Pages

Monday, 12 February 2018

ایک خط کے جواب میں




سلام:
تمہارے خط سے اندازہ ہوا ہے تم ٹھیک ہو چنگے بھلے ہو۔
حیرت ہوئی تم میری تحریر میں ابھی بھی نرم سا احساس ڈھونڈ رہے تھے۔ گویا تمہاری امید پرستی قائم ہے۔
تم کہتے ہو اگر تم مل جاتیں تو عمر بھر یہ ہی سننا پڑتا۔ تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔
ہماری ذہانت ہماری بے حس خوشیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔
سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔
مشرقی عورت اگر ذہین عورت بھی ہو تو بلا کی جھوٹی ہوتی ہے۔ اس کو گھر بنانے عمر گزارنے کے لیے ہر ہر موڑ پہ جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں۔ ماسکنگ کرنا پڑتی ہے۔ وگرنہ گھر نہیں بنتے۔ اور گھر مشرقی عورت کا المیہ ہی تو ہوتا ہے۔
تمہیں معلوم ہے مشرقی مرد کا المیہ کیا ہے ؟ اسے ذہین عورت سے محبت کرنا نہیں آتی۔ کیونکہ اسے ہمیشہ محبت کا ایک ہی فلسفہ پڑھایا جاتا ہے ملکیت والا۔ وہ عورت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا اسے تصرف میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور تمہیں تو پتا ہے۔ تصرف میں آئے تعلقات میں سب سے پہلے محبت مرتی ہے۔
کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔
خیر نظریات پر لمبی بحثوں کا مجھے بھی کوئی شوق نہیں رہا۔
تمہارے ساتھ بحث کب کرتی تھی؟؟؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔ خیر اب جب اندر گھٹن بڑھ جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر بلاگز پر لکھ لیتی ہوں۔ لوگ حسب ذائقہ سراہ دیتے، تنقید کردیتے ہیں۔ میری بھی 147انٹیلکچوئل تھرسٹ148 سیٹسفائی ہوجاتی ہے۔
مصالحہ ٹی وی پر نئی ترکیبیں میں بھی دیکھتی ہوں۔ نئے کھانے بناتی ہوں۔ مجھے بھی کسی سے سننا ہوتا ہے نا 147کھانے تم بہت اچھے بناتی ہو148
گو کہ یہ جملہ امرت تو نہیں لگتا مجھے لیکن سننا ایسا خاص برا بھی نہیں لگتا۔
یوں بھی اب گھر میں کون دیوار برلن، اس کا انہدام، رینیساں اور اقوام متحدہ ڈسکس کرے؟
تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔
سنو! ہم تم مل جاتے تو تمہاری ملکیت اور میری انا دونوں مل کے محبت کا سانس بند کردیتے۔ اور پھر ہم اوروں سے کہتے پھرتے۔ ۔ ۔ ۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔ ۔ ۔
سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔
خوش رہنا سیکھ لیا تم نے؟؟؟ بہت خوب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالوں کی سفیدی سے نہ ڈرا کرو۔ آج کل سلور گرے ان ہے فیشن میں۔ جارج کلونی جیسے ہینڈسم تو نہیں لگ سکتے تم لیکن چلو۔ ۔ ۔ گزارہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
خیر، چلتی ہوں۔ ۔ ۔ میرا مارکیٹ میں سیلیں کھنگالنے کا وقت ہوگیا۔

Saturday, 27 January 2018

میرا شہر

یہ میرا شہر ہے- اسمیں آپ اگر اسلام آباد کی طرف سے اینٹر ہوں گے تو ویلکم ٹو ____ سٹی کے ساتھ ہی آپکو کھوئے والی قلفیوں کی لا تعداد دوکانیں ملیں گی- جن میں سے ہر دوکان اصلی پرانی دوکان ہونا کلیم کرے گی- آپ نے رکنا نہیں جس دوکان کے سامنے چھ کرسیاں دو میز چار موٹے انکلز اور دس بارہ گاڑیاں کھڑی نظر آئیں بس سمجھ لیجیے یہ ہی اصلی سچی تے کھری دوکان ہے- آپ نے یہاں رکنا ہے اور قلفیاں کھانی ہیں- یاد رہے اگر آپ کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے تو بھولے سے بھی کبھی کسی بھی چیز کا لارج جمبو یا بڑا سائز خریدنے کی غلطی مت کیجیے گا.
کیونکہ رزق ضائع ہو یہ اچھی بات نہیں-
لیکن اگر آپ لاہور کی طرف سے اس شہر میں داخل ہورہے ہوں تو شہر میں داخلے کے ساتھ ہی مہراں دی برفی کی دوکان ڈھونڈیئے- دوکان کی موٹی موٹی نشانیوں میں شرٹ لیس چار عدد موٹے انکلز بیٹھے دودھ پی رہے ہوں گے- اور یہ برفی دو کلو خرید لیجیے- تاکہ بعد میں آپکو کم خریدنے پر افسوس نہ ہو-
آپ اس شہر میں کسی اور طرف سے لائک شیخوپورہ، حافظ آباد سرگودھا منڈی بہاؤالدین وغیرہ کی طرف سے داخل ہو سکتے ہیں- لیکن چونکہ ہمارا جغرافیہ بے حد ہائی لیول کا ہونے کی وجہ سے ہم آپکو وہ نقشہ نہیں سمجھا سکتے-
اب آجائیے شہر کے اندر- بلکہ ٹہرییے آپ لوگوں نے ربڑی پی ہے سیالکوٹی دروازے سے؟؟ تو پھر کہاں منہ اٹھائے گھسے چلے آرہے ہیں جائیے واپس لمبی لائن ہے تو کیا یوا- سب کھانے پینے کو ہی جمع ہیں نا- لیجیے ربڑی درمیانے گلاس لے لیجیے اگر زیادہ برگر ہیں تو چھوٹا لے لیجیے- اوہو بھئی پی لیجیے نہیں ہے ہیوی-
اب آجائیے شہر کے اندر- یہ اچھا ہوا آپ لوگ تھوڑا جلدی آگئے- دراصل جو ناشتے والی "فوڈ سٹریٹ" ہے نا وہ میکسیمم سات ساڑھے سات بند ہو جاتی ہے- چلیے گرونانک پورہ کی طرف موڑ لیجیے.
گرونانک ایمن آباد سے آتے ہوئے اس محلے میں ٹہرے تھے تب کا ہی نام اس کا یہ- یہ اسلامیہ کالج کے ساتھ والی سڑک پر ٹرن لیں نا آگے آئیے بس گڈ ہوگیا پہنچ گئے ہم غنی کے پائے کھانے- یہ پوری سڑک ہر قسم کے ناشتوں کے لیے مشہور ہے- کیک پیسٹری تازہ باقر خانی سے بونگ سری پائے تک ہر چیز حسب ذوق اور حسب منشاء ملے گی- دودھ پتی سمیت پیڑے والی لسی سمیت- پیڑا مکھن اور کھوئے کا گولہ ہوتا - جو آپ کے لسی کے گلاس میں آتا ہے جسے پی ک آپ ٹن ہو جاتے ہیں اگلے کھانے تک- دیسی سکاچ سمجھ لیں- اب یہ بھی ڈر ہے دیسی سکاچ سے انکل ظفر کو ٹھرا نہ یاد آجائے-
خیر جب جب اپنے شہر کے متعلق سوچا ذہن میں انواع اقسام کے کھانے ہی آئے-
پچھلے سال نیو یارک ٹائمز نے ہیڈ لائن لگائی تھی _____ "دی سٹی آف حافظ سعید" اور خبر کی تفصیلات پڑھ کے ایسا دل دہلا کہ بس، یعنی ہمیں اندازہ ہی نہ ہو سکا کبھی کہ ہمارے شہر میں پیرالل عدالتیں چل رہی ہیِ جن میں گھوڑے پہ بیٹھ کے جاتے ہیں حافظ سعید اور فیصلے کرتے ہیں- حد ہی ہوگئی-ویسے یہاں حافظ سعید کی شہرت انتہائی انسان دوست کی سی ہے- ان کی تنظیم کے لوگ بھی اچھے خاصے ویل بہیوڈ لوگ ہوتے ہیِں منظم اور مستقل مزاج-
کسی زمانے میں ساری سہیلیوں کے ساتھ پھرتے پھراتے فوڈ سٹریٹ جا نکلے وہاں جا کر معلوم ہوا یہ ایشیاء کی سب سے بڑی فوڈ سٹریٹ ہے ہم نے آنکھیں پھیلائے سامنے پاپڑی چاٹ لگاتے انکل سے دہرا کر پوچھا ایشیاء میں چائینہ جاپان جیسے ملک بھی آتے ہیں انکل- کہنے لگے جی بیٹا جی- وہ سامنے دیکھیے ____ ان کی دوکان پر سڑٹیفیکٹ لٹک رہا ہے- ہم حیران ہوتے پاپڑی جاٹ کھا اس دوکان پہ چکن رول پڑاتھا کھانے گھس گئے-
گرونانک پورہ میں ایک نان چنے کی دوکان والے انکل سے پوچھا تھا کب سے ہے یہ دوکان آپ کے پاس کہنے لگے دادا پردادا سے یہ ہی کام ہے- چوتھی نسل اسی دوکان میں بوڑھی ہو رہی ہے- سامنے والے گردوارے کے لوگ ہر بیساکھی پر یہاں سے کلچے لگوایا کرتے تھے- پوچھا انکل کبھی کام بدلنے کا نہیں سوچا کہنے لگے بیٹا ہیلے کالج میں پڑھتا ہے ایم بی اے کر لے گا تو اسی دوکان کو وسعت دے گا- رزق کے اڈے میں کیسی شرم بیٹا جی-
اور اس دن مجھے اپنے شہر پر فخر ہوا تھا- ہم صرف کھاتے نہیں ہیں ہم رزق کی قدر کرنے والوں میں سے بھی ہیں-
گوجرانوالہ میں دوسری بڑی مذہبی کمیونٹی سکھ برادری ہے بیساکھی کا سب سے بڑا میلہ بھی لگتا ہے یہاں ایمن آباد کے قریب- اپریل کے شروع میں آندھیاں لے کر آتا ہے وہ میلہ-
سر کلیان ایک دن کہنے لگے ایمن آباد میں پانچ ہزار سال پرانا گردوارہ ہے- ہماری زبان کے سامنے موجود خندق نے کہا سر سکھ ازم تو سات سو سال پرانا مذہب نہیں سر معصومیت میں سر اثبات میں ہلا بیٹھے اور ہمارے قہقہے پر اپنے مخصوص انداز میں کہتے ڈیین)( ڈائن) اے پوری- تو بتانا یہ تھا کہ بہت سی عمارتیں اپنے تاریخی پس منظر اور فن تعمیر کی بدولت یہاں موجود ہیں جو اپنی پرسان حالی پر انتظامیہ سے شکوہ کناں بھی ہیں اور عہد رفتہ کی یاد بھی دلاتی ہیں-
اندرونی شہر کی تنگ گلیاں اور اینٹوں والے گھر- یا پھر ہندو طرز تعمیر والی لکڑی کی بالکونیاں شہر کے سینے میں چھپے کئی رازوں کا پتا دیتی ہیں-
کالج روڈ پہ گول گپے کھاتے کھاتے ہم نے اس شخص کو ریڑھی سے دو دوکانوں کے فوڈ کارنر پر شفٹ ہوتے دیکھا- یونہی ابا سے کہا ہمیں ہر پاکستانی کی طرح پورا یقین تھا کہ یہ ترقی چور بازاری کی مرہون منت ہے- ابا سے ڈسکس کیا تو بتانے لگے شہر میں ہر روز صبح پائیوں کے سینکڑوں ٹرک آتے ہیں ہر روز کئی من میدہ استمال ہوتا ہے اور کئی سو بکرے ہماری خوش خوراکی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں- رنج و الم کی کسی گہری کیفیت میں مبتلا ہونے ہی والے تھے ہم کہ ابا نے بتایا شہر میں صوبے کی سب سے بڑی فوڈ انڈسٹری ہے- یعنی فوڈ آئٹمز میں سب سے زیادہ رینیو جنریٹ کرنے والا شہر- اس دن رب کی تقسیم پہ بڑا پیار آیا-اور اپنی بستی کے موٹے موٹے انکلز پہ بھی-
شہر کا نام تو پہچان ہی گئے ہوں گے-
گوجرانوالہ__
شہر میں خواندگی کی شرح اچھی ہے-
ساٹھ ستر لاکھ آبادی کا شہر ہے ساتواں بڑا شہر چوتھا بڑا ڈویژن-
لاہور کا ٹوین سٹی چناب کے کنارے آباد-
ملک کی تیسری بڑی نہر شہر کے بیچوں بیچ گزرتی ہے- جس کے ساتھ ساتھ گزرتی ڈائیو میں بیٹھ کہ ہم نے کئی کردار تراشے ان سے باتیں کی ہیں- پنجاب یونیورسٹی کے کیپمس سمیت چار پانچ پرائیویٹ یونیورسٹیز ہیں شہر میں- لاہور کے ٹوین سٹی ہونے کی وجہ سے گریجویٹ ٹریفک کافی ہے شہر میں-
ایف پی ایس سی کے مطابق مقابلے کے امتحانوں میں سب سے زیادہ امیدوار اسی ڈویژن سے ہوتے ہیں-
تعلیمی لحاظ سے خواتین سارے ڈیپارٹمنٹس میں چھائی ہوئی ہیں-
یادش بخیر جب سی ایم نے مختلف کیٹگریز میں مقابلے کرانے شروع کی تو پرونشل لیول پر اس شہر کی ایک ہی حسینہ ڈیبیٹ مضمون وغیرہ میں سرٹیفیکٹ لیتی رہی- اب بھی اگر کسی کو اس حسینہ کا نام جاننا ہے تو اسے دیوار کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیے- ہاتھ اٹھا کر-
انڈسٹریل سٹی ہونے کی وجہ سے میل چائلڈ بچپن سے بزنس مائئنڈ سیٹ کا نمائندہ لگتا ہے-
پنجاب میں کیمیکل انڈسٹری کے اولین دنوں میں گوجرانوالہ کا سعودیہ اور چائنہ سے کیمیکل امپورٹ ایکسپورٹ کا س سے بڑا معاہدہ ہوا تھا جو بعد میں میلا مائن انڈسٹری کی بنیاد بنا اور اب یہ انڈسٹری شہر کی فنانشل بیک بون کا کام دیتی ہے- کھانے کے علاوہ جو کام اس شہر میں ذوق و شوق سے کیا جاتا ہے وہ کھانے کے متعلق سوچنا ہوتا ہے-
ہر مٹھائی حلوے کا الگ سپیشلسٹ حلوائی شہر میں موجود ہے-
سیلمان والوں کے حلوے
سیالکوٹیوں کے رس گلے حلوہ پوری پھینیاں
جالندھر والوں کے گلاب جامن اور قلاقند
لالہ والوں کا پتیسہ اور چم چم
اور مہراں دی برفی-
میر والوں کی کوکیز
النور کے کیکس
بابا والوں کے سیلڈز
یعنی ہر چیز کا الگ سپیشلسٹ لیکن کم معیاری چیز بھی ویسے ہی بک جاتی ہے- اسے کہتے ہیں سچی محبت- کھانے سے-
ہم رزق کے قدردانوں میں سے ہیں- اسی لیے شائد رب وافر کھانے والوں کو وافر رزق دے رہا ہے دیتا ہے- شہر میں کھانے کی اس بہتات نے اوبیسٹی کا گل کھلا رکھا ہے ہر پانچھواں شخص اوبیس ہے- کولیسٹرول اور ڈائیبٹیز والے انکل آنٹیاں وافر مقدار میں ملتی ہیں جو ڈاکٹر اور پرہیز دونوں کے لتے لیتے ہوئے پائے جاتے ہیں-
خوش خوراک خوش مزاج بھی ہوتے ہیں لہذا مجموعی طور پر شہر میں دنگا و فساد کم ہوتا ہے ہردوسرا شخص جگت کرتا ملتا ہے- امان اللہ سہیل احمد کا شہر ہے-
سیاسی لحاظ سے نون لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے- حالیہ سیاسی معاملات نے نئے اور نیوٹرل ووٹر کو کافی متاثر کیا ہے-
سیبایم نے سڑکوں کا جال تو نہیں بچھایا لیکن سٹرکچر کی صورتحال بہتر ہے.
ملک کے مضبوط چیمبر آف کامرسس میں شمار ہوتا ہے گوجرانواکہ چیمبر آف کامرس کا
سپر ایشاء سٹیزن جی ایف سی اور پشاور زلمی والے جاوید آفریدی سمیت کئی ببگ فشز اسی چیمبر میں بیٹھے پالیسی سازوں سے ساز باز کرتے پائے جاتے ہیں-
مضمون طویل سے طویل تر ہوتا جارہا ہے آپ کی بوریت کا خیال نہ ہوتا تو ڈھول سپاہیوں کے کینٹ اور تقسیم سے پہلے کے پرانے بازاروں میں بھی لے چلتی-ابھی کے لیے بس یہ ہی-
ہاں یاد آیا اگر آپ شہر میں آئیں اور الریاض کی فش ناصر کی چکن کڑاہی خضر کا باربی کیو نہ کھائیں فوڈیز کے گرلڈ سینڈویچز نہ کھائیں تو بتا دیں تعزیت کرنے کب کہاں آجاؤں؟
اور اگر آپ برگر ہیں تو بھی بے دھڑک آئیے سارے مشہور فوڈ چینز کے آؤٹ لٹس ہیں ادھر-بولے تو کھانے سے نہیں چوکتے ہم-

Wednesday, 24 January 2018

آج کے کنسنٹریشن کیمپس


ٹورازم کی کسی سائٹ پر تصویریں دیکھ رہی تھی۔ موسٹ وزٹ پلیسسز, میونخ، نیاگرا فال،برج خلیفہ، تاج محل، کنسنٹریشن کیمپس۔۔

کنسنٹریشن کیمپس۔۔۔ خود سے پوچھا سیریسلی۔۔ لوگ کنسٹرکشن کیمپس بھی دیکھنے جاتے ہیں کیا ؟
کیا دیکھتے ہوں گے لوگ وہاں جا کر؟ انسان کی بے بسی۔۔بے اختیاری یا انسان کا اختیار انسان کی رعونت؟
سوال نے سوچ پر لگی گرہ کھول دی۔ خیال کی رو بھٹکی تو کنسٹرکشن کیمپس میں جا ٹھہری۔
چھوٹے پتھروں والا رستہ جہاں پر پیروں کے نشان آنے والے وقتوں کے لیے عبرت بن گئے۔

ایک کمرے میں گھٹن تھی بہت گھٹن۔ کسی نے بتایا یہ گیس چیمبر تھا۔ یہاں لوگوں کو سفوکیٹ کر کے مار دیا جاتا تھا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود یہاں سے گھٹن نہیں جاتی۔ من میں کسی نے چٹکی بھری۔ سنتی ہو ؟ یہ یہاں سے گھٹن ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انسانوں کو سفوکیٹ کرکے مارنے سے گھٹن ختم ہوتی ہے کیا ؟
جواب دیا اب تو نہیں مارتے نا۔۔ اب تو مہذب ہوگئے ہیں۔
جوابی سوال آیا نہیں مارتے کیا؟ اب سفوکیٹ نہیں کرتے کیا؟ اس سے پہلے کہ تڑاخ سے کہہ دیتی، نہیں، اس دوست کا خیال آیا وہ جس کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔ جس کے ہر سوال پہ ماں گھر بچانے کا مشورہ دیتی اور محرم راز گھر سے نکالنے کی دھمکی۔
اس کی آنکھوں کی گھٹن نے مجھے مار دیا تھا۔
جب میں نے کہا رب آسانی کرے گا۔ تو اس کی سرد آنکھوں نے میرے یقین کو اندر تک منجمند کردیا تھا۔

خاموشی سے سر جھکا کر ایک اور عمارت کی طرف بڑھی۔ وہ کمزوروں (بچوں اور عورتوں) کی جیل تھی۔ اس پر تو خود ہی ہنس دی۔ بھلا کمزوروں کے لیے کوئی آزادی بھی ہوتی ہے کیا؟
گائیڈ کہنے لگا یہاں نوزائیدہ بچوں پر تجربے کیے جاتے تھے۔ روانی میں پوچھ بیٹھی کیسے تجربے؟
اس نے عجیب نظروں سے دیکھا۔ اور کہنے لگا کہ نوزائیدہ بچہ کتنے دن بغیر خوراک کے رہ سکتا ہے وغیرہ۔
دل حلق میں آکر پلٹا۔۔۔ یا الہی رزاق تو تو ہے یہ اپنے بندے کی اس جرات پر زمین کیوں نہ الٹا دی تونے۔؟
یہ کیسی بربریت تھی ربا؟
اندر کسی نے دہائی دی۔۔ کیا بربریت رک گئی ہے یہ؟
ذہن میں وہ تیس بتیس سالہ کڑیل جوان آیا جو پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے میں ہار گیا ہوں۔
پوچھنے سے پہلے ہی گویا ہوا۔ پانچ دن کا بچہ نرسری میں ہے۔ دو دن کا تھا بیوی کا باپ گھر چھوڑ گیا تھا۔ شادی کے بعد الگ رہنے لگا تھا۔ اب ماں اور بہنیں اس چڑیل کی اولاد نہیں پالنا چاہتیں۔ آج دفتر سے واپس آیا تو بچہ نیم جاں سا پڑا تھا۔ ہلانے جلانے پر ہلچل نہیں ہوئی تو بھاگم بھاگ ہسپتال لایا ہوں۔ ڈاکٹر کہتا بچہ پندرہ بیس گھنٹوں سے بھوکا ہے۔
اس چھوٹے بچے کے جسم پر تجربے کے نشان تھے۔ وہ لیبارٹری ریٹس سا چھوٹے کاٹ میں تنہا پڑا کنسنٹریشن کیمپس کے ہونے کا ثبوت تھا۔

میرا جی چاہتا ہے کسی دن کسی منظر کی گہرائی میں مجھے تو ملے۔ اس دنیا سے پرے اور اُس دنیا سے پہلے۔ میں تجھ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ تجھے بتانا چاہتی ہوں تو صرف بے اختیاروں کو ہی یاد ہے۔ اختیار والے نہیں ڈرتے نہ تجھے یاد کرتے ہیں۔

کسی زندہ لاش کی طرح وہاں جا پہنچی۔ جہاں لاغر قیدیوں کو کھائی میں گرایا جاتا تھا یا پھر جنگل میں چھوڑ دیا جاتا تھا مرنے کے لیے۔
روہنگیا کے سارے لوگ میرے اردگرد جمع ہوگئے بھوک پیاس کی شدت سے لاغر و کمزور۔ لاشوں کی طرح جنگلوں میں لیٹے۔ اور کشتیوں میں۔بھر کر سمندر کی کھائی میں گرنے کی طرف رواں۔
وہ شامی بچہ بھی سکرین پر آیا جسے سمندر نے اگل دیا تھا۔اور وہ جو کرسی پر بیٹھا درزیدہ نگاہوں سے دنیا کو دیکھتا تھا۔
کسی کو کہتے سنا کہ آزادی بڑی نعمت ہے جنگی قیدیوں اور مفتوح قوموں کی کوئی مرضی کوئی پسند اور کوئی رائے نہیں ہوتی۔ یہ ہم آپ تو خوش قسمت ہیں کہ آزادی کے عہد میں جی رہے ہیں۔
من میں جلتے شعلوں پر پٹرول کا کام کر رہی تھی یہ تقریر۔
ہم آپ صرف آزادی کی فوٹو کاپی میں جی رہےہیں آزادی میں نہیں۔
ابھی بھی یہاں آپکی کوئی مرضی کوئی پسند کوئی رائے نہیں ہے۔
سوچ کے پردے پر آئی بی اے کی وہ گریجویٹ لہرائی جس نے فل برائٹ ڈالر شپ جیتا تھا اور ماں نے دوپٹہ پیروں میں رکھ کے امریکہ پلٹ دلہا کے لئے ہاں کروالی تھی۔
اس سے کہا تو کیا ہوا وہاں پڑھ لینا۔ تلخی سے کہنے لگی اگر اسے کرئیر وومن چاہیے ہوتی تو اس سماج میں کرتا تلاش۔ یہاں سے تو گھریلو ملازمہ جا رہی ہے۔
پھر کہا کیا ہوا اپنا ہی تو گھر ہے۔ جواب آیا۔جب یہ اپنا نہ ہوا تو وہ کیسے ہوگا۔
جب میں اس سے ملی تھی تو اس کے چہرے پر مفتوح قوموں سا مجروح تاثر تھا۔
اس کو حرف تسلی دینے کے لیے کچھ کہنا چاہا تو رسان سے کہنے لگی۔ اب تسلی دلاسے مرحم دوا دعا کچھ نہیں چاہیے۔
کہا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے۔
وہ ہنسنے لگی۔ اس کی ہنسی میں اتنی وحشت تھی جیسے کوئی پاگل جنونی رونے کے فورا بعد ہنستا ہو یا ہنستے ہوئے رو دیتا ہو۔ گھبرا کر کہا مت ہنسو۔
اور وہ کندھے اچکا کر چل دی۔
مجھے اقبال کے اس سوال کے گرداب میں چھوڑ کر کہ کیا تجھ کو راس آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

میرا جی چاہتا ہے کسی دن کسی منظر کی گہرائی میں مجھے تو ملے۔
اس دنیا سے پرے اور اُس دنیا سے پہلے۔ میں تجھ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ تجھے بتانا چاہتی ہوں تو صرف بے اختیاروں کو ہی یاد ہے۔ اختیار والے نہیں ڈرتے نہ تجھے یاد کرتے ہیں۔
بے بس جب بے بسی سے گھبرا جاتے ہیں تو تجھے پکارتے ہیں۔ تو جانتا ہے میرے کرب کو میرے جیسوں کے کرب کو۔ بے بسوں کے درد کو۔ تو نے بھی تو اختیار والوں کے لہجے میں بولتے فرعون سنے ہیں۔ تو بھی تو روز اپنے عاجزوں کو دنیا میں جہنم بھگتتے دیکھتا ہے اور تو نیل میں کھلتا رستہ بند نہیں کرتا۔ تیرے اختیار میں اور بندوں کے اختیار میں فرق تو رہنا چاہیے۔۔
تو کیوں نہیں زمین الٹا دیتا۔ کیا سارے سوال حشر کے لیے اٹھا رکھے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر حشر کیوں نہیں اٹھاتا۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟
منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے۔

Wednesday, 17 January 2018

یزید ابھی زندہ ہے


ابھی یزید زندہ ہے۔
آج بھی زینب کے سر پہ چادر نہیں ہے۔
آج بھی زینب سر بازار ہے تنہا۔
آج بھی لوگوں میں کرب و بلا برپا ہے۔
آج بھی زیاد سے مکروہ چہرے
یزدیت کی حمایت میں
اگر مگر چونکہ چنانچہ
تیری میری کرتے ہیں۔
سنو۔
تم کوفہ کے باسی لوگو۔
سیاست اور سیادت تم ہی رکھ لو آج۔
یہ زینب میری ہے۔
اسے میں اون کرتی ہوں۔
تم سے بےضمیروں کو۔
زینب کی چادر کی حرمت کا پاس کیسے ہو۔
تم تو یزیدی لشکروں کے ہرکارے ہو۔
خط و کتابت کرتے ہو۔
قلم کی حرمت بیچ کر 
اپنی ہوس کے جہنم بھرتے ہو۔
تم زینب کے حقدار ہو بھی نہیں سکتے

Tuesday, 16 January 2018

تازہ کلام


"تازہ کلام۔"
جی چاہتا ہے سورج پھاڑ کے دیکھوں
اندر سے یہ کیسا ہے۔
جی چاہتا ہے چندا توڑ کہ دیکھوں۔
ٹوٹ کے چندا کیسا ہے
جی چاہتا ہے دھنک اوڑھ کے دیکھوں۔
رنگ میں کسی کے خود کا رنگنا کیسا ہے۔

۔

#نوٹ جو اس کو شاعری نہ مانے وہ بھی کافر۔

سارے مل کے بولیں


بسم الرحمن الرحیم
کتنی دلکشی ہے تمہاری باتوں میں۔
کیا ہی اعلی نصیب ہیں اس کمینے کے جس کے عقد میں ہو تم۔
حشر میں دیکھیں گے تمہیں۔
سلامت رہو۔

شکریہ بھائی آپ جیسے نفیس بھائی نہ ہوتے تو فیس بک پر کبھی نہ رہ پاتی خدا آپ کو اجر دے ۔
حزاک اللہ۔

ارے۔۔۔۔یہ کیا غیروں والی بات کہی۔۔۔۔ڈھیروں پیار تمہارے لئے خوش رہو تصویر میں پیاری لگ رہی ہو سادگی و پر کاری کا نمونہ۔۔۔کہاں ہوتی ہیں آجکل اتنی سادہ و نیک لڑکیاں۔ بس سلامت رہو۔۔۔

بس مجھے میک اپ نہیں پسند۔۔ آپ کا بہت شکریہ۔
جزاک اللہ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

سارے مل کے بولیں سبحان اللہ
ڈاؤلینس لیا تو بات بنی۔۔

ڈی ایف ایم


آج کل سوشل میڈیا پرنیا رواج چل نکلا ہے ایک انتہائی پارسا آئڈی جی بالکل پارسا،پوسٹ لگاتی ہے کہ وہ ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا دوستوں میں بیٹھا تھاافطار ڈنر پر گیا تھا محفل میلان میں حاضر تھا کہ اچانک ایک عدد ان سے بھی متقی شخص کو شیطان اپنے چنگل میں پھنسا لیتا ہے اور وہ کسی لڑکی کو کال اور بعدازاں وڈیو کال کرنے لگتا ہے۔
پھر اپنے انتہائی پرہیز گار دوستوں کو بتاتا ہے کہ لڑکیاں تو اسے دن رات صبح دوپہر شام آٹھوں پہر کالز اور وڈیو کالز کرتی رہتی ہیں۔ جن پر وہ یعنی لڑکیاں لڑکوں کی ہر "فرمائش" پوری کرتی ہیں۔
اصل پوسٹ اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
پیاری بہنوں پیاری بیٹیوں جیسے خوبصورت الفاظ سے۔ پھر صاحب پوسٹ اپنی پارسائی کے بعد یہ بتاتے ہیں کہ لڑکیاں لڑکوں کے جال میں پھنس کر اپنا حال مستقبل ماضی تباہ کر دیتی ہیں۔

تو پوچھنا یہ تھا کہ وہ جو فون کرتا سنتا ہے لڑکیوں کو اس پارسائی کے مجسم پیکر کے لئے کوئی فتوی موجود ہے یا نہیں؟ اور ایسا شخص آپ کی مخفل میں اتنا کمفرٹیبل کیسے ہے ؟ اور کیا مرد کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ وہ کہیں پر بھی منہ مارتا پھرے آپ کے سامنے دھڑلے سے اعتراف کرے آپ کے دل میں ان کے لئے ان کی دنیا و آخرت کے لئے درد کیوں نہیں جاگتا؟ کیا آپ متعصب ہیں ؟ یا جاہل ہیں۔؟ یا آپ کے نزدیک عورت کا گناہ گناہ اور آپ کی جنس کا گناہ بھٹکنا ہے ؟
اگر آپ سب کا رب پر یقین ہے تو اس کا خوف کیا کریں گناہگار کی مجرم کی جنس نہیں اس کا گناہ اس کا جرم دیکھا کریں اور اس کے جرائم پر تبرہ کیا کریں ۔ نہ کہ جنس کی تخصیص۔
اپنے بیٹوں کو آنکھیں جھکا کر چلنا سیکھائیں تاکہ آپ کی بیٹیاں سر اٹھا کر جی سکیں۔

نوٹ اس پوسٹ پر اگر کسی نے عورت کی عزت اور مرد کی عزت کو الگ الگ خانوں میں بانٹا تو میری طرف سے اسے ڈی ایف ایم۔