Pages

Saturday, 16 September 2017

….تے بیبا ساڈا دل موڑ دے


جے تو اکھیاں دے سامنے نئیں رہنا  تے بیبا ساڈا دل موڑ دے
واٹس ایپ پہ آڈیو شئیر کی تو سلگتا ہوا جواب آیا
کیا دل؟ کیا احساسات؟ یہ جسم کا رشتہ ہے بس
ہنس کر پوچھا بھائی سے لڑ پڑی ہو کیا؟
کہنے لگی کیا فرق پڑتا ہے کسی سے بھی ناراض ہوجاؤں- جیوں یا مر جاؤں
پوچھا کیوں زندگی سے اتنی بیزار ہو؟
زندگی میں مسئلے تو ہوتے ہی ہیں نا- اچھے برے فیز آتے رہتے ہیں
بولی "زندگی ایک ڈراونا خواب ہے جس میں کبھی کبھی آنکھ کھلنے کا وقفہ اچھا فیز کہلاتا ہے



مجھے اس جملے کے بھنور میں الجھا کر پرسوں سے آف لائن ہے وہ- فون کروں تو ریسیو نہیں کرتی- بہت سارے میسجز کا بس یہ جواب دیا "زندہ ہی ہوں
اب میں بھی چپ ہوں- جویریہ آپی لکھتی ہیں نا "شہرزاد
مجھے اس دن سے لگ رہا ہے میری شہرزاد کھو رہی ہے دنیا کی بھیڑ میں

وہ جو سارا دن سکیچ بک سینے سے لگائے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے کاریڈورز میں بھٹکتی رہتی تھی- کئی بار تو ہمیں اس پر کسی یونانی دیوی کا گماں گزرتا تھا، جو کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر غلطی سے ہمارے زمانے کی دنیا میں آ نکلی تھی اور اب حیران نظروں سے اپنے اطراف میں بسے لوگوں کو دیکھا کرتی تھی
ہاں اس کے چہرے پر آنکھیں تھیں- یا اس کا پورا چہرہ ہی آنکھ تھا- ہنستی مسکراتی روتی آنکھ

وہ لڑکی جو اس بات پہ پہروں اداس رہتی تھی کہ اس سے کلر اچھا مکس نہیں ہوا- جب ہم کنٹین میں شور و غل برپا کرتے تھے، وہ میز پر کہنی ٹکائے اطراف میں بیٹھے لوگوں کو بس حیران نظروں سے دیکھا کرتی تھی- اور جب اپنے اس شغل سے اکتا جاتی تو اپنی سکیچ بک کھول کے کسی حسین چہرے کو قید کرنے لگتی تھی
اس کے ہاتھ کے بنے سکیچ ابھی بھی میری کتابوں میں ملتے ہیں- وہ جو ہم چوری کر لیتے تھے اسے تنگ کرنے کے لیے- معصوم تھی- پرتھی ہماری ہی دوست- کمینی ڈائیریکٹ یقین کرتی تھی ہم پر اور پہلی ہی کلاس میں ہماری پیشی لگا لیتی تھی- خیر وہ سکیچ نہ کبھی اسے ملنے تھے نہ ملے
پرسوں سے اس کے آف لائن ہونے سے لگ رہا ہے جیسے اب اس نے سکیچ بک بند کردی- یا کہیں پھینک دی
یا - جلا کر راکھ کر دی-

سکیچ بک اس کی ذات کا حصہ تھی- لازمی حصہ- جیسے اس کا ڈمپل تھا- جو ہنستے ہوئے اس کو مخروطی انگلیوں والی دیوی بنا دیتا تھا- ہنستے ہوئے ہاتھ سے آدھا ڈمپل ڈھانپ لیا کرتی تھی- جیسے سرد رات میں آدھا چاند بادلوں میں چھپ جائے اور پھر دیکھنے والا فیصلہ نہ کر پائے کہ بادلوں میں چھپا چاند دیکھے یا باقی کا آدھا

ایسی ہی تھی بس
ہماری تو خیر مہندی آرٹسٹ بھی وہی تھی- عید ہو یا کسی کی شادی- فن فئیر ہو یا یونہی ہم پر اچانک اپنی نسوانیت کا کشف ہوا ہو- بس اس کو میسج کرنا ہوتا تھا 145مہندی لے آنا صبح146- اور پھر کینٹین میں چھپ کر اس سے مہندی لگوانا ہمارا معمول تھا

تھرڈ ائیر کا آغاز تھا  مارچ کے آخری آخری دن- موسم میں بہار کی اداسی رچی تھی- کیاریوں میں، گملوں میں، لانز میں، بہت سارے پھول کھل کر، میرے خزاں اور سردی کے سنہری پن سے عشق پہ بہاروں کا، جوبن کا گلابی کوفت بن کے چھایا تھا کہ اس نے پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھا- بازو سے پکڑ کر مجھے کھینچا اور کنٹین میں لے جا کر دم لیا
جھنجھلا کر میں نے پوچھا کیا تکلیف ہے؟ اتنی فرصت سے میں اداسی اوڑھے بیٹھی تھی
اس نے سکیچ بک سے ایک تصویر نکالی اور آنکھوں کے سامنے لہرائی، یہ دیکھو
یہ مونچھوں والا آلو کون ہے؟؟ ہک ہاہ ہماری زبان کے آگے بھی خندق ہی رہی ہمیشہ- کہہ کر بلکہ پوچھ کر پچھتائے وہ باقاعدہ ناراض ہو چکی تھی اور اب اپنی چیزیں سمیٹ کر جانے کی تیاری کر رہی تھی- بڑی مشکل سے منت سماجت کر کے منایا اسے اور پکا سا منہ بنا کر بیٹھ گئے تو کہنے لگی- رشتے کے ماموں کے بیٹے ہیں- کسی شادی میں دیکھا تھا، فلیٹ ہوگئے- اب مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں- کل شام امی ابا نے ہاں کر دی ہے- ہفتے کی شام کو منگنی ہے

ہم ابھی مونچھوں والے آلو کی تاب ہی نہ لا پائے تھے کہ اس نے تابڑ توڑ حملے کی صورت ساری خبریں ایک ہی سانس میں سنا کر دم لیا
اس سے پیشتر کہ ہم اسے بغاوت پر آمادہ کرتے، اس کے چہرے کے چھلکتے رنگوں میں ہماری بغاوت پر مبنی تقریر کے سارے دلائل غرق ہوگئے
گلے لگا کر مبارک باد دی- اسی وقت کنٹین سے آئسکریم کھا کہ منہ میٹھا کیا- اسی سے مہندی لگوا کر اسی کی منگنی کا فنکشن انجواے کیا
اب اس کی زندگی سے رنگ ایسے چھلکنے لگے تھے جیسے آئل پینٹگ سے رنگ چھلکے رہتے ہیں
سکیچ بک پہ کچھ بناتے بناتے اچانک انگلی میں پڑی انگھوٹھی گھمانے لگتی اور ہم سب مل کر اس کا اچھا خاصا مذاق بنا دیتے
وہ کبھی ہماری بات پر ناراض ہوجاتی کبھی غصہ کرتی اور کبھی ہنس پڑتی
انہی موڈ سونگز میں اس نے شادی کا کارڈ لا تھمایا
فائنلز کی ٹینشن میں اس کی شادی مس ہوگئی- خیر شادی کے بعد پیپرز ختم اور نیند پوری ہوگئی تو تخفہ لے کر اس یونانی دیوی کو منانے چل پڑے
اس کو منانا کونسا مشکل کام تھا- دو رنگوں کے ڈبے ایک برش کا پیکٹ چار پانچ نیل کلرز پرفیوم اور مان گئی
لہذا ضروری سامان لیا اور چل پڑے

اس کے سسرال میں قدم رکھا تو قدیم زمانوں کی حیران دیوی اداس اور سہمی ہوئی ملی-نئی جگہ نئے ماحول کی حیرانی سمجھ کر نظر انداز کیا- چائے کے کپ کے ساتھ ہم نے تفشیش کاآغاز کیا- نیل کلر کدھر گیا تمہارا؟
جواب میں دھیمی سی مسکان
اور ہر رنگ کی چوڑی نہیں پہن رکھی تم نے ملنگوں والی؟
پھر وہی زہر لگتی ہوئی مسکراہٹ

بہت تجسس تو کبھی رہا نہیں کسی معاملے کا، لہذا ادھر ادھر کی باتوں کے بعد سرسری انداز میں پوچھ لیا، کیسے ہیں سسرال والے؟
بہت اچھے مختصر جواب
اور بھائی؟
وہ بھی
تم___تم کیسی ہو؟
پتا نہیں
کیا مطلب، پتا نہیں_آخری حربے کے طور پر پوچھا اور یہ تمہارے گھر میں تمہارا آرٹ نظر نہیں آرہا؟
انہیں سکیچنگ پینٹگز پسند نہیں ہیں
کیوں؟؟
وہ کہتے ہیں یہ حرام ہے- تم بت بناتی ہو- روز محشر ان میں جان ڈالنا پڑے گی
اور کیا کیا نہیں پسند انہیں؟ لہجے میں زمانے بھر کی طنزیہ کاٹ بھر کے پوچھا
میک اپ، لپ سٹکس، نیل کلرز، چوڑیاں، پرفیومز، مہندی، میرا باہر آنا جانا
اور_____ اور دوستوں سے ملنا
کہہ کے وہ ایسے ہانپ رہی تھی جیسے لمبا دشوار رستہ پیدل طے کر کے آئی ہو
اس کے اس جملے کے بعد مزید وہاں بیٹھنا دشوار ہوگیا تو اٹھ کر چلی آئی
اسے یہ بھی کہے بغیر کہ ایستھیٹک سینس سے عاری اس شخص کو بت اور مجسمے میں فرق ہی سمجھا دو



کبھی کبھار میسج کر لیتی ہے- ہر بار ایک نئی پابندی کی داستان سناتی ہے- غصے میں مونچھوں والے آلو کی شان میں گستاخی کرنے کا کہتی ہوں تو یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہے کہ رب ناراض ہوگا

میں یہ بھی نہیں پوچھ پاتی کہ رب اس آلو سے ناراض نہیں ہوگا؟
احساس کمتری کو مذہب کا نام دینے پر پوچھ نہیں ہوگی اسکی؟
جس دن اس نے اپنی سکیچ بک کے ساتھ اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں بھی جلا لی تھیں اس دن اس سے کہا تھا اپنے گھر واپس چلی جاؤ- اپنے ماں باپ کے پاس

کہنے لگی سسرالی فیملی اماں کے رشتہ دار ہیں- ابا کہتے ہیں تم نے رشتہ کیا ہے، تم ہی نمٹو
اور ماں کہتی ہے اس عمر میں میری عزت تمہارے حوالے
کہتی ہے ماں کی عزت بچا لی ہے میں نے اپنے خواب جلا کر

اب مجھ سے اسے مشورے بھی نہیں دیئے جاتے
میرے لفظ اس کے حوصلے کے سامنے بہت چھوٹے، بڑے حقیر ہیں
مگر ایک سوال کی بازگزشت ختم نہیں ہوتی __ خدا کے نام پر اوروں کا استحصال کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
اور کتنی شہرزادیں اپنے خواب جلائیں گی تو اس مردانہ معاشرے کی مردانہ تشریحات والے معیارات کی انا مطمئن ہوگی؟

Friday, 15 September 2017

سالٹ رینج کا عشق اور کٹاس راج: ایک رومان



کٹاس راج اُس کے مندروں بارے تحریر پڑھ کے نہ جانے کیوں بے ساختہ لکھنے بیٹھ گئی۔ کیبورڈ کھول تو لیا پر اب لکھا نہیں جا رہا کچھ۔

سمجھ ہی نہیں آرہی کہ سالٹ رینج کے ساتھ اپنا عشق لکھ دوں یا پھر تاریخی تہذیبی گفتگو کروں عقلمندوں والی۔

مجھے معلوم ہے آپ سب سوچتے ہوں گے عشق بہت بڑا لفظ ہے۔ آپ سب زیر لب مسکرائے بھی ہوں شائد کہ میری نسل میں اس لفظ کے استعما ل کا رواج پڑتا جا رہا ہے۔میں عشق میں گزرنے والی واردت سے واقف تو نہیں ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ اگر عشق نہیں تو قرین از عشق ضرور ہے۔



میرا دل سالٹ رینج کی طرف ویسے ہی کھنچتا ہے جیسے خیام کی رباعیوں کی طرف دوڑتا ہے۔ یا پھر خیام کا رباعی والی کی طرف۔

ہے نا عجیب بات؟ پر عجیب تو میں خود بھی ہوں۔ اور خود کے عجائب پر مسکرانا ہنسنا اداس ہونا بھی لطف دیتا ہے کبھی کبھی۔

بات کٹاس راج سے شروع کر کے خود پر لے آئی ہوں۔ کیسا ہی "خواتینی148 مزاج پایا ہے میں نے بھی۔

خیر کہہ یہ رہی تھی کہ سمجھ نہیں آرہی کہ دل کی بات کہہ دوں یا دماغ کی۔

یوں تو میں سوچتی بھی دل سے ہی ہوں۔ لیکن دماغ میں ایک آدھی سوچ بھی بھر رکھی ہے جو مجھے "زمینی حقائق148 پر لکھنے سوچنے پر کبھی کبھی مجبور بھی کر بھی دیتا ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اہمیت نہیں دیتی میں ایسی سوچوں کو۔

اس لیے بھی کیونکہ تاریخی تہذیبی پس منظر پر بہت سوں کی بہت سی کتابیں کام تحقیق اعلی سے اعلی معیاری سے معیاری مل جائے گی۔

پر وہ جو عشق کیا کسی نے سالٹ رینج سے وہ تو وہی بتا سکے گا نا؟



مجھے منفرد لکھنے کا زعم نہیں۔ بس یہ پتا ہے کہ جو میں کہہ سکتی ہوں وہ صرف میں کہہ سکتی ہوں۔

اور اب ارادہ کر بیٹھی ہوں تو پھر کہہ دیتی ہوں۔ گویا چراغ جلا کر سر راہ رکھ دیتی ہوں۔ چاہیں تو ضیاء پائیں چاہیں تو بجھا جائیں۔

سالٹ رینج جانا ہو تو ایسے لگتا ہے وقت تھم گیا ہو۔ یا پھر وقت کی رفتار سے پرے کوئی شہ زادی رستہ بھول کر ادھر آنکلی ہو اور اب حیران نظروں سے گرد و پیش میں پھیلے خاموش حسن کو دیکھتی ہو۔

حسن ہمیشہ خاموش ہی ہوتا ہے۔ حسن کی ادا شوخ ہوتی ہے۔ یہ اگر دریا میں ہو تو بہاؤ میں شوخ ہوجاتا ہے پہاڑ میں ہو کٹاؤ میں شوخی سے مسکراتا ہے خود کو سر کرنے کہ کوشش کرنے والوں گراتا گرا کر قہقہے لگاتا ہے۔ کسی مہربان دیوی میں ہو تو حسن باتونی پن سے چھلکتا ہے۔ ناک سکورنے سے یا پلکیں گرانے گرا کر اٹھانے سے۔

ایسا ہی خاموش حسن سالٹ رینج کا ہے خشک خاموش اور مسلسل۔



کبھی رہتاس کے نقشے میں جنگوؤں کی کہانیاں سناتا ہوا اور کبھی رہتاس سے پرے ٹلہ جوگیاں پر بیٹھے ایک جوگی کی ونجلی میں گنگناتا ہوا۔ کسقدر میٹھا لفظ ہے نا ونجلی۔بانسری لکھنا چاہا تھا پر نہ جانے کیوں مجھے لگا بانسری لکھنے سے شائد گنگناہٹ کی میٹھی کسک نہ پہنچ پائے آپ تک۔شائد اسی لیے زبان دان کہتے ہیں کہ کسی تہذیب کو پرکھنا ہو تو اس تہذیب کی زبان سیکھ لیں۔

سالٹ رینج کی زبان بھی تو ایسی ہی ہے نا۔ نمکین۔ سالٹ رینج کا یہ حسن کبھی نالہ کاہان کے کنارے چلتی ناریوں کی پازیب میں سما جاتا ہے۔ جو کسی زمانے میں جب یہاں پانی بھرنے آیا کرتی ہوں گی تو پانی کے گھڑے سر پہ اٹھائے اپنے لہجے کے لوچ میں کوئی گیت گنگناتی جاتی ہوں گی۔ ہیر کی بے باکی پر رشک رانجھے کے سنجوگ لینے کے قصوں پر حسرت بھی سے آہ بھی بھرتی ہوں گی۔ اور اپنے اپنے رانجھوں کے حسین سپنے آنکھوں میں بسائے نالہ کے سینے میں داستانیں چھوڑ جاتی ہوں گی۔ نالہ بھی حسن کا استعارہ ہے یہاں جرنیلی سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرتا حملہ کرنے والوں کے سامنے آخری کمزور اور موہوم مزاحمت۔ جسے جنگجو اپنی رعونت میں درخوئے اعتنا ہی نہ سمجھتے ہوں گے۔

پر رعونت زدہ چہروں کے لیے انتقام کا انتظام قدرت نے تاریخ کے صفحوں میں کر رکھا ہوتا ہے نا۔

اسی سالٹ رینج میں سانپ کی وہ قسم بھی پائی جاتی ہے جس نے ڈس لیا تھا سکندر کو۔

اسی سالٹ رینج میں پیدا ہونے بڑی ہونے اور پرورش پانے والی رخسائن( رخسانہ) نے ایتھنینز پر سو سال ( خود کے بعد بیٹؤں اور پوتے کے ذریعے)حکومت کی تھی۔

مجھے پتا ہے اس جملے کی "حقانیت 148 چیک کرنے بہت سے لوگ اپنی اپنی تاریخ کی کتاب بھی کھول لیں گے تو بتاتی چلو کنگ کی بیوہکنگ کی بیوی ہوا کرتی تھی جس کو ہیملٹ میں شکسپئیر کے کردار کی سولولیکی کے کرب میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔خیر اسی سالٹ رینج کی رخسائن، ارسطو بھی جس کے حسن کے قصے لکھا کرتا تھا۔



جس نے یونانیوں میں وقت کی تعریف کے لیے بنائی گئی دیویوں کی آنکھیں نکلوا دی تھیں۔ کہ وقت اندھا ہوتا ہے۔ یہ پلٹنے پر آئے تو دن ایسے پھرتے ہیں کہ مفتوح قوم کی بیٹی فاتح قوم پر حکومت کرتی ہے۔

اور یہ ہی وقت ٹہرا ہوا ہے سالٹ رینج میں۔

کٹاس راج کے مندر ہوں یا گوجر خان کے ہر دوسرے گھر میں پردیسیوں کے انتظار میں بیٹھی دیویاں سب وقت کی رفتار سے آگے ٹہر کر رک کر کسی حسن مجسم کی داستان سناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

جب کٹاس راج کے مندر دیکھے تو کانوں مندر کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آتی جاتی منتیں دیکھائی سنائی پڑنے لگیں۔

اڑتے آنچلوں سے بندھی خواہشات اور اس پر دیویوں کے نذرانے۔

تین مندر تینوں طرز تعمیر میں تہذیب کی پختگی کا پتا دیتے ہوئے۔

یہ مندر بھی تو محبت کی کہانی پر ہی بنے تھے نا۔ سیتا کی یاد میں بہتے آنسوؤں کی لڑی سے بنے تالاب اور ان کے کنارے بنے مندر۔ جو آج زمانے کی بے ثباتی کا شکار ہیں۔

تنہا تنہا اداس اور شکستہ۔

اداسی سے یاد آیا کٹاس میں آوارہ گردی کرتے جب مندر میں گھسے تو دو پریمیوں کو راز و نیاز کرتے پایا۔ ہماری آمد پر انہوں نے ویسا ہی منہ بنایا جیسا ہم میتھ کے ٹیچر کو دیکھ کے بنایا کرتے تھے یعنی زہر۔پریمیوں کے اس ویلکم پر ہم گھبرا کر باہر آگئے۔اور واپسی کا سارا رستہ مسکراتے رہے یہ سوچ کر کہ کم از کم پریمی بائسڈ تو نہیں ہوتے۔

انہی خشک پہاڑیوں سے تھوڑا پرے چانکیہ بیٹھا اشوکا کو حکومت کے اسرار رموز سمجھاتا ہوگا نا۔ اور اسے بتاتا ہوگا بادشاہوں کے سینے میں دل نہیں ہوتے۔ اور یہ کہ دشمن کی جڑوں میں کھولتا ہوا پانی انڈیلے بغیر حکومتیں نہیں کی جاتیں۔

اور وہ ہی اشوکا جب حکومت سے اکتا جاتا ہوگا تو نظمیں لکھتا ہوگا کسی ناری کے گیسوؤں کی تابداری لفظوں سے بیان کرتا ہوگا۔ اور وہ نظمیں ریجن کی سب سے قدیم یونیورسٹی کے سلیبس کا حصہ بنا دی جاتی ہوں گی۔ آرکیالوجسٹ کہتے ہیں نا۔ زمیں کھود کر نکالی جانے والی زندگیوںِ میں سے ٹیکسلا والوں کی شاعری زبان ادب بڑا ریچ تھا بڑا ریفائن۔قرائن کہتے ہیں یہ علاقہ محبتوں کے لیے بھی بڑا موزوں تھا۔

اچھی لڑکی



میں نے اگر اس کا ہنستا مسکراتا شوخ روپ نہ دیکھ رکھا ہوتا تو عامی لگتی وہ مجھے، ہر دوسری بات سے نالاں، بلند توقعات والی مستقل طور پر ناخوش۔۔۔

آنکھوں کے نیچے حلقے تھے، ہونٹ والا تل جسے وہ بڑے اہتمام کے ساتھ کبھی کاجل سے گہرا کیا کرتی تھی، اب معدوم ہو چکا تھا، اس کی ہنسی کا مستقل تاثر جو آنکھ سے ٹپکا کرتا تھا، غائب تھا، جتنی دیر وہ میرے سامنے بیٹھی رہی انگی کے ناخن سے میز کی سطح کھرچتی رہی، پوچھنے کی نہ ہمت تھی، حوصلہ نہ اختیار۔۔۔

خود ہی کہنے لگی، بہت سی باتیں، بہت سے رویوں کے قصے، لہجوں کے دشت بتانے لگی۔۔۔

اس کی آنکھ کے پانی میں اپنا عکس دیکھنا کیسا کربناک تھا، میرے بیان سے باہر ہے۔۔۔

اس کی شکستہ دلی سے جھنھجلا کہ میں کہہ اٹھی۔۔۔

آخر مصیبت کیا ہے؟؟؟

بے دردی سے وہ بولی تو بولتی چلی گئی، اور میں۔۔۔ میں ساکت ہوجانے کا مفہوم سمجھ گئی اسوقت۔

گھر والے بہو نہیں بنانا چاہتے تھے تو پھر بنایا کیوں؟؟؟

شائد۔۔۔۔ لڑکے کا پریشر۔۔۔۔ وہ رک رک کر بولی

پھر؟؟؟

پھر اب میں ہوں اور سرد مہری، درشت لہجے، سخت جملے، تعلیم کے طعنے، تربیت والوں کو باتیں۔

وہ کچھ نہیں کہتا؟

نہیں___

تف ایسی محبت پر___ کہتے کہتے رک گئی۔

تو اب؟

گھٹن ہوتی ہے، لگتا ہے پاگل ہوجاؤں گی، میری تعلیم میری تربیت میرا شعور روز امتحان میں ڈال دیتے ہیں، جاہل ہوتی تو ایک کے بدلے دس سناتی، دل ٹھنڈا کر لیتی۔۔۔۔

اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا چاہا تھا اس وقت۔۔۔

اور یہ سب کہنا چاہتی تھی کہ۔۔۔

سنو اچھی لڑکی! مجھے پتا ہے جب جب تم مجھے سناتی ہو تو دراصل دل کا درد بانٹتی ہو، میرے پاس بھی حل نہی ہوتے، بس سن لیتی ہوں۔م دنیا جہاں کے فلسفے سناتی ہوں، جھوٹی سچی کہانیاں کہتی ہوں، افسانے گھڑ گھڑ کے تم میں لڑنے کا حوصلہ ڈالتی ریتی ہوں،

دراصل میں خود اسوقت تم سے حوصلہ کشید کرتی رہتی ہوں، زندگی جینے کا ڈھنگ سیکھتی رہتی ہوں۔۔۔

سنو! میں جب جب کہتی ہوں نا تمہیں "بریکنگ نیوز میں رہنے کا شوق ہے بس، تو اس کا قطعی یہ مطلب نہی ہوتا، میں بس تمہیں "اوفینڈ کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم ساری فرسٹریشن نکال سکو،

جب تمہیں کہتی ہوں "کمپلینگ آنٹی بنتی جا رہی ہو، تو یقین کرو یہ مطلب نہیں ہوتا، تمہیں دیکھ کر تو میں اپنی بہت سی شکایتوں سے "ود_ڈراکر جاتی ہوں۔۔۔

سنو! میں تم سے یہ نہیں کہتی ہر چیز "سرنڈر کردو میں قائل ہی نہیں اسکی، ہاں یہ ضرور کہتی ہوں تعلق میں گریس قائم رہے اس کے لیے کچھ نہ کچھ تو چھوڑنا پڑتا ہے۔

یہ سوال آتا ہے ذہن میں کہ ہم ہی کیوں چھوڑیں؟

ہے نا؟

کیونکہ ہم "کمزور جنس ہیں۔۔۔

پگلا گئی ہو؟

خود کو آئینے میں دیکھا کرو، کہاں سے کمزور ہو؟

بات کمزوری کی نہیں، بات یہ ہے کہ ہم فریق ثانی سے کہیں زیادہ ذمہ دار، "فیملی اورینٹڈ اور خیال رکھنا جاننے والے ہوتے ہیں۔

میں نے امیر معاویہ رضی عنہ کا تعلق نبھانے پر دھاگے کو ڈھیل دینے قول پڑھا تو اسوقت پتا ہے کیا محسوس کیا؟

تعلق نبھانا پڑ جائے اگر تو وقت کے بادشاہ کو بھی دھاگا ڈھیلا کرنا پڑتا ہی ہے۔

سنو! اپنی ذات ختم مت کرو اپنی ذات کے خول کو اتنا کھلا بھی مت کرو کہ ہر شخص منہ اٹھائے گھسا چلا آئے، کبھی کبھی لوگوں سے خفا ہوجانا بھی اچھا ہوتا ہے، ان کو یا آپکو اپنی حیثیت پتا چل جاتی ہے، دونوں صورتوں میں آسانی ہوجاتی ہے- سنو! تم کہتی ہو نا شعور آگہی عذاب بن گیا ہے۔۔۔

اپنے تل کو کاجل سےگہرا کرتی چنچل حسینہ سنو!

یہ شعور آگاہی حساسیت یہ عذاب ہی ہوتے ہیں، ہم آپ تو صرف لہجوں کے دشت دیکھتے ہیں نا،

اس کمبخت شعور کے آزار زہر پینا پڑگیا تھا سقراط کو۔۔۔

اس موئی آگاہی نے مصلوب کرا دیا تھا منصور کو۔۔۔

تو شعور اور آگاہی کو سہل مت جانو، اس کی قیمت دینا پڑتی ہے۔۔۔

تم سے یہ کہوں گی

وہ کہوں گی

ایسے کہوں گی

لہجے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ایک آدھا آنسو بھی ٹپکا دوں گی

یہ ہی سوچ رہی تھی (تمہیں میری ایکٹنگ پر تو خیر کبھی بھی شک نہی رہا)

لیکن پتا کیا ہوا؟

میرے دل پہ مرہم کے جیسی آیت سرگوشی کے سے انداز میں اتری۔۔

وہ "آلمائیٹی کہتا ہے

بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔۔۔

سنو کیا ہے اس "بے شک میں "شک کرنے کی کوئی جرات؟؟؟

گنجائش؟؟

آنا_کا_جگنو


آپ نماز میں کھڑے ہوں اور ابھی رابطہ شروع ہی ہوا ہو کہ کوئی پیچھے سے دوپٹہ کھینچ لے کہ ڈییٹہ نہیں لیں۔
ابھی آپ اس افتاد سے بمشکل سنبھل کر سجدہ کریں اور آپ کو دھکا دیا جائے کہ یہ ایمو کا جائے نمازش ہے-اتھ جائیں
آپ کچن میں کھڑے ہوں اور کوئی آ کر کہے آپ مجھے شبت بنا کر دیں- کونسا شبت؟ یڈ والا
آپ فریج کھولیں اور کوئی فورا حاضر ہو کر حکم لگائے ایمو سپائٹ پیے گا
آپ چالاکی دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے دودھ والا جگ آگے کھینچ کر پوچھیں کہاں سپرائٹ مجھے نظر نہیں آرہی آپ سے کہا جائے وہ پیچھے ہے گوین کلوو کی
آپ کہیں وہ تو فنش ہوگئی تھی
اور آپ سے کہا جائے ایمو ڈسٹ بن دیکھے گا- تو یقین کر لیں ایسے ہی کسی بچے کو آپکے لیے بھیجا جانا چاہیے تھا-جو آپ کی ساری چالاکیوں کا جواب، بلکہ منہ توڑ جواب دے سکے
تو پیارے جگنو آنا بہت زیادہ مس کر رہی ہے آپکو
آپ میرے بہترین احساسات میں سے ایک ہیں
جب آپ مجھے کہتی ہیں آنا اچھی آنا بہت اچھی آنا تو مجھے گمان گزرتا ہے بہت نہیں تو تھوڑی سی اچھی تو ہوں گی ہی- میرا جگنو جھوٹ نہیں بولتا
جب آپ مجھے بتاتی ہیں یہ جس آواز سے آپ مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہی ہیں یہ جنی کی آواز نہیں ایمبو لییکش( ایمبولینس) کی آواز ہے تو میں دل سے ہنستی ہوں یہ سوچ کر کے آپ ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں
پیارے جگنو آپ میرے خیال میں بسی روشنی جیسے ہیں جو مجھے میرے احساسات کو میرے تخیل کو نیا پن بخشتا ہے
آپ کو تو یاد بھی نہیں ہوگا اللہ نہ کرے وہ منظر یاد ہو آپکو- پر مجھے یاد ہے جب آپ مجھ پر تابڑ توڑ حملے کر رہی تھیں اور میں نے بے ساختہ ہاتھ پر چپت لگا دی تھی- آپ نے آنکھوں میں آنسو بھر کے پوچھا تھا آپ نے مجھے کیوں مارا- :'( اور اپنی پھپھو کے اگلے جذباتی سین پر آپ نے کہا تھا آپ نہیں روئیں ایمو آپ شے ناراضش نہیں ہے- آئیم سوری جگنو آپ کے ہاتھ پہ مارا جا سکتا ہی نہیں ہے_آپ کو اندازہ بھی نہیں اس چپت کا دکھ ہمیشہ رہے گا آنا کو- سوچیں تو کیسی بے بسی ہے- خوشگوار بے بسی جگنووائلنٹ ایگریسو آنا چپت پر شرمندہ اور دکھی ہے- آپ شاید نہ سمجھیں یہ بھی محبت کی دین ہے- یہ خوشگوار سی بے بسی- یہ اختیار کو بے اختیار کر دینے کی خواہش یہ سب محبت کا پھیلاؤ ہے- آپ نے مجھے محبت کا صحیح مطلب سمجھایا ہے- جب آپ باہر کھڑی ہو کر آواز لگاتیں ہیں آنا چئیرز لے کے آئیں اور یہ کہ ٹو ٹین آملیٹس باہر دے دیں- یا پھر یہ کہ سارے لالی کوپ دے دیں- کیوں کہ آپکی کی ویہلی سہیلیاں آپ کے ہمراہ ہوتی ہیں- یا پھر آپ پیچھے سے آ کر کہتی ہیں آپ ہمیں شموشے بنا کر دیں- ان سارے موقعوں پر آپ مجھے چھوٹی سے تتلی لگتی ہیں جو اپنی ذات کے سارے رنگ میری ہتھیلی پہ پھیلاتی جا رہی ہو
آپ سمیت سب کے لیے یہ عام بہت ہی عام باتیں ہوں گی- یہ ہیں بھی عام ہی شاید- پر مجھے لگتا ہے جیسے یہ ساری باتیں خوشبو جیسی ہیں جو میرے خیال کو مہکتا رکھتی ہیں
جب آپکے ساتھ دو گھنٹے سلانے کی ناکام ترین کوشش کر کے میں نے اٹھ کر لائٹ آن کی تھی اور آپ نے غصے سے پوچھا تھا آپ نے لائٹ آن کیوں کی ایمو شو لا تھا
تو اس وقت جی چاہا تھا آپ سے کہا جائے ایمو شو لا نہیں ایمو شعلہ ہے وہ بھی بھڑکتا ہوا- جو اس کو چھوئے گا وہ جل جائے گا
میں سیلف سینٹرڈ ہو رہی ہوں میرا جی چاہتا ہے یہ وقت یہیں ٹھہر جائے۔ آپ کا یہ خوبصورت فیز- مجھے لگتا ہے آپ کی پیاری باتیں پازیٹو ویوز بناتی ہیں، مثبت چارج، جو اندر سکون بھرتا جاتا ہے-آپ کو بڑا ہوتا ہوا دیکھ کر اندر کے مستقل اداس شخص کی اداسی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے- آپ کو بڑا ہوتا دیکھنا، گدھوں کی ریس میں شامل ہوتا دیکھنا، بے حسوں کے گروہوں میں شامل ہوتا دیکھنا، بالکل خوشگوار تجربہ نہیں ہے- کیا ہو جو وقت یہیں ٹھہر جائے کچھ دیر کو- میں اور آپ کچھ رنگوں کی باتیں کر لیں تتلیوں کے پیچھے بھاگ لیں پھول توڑ کے ہتھیلی پہ دھر کے اس کو سونگھ سکیں- آپ کی آنکھوں کی چمک کو میں کچھ دیر کو اپنے اندر سمو لوں- آپ تھک کر میری گود میں سو جائیں تو آپ کے چہرے پہ پھیلتی معصومیت کی شفق کو میں ذرہ ذرہ سمیٹ لوں- پتا نہیں مجھے کیوں لگتا ہے آپ کے ساتھ بات کرتے کرتے کسی دن میرے لفظ ختم ہوجائیں گے اور بات ادھوری رہ جائے گی-
اچھاـ آخری بات سنیں___ جب آپ کہتیں ہیں پولیس انکل____ آنا کو لے جائیں- تو کوئی میرے اندر ہنستا ہے زور سے یہ سوچ کر کہ اس پوری دنیا میں صرف آپ ہیں جو میری قابل دست اندازی پولیس حرکتوں پر پولیس کو بلا بھی لیتی ہیں
آپ کا اور میرا تعلق کسی زمینی رشتے کا محتاج نہیں میں کسی رشتے کے بغیر بھی آپ کی آنا ہی ہوں بالکل ویسے جب آپ کو کہا گیا تھا کہ آنا آپکی پھپھو ہیں اور آپ نے جواباً کہا تھا پاگل ہو! یہ تو آنا ہے
آپ کے مسلسل بڑے ہونے پہ تھوڑی سی اداس آنا
ایمو کی آنا


Saturday, 19 August 2017

پاکستانیوں کو مبارک




آج کا دن ہر اس شخص کو بہت مبارک جو اس ملک کو غلطی سمجھ کہ اسی میں رہ کہ "غلطی کو سدھارنا چاہتے ہیں-یقین مانیے یہ دن آپ ہی جیسوں کے سینوں پہ مونگ دلنے کو آتا ہے- سو مبارک باد لیجیے- آزادی کی مبارک باد- ارے وہی بولنے کی کہنے کی آزادی بیف کھانے کی تنقید کرنے کی آزادی- شادیوں طلاقوں کی آزادی-
 آج کا دن ہر اس شخص کو بھی بہت مبارک جس کو اس ملک نے دیا ہی کچھ نہیں ہے- یہ دن ہر کرپٹ سیاستدان کے حامی کو بہت مبارک- جرنیلوں کے خم ابرو پر جان دینے والوں کو بھی یہ دن مبارک- ڈی ایچ کیوز میں پلاٹ بنانے بنا کر بیچنے والوں کو بھی یہ دن بہت مبارک-سڑکوں ٹرینوں بسوں میں کمیشن کھانے والوں کو مبارکباد- تعلیم کی صحت کی پرائیویٹ لیمیٹڈ کمپنیز کھول کے اس ملک کے حالات پر بے لاگ تبصروں والوں کو خصوصی مبارکباد-
 سیسلین مافیا کہلوانے اس پر مٹھائیاں کھانے والوں اس پر تڑفنے والوں دونوں کو یہ دن دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک- سارے "نیوٹرلز کو آج کا دن مبارک- عصبیت کے نام پر اپنی اپنی دوکانیں کھولنے والوں کو مبارک نسل رنگ زبان آہنگ علاقائیت بیچ کر پاکستان کھانے والوں کوآزادی مبارک- اپنے بچوں کو "باہر سیٹ کرنے کے لیے گدھوں کی طرح کام کرتے گدھوں یہ ملک اس کی آزادی مبارک- ماؤں بہنوں بیٹیوں کو اپنی جھوٹی انا بے غیرتی والی غیرت کی بھینٹ چڑھا کر مشرقی روایات قرار دینے والوں کو آج کا دن اس ملک میں گزارنے پر مبارکباد- لفظوں کی حرمت قلم کی عزت بیچ کھانے والوں کو آج کے دن کی بہت مبارکباد
 خدا پر قبضہ جمانے کی کوشش کرنے والوں کو، اس کے احکامات اپنی مرضی سے بتانے والوں کو اس مملکت خداداد میں اپنی شتر بے مہار آزادی کی بدولت آج کا دن مبارک- ظلم کے بدلے ظلم کا انصاف کرنے والے سارے پنچائیتیوں کو مبارک- کھیل میں جوا ڈیوٹی میں ڈنڈی امتحان میں پرچی پر بھروسے والوں کو اس دن کی ڈھیروں مبارکباد- ڈیوٹی سے چھٹی کر کے ٹیوشن سینٹر چلانے والے استادوں کو- دودھ میں نہر کا شفاف پانی ملانے والے گوالے کو- مرچوں میں اینٹ کا برادا ڈالنے والے کو- کمٹمنٹس کر کے بھاگ جانے والوں کو- اوروں کی تخقیر کرنے والوں اور مجھ سمیت ہر طنزیہ "دانشور کو یہ دن مبارک- کیوں بھلا؟ کیوں کہ یہ دن ہے تو ہم سب کی دوکانیں چل رہی ہیں-
یہ آزادی ہے تو ہم سب اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں- اور یہ پاکستان ہے تو ہمارے حرفوں کو پڑھنے والے ہیں اور اس لیے کیونکہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے- اچھا برا بھلا ہم نے ہی سوچنا ہے اس کے متعلق- اور اسے ہم ہی نے اون کرنا ہے.
 سو ہیپی انڈیپینڈنس ڈے دوستوں-
 کیونکہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے.

Thursday, 10 August 2017

غیرت


ہر نئی بات/ٹرینڈ کی خبر ہمیں تب ہوتی ہے جب وہ پرانی ہونے کے بلکل قریب ہوتی ہے۔ حتی کے سوشل میڈیا کے وائرلز بھی ہمیں اینٹی
ڈوٹ کے آجانے کے بعد پتا چلتے ہیں عموما۔

وہ بھی ایسا ہی ایک ٹرینڈ تھا۔
یونہی ہم نے ایک دن کورس کی کتابوں سے گھبرا کہ نیوز چینلز سے اکتا کہ اور خود سے بیزار ہو کہ اینٹرنیمنٹ چینل لگایا تو وہاں خبریں چل رہی تھیں۔
کسی سوشل میڈیائی خاتون کی۔ جو اپنی سیلفی وڈیوز پوسٹ کیا کرتی ہے اور پھر اس پر داد پاتی ہے۔
اریٹیٹ ہونا تھا سو ہوئے لیکن اگنور کرنا ہی مناسب تھا سو کیا۔ یوں بھی بہت سے معاملات پر ہم لب نہیں کھولتے وجہ یہ کہ ہم نہیں سمجھتے ہماری رائے اسقدر اہم ہے کہ اس کا لازمی اظہار کیا جائے۔
خیر یہ تو تھی ایک ضمنی بات ہم نے خاتون کو دیکھا تو نہیں لیکن نام سنا اور پھر اگلے کئی ہفتے خاتون کی خبروں سے ہمارے سوشل میڈیا کے نیوز فیڈز بھرنے لگے۔ بہت سے دوست ان کی پوسٹس شئیر کرنے لگے۔وڈیوز فوٹوز ان کے خیالات۔
اس پر ویسی ہی کوفت ہوئی جیسی ایک لیڈی کو ہونی چاہیے۔ جو یہ سمجھتی ہے کہ نیوڈٹی کسی جبر زیادتی ظلم کا جواب نہیں ہوسکتی۔ اور جو یہ سمجھتی ہے ری ایکشن کی نفسیات کبھی مسائل حل نہیں کرتی۔
ذہن میں کوفت دل میں چڑ بھرتی گئی اور نیوز فیڈ میں #قندیل_بلوچ۔ وہ جو فوزیہ تھی میاں والی میں اپنے ابا کی فوزیہ۔
وہ شہروں میں آئی تو خبر ٹہری جلتی ہوئی خبر۔
کبھی مبشر لقمان کے پروگرام میں ان کا کندھوں سے گرتا شرگ تو کبھی کمرے میں موبائل کا ان کے ہاتھوں سے دانستہ پھسلتا کیمرہ۔ تو کبھی گاڑی کے بونٹ پہ بیٹھی دو پونیاں بنائے ٹریک سوٹ پہنے چلا چلا کر اظہار محبت کرتی کیمروں کے ذریعے ٹی وی پر آتی ہوئی۔
ہر روز خاتون ایک نئے کرب میں مبتلا کرتی جاتی تھیں۔ کسی بھی انسان کے لیے باشعور انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ یہ نارمل حرکتیں نہیں ہیں۔ کوئی ڈور کہیں الجھی ضرور ہے ورنہ گھر کا سکھ کون روندتا ہے؟ اگر سکھ ہو تو__
یہ بھی دل چاہا کہ کاش کوئی ایسا ہو جو پکڑ کے بیٹھا لے پاس اور نرمی سے الجھے ہوئے ریشم کو سلجھا دے۔
ایک انسان جیتا جاگتا وجود اپنے تماشے کے اسباب کرتا پھرے اس پر مستزاد تماشائیوں کو سہولت مہیا کرے۔ تو یقینًا کہیں اندر ہی اندر بارش تو ہوتی ہوگی جو وہ اتنی دھند جمع کر بیٹھی تھی اپنے اردگرد۔
کوئی بھی شر کی فطرت لے کہ پیدا تو نہیں ہوتا نا۔
لیکن ہمیں یہ سمجھ آنا تھا نہ آیا۔ ہمیں شعور آگہی سمجھ عقل کچھ نہیں آتی۔ قومی حثیت میں اگر کچھ آتا ہے تو وہ نام نہاد غیرت ہی ہوتی ہے۔
دل چاہتا ہے غیرت مندوں کے چہروں سے نقاب نوچ ڈالوں سو گدھوں کے چہرے یہ قوم دیکھ بھی لے جان بھی لے پہچان بجی۔
لیکن پھر اپنے اصل چہرے سے ڈر لگتا ہے سو ارادہ بدل کے مجموعی منافقت کا حصہ بن کر مچھیروں کی بستی کی رکنیت پہ فخر کرنے لگتی ہوں۔
مجھے نہیں پتا کونسی قوت مجھ سے یہ لکھوا رہی ہے۔ لیکن بہر کیف مجھے لکھنا ہے سو لکھ رہی ہوں۔ جیسے کوئی چراغ جلا کہ سر راہ رکھنے کی ڈیوٹی پہ مامور ہو۔ پھر چراغ جانے ہوا جانے اور راہی جانے۔
جب تک وہ زندہ تھی میرا اس سے صرف ہدایت کی دعا کرنے کا تعلق تھا جس کی مجھ سمیت سب کو ضرورت ہے۔
نہ کبھی وال پہ گئی نہ پیج پہ نہ کوئی وڈیو دیکھی۔ بہت سے لوگوں کو البتہ ان فالو ضرور کیا جو ان کی وڈیوز پہ گدھوں کی طرح منڈلاتے اس کو اسکی اوقات یاد کرایا کرتے تھے۔
لیکن خاتون سے اتفاق کی کوئی صورت کبھی بھی نہ رہی۔ پھر ایک دن چینلز نے چینختے چنگاڑتے خبر دی کہ فقیہ شہر 147طوائف148 کے کوٹھے پہ جا پہنچا ہے۔ اب تو اسےمسلمان کر کے ہی چھوڑا جائے گا/ حواریوں نے جام محبت لٹائے۔ کل تک اس کے جہنم کے ٹکٹ بانٹتے آج اسے حلقہ ارادت میں شمار کرنے لگے۔
لیکن کیا ہونا تھا کیچڑ میں صرف کنول ہی دامن داغدار ہونے سے بچا سکتا ہے۔ پتا ہے کیوں؟ کنول میں  کے بوجھ تلے دبا ہوا نہیں ہوتا۔ 
اب کی بار طوائف کی بن آئی کلاہ و دستار اچھلنے لگے کوٹھے کی نائیکاؤں سے چہروں والے بہت سے جام عشرت لٹانے لگے۔فقیہ شہر کی دستار اچھلتے دیکھ کر حواریوں کی زبانیں زہر اگلنے لگیں۔ فاحشہ ہے بدکردار مارڈالو۔
زانی ہے جہنمی مارڈالو
پردہ نہیں کرتی جسم دکھاتی ہے مار ڈالو
غیر مرد کو دیکھ کے مسکراتی ہے مار ڈالو
بھائی عزت دار ہے غیرت والا
اسے مار ڈالے۔
اور مار دی گئی۔
ایک جیتا جاگتا وجود لاش بن گیا۔
یہاں اس لے لیے ہمدردیاں نہیں سمیٹنی مجھے نہ اسے فینٹسائز ہی کرنا ہے۔
لیکن یہ ضرور کہنا ہے جس نے مارا ہے جو وجہ بنے جس کسی نے فوزیہ کو قندیل بنایا وہ سب مجرم ہیں سب قاتل۔
ایک انسان لاش بنا دیا گیا۔ غیرت کا پرچم سر بلند ہوا بے غیرت مر گئی۔
فقیہ شہر نے کہا عورتوں کو اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ سب نے آمین کہا۔
ہم نے منافقت اوڑھی اور ریاست نے خاموشی۔
خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔
لفظ تھم نہیں رہے جملے رک نہیں رہے۔ لیکن کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوار سکتا ہے؟
یوں بھی اب صرف یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ قندیل رب تمہاری منزلیں آسان کرے اور تمہارے حق میں دعائیں قبول فرمائے
آمین۔

بھیڑیوں کا انصاف



آج تو ابا کو گھر آ لینے دو اماں کی ضرور شکایت لگاؤں گی نہ جانے کیوں مجھے باہر کھیلنے سے منع کرتی ہے ساری ہی تو میری سہیلیاں کھیلتی ہیں- اور پھر کہتی ہے چھٹیوں کے بعد تمہیں سکول بھیجوں گی پانچ سال کی ہوگئی ہو تم- اب بڑی ہوگئی ہو
بڑی پانچ سالہ عورت نے سر جھٹکا اور گلی کی نکڑ پر سہیلی کے گھر کی طرف چل دی ساری گلی میں اتنی خاموشی تھی جیسے قبروں میں ہوتی ہے-قبر کا خیال آتے ہی خوف زدہ ہو کر نظر چاروں طرف دوڑائی گلی میں کسی کو نہ پا کر گھر کی طرف دوڑ لگا دی
لیکن گھر دور تھا- بہت دور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور درمیاں کئی بھڑییے بیٹھے تھے گھاتیں لگائے ہوئے۔
عمر کے سترہویں سال میں لگ چکی تھی- اب تو اکثر آتے جاتے کمرے سے باہر برآمدے کی دیوار پر ٹنگے ہوئے چھوٹے گول آئینہ میں اپنا عکس دیکھ کر چوری سے مسکرا بھی دیتی تھی- اور پھر اپنی ہی مسکراہٹ سے خوف زدہ ہو کر پکا سا منہ بنا کرخود کو کاموں میں مصروف کر لیتی  مگر کمبخت عمر کا یہ حصہ ہی ایسا تھا مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپتی تھی- ہونٹوں پر پہرے بٹھاتی تو آنکھ مسکرانے لگتی- آنکھ کو روکتی تو کلائیاں کھکھلا اٹھتیں اور محلے کی دوکان سے لی چوڑیاں اس کھلکھانے کا راز فاش کر دیتیں اور تین کمروں کے اس گھر میں کسی کونے سے اماں کی آتی ڈانٹتی، غصے سے بھری آواز آتی- خدا جانے یہ سارے جسم نے مسکرانے کا فن کہاں سے سیکھا تھا -اور یہ بھی اتفاق تھا یا کچھ اور جب جب اس نے مسکرانا سیکھا تھا اس کی اماں نے دہلنا شروع کر دیا تھا
اماں گاہے بگاہے بھائی کا ڈراوا بھی دیتی تھی یہ بھی معمہ تھا کہ وہ تین سال بڑے بیس سالہ کڑیل بھائی کی جوانی سے ڈرتی تھی یا میرے جوبنسے ان دونوں میں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور تھا۔
جبھی تو اماں بھائی کی موجودگی میں مجھے منظر سے ہٹائے رکھتی تھی-میری سہیلیوں کی مائیں بھی ایسے ہی کرتی ہوں گی
اماں کہتی ہیں بیٹیوں کے نصیب ایک سے ہوتے ہیں
ابا بھی کہتا ہے دھی رانی ہوتی ہے بس اس کے نصیب ڈراتے ہیں- پتا نہیں یہ کونسے نصیب ہوتے ہیں
ابا تو یہ بھی کہتا ہے بیٹی کسی کو بری نہیں لگتی یہ معاشرہ جینے نہیں دیتا
کسی دن پوچھوں گی ابا سے یہ معاشرہ کیا ہوتا ہے کون بناتا ہے اسے اور یہ کیوں جینے نہیں دیتا
ابا سے یہ بھی کہوں گی میری سہیلی دسویں کے پرچے دے گی اس بار، پھر ابا سے کہہ کے اگلی بار میں بھی دوں گی
اور آنے والی عید پر چوڑیوں مہندی کے ساتھ کاجل بھی لوں گی- میری سہیلیاں کہتی ہیں میری آنکھیں کالی ہیں کالی آنکھوں میں کاجل بڑا پیارا لگتا ہے
صبح سے ہی اماں چارپائی سنبھالے پڑی ہے- ویسے تو اکثر بیمار رہتی اماں- پر آج تو صبح سے عجیب بے چینی ہے اسے بار بار شربت پانی پی رہی ہے- کہتی ہے دل گھبرا رہا ہے میرا
ابا سے کہہ کے اماں کو بڑے اسپتال لے جاؤں گی- ڈاکٹرنی سے چیک کرانے
آج گرمی بھی تو بہت ہے سورج جیسے ہمارے ہی آنگن میں اتر آیا ہو- اما‍ تین بار دروازے پہ ہو آئی ہے بھائی کو دیکھنے- خدا جانے اتنی دوپہر میں کہاں گیا ہوگا
اماں کی چارپائی کے کونے پہ ٹکی وہ نہ جانے کیا کیا سوچ چکی تھی- اور جانے کتنی دیر ایسے ہی بیٹھی رہتی جو دروازہ دھڑ دھڑانے سے ڈر نہ جاتی- خوف زدہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھا جو دل پہ ہاتھ رکھے دروازے کو دیکھ رہی تھی- ہمت جمع کر کے دروازہ کھولا تو بھائی__بھائی آنکھوں میں بسی حیوانیت سمیت اسے دھکا دیتے ہوئے اندر آیا
نلکے پہ جا کہ منہ پر پانی کے چھینٹے مار کمرے میں جا گھسا
وہ سہم کے اماں کے ساتھ جا لگی
جانے کتنے پل وہ بھائی کی آنکھ میں بسی حیوانیت کو سمجھنے نا سمجھنے کے درمیان معلق رہی جب اماں نے اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کیا اور اندر کمرے میں چلی گئیاور جب باہر آئی تو شکستہ قدم چلتی چارپائی پہ ڈھے گئیسپہر ڈھلے کچھ لوگ ابا کو بلانے آئ اماں کے جواب پر ڈیرے پہ چلے گئے
سورج اپنے تمام تر غرور انا کے ساتھ مغرب میں ڈھلنے لگا تو سارے دن کی بے چینی پلکوں پہ آ ٹہری
پنچائیت کے آدمی بھائی کو بلانے آئے- اماں دھاڑیں مار کے رونے لگی
میں نے آٹا گوندھتے کئی نمکین آنسو پونچھے- بھائی کا جرم نہیں پتا تھا مجھے
لیکن خود کو سزا کے لیے ضرور تیار کر چکی تھی
اس بستی کی ریت ہے نا بیٹوں کی کڑیل جوانیاں بچانے کے لیے بیٹیوں کے جوبن بلی چڑھائے جاتے ہیں
اب گلی میں ہونے والی ہر آہٹ پر دل بلیوں اچھلنے لگتا- جانے کب کون موت کا پروانہ تھامے آ نکلے
دل کے کسی کونے میں موہوم امید بھی تھی  ابا مجھے سزا نہیں ہونے دے گا
اماں میری بلی نہیں چڑھنے دے گیرات سے پہلے جھکے کندھے لیے ابا گھر میں داخل ہوا-بھائی اس کے پیچھے تھا نہ آنکھوں میں حیوانیت نہ چہرے پہ شرمندگی نہ جھکا سر
پانی کا گلاس کا ابا کی طرف بڑھایا تو کپکپاتا ہاتھ سر پہ رکھ کے کمرے میں چل دیا اماں نے چیل کی طرح جھپٹ کے ابا کا دامن پکڑا اور ابا کی آنکھ میں چھپی تقدیر پڑھ کے سینے پہ دو ہتڑ مار کے بین ڈالنے لگی
تین تھے، نہیں شائد چار یا پھر پانچ- حیوان تھے جو لینے آئے۔ایک بھیڑییے نے پانچ سالہ عورت کو نوچ ڈالا تھا
منصفوں نے فیصلہ سنایا بھیڑییے کے گھر کی بھیڑ کو نوچا جائے
ابا کا جھکا سر اماں کے بین کچھ کام نہ آیا انصاف کا سر بلند ہوا
اذیت کی وحشت کی جانے کتنی صدیاں تھیں جو بدن اور روح چیرتی رہیں
جانے درد کے کتنے زمانے تھے جو گزرے تو وقت ٹہر گیا
جیسے چلتے چلتے زمیں رکی ہو- میں جو ابا سے معاشرے کے مطلب پوچھنے والی تھی اب اسی کے رحم و کرم پہ اس اندھیرے کمرے میں پڑی درد کے بے انت سمندر میں بے حس وحرکت پڑی تھی
ظالم مظلوم اور مظلوم ظالم بنا میری بستی میں انصاف کا بول بالا ہوا- منصفوں کے شملے اونچے ہوئے اور میری جنس کی تذلیل کا نیا باب رقم ہوا
ایک لڑکی سورج کے ڈوبنے سے چاند کے نکلنے تک کے درمیانی عرصہ میں زندگی کے سارے فلسفے سمجھ گئی
اماں کے ہر وقت کے کوسنے کا مفہوم اب کھلا مجھ پر
اپنے کندھوں پہ اپنی لاش لادے خود ہی چلتی گھر، نہیں اجنبیوں کے مکان تک آئی تھی یا کوئی چھوڑ گیا تھا نہیں معلوم-احساس کی شدتاحساس مار دیتی ہوگی- درد کی کسی بلند فصیل کو پیدل طے کیا تھا جو اب دکھ کی کسی کیفیت کا شائبہ نہ رہا تھا- میں اپنی بستی کے منصفوں سی ہوگئی__ بے حس
کاش میری جنس بھی صافہ باندھا کرتی تو میں صافہ گلے میں ڈالے منصفوں سے سراپا التجا ہوجاتی ریت ہے نا یہاں کی جب کوئی صافہ گلے میں لٹکائے چلا آئے تو اس کے کردہ نا کردہ قصور معاف کر دییے جاتے ہیں
افسوس کہ نوچی جانے والی دونوں عورتیں صافہ نہ لیتی تھیں
سنا ہے ایسے منصفوں کی بستیاں جلد الٹا دی جاتی ہیں- سنا ہے ایک منصف اور بھی ہے- جو عادل ہے منصف ہے-میں اس کی عدالت میں مقدمہ نہیں لے جاؤں گی- سنا ہے آہ پر سوؤموٹو لیتا ہے وہ- حاکموں کا حاکم سب سے بڑا منصف
سحرش عثمان