیکشن لگتے دیکھا تو دل پہ گھونسا پڑنے کا مطلب سمجھ آیا تھا۔
مجھے پتا ہے یہ بہت جذباتی سٹیٹمنٹ ہے۔ پر محبتوں میں عقل و خرد والی سٹیٹمنٹ تو نہیں پاس کی جا سکتی نا۔
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔بچھڑتے سمے آپ رو رہی تھیں۔مجھے ہمیشہ برا لگتا رہے گا۔ 
پر ایمی۔۔۔کیا کروں لاکھ دعوے کروں ہوں تو میں بھی اسی دنیا کی باسی نا۔ جگنو۔ آنا بھی۔نمک کی کان میں نمک ہوتی جا رہی ہے میں زندہ رہنے کے گر سیکھتی جا رہی ہوں بے حس ہوگئی ہوں سیلف سینٹرڈ بھی۔
بے حس ہونے کا افسوس نہیں ہے مجھے۔۔دکھ اس بات کا میری بے حسی نے رلایا ہے آپکو۔
جگنو آنا ایموشنل ہو رہی ہے۔ آپ پلیز معاف کر دینا۔۔سوری۔
پر آپ کو تکلیف میں۔دیکھنا آنا کے لیے ممکن نہ تھا۔ سو آنا چلی آئی۔
آپ نے جب فون پر کہا گندی آنا۔۔تو مجھے یقین ہوگیا میں گندی آنا ہوں۔"

مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا میں آپ کو سمجھا بھی نہیں پاؤں گی۔
آپ تو بھول چکی ہوں گی لیکن مجھے یاد ہے۔
مجھے ہر وہ لمحہ جب جب آپ روئیں جب جب ہنس کر آپ نے آنکھیں میچیں۔
جب رنگوں کے نام سیکھے۔
"ایلو گوین بلیو اوونج"
جب پھول کو شلاور کہنا سیکھا۔
جب آئش کویم کہنا سیکھا۔
الشلاکا لیکم کہنا سیکھا۔
جواب میں اللہ کا شکر کہنا سیکھا۔
سیڑھیاں اترنا سیکھ کر تالیاں بجوائیں۔
گلی کے بچوں سے دوستی کرنا سیکھی۔
یہاں مجھے افسوس رہے گا ایمو میں ابھی تک آپ کو ہم عمروں سے لڑنا نہیں سیکھا پائی۔
لیکن آپ یقین کریں آپ کا بولا ہوا سیکھا ہوا ہر لفظ آنا کے لیے ایک خاص اور اہم لفظ ہے۔ جو بظاہر کتنا عام کیوں نہ ہو آنا اس پر پہروں سرشار رہ سکتی ہے۔
اور آپ کے آنسو اداسی کا وہ دور ہوتے ہیں جن میں آنا کے سرواییول کے چانسسز کم بہت کم ہوجاتے ہیں۔
اب آپ نے سکول جانا ہے تو آنا کو بھی اچھا لکھنا سیکھنا پڑے گا۔
وگرنہ آپ تو منہ پر کہہ دیں گی۔۔آنا فییری والی سٹوری کیوں نہیں لکھتیں۔
تو آنا کے پیارے سے جگنو۔ آپ خود پری ہو آنا آپ کو پریوں والی کہانی کیسے سنائے۔
سو آج کے لیے اتنا ہی۔
جیتی رہو جیتتی رہو آنا کی پیاری سی تتلی ہمیشہ خوش رہو مسکراتی رہو۔اور جیو ہزاروں سال۔
ہیپی ٹو یو ایمل۔
آنا۔

دانش ہی کیوں



ہم سے پوچھا کہ دانش ہی کیوں۔ دانش پر ہی کیوں لکھتی ہیں۔


تو ہمارے مزاج، جنگجویانہ مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ سب کے ذہن میں یقینا یہ ہی خیال آیا ہوگا کہ باقی سب سے لڑ بیٹھے ہیں۔
بالکل ویسے جب ہم بہن کو گھما کر لمبا چکر لگا کہ ایک ڈائیر کے پاس لے کر جاتے تھے۔ تو اچانک ایک دن بہن گوشمالی پر اتر آئی کہ اس پرانے ڈائیر کو کیا تکلیف ہے۔۔
ہم نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا ہم لڑ پڑے ہیں اس سے۔
بہن نے اس سے کہیں بے نیازی سے جواب دیا تمہاری لڑائیوں کو دیکھنے لگے تو سارے شہر سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
تو یہ ہی قول زریں ہم نے کرش کئے ہوئے دوپٹے کے پلو سے باندھ لیا کہ لڑائی پر کسی کا بائیکاٹ نہیں کرنا۔ بلکہ اس کو مزید ٹیز کرنا ہے۔ جسے موئے انگریز ٹیز ٹو ڈیتھ کہتے ہیں۔



تو ایسا نہیں ہے کہ ہم باقیوں سے لڑ بیٹھے ہیں۔ یہ تو ثابت ہوگیا لڑائی پر بائیکاٹ والے نظرییے پر بھی قائم ہیں۔ یوں بھی اس میں لطف سوا تھا۔ اب اس عمر میں کہاں ہم نئے نئے دشمن ڈھونڈنے نکلتے۔پرانی دشمنیوں کو ہی جھاڑ پونچھ کر نیا رکھنے کا خیال ہمیں بھایا ہی بہت۔ کہ اس میں مستقبل کے منظر نامےکی پریکٹس کا حسین موقع میسر تھا
سو اب کیا وجہ بتاتے کہ کیوں___دانش ہی کیوں۔
تو ہم نے سچ بتانے کا فیصلہ کر لیا۔ وجہ یہ ہے کہ۔۔۔ میری تحریر میری مرضی۔۔
اور وجہ خود ڈھونڈ لو۔ کے بعد عرض ہے کہ۔
دانش آنے والے زمانے کی خبر لانے والی ایک فیوچرسٹک ویب سائٹ ہے۔
جس میں لکھنے والے اعلی دماغ بہترین مزاج کے حامل لوگ ہیں۔
جن کے لہجوں میں پیمبرانہ آہنگ اور جن کی تحریر کے فلو میں پہاڑی جھرنوں سی کشش ہے۔جو جب زمیں پر گرتے ہیں تو دیکھنے والا ہیبت اور محبت کے حسین امتزاج سے پیدا ہونے والے جذبات کا شکار ہوجاتا ہے۔



بالکل ایسے ہی دانش پر لوگ جب لکھتے ہیں تو ان کی تحاریر ویسا ہی تاثر دیتی ہیں گویا کوئی قرطاس کی چاندنی پر مقدس ہرا رنگ لٹا رہا ہو۔ پڑھنے والے کے ذہن میں سندوری فضا قائم کرکے خوابوں والے اعلی آدرشوں والے کسی حسین نظریئے کی آبیاری کرتا ہو۔ جیسے جنگلوں میں پیہو پیہو کرتا پیپیہہ کوئی۔ جس کی تان میں وصل کے گیتوں کی مٹھاس ہو۔ یا ڈار سے بچھڑی اس کونج کی چینخ جس کت تال میں ہجر کی فراق کی وحشت ہو دوری کے کرب کا اندر باہر سے چیرتا ہوا سا تاثر۔۔۔۔



افففف۔۔۔۔یہ پیڈ کانٹینٹ لکھنا بھی کس قدر مشکل کام ہے۔ ہم سب کو نہیں کرنا چاہیے۔
ناظرین یہاں بتانا لازمی ہے کہ ہم سب واوین میں نہیں۔آپ لوگ پڑھنا چاہیں تو آپ کی مرضی منشاء۔۔ہم آپ کے جسم مطلب ہے سوچ پر پہرے نہیں۔بٹھا سکتے۔ کیونکہ ہم۔ایک عدد کھلے ذہن کے مالک انسان ہیں۔ اور ہمارا شعور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی کی سوچ پر پہرے لگانا اپنا نظریہ امپوز کرنا اوروں کے نظریات کو حقیر کمتر اور گھٹیا سمجھنا ان کا مذاق اڑانا کچھ اور ہو تو ہو روشن خیالی نہیں ہوسکتی۔اور جہاں خود کو امام زماں سمجھنے سمجھانے کی خواہش کی۔بھنک بھی پڑ جائے وہاں اوپرا سا اجنبی سا احساس اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ مارے گھٹن کے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور جہاں یہ ہو وہاں سے کنارہ کرلینا ہی آپشن بچتا ہے۔ کیونکہ قائل کرنے یا منوا لینے کے نظریہ کے۔نہیں قائل۔ نہ ایسا کوئی دعوی ہے کہ لہجے میں۔ایسی کوئی تاثیر بسی ہے کہ لوگ ہماری بات کو من و عن تسلیم کر لیں۔
اسی لیے ہم نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہو شائد۔
لیکن اس شائد میں بہت سے امکانات پوشیدہ ہیں۔ یہ امکانات کا جہاں ہے۔
بقول شاعر۔



ہمارا اور تمہارا ساتھ ممکن ہے
یہ دنیا ہے یہاں ہر بات ممکن ہے



تو امکانات کے اس جہاں میں ہم سے دانش کے مظاہرے کی توقع رکھنا ایس بھی۔بعید از امکان نہیں۔ کیا کہتے ہیں آپ لوگ؟
اب خدارا ہمارا سآٹ انیلیسز نہ کر دیجئے گا۔۔
کہاں۔ڈھونڈتے پھریں گے آپ کوئی خوبی ہم میں۔۔۔مشکل کام ہے۔
اس سٹیج یعنی مقام پر پہنچ کر آپ پڑھنے والوں کے ذہن میں یقینا یہ سوال اٹھ رہا ہوگا کہ اس تحریر کا مقصد کیا ہے۔
آپ پریشان مت ہوئیے بتائے دیتے ہیں۔۔
مقصد یہ ہے کہ۔۔۔۔کوئی مقصد نہیں ہے۔
دانش والوں نے اصرار کیا تھا کہ سالگرہ کے شبھ موقع پر کچھ لکھ بھیجئے۔
ہم صدا کے سست تحریر لکھنے کی کوشش کی اور نہ لکھ پائے۔ جب کہ۔کمٹمنٹ کر چکے تھے۔پھر سوچا ہماری گفتگو کرنے کی صلاحیت کس دن کام آئے گی۔لہذا یہاں۔اسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
رہ گئی دانش پہ لکھنے کی وجوہات۔
تو ایک وجہ بہت بڑی کہ ہم نے بہر صورت لکھنا ہوتا ہے جب گھٹن بڑھ جائے اندر باہر بارش ہونے لگے تو ہم لفظوں کے دیئے جلا کر انہیں اپنے تخیل کا سورج سمجھ کر روشنی کر لیتے ہیں۔یہ دیئے جلا کر سر راہ رکھ دیتے ہیں دانش والے چھاپ دیتے ہیں آپ لوگ پڑھ لیتے ہیں۔
اور دوسری وجہ۔۔دانش والے ہر دوسرے دن ہم سے پوچھتے ہیں کچھ لکھا۔ جس پر ہم شرم سے پانی پانی ہو لکھنے پہ آمادہ ہوجاتے ہیں۔
تو آپ لوگوں نے جتنے انڈے ٹماٹر اکھٹے کر رکھے ہیں ان کا رخ دانش کی طرف کر لیجئے۔ ہم ان کے اکسانے پر لکھتے ہیں۔
وگرنہ ہفتوں منظر نامے سے غائب رہیں اور بہت سی جگہوں پر دنگا فساد وغیرہ میں مصروف رہا کریں۔



اور آخری وجہ____
ہم دانش میں لکھتے ہیں تو تمہیں کیا ہے بھئی۔

Tuesday, 20 March 2018

خواتین کا عالمی دن مبارک ہو



گن گن کر کے لفظ لکھنے والوں ان لفظوں کی کہانیاں بنانے والوں ان کہانیوں میں اوروں کی بی بیوں کو گیندوں سے تشبیہ دینے والوں کو بیبئوں کا عالمی دن بہت بہت مبارک۔ دوسروں کی شادیوں پر کسی تیسرے کی بیٹی کی تصویر لگا کر اپنے حکیموں کا پتا دینے والوں کو ان کے حامیوں سمیت آج خواتین کا دن بہت مبارک۔ اپنی اپنی دوکان چلانے کے لیے تھڑے پر کتے باندھنے والوں کو مبارک جن پر گند اچھالتے ہو آج ان کا عالمی دن ہے۔ برابری کے حقوق کی بات کرنے والیوں ۔۔ مکالمے میں ہار کر خاتون کارڈ استمال کرنے والیو ساری بی بیوں آج مبارکباد قبول کرو ۔۔ یہ تمہارا دن ہے۔
مغلظات بکنے والوں کا دفاع کرنے والوں کو نوید ہو آج ان سب کے استادوں مرشدوں کےموضوع گفتگو کا عالمی دن ہے دوستو۔
ہاں یاد آیا ۔۔۔ ان باکس والے سارے مردودوں کو آج اس دن کی مبارکباد کہ جو ان باکس میں بتانے آتے ہیں خاتون کتنی مغرور اور ایروگینٹ ہے۔
تو ان سب کو بتایا جاتا ہے کہ ایروگینس میں لپٹی خواتین کا عالمی دن مبارک۔
بیٹیوں کو محبت دے کر فیصلے کا حق اختیار آزادی چھین لینے والو! آج کا دن تمہاری محبت کے نام۔
بہنوں کو میکہ دے کر وراثت ہتھیانے والو آج کا دن مبارک۔
آج کا دن ہر اس شخص کے نام جو اپنی بات کہنے کا ڈھنگ نہیں جانتا اور میری جنس کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلاتا ہے۔ میری جنسکی طرف سے مبارکباد۔
ماؤں کو دیویاں بنا کر پوجنے اور دوسروں کی بیٹیوں پر زندگی تنگ کرنے والوں مبارکباد۔
رشتوں کے نام پر آزادی اظہار چھین لینے والوں آج کا دن تمہاری انا کو گنے کا رس پلانے آتا ہے۔ مبارکباد لو۔
بے تکلفی میں حد سے گزر جانے والی اور جوابی بے تکلفی پر برا ماننے والی خواتین کا دن ہے۔ مبارکباد خواتین۔
مخالف فرقے سیاسی پارٹی کی خاتون پر اعضاء کی شاعری کرنے والوں کو یوم خواتین کی بہت مبارکباد۔
ننھی پریوں سے بچپن زندگی چھیننے والے درندوں کے خلاف مہم میں سیاست گھسیٹنے والے مکروہ لوگو آج کا دن مبارک۔
اپنی بہو بیٹیوں پر بات آنے پر معافی مانگنے یو ٹرن لینے دوبارہ اسی روش پر آنے والو۔
ایسے مکروہ کرداروں کو ان کی زبان میں جواب دینے والو
تم دونوں عالمی یوم خواتین مبارک۔
آج کا دن ہر اس شخص کے نام جو اپنی بات کہنے کا ڈھنگ نہیں جانتا اور میری جنس کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلاتا ہے۔
میری جنس کی طرف سے مبارکباد۔
یوم خواتین مبارک۔

کھانا خود گرم کر لو



خوامخواہ بولنے، خومخواہ لکھنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پیش خدمت ہے ہماری خامہ فرسائی۔
فیمنسٹ آنٹیز اسے ایسے بھی پڑھ سکتی ہیں کہ اپنے حقوق کی پہچان کی طرف پہلا قدم اور چند گزارشات جنہیں حکم سمجھا جائے تو اچھا ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ ملین مارچ کے شبھ موقع پر پلے کارڈ پر لکھا مطالبہ پڑھا تو ہنسی آئی۔ اور اس کی جسٹیفیکیشن پر بنی وڈیو دیکھ کر غصہ آیا۔
ایسے موقع پر پنجابی میں ہم نانی کے کھسم والی مثال دیتے ہیں۔ لیکن یہاں بیان نہیں کی جا سکتی آخر  ایک عدد فیمنسٹ ہیں ہم بھی۔ اورنانی سمیت ہر کسی کو کھسم کرنے نہ کرنے کے حق کو اس کا بنیادی حق اور آزادی سمجھتے ہیں۔
ساتھ ہی ہمارا یہ خیال بھی ہے  کہ اگر کوئی مذکورہ بالا محاورے میں موجود نانی والا کام کرنا ہی نہیں چاہتا زندگی میں کبھی تو  اسے یقینا اُس صورتحال کے مسائل کا ادراک نہیں ہوسکتا ۔
جب تک جوتا پہن نہ لیا جائے کیل کی پوزیشن، چبھن کا اندازہ ممکن ہی نہیں۔
خیر یہ تو تھی ضمنی بات۔
اصل مدعا تو آپ نے بیان کردیا کہ نہیں کرنا کھانا گرم تو ٹھیک ہے نا۔ آپ کی مرضی ہے اس سے کس کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ آپ نے نہیں کرنا کھانا گرم تو نہ کریں۔لیکن جو کرنا چاہتی ہیں ان پر اپنا نظریہ کو امپوز کر رہی ہیں بھئی۔ آپ کا جسم آپکی مرضی ہوسکتی ہے۔ تو دوسری خواتین کا گھر ان کی زندگی بھی ان کی مرضی ہوسکتی ہے۔
آپ اپنے جسم کا اچار ڈالیں مربہ بنائیں ممی بنائیں یا میوزیم میں رکھوائیں مجھے اعتراض نہیں۔ لیکن ساتھ ہی مجھے بھی یہ حق دیجئے۔ یہ ہی آزادی دیجئے۔
مجھے آپ کی فر والی ٹاپ اور منی سکرٹ پر اعتراض نہیں تو آپ کو میرے سٹالر سکارف پر کامنٹ کرنے کا حق اختیار کس نے دیا؟
اس غلط بلکہ خوش فہمی سے نکلیے کہ آپ سارے ملک کی ٹوٹل خواتین کی اکلوتی نمائندہ ہیں۔
آپ کے مسائل ہوں گے یقینا حقیقی مسائل ہوں گے۔ ممکن ہے مردوں کی ڈیلنگز آپ کے ساتھ فئیر نہ رہی ہوں۔ ممکن ہے آپ رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوں۔ عین ممکن ہے آپ کا مدعا بالکل ٹھیک ہو۔
لیکن یہ بھی تسلیم کریں کہ بہت سی خواتین ایسی بھی ہیں جو ردعمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہیں۔ جن کے ساتھ باپوں خاوندوں بھائیوں کے روئیے بہت اچھے ہوں گے۔ اور کچھ ہم سی۔۔۔یعنی آنسہ سحرش عثمان جیسی بھی ہوں گی جو یہ سمجھتی اور اس کا برملا اظہار کرتی ہیں کہ زور آور کی کوئی جنس نہیں ہوتی زورآور بلا امتیاز جنس استحصال کرتا ہے۔
تو یہ ساری خواتین کیوں آپ کے نظریات کو تسلیم کرلیں اور کیسے؟
صرف اس لئے تسلیم کر لیا جائے کہ آپ ایک انتہا کے خلاف لڑتے ہوئے انتہاء پسند ہوگئی ہیں۔
آپ کی ملائیت صرف اس لئے تسلیم کرلی جائے کہ آپ مذہبی ملائیت کے خلاف لڑ رہی ہیں؟
آپ کو خواتین کے حقیقی مسائل کا ادراک ہے بھی؟ آپ کے لیے مائیکرو کا بٹن دبا کر کھانا گرم کرنا مسئلہ ہے۔
جبکہ اصل مسئلہ آپ کی میڈ کو درپیش ہے جس کے بچے کی پیدائش پہ آپ اسے پیڈ تو کیا ان پیڈ لیو بھی دینے کو تیار نہیں۔ آپ اسے نکال کر دوسری میڈ رکھ لیتی ہیں یہ کہتے ہوئے کہ اس کا تو ہرسال کا یہ کام ہے۔
خاتون کا مسئلہ سمجھنا ہے تو سارے پرائیویٹ اداروں میں کرسیوں پہ بیٹھی خواتین کو دیکھیں جو دو دو ہفتے ایک ایک مہینے کا بچہ نانی کے پاس یا ڈیئر کئیر سینٹر میں چھوڑ کر کرسیوں پر بیٹھی اکنامک انڈیپینڈینس کی لوری سنا سنا کر اپنی ممتا مارتی رہتی ہیں۔
مسائل کیا ہوتے ہیں کبھی کھیتوں میں کام کرتی اس خاتون سے پوچھیں جو نو مہینے ریگولر اور تین دن پہلے پری آب چیک اپ کے لیے کسی مہنگے ہسپتال کے بستر پر پڑی نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس لئے پریشان ہوتی ہے کہ کٹائی کے دنوں میں بچہ ہوگیا تو کتنے دنوں کا حرج ہوجائے گا۔
اس خاتون سے مسائل پوچھئے جو ایم ایس سی فزکس بیٹی کے لیے رشتہ ڈھونڈتے ہوئے انٹر فیل لڑکے کو کنسیڈر کر رہی تھی۔
وہ سارے مسائل بھی جانیے جو ہر روز لڑکیوں کو کالج یونیورسٹی جاتے ہوئے درپیش ہوتے ہیں۔
اس نفسیاتی ٹارچر کا حل ڈھونڈیے جو پانچ پانچ سال کی بچی کو یہ کہہ کر دیا جاتا ہے کہ اگلے گھر جا کر کیا کرنا ہے۔ اور یہ ٹارچر کوئی اور نہیں اردگرد موجود خواتین ہی دیتی ہیں۔
مسائل ہی حل کرنے ہیں،انہیں مضبوط ہی بنانا ہے تو اس سوچ کی نفی کیجئے خاتون باہر نکل کر ہی مضبوط ہوتی ہے کام کرکے پیسے کما کر ہی مضبوط ہوتی ہے خاتون۔
گھر بیٹھی خواتین کے کام کو کام کنسیڈر کیجیے۔ انہیں اپنے بل پہ مضبوط بنانے کی کوشش کیجئے۔ اکنامک انڈیپینڈینس ہی دلانی ہے تو نکاح نامے میں شقیں ڈلوائیے نان و نفقے والی نکاح جیسے سوشل کانٹریکٹ میں سول کورٹس کی شمولیت پر بات کیجئے۔
گارنٹر کی قانونی حیثیت پر بات کیجئے۔
لڑکی کو نکاح میں اپنا وکیل خود چننے کی آگاہی دیجئے۔
کیوں۔۔
کیونکہ مجھ سمیت بہت سی لڑکیاں خواتین آپ کی طرح اس انسٹینکٹ کا انکار نہیں کرتیں۔ فطرت سے بھاگنے کا نہ کوئی شوق ہے نہ خواہش۔
ہم شادی کے معاشرتی تصور پر بات کرسکتے ہیں اس پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوکالڈ آزادی کے لیے فطرت سے بھاگنے کا نہ ہمیں شوق ہے نہ دلچسپی۔
 مسائل ہیں، حقیقی مسائل ہیں گھمبیر بھی میری آپکی جنس متاثر ہورہی ہے  لیکن یقین کیجئے جس طرح ایک فیصد سے بھی کم لوگ گرم کھانے پر مارتے پیٹتے ہیں بالکل اسی طرح ایک فیصد سے بھی کم خواتین صرف کھانا گرم کرنے کی بات پر اوفینڈ کرتی یا ہوسکتی ہیں۔
رہ گئی بات جینڈر رول ڈیفائن کرنے کی تو کیا بڑی بات ہے؟ آپ نہ مانیے اس ڈیفینیشن کو۔ آخر آپ سوشیالوجی کے پرسپیکٹو میں فیمینزم کو بیان کرتی ڈیفینیشن کو بھی تو نہیں مانتی ہوں گی نا۔ آپ جیسی سوڈو فیمینسٹ اس کو زمینی حقیقت ہی سمجھے گی کانفلکٹ تھیوری تو ماننے سے رہی۔
تو کہنا یہ ہے کہ میں آپ کے فیمینزم میں نہیں گھستی آپ ہمارے ریلزم میں مت گھسیے۔
پیس فل کو ایگزسٹنس کہتے ہیں اسے۔
اور اگر مقدمہ لڑنا ہی ہے جنس کا تو آئیے رئیل گراونڈز پہ لڑتے ہیں اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنا کہ۔
انہیں فطری اور نارمل زندگی جینے کا حوصلہ دے کر۔کیونکہ فرار کوئی حل نہیں ہوتا۔
اپنی بیٹیوں کو آزادانہ اور مشکل فیصلے لیتے دیکھ کر ان کے لیے سپورٹیو ہو کر۔ تعصب کے دائرے کا بیل بننے سے بچا کر۔
یہ کہنا کہ کام ہی کرانے ہیں تو میڈ سے شادی کر لیں انتہائی غلط بات ہے کیونکہ میڈ بھی ایک ورکنگ لیڈی ہوتی ہے۔ اکنامک انڈیپینڈنس کا شکار۔
اگر یہ سب نہیں کرنا۔۔۔ تو پھر ایک مفت مشورہ لیجئے۔۔
سن لائٹ میں ڈی ایم جی ایم کی ڈرائے بیس اور میڈونا آف لنڈن کا سن بلاک استعمال کرنے کا۔
امید ہے برا نہیں مانیں گی۔
کھانا کھانا ہوا تو گرم کر لیجئے گا۔۔۔ میں تو نہیں کروں گی باس۔

خود کلامی

سنو۔
پہلے بھی کہا تھا پھر کہتی ہوں۔ہر اچھا برا فیز کچھ نہ کچھ سیکھا کر جاتا ہے۔
معلوم ہے میں نے کرب کے اس دور میں کیا سیکھا تھا؟ کہ کوئی رشتہ کوئی تعلق مستقل نہیں ہوتا۔
مجھے معلوم ہے یہ مشکل تم پر آگاہی کے نئے دروازے کھولے گی۔ اب تم نے کہنا ہے آگاہی بھی کرب ہے۔
ہاں تسلیم آگاہی بھی کرب ہے۔ مگر جہالت سے کم تر درجے کا۔
پتا ہے کیسے ؟
آگاہی کا کرب اپنے آپ پر بیتتا ہے۔ شعور کی آگ جلا کندن بنا دیتی ہے۔
شعور وہ کیمیا دان ہے جو مٹی کو پارس کردیتا ہے۔
اور جہالت کی تکلیف سامنے والے پر مخاطب پر گزرتی ہے۔
اور اس کی تپش اس کے بی ہولڈر کو جلا کر خاک کردیتی ہے۔
کبھی اناؤں کے گہرے پانیوں میں کبھی اختیار کے اندھے گڑھوں میں۔
کبھی موقع ملے تو تاریخ کے قبرستان کھگالنا تمہیں ایسے بے شمار فرعون ملیں گے جو وقت کے سینے میں دھڑکن کی مانند ناگزیر سمجھتے تھے خود کو۔ اور جب وقت پھرا تو یہی لوگ اپنا نشاں ڈھونڈتے رہے داستانوں میں۔
سنو یہ سخت مرحلہ ہے۔۔مجھے معلوم ہے لیکن یہ تمہیں کندن بنانے آیا ہے۔
حوصلہ مت ہارنا۔
خود کو اس لمحے کا قیدی مت بنانا۔۔
معاف نہیں کرنا نہ کرنا تمہاری چوائس ہوگی۔۔البتہ بھول جانے کی کوشش کرنا۔
یاد رکھنے سے زخم رہے رہتے ہیں۔اور طاقت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
سنو یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

Monday, 5 March 2018

کیوں ٹھہر گئی دل میں اُس قیام کی آہٹ



جب چاند بھی کھڑکی سے باہر ڈرا سہما سا ٹنگا تھا جب کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی کے لیے چاندنی بھی فسوں جگانے سے انکاری تھی۔ اس رات میرے کمرے میں صرف ایک زندہ چیز تھی۔ کمرہ ہی کیا کائنات کی تمام وسعتوں میں میرے لیے زندگی کا مفہوم بس میری بک شیلف پر رکھی کتابیں تراش رہی تھیں۔ وہ کتابیں جن پر تمہاری پوروں کا لمس ابھی زندہ تھا۔ کہیں جلد پر دو انگلیوں سے کھینچی لمبی لکیر روشنی کا سفر طے کر رہی تھی تو کسی کتاب کے اندر مڑا ہوا کوئی صفحہ شہادت اور انگھوٹھے سے پکڑے جانے پر نازاں تھا۔ کسی صفحے پر جگمگاتے لفظ اس بات کی غمازی تھے کے تم نے پڑھتے پڑھتے بے دھیان ہو کر ان پر ہاتھ رکھ دیا ہوگا۔

سنو وہ میرا ہاتھ ہوتا تو لفظ گھٹن سے مر جاتے۔ وہ تم تھے جو گھٹن سے بھی لفظ نکال لیتے ہو۔
تمہاری پوروں کا یہ لمس میرے دل پر دستک کی صورت بھی محفوظ ہے۔
جب میں احساس کی شکستگی پر خائف سارے آنے سے خفا تھی تو تم تھے جو دل پر دستک دیے اندر چلے آئے تھے۔
دستک پر اونہوں سن کر بھی تم نے ہار نہیں مانی تھی۔
میری روح میں تمہاری روح ایسے حل ہوگئی ہے جیسے پانی میں کسی نے نمک گھول دیا ہو۔ اب اس میں کوئی بھی ذائقہ ملایا جائے نمک کا، ذائقہ آتا رہے گا۔
دل کی سرزمینوں پر بوڑھے برگد کی طرح ایستادہ وجود ہو۔ جس کی جڑیں اتنی گہری اور وسیع رقبے پر پھیل چکی ہیں کہ اب اگر تم یا، میں جڑ در جڑ بھی اسے کاٹنا چاہیں تو سینکڑوں جڑیں کاٹنی پڑیں اور کوئی ایک آدھی پھر بھی اندر رہ جائے گی۔ دوبارہ سے کونپل اس سے کلی پودا اور درخت بننے کو۔

جب احساس کی موت پر میں دعا پر بھی یقین کھو بیٹھی تھی تب تم تھے جس نے دوا کی تھی حرف تسلی سے۔ دعاؤں پر یقین لوٹانے پر کوئی کیسے سپاس گزار ہو؟ سنو فراحی کشادگی میں کی جانےوالی بے پناہ چیئریٹی شائد وہ معنی نہ رکھتی ہو جو تنگ دستی کا ایک روپیہ کرتا ہو۔ کرب کے دور میں تمہارا لہجہ میرے اندر پلتے جڑ پکڑتے پروان چڑھتے زہر کا واحد تریاق تھا۔ بالکل ایسے جب کتابوں میں موجود ساری اچھی باتوں پر سے میرا ایمان اٹھ گیا تھا جب لفظوں کے گورکھ دھندے سے اکتاہٹ اپنے عروج پر تھی جب مجھے آسمانی فیصلے بھی زمینی 147سازشوں148 کا حصہ لگنے لگے تھے تم نے اس دور میں ساتھ دیا۔ اس دور میں میری سماعتوں پر اپنے لہجے میں بسے الہاموں کو اتارا۔ کرب کے اس دور میں تمہارے وجود کے گہرے رنگوں نے میری روح کی بے رنگی ڈھانپ لی تھی۔ میرے لہجے کی خفگی ختم کرنے کے لئے تمہارے لمبے لمبے فلسفے اندر سلگتے دل پر پھوار کی طرح برستے رہے اور تم نامحسوس طریقے سے اندر بسی ناراضی نکالتے رہے۔

سنو! مجھے لگتا تھا اندر ایک شعلہ ہے بھڑکتا ہوا میرے مزاج سے میل کھاتا جو میرے اندر باہر کو جلا کر بھسم کردے گا۔
لیکن اس دن جب سفید گلابوں کی کیاری کے پاس کرسی پر بیٹھے میں خلاوں کے سفر پر 147روانہ148 ہونے لگی تھی اور تم نے کافی کے دو مگ درمیان میں رکھتے ہوئے کہا تھا کہہ دو۔ ۔
تمہیں معلوم ہے کیا ہوا تھا ؟ میں نے کافی کے مگ میں آنکھیں کیوں گم کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنو اس دن احساس ہوا تھا کہ اندر شعلہ نہیں جل رہا اندر تو سیہ پارہ ہوتا ہوا ایک انگارہ تھا ہے جو مسلسل سلگ رہا ہے اور اس سے اٹھتا دھواں میری آنکھوں میں چھبنے لگا تھا۔ میں نے اس چھبن سے گھبرا کر مگ میں منہ چھپانا چاہا تھا۔

تم کہتے ہو مجھے بھی اداس کردیتا ہے اپنے نظریات پہ قائم رہنا تو کیا ہوا؟ نظریات پہ جینے کی قیمت اداسی ایسی بری بھی نہیں۔
کیا کیا جائے۔ ۔ ۔ یہ بھرم بھی بڑی ظالم شئے ہوتی ہے اس کو قائم رکھنے کے چکروں میں خدا جانے کہاں کہاں کیا کیا گوارا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں جہاں چینخنے کا چلانے کا موقع ہوتا ہے وہاں مسکرا کر چپ کر جانا پڑتا ہے۔ جہاں سامنے پڑی ہر شئے تلپٹ کردینے پر جی پوری طرح آمادہ ہوتا ہے وہاں چپ چاپ ہاتھ سینے پہ باندھے اٹس اوکے کہہ دینا پڑتا ہے۔ اور وہاں جہاں اجارہ داروں کے خلاف اندر کا وحشی آمادہ برجنگ ہوجاتا ہے تب اس کی سونتی ہوئی تلوار کو نظر انداز کرکے جگہ چھوڑ دینی پڑتی ہے۔
اس ایک بھرم کو قائم رکھنے کو۔
لیکن برا ہو تمہارے اندر لگی اس تیسری آنکھ کا جو میری آنکھ میں در آنے سے بھی پہلے اس آنسو کو سمجھنے دیکھنے سپیس دینے پر تیار ہوجاتی ہے۔
اور بھلا ہو اس ظرف کا جو میرا بھرم ٹوٹنے نہیں دیتا۔

سنو! تم ایک عجیب شخص ہو ٹوٹل عجیب، تم وجدان کی روشنی سے منور بے ریا حقیقت پسند ہو۔ جو خواب میں بنایا تعلق بھی نبھاتا ہے۔
تم کہتے ہو مجھے بھی اداس کردیتا ہے اپنے نظریات پہ قائم رہنا تو کیا ہوا؟ نظریات پہ جینے کی قیمت اداسی ایسی بری بھی نہیں۔ تمہارے خیال میں مستقبل مشکل ہو سکتا ہے۔ دیکھو میں متفق نہیں تم کچھ سال پہلے بھی تو اسی جمود کا شکار ہوئے تھے نا؟ جب پرانے قلعہ میں گھومتے تم سے وہ ٹکرائی تھی۔ جو اتفاقی ٹکر پر گھورنے کی بجائے بے ساختہ ہنس دی تھی اور تم دوڑے دوڑے خول میں جا گھسے کہ اس کی ہنسی سے ڈر گئے تھے تمہیں لگا تھا اس کی ہنسی تمہارے وجود کو تحلیل کردے گی۔ وہ تمہیں کیمسٹری کے کسی ایکسپیریمنٹ کی مانند مختلف عناصر کا مرکب بنا کر کسی دن یونہی لیب میں چھوڑ کر چلی جائے گی۔ اور تم آنکھوں میں وحشت لئے آنے والے زمانوں میں غیر فعال مادے کی صورت پڑے پڑے فنا ہوجاؤ گے۔

پھر کیا ہوا؟ پرانے قلعے میں کسی آوارہ روح کی طرح پھرتی وہ چنچل اندر سے تاریخ کی کتاب کی طرح گہری نکلی نا ؟ وہ جس نے تمہیں موٹروے پر جاتے ہوئے ٹوکا تھا کہ کھڑکی سے باہر دیکھو اور اسوقت جب تم نے باہر دیکھتے ساتھ ہی منظر کیمرے میں قید کیا تھا تو جانتے ہو کیا کہا تھا ؟ تم نے کہا تھا خوبصورت منظروں کے لیے سفر کچھ وقت کو روک بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سنو اب بھی ایسا ہی ہے۔ اب بھی ماضی کی طرح تمہارا مستقبل سے متعلق رویہ منفیت پر مبنی ہے۔
شاعر کہتا ہے
سنو ایسا نہیں کرتے
سفر تنہا نہیں کرتے۔
حالانکہ میں اس سے متفق نہیں کبھی کبھی سفر تنہا بھی کرنا چاہیے۔ پر پھر بھی کہتی ہوں سنو راہ میں آنے والی رکاوٹوں کے خدشوں کے پیش نظر تو منزلیں کھوٹی نہیں کی جا سکتی نا۔
اسے خود غرضی کہو یا کچھ بھی۔ پر سن لو تمہیں اداس دیکھنا میرے اندر کے انسان کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے۔ تمہاری اداسی پر میرے اندر کوئی تڑپ جاتا ہے۔ مجھ پر اس اداسی کا سرا ڈھونڈنے اس ڈور کو سلجھانے کی دھن سوار ہوجاتی ہے۔

تم کو بے یقینی کا شکار دیکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے بے یقینی کے پوائنٹ آف سیچوریشن پر تمہیں بے یقینی کے کرسٹین توڑتے انہیں امید کی آنچ سے پگھلاتے دوبارہ یقین بناتے دیکھا ہے۔
تم کو بے یقینی کا شکار دیکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے بے یقینی کے پوائنٹ آف سیچوریشن پر تمہیں بے یقینی کے کرسٹین توڑتے انہیں امید کی آنچ سے پگھلاتے دوبارہ یقین بناتے دیکھا ہے۔ اب میں یہ کیسے مان لوں وہی بے یقینی تمہیں گھیرے ہوئے ہے۔ ؟ میں غیر انسانی توقعات کا بوجھ نہیں ڈال رہی تم پر۔ میں بس یہ چاہ رہی ہوں کہ تمہارے اندر غیر مشروط محبتوں پر ایمان کی صورت یہ یقین بھی اتر جائے کہ زندگی پر بدگمانیاں مستقبل کے خوف محبتیں نگل جایا کرتے ہیں۔
تم بس محبت زندہ رکھنے کا امید جگانے کا فن زندہ رکھو تم زندگانی کے سارے خوشنما امکانات کے در وا ہوتے دیکھو گے۔
کیونکہ یہ ہی زندگی ہے۔ ۔ ۔ دن سورج کا ہے تو رات بہر صورت چاند ہی کی ہونی ہے۔ تنگی کے دامن سے لپٹی ہوئی آسانی اور جنگ کے بدن سے پیدا ہوتا امن۔ سنو یہ ہی زندگی ہے۔ ۔
بھیگی آنکھوں سے مسکراتی ہوئی۔

بارش کے بعد نکلنے والی دھنک جیسی۔ جس کے الٹے لوپ پر چلتے ہوئے ایک سیارے سے دوسرے پر جانے کی فینٹسی لئے بہت سے تخیل زندہ ہیں۔ اور تخیل کا نہ مرنا ہی تو انسان ہونے کی علامت ہے۔ جب انسان کسی بھی صورت اندر کا تخلیق کار مرنے نہی دیتا۔ جب وہ باہر کی نفرت کسی کردار کو تراش کر نکال لیتا ہے اور جب کوئی میسر نہ ہو تو وہ خود سے گفتگو کر کے خود زندہ رکھ لیتا ہے۔ تو وہ ثابت کردیتا ہے کہ انسان مر سکتا ہے ہار نہیں سکتا۔ (ارنسٹ ہیمنگوے)
سنو!تم میری نفرتوں کے دور کی محبت ہو۔ کرب کے زمانے کا سکون ہو۔ بقول شاعر آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو۔