Pages

Sunday, 19 November 2017

یوسف کی بے بسی سے آسیہ کے اختیار تک



بہت پیاری دوست کے لیے۔ بہت دنوں بعد کچھ لکھ رہی ہوں۔ بہت دنوں سے کچھ نہیں لکھا۔ دل آمادہ ہی نہیں ہورہا تھا۔ بے دلی سی بے دلی ہے۔ زندگی سے دلچسپی ہی ختم ہوگئی ہو جیسے۔ کرنے کو کچھ نہیں اور فراغت سےاکتاہٹ نہیں ہورہی۔ ہے نا عجیب؟
اتنا عجیب جیسے چھما چھم برستی برسات میں اچانک سورج نکل آئے۔ اور دریچے سے لگی حسینہ کے لئے کھڑکی کا منظر لا یعنی ہوجائے۔ اور جیسے میز پر پڑا چائے کا کپ اہمیت کھو دے۔ ایسے بے معنی دن چل رہے ہیں۔ سنو میری مثالوں پر مسکراؤ نہیں۔ اور اب مسکراہٹ چھپاؤ نہیں۔
خیر بے زاری عروج پر تھی۔ آج تم سے بات کرتے کرتے جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا ہو۔ مجھے ایسا محسوس ہوا اگر اب بھی نہ لکھا تو یہ سکوت موت میں بدل جائے گا۔ میرے لفظوں کی موت۔ ان سوچوں کی موت جو میرے لہجے میں احساسات بھرتی ہیں۔ اب احساس کی موت کیسے قبول کر لوں؟ کیسے اپنے احساس کو اپنے سامنے قطرہ قطرہ ذرہ ذرہ مرتے دیکھوں اور چپ رہوں۔ مانتی ہوں بے حسی سیکھ رہی ہوں میں۔ اور سیکھ بھی جاؤں گی۔ لیکن ابھی وہ مقام نہیں آیا جہاں احساس کو مرتے دیکھوں اور چپ رہوں۔
ابھی بھی میرے اندر کوئی چلا اٹھتا ہے جب میں اپنے ہی جیسے کسی انسان کا استحصال دیکھوں۔ ابھی میرے اندر وہ رمق باقی ہے جس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
پتا ہے سفید بالوں کے ساتھ پیدا ہوئی تھی میں۔ اماں تب سے ہی بوڑھی روح کہتی ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے زیادہ کتابیں پڑھنے کی وجہ سے میرا دماغ خاصا خراب ہوچکا ہے۔ لہذا ناقابل اصلاح ہو چکی میں۔ اس لئے آپ بھی میری ان خامہ فرسائیوں کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں۔ بالکل ویسے جیسے ہم اپنے ہر غلط فیصلے کو قسمت کے کھاتے میں ڈال کر اوروں کے جبر کو اپنا صبر کہہ کہہ کے بزعم خود رب کے برگزیدہ بندوں میں شمار کرتے رہتے ہیں اپنا۔ اب یہ کہوں گی کہ ظلم پر مسلسل خاموشی صبر نہیں ایک اور ظلم ہوتا ہے۔ تو کون مان لے گا اس تھیوری کو ؟اس لئے تھیوری بدل دیتی ہوں اسے۔ کہے بغیر بھی تو گزارا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ڈھیٹ بھی تو ہوں نا۔
تو یہ کہ اگر مشکل وقت میں صبر رب کا پسندیدہ ہے نا تو ظلم کے خلاف احتجاج بھی اسی کا بتایا ہوا رستہ ہے۔
میں شائد آئیڈیلزم کا شکار ہو رہی ہوں۔ لیکن رشتوں میں لگے اس قفل کی چابی آپ ہی کے پاس ہے۔ ہر بات پر صبرکرتی رہیں تو اردگرد جبر ایسے ہی بڑھتا رہے گا۔ میں ایکول رائٹس والا یوٹوپیا تخلیق نہیں کر رہی۔ نہ ہی برابری کا کوئی تعلق جنس سے ہوتا ہے۔ زور آور بلا امتیاز جنس استحصال کرتا ہے۔ طاقت کو تہذیب سکھانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے شائد۔ ہم انٹرنشینل ریلیشنز میں جب کتابوں میں بیلنس آف پاور پڑھتے ہیں نا۔ طاقت کو لگام ڈالنے کو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟
مجھے پتا ہے ہر وقت بہادر رہنا بہادر ہونا بہت بہت مشکل ہے۔ اتنا مشکل کہ اپنی ہی بہادری سے نفرت ہونے لگتی ہے۔
اس کے سامنے اس سے بڑی طاقت کھڑی کرتے ہیں فرضی ہی سہی۔ لیکن طاقت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تمہیں لگام ڈالنے کو بندوبست ہے ہمارے پاس۔ طاقت کی اسی نفسیات کے پیش نظر تو رب نے زمین پر عارضی اختیار اتارا ہوگا ناں۔ اسی لئے تو آخری اختیار اس نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اس کے بندے اس کے ہمسری پر نہ اتر آئیں۔
خیر۔ ۔ ۔ سنو! میں یہاں طاقت ور کی زور آور کی حمایت میں بیان تو جاری کرنے کے لئے نہیں قلم گھسیٹ رہی نا۔ نہ ہی عقلمندی کا، وہ درجہ ہی حاصل ہوا ہے مجھے جہاں دانوں والے ہر صورت سیانے ہی لگتے ہیں۔  تعلق نبھانے پر تو بات تو ضمنی سی تھی جو یونہی عادت سے مجبور ہوکر کردی۔ وگرنہ آپ سے اچھے کون نبھا ئے گا رشتے؟
میں تو یہاں اس بھیگے لہجے میں کئے گئے شکوؤں کا جواب تراشنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لہجے میں ہار کا، ذرا سا احساس بھی ٹوٹے کانچ کا سا چھبتا ہے مجھے۔ سنیں آپ بے بسی بے اختیاری کی بات مت کیا کریں۔ مجھے پتا ہے ہر وقت بہادر رہنا بہادر ہونا بہت بہت مشکل ہے۔ اتنا مشکل کہ اپنی ہی بہادری سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے بہت مضبوط لوگ بھی کبھی کبھی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ لیکن ان میں اور اوروں میں یہ ہی تو فرق ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹ کر بکھرتے نہیں ہیں۔
سنیں! آپ بے بسی کی بات مت کیا کریں۔ ۔ ۔ پتا ہے جب شعور کی پہلی منزل پر یوسُف علیہ السلام کا، قصہ پڑھا نا۔ تو کئی پہر آنکھوں سے آنسو صاف کرتے گزرے۔ اس دن مجھے بے بسی کا مفہوم سمجھ آیا۔ ۔ جب اندھے کنویں میں تنہا بیٹھا حیات و موت کی کشمکش میں کھوئے ہوں گے تو بے بسی محسوس کی ہوگی نا یوسف نے بھی۔ جب بارش کی شدت میں منحوس کہہ کر سواری سے اتارے گئے ہوں گے تب بھی۔ جب بازار میں بکنے کو کھڑے ہوں گے تب بھی۔ ۔ ۔ اور جب دو پھوٹی کوڑیاں دام لگایا ہوگا بڑھیا نے تب آنکھیں تو بھر آئی ہوں گی۔
ہو سکتا ہے جسے آپ اس وقت بے بسی سمجھ رہی ہوں وہ اختیار کی ابتدا ہو۔ چیزیں شروع میں جیسے نظر آتی اہیں انت میں ویسے نہیں رہتیں۔
پھر کریکٹر ایساسینیشن بارہ سال کے لئے مقید ہونا۔ بے اختیاری بے بسی تو محسوس ہوئی ہوگی۔ ۔
میں نے اس قصے کو بار بار پڑھا دہرا دہرا کر میں بے بسی کے اس دور میں کوئی شکوہ ڈھونڈنا چاہتی تھی۔ تاکہ میں بے بسی پر رب سے کی گئی بہت سی شکایتوں کے لیے جواز تراش سکوں۔
سنیں! مجھے نہیں ملا کوئی حرف شکایت۔ مجھے یوسُف کی کہانی نے پتا ہے کیا سبق دیا ہے؟
یوسُف کی کہانی نے مجھے قائم رہنا سیکھایا ہے۔ میرے اندر رب کے وجود پر یقین مضبوط تر کیا۔ ۔ مجھے اس کی بات سے وابستہ امیدیں بڑھانا اور وابستہ ہی رکھنا سیکھایا ہے۔ یوسف کی کہانی سے میں نے۔
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسُف کی کہانی نے مجھے ہر چیز کو رب کے گریٹر پلین کے تناظر میں دیکھنا سیکھایا ہے۔ بڑی سی پال کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔ دیکھیں اس دنیا میں ہر چیز ہر واقعے کے ہونے کا ایک مقصد ہوتا ہے۔
آپ کی وقتی بے اختیاری بھی۔ ۔ اختیار والوں کے سرد روئیے بھی۔ آپ کی خاموشی بھی اوروں کا شور بھی سب اپنی اپنی وجوہات کی وجہ سے وجود میں ہیں۔
ہو سکتا ہے جسے آپ اس وقت بے بسی سمجھ رہی ہوں وہ اختیار کی ابتدا ہو۔ چیزیں شروع میں جیسے نظر آتی اہیں انت میں ویسے نہیں رہتیں۔
جب اندھے کنویں میں۔ اپنوں کی سازشوں کا شکآر بے بس مظلوم لڑکا عزیز مصر بن سکتا ہے تو۔ یقینا رب کے پلین میں بے اختیاروں کے اختیار کا بھی آپشن ہوگا۔
آپ بس ہمت مت ہاریں۔ کہانی کے انت تک تو حوصلہ رکھیں۔
ممکن ہے یہ کہانی آسیہ اور فرعون کی کہانی جیسی ہو۔ ابتدا کے بادشاہ کو آخر میں اپنی جھوٹی انا سمیت جوابدہ ہونا پڑے۔ اور شروعات کے وکٹمز کے لئے آخر میں رب دریا کا سینہ پھاڑ کے حل نکالے۔

Tuesday, 14 November 2017

blasphemy law اور آسمان سے گرے پٹواری



ویسے پٹواریوں بیماریوں کی سختی کے دن ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے بیچارے۔ آسمان سے گر کے کھجور میں ایسے اٹکے ہیں کہ نہ وہاں چھلانگ لگا پارہے ہیں نہ ٹہر پا رہے ہیں۔ لیکن چونکہ اسٹائل بھی کوئی چیز ہوتی ہے لہذا وہاں بیٹھے ہی ایسے ڈیزائن مار رہے ہیں جیسے بہت ہی مزے میں ہوں۔ لیکن کب تک آخر کب تک اچانک پھٹ پڑتے ہیں۔ بالکل اس موٹی آنٹی کی طرح جو فوٹو میں سمارٹ نظر آنے کے لئے پوری سانس اندر کھینچ کے کھڑی ہو اور فوٹو گرافر کہیں اور بسی ہوجائے اور وہ اپنے ہی سانس کے پریشر تلے آ کر دھڑام سے نیچے جا گرے۔ ہائے بیچارے ہمارے عقلبند پٹواری پونے دو روپے کی تالیاں تم لوگوں کی لاجکس کے لئے اس کے بعد یہ بتانا تھا کہ یہ تم لوگوں کے حواسؤں پر کپتان کب سے سوار ہونے لگے۔ بولے تو کہاں گیا وہ سارا تجربہ جس کے چرچے سن سن کر ہمارےکان تقریبا پک جاتے جو ہم نے غور کیا ہوتا تم لوگوں کی فضولیات پہ۔ 
کسمے آجکل مجھے اچھا خاصا ترس آجاتا ہے تم لوگوں پہ۔ پہلے پوچھ پوچھ کے گلا خراب کر لیا کہ کیوں نکالا؟ جب مرضی ہماری جیسا ریسپانس دیا تو خود ہی تنخواہ نہ لینے والا جواب گھڑ لیا۔ اس ناراض بہو کی مانند جو ناراض ہو کہ میکے جا بیٹھتی ہے اور جب کافی عرصہ کوئی منانے کے لئے نہیں جاتا تو بھینس کی دم سے لٹکے چلے آتی ہے یہ شور کرتی کہ میں کب آرہی تھی یہ تو بھینس مجھے کھینچے لا رہی ہے۔ کیا؟؟ مثال فٹ نہیں بیٹھ رہی؟ تو تنخواہ والی بات فٹ بیٹھ رہی تھی؟ نہیں نا ؟ ہم نے بھی تو سنی ہی نا۔ خیر آپ سب سے اظہار محبت کی تازہ وجوہات پہ بات کرتے ہیں۔ تو ہوا کچھ یوں کہ نانی نے خصم کیا برا کیا کر کے چھوڑا اور بھی برا کیا والا سین ہو رہا ہے تم لوگوں کے ساتھ۔ حساس ایریاز میں گھسے برا کیا کر کے مکر گئے اور بھی برا کیا۔ پر سب سے برا تب ہوا جب کرائے کا پالتو داماد چھوڑ دیا۔ یعنی اب مہرالنساء کے ابو ہی رہ گئے تھے ہمیں بھاشن دینے والے۔ پیارے پٹواریو اپنے داماد کو اور اپنے وزیروں کو یہ تو سمجھایا ہوتا کہ مسئلہ کسی کے عقیدے میں نہیں ہے نہ ہمیں کسی کے مذہبی عقائد سے کچھ لینا دینا ہے۔ مسئلہ ان کا ہمارے عقیدے میں گھسنے میں ہے۔ نہیں سمجھے نہ۔ 
نہیں سمجھے ہوں گے۔ ٹہرو بھیا سمجھاتی ہوں۔ وہ یوں کہ ہم نے یعنی آنسہ سحرش عثمان نے ایک عدد آرگنائزیشن کے ساتھ ایز والنٹیر دوسال کام کیا۔ اپنی جان ماری اپنا بیسٹ دیا تھوڑا بہت دماغ لڑا کہ ایک پراجیکٹ بھی منظور کرا لیا آرگنائزیشن کے لئے۔ لیکن ایک دن ہم یونہی اکتا گئے جی اوب گیا آرگنائزیشن کو،لات ماری اور گھر چلے آئے۔ پھر لگے منصوبے بنانے اپنی آرگنائزیشن بنانے کے۔ اب بظاہر تو ہمارے مقاصد ایک سے تھے۔ آرگنائزیشن کے اصول و ضوابط بھی پتا تھے۔ سو ہمیں ان کا نام استمال کر لینا چاہیے تھا نا؟؟ کیا؟؟ نہیں کر سکتے کسی آرگنائزیشن کا نام اور لوگو؟ کیا ہو گیا بھئی بس ذرا سے ہی تو اختلافات تھے پھر بھی ایسا ۔کٹر رویہ ایسی انتہاء پسندی ایسی تنگ نظری۔۔۔۔ چچ چچچ آپ سے روشن جیالوں سے توقع نہیں تھی اسکی۔ کیا کہا یہ اصول ہے دنیا کا؟ تو بھئ صاف سیدھی بات ہے۔ تم لوگ اپنی دنیاوی آرگنائزیشن کا نام مجھے استمال نہیں کرنے دیتے۔ اور ہم تم لوگوں کو اپنے حساس ایریا میں گھسنے دیں؟ صدقے بھی آپ لوگوں کی ایکسپیکٹیشنز۔۔ بات سنو تم لوگوں کو پتا ہے برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے والے شاہی خاندان کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ہولوکاسٹ پہ بات کرنا جرم ہے۔ وہ کیا نازی کیمپس بنائے تھے ہٹلر نے آج بھی ان پر کچھ کہنے سننے کی تحقیق کر کے آؤٹ آف دا باکس سوچنے کی آزادی نہیں میسر کسی کو۔ تو پھر ہم ہی سے ۔۔روشن خیالی۔۔ کی توقع کیوں ؟ جب ہر قوم ہر مذہب کا حساس ایریا ہے اور وہاں گھسنے کی آزادی نہیں کسی کو تو پھر ہمارے ہی عقیدے کو غریب کی جورو کا درجہ دینے پر تلے رہتے ہو تم لوگ؟ اور کوئی بات نہ ملے تو کہنے لگتے ہو عمران خان چپ ہے اس نے ردعمل نہیں دیا۔ تو بھئ مجھے اپنے عقیدے کی تکریم کرنے کے لئے عمران خان کے رد عمل کی حاجت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسے عقل کے اندھے سپورٹرز ہیں کپتان کے کہ اتنے اہم معاملہ پر رائے کے لئے کسی کا انتظار کریں۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے رہے گا ہمیشہ چاہے دنیا ہمیں انتہاء پسند سمجھے چاہے بنیاد پرست۔ شائد یہ جذباتی گفتگو لگے روشن خیالوں کو۔۔۔پر کیا کریں جذبات کے بغیر محبت نہیں ہوتی نا۔۔نہ اس کا اظہار۔

آسانیوں کی دعا دینے اور مشکلات کھڑی کرنے والے عجیب لوگ



جب میں کہتی ہوں نا کہ بطور قوم ہم عجیب ہیں بہت عجیب۔ تو اس لئے کہتی ہوں کیوں کہ اس وقت میرے پاس کہنے کے لئے اور کچھ نہیں ہوتا۔ مجھ سے بتایا سمجھایا ہی نہیں جاتا کہ اتنے عجیب کیوں ہیں ہم متضاد رویوں کے حامل۔ متضاد روئیے بھی ہوں تو شائد سمجھ آجائیں ہم ضدوں کا مجموعہ ہے۔ اجتماع اضداد۔۔۔ یہ والی ٹرم کیسی رہے گی؟ آپ سب اتنی لمبی لمبی تمہید سے بور ہوجاتے ہوں گے۔ پر کیا کروں یہ بھی تو ہمارا قومی مزاج ہے نا ہم صاف سیدھی بات نہیں کرتے۔ کسی کو کام کہنا ہو تو پہلے کل عالم کے مسائل بتائیں گے پھر کہیں گے ایسا ہے تم اگر یوں کرو ووں کرو تو ہمارے کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ بھئ صاف سیدھا کہنا چاہیے نا۔ کہ تم سے ایک کام آن پڑا ہے کیونکہ معاشرتی حیوان ہیں ہم سب اور ایک دوسرے سے کٹ کر رہنا ممکن نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح کوئی ہمیں کام کہہ دے۔ چاہے ہمارے لئے وہ کتنا ہی آسان کام کیوں نہ ہو۔ ہم فورا نہیں کریں گے۔ ہم برملا کہتے ہیں کہ دو چار دن پریشان رہنے دو اسے تاکہ احساس ہو اگلے کو کہ کس قدر مشکل کام کیا ہے ہم نے۔ اور دل ہی دل میں اپنی حثیت اگلے کی اوقات پر مسکراتے رہتے ہیں۔ یہ پڑھنا کتنا گھٹیا لگ رہا ہے نا؟ لیکن کیا کریں یہ گھٹیا پن اب ہمارے مزاجوں کا حصہ ہے۔ ہم آسانیوں کی دعا دینے اور مشکلات کھڑی کرنے والے لوگ بن چکے ہیں۔ ہے نا عجیب؟
ہم آسانیوں کی دعا دینے اور مشکلات کھڑی کرنے والے لوگ بن چکے ہیں۔ ہے نا عجیب؟
ہم بارہ چودہ سال لگا کر بیسٹ پاسیبل اسباب مہیا کر کے اپنے بچے کو بہادر بناتے ہیں مضبوط بناتے ہیں۔ دنیا سے لڑنا سیکھاتے ہیں۔ سچے آدرشوں پر جان دینے والے شہزادوں کے قصے سنا سنا کر ہم اپنے بچوں میں سچ کی محبت پروان چڑھاتے ہیں۔ ان کو مرضی کا اختیار دے کر ان کو اپنے فیصلے لینا سکھاتے ہیں۔ پھر جب کورے کاغذ پر عبارت تحریر ہوجاتی ہے۔ کینوس پر ہمارے لگائے بولڈ سٹروکس سے تصویر بننے لگتی ہے۔ جب ہمارے حرفوں کی جادوگری سے شاعری ہیر بننے لگتی ہے تو اچانک ہم پر عقدہ کھلتا ہے کہ ہماری تراشی ہوئی تصویر ہماری لکھی ہوئی تحریر اس معاشرہ کو سوٹ نہیں کرتی۔ اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے سچائی سے محبت اور سچ کے لئے ڈٹ جانے میں جو فرق ہے انہیں معاشرتی روایات کہا جاتا ہے۔
اور پھر ہم معاشرتی روایات کے نام پر اپنی تحریر کا حاشیہ لکھنے لگ جاتے ہیں۔ جس پینٹنگ کے بولڈ سٹروکس ہی اس کی پہچان تھے ہم ان سٹروکس کے ایجز فائل اور پالش کرنے لگتے ہیں۔
ہم اپنے بچے کے موحد دل کو سومنات بنانے پر تُل جاتے ہیں۔ خوف کے، لوگ کیا کہیں گے، سب کیا سوچیں گے ؟ اور ایسے ہی کئی لایعنی خوف اور ان کے بت۔
اور جب وہی بچہ فیصلہ کی آزادی والے اختیار کو استمال کرتا ہے تو ہم سب مل کر اس کے فیصلے کو غلط ثابت کرنے لگتے ہیں۔ ہیں نا عجیب ہم؟ بہت عجیب؟
آپ کہہ رہے تھے نا میں چپ ہوں بہت دنوں سے۔ میں چپ نہیں تھی۔ میں آوازوں کے ہجوم میں احتجاج کر رہی تھی۔
آپ پوچھ رہے تھے نا کہ اداس کیوں ہوں میں؟ میں اپنی رائے رکھنے کی قیمت ادا کر رہی تھی۔ آؤٹ آف دی باکس سوچنے کا تاوان تو پھر بھرنا پڑتا ہے نا۔
آپ پوچھ رہے تھے بہت دن سے کچھ لکھا نہیں میں نے۔ تو وہ اس لئے کہ میں معاشرتی روایات سیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر میں نہیں سیکھ پائی۔ مجھے شائد اپنے شارپ ایجز سے محبت انسیت ہوگئی ہے۔
آپ ان کو ایسے ہی رہنے دیں تو میں محبت کی کہانیوں میں سچائی پر جان دینے والا شہزادہ ظالم جادوگر سے لڑا دوں۔
مختصر یہ کہ
تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو۔
میں یونہی مست نغمے لٹاتی رہوں۔

درخواست برائے دوستی اور مصنوعی نزاکت والی بہن



کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ جب ایک انتہائی معزز انکل نے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی۔ ہم نے حسب عادت اگنور کردی۔ انہوں نے پھر سے پوچھا۔ ہم سدا کے ڈھیٹ۔۔۔ ان کی انگریزی کو بھی اگنور کردیا ہم نے جو انباکس میں بول چکے تھے وہ۔ سوچیں آپ ذرا۔۔۔ انگریزی کو اور انگریز کو اگنور کرنا کیسا جرم ہے۔ اور ہم ہمیشہ سے فسادی سوچ کے حامل۔ خیر ایک دن ہم سولہ سترہ چلیں اٹھارہ بیس کہہ لیجئے سنگھار کئے۔۔ آئے ہائے نہیں سلیولیس نہیں پہنتے ہم۔
تو ہم تیر و تفنگ سے لیس کسی کے ولیمے پہ سیڑھی پہ بیٹھے انتہائی نزاکت والا پوز لئے فوٹو بنوا رہے تھے کہ وہی انگریزی والے انکل اماں سے کہنے لگے۔ آپ کی بیٹی بہت ایروگینٹ ہیں۔ اماں کو چونکہ یہ پہلے سے ہی پتا تھا۔ لہذا اماں نے سیاچن کی ساری برف آہ میں بھر کے ہمارے اپنی پھپھیوؤں پر چلے جانے کے عظیم تاریخی سانحے پر اسپیچ کا اسٹارٹ لیا ہی تھا کہ ہم نے پوچھا۔ یہ عظیم انکشاف انکل پر کیونکر ہوا؟ کہنے لگے آپ فیس بک پر ایڈ نہیں کرتیں۔ اس سے پیشتر کہ ہم فیس بک کو سوشل میڈیا کو حقیقی تعلقات سے الگ بتاتے اماں کی گھوری نے زیر لب چپکو سڑیل لیچڑ شکایتی کہنے تک پابند کردیا۔۔۔ ہائے آنٹی شرمین جتنی انوویٹو نہ ہوئی میں۔ اسی لئے ابھی تک آسکر نہیں ملا۔ جینوئن ایکٹنگ سے کیا ہوتا ہے۔ آسکر کے لئے اوور ایکٹنگ کرنا پڑتی ہے۔ اتنی انیویٹو ہوتی تو ہراسمنٹ کا الزام لگا کر ولیمہ پر آئی وی ساری آنٹیوں سے نستعلیق پنجابی میں گفتگو سنواتی۔ اور یہ تو آپ سب ہی کو پتا ہوگا غصے میں بھی نستعلیق رہنے والا پنجابی ابھی تک ایجاد ہی نہیں ہوا۔ لیکن افسوس آنٹی شرمین کی بہن بھی وقت پر بیمار نہ ہوئی۔ آنٹی آپ کو پتا ہے یہ میرے بنیادی خواتینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے آپ نے۔ میرے فیمینزم کا استحصال کیا ہے آپ نے۔ جب آپ ایک معصوم لڑکی کی مدد کرنے کے لئے بہن کو بیمار نہیں کروا سکتیں تو مجھ جیسی ہزاروں لاکھوں لڑکیوں کو حقوق کیسے دلوائیں گئ؟ کیا کہا؟ میں ذاتی زندگی اور پروفیشنل لائف کو مِنگل کر رہی ہوں۔ تو شروع کس نے کیا تھا ؟
وہ ڈاکٹر بھی انسان ہی تھا۔ جس نے آپکی بہن کو ریکویسٹ بھیجی۔ ہو سکتا ہے اس نے ڈاکٹر کی حثیت سے نہیں انسان کی حیثیت سے بھیجی ہو ریکویسٹ۔ اور اگر پرسنل ڈیٹا یوز کرنے کی فضول سی بات کرنا چاہ رہی ہیں تو خاتون جس ملک کی خواتین کے تیزاب زدہ چہرے دکھا دکھا کر بینک اکاؤنٹس بھر چکی ہیں نا۔ اسی ملک میں دنیا کا سب گھٹیا ڈیٹا ٹرانسفر ہوا تھا پولیو ویکسنیشن کی آڑ میں۔ آپ کے آشناؤں کی خاطر۔ اور قسم لے لیں جو یہ آشنا اردو اخباروں والا کہا ہو۔ یہ تو بس یونہی برسبیل تذکرہ کہہ دیا۔ وگرنہ آپ کے آشناؤں کے سکینڈلز سے ہمیں کیا لینا دینا؟
غضب خدا کا میں کل عالم کو مضبوطی پر لیکچر دیتی پھروں۔ اور میری ہی بہن سارے زمانے میں چھوئی موئی بنی مصنوعی نزاکتوں کے ڈھونڈرے پیٹتی رہے تو مجھے لوگوں سے پہلے اپنا آپ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارا تو مدعا یہ ہے کہ آپ کی بہن اتنی نازک ہیں کہ فرینڈ ریکوسٹ آنے سے ہراس ہوجاتی ہیں تو یقین کیجئے آپ سے بڑا کوئی نالائق نہیں۔ میری بہن یونیورسٹی جاتی ہے۔ اس سے اگر وہاں کوئی بدتمیزی کرے اور وہ خود کچھ کرنے کی بجائے مجھے شکایت لگائے اس بدتمیزی کی تو اس بدتمیز سے نمٹنے سے کہیں پہلے میں اپنی بہن کی طبیعت صاف کروں گی اتنی ڈرپوک خاتون میری بہن نہیں ہوسکتی۔
غضب خدا کا میں کل عالم کو مضبوطی پر لیکچر دیتی پھروں۔ اور میری ہی بہن سارے زمانے میں چھوئی موئی بنی مصنوعی نزاکتوں کے ڈھونڈرے پیٹتی رہے تو مجھے لوگوں سے پہلے اپنا آپ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وومن ایمپاورمنٹ اپنے آپ سے اپنے ارد گرد سے شروع ہوتی ہے۔ ورنہ آپ میں اور اس مولوی میں کوئی فرق نہیں جو کہتا ہے گلابو کے میک اپ کو پوائنٹ آؤٹ مت کریں کیونکہ اونوں سجدا ای بوہت اے



تو خاتون آپ اپنی اداوں پر خود ہی غور کرلیں کچھ۔۔۔ ایویں کسی پرائیوٹ پریکٹس والے ڈاکٹر نے کرلیا تو برا مان جائیں گی۔



اور ہاں سات سو پچاس فرینڈ ریکیوسٹس پینڈنگ پڑی ہیں۔ میری غربت کہتی اپنے خیالات میں انقلاب لے آؤں۔۔ اور مجھے نیشنلٹیز بھی نہیں چاہئیں بس ذرا ٹریولر سول ہوں۔۔۔ میں نے سنا ہے نیاگرا جم جاتی ہے دسمبر جنوری میں۔

Sunday, 15 October 2017

دو لفظوں میں کیسے کہوں اک عمر کا قصّہ


یوں تو انسان کا زمین پر آنا بجائے خود ایک حادثہ تھا۔ مگر گھڑی بھر کو ٹھہر کر، اپنے اپنے کولہو سے دو منٹ کی رخصت لے کر سوچیں کہ اس مسجودِ ملائک پر کیسا کیسا حادثہ نہیں گزرا۔

جنت سے نکالے جانے کا حادثہ کیا کم تھا جو جدائی والے چالیس برس مل گئے؟ جدائیوں کا عذاب بڑا دردناک ہوتا ہے۔ وہی شخص ساتھ اٹھتا بیٹھتا، چلتا پھرتا، ہنستا بولتا ہو تو کبھی یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ اسقدر اہم ہے۔ اور وہی اگر بچھڑ جائے تو کسی کل چین نہیں پڑتا۔ اٹھتے بیٹھتے بس اسی کا خیال۔ "یوں کرتا تھا وہ ۔۔۔ اس وقت ہوتا تو ایسے کہتا۔ بظاہر ایک ماضی پرست یا ناسٹیلجک شخص کے جملے لگتے ہیں۔ پر جس پر بیت رہی ہو جدائی،وہی مفہوم سمجھ سکتا ہے اس سب کا۔
جدائیوں والا حادثہ ختم ہوا تو آدم کے دو بیٹوں کے دل میں ایک ہی ناری کا سمانا ایک نیا حادثہ تھا۔ ویسے یہ بھی تو آدم کی فطرت میں ہے نا، اس کا ناری پر جی ہار بیٹھنا اور پھر اپنی جنت داؤ پر لگا لینا۔ جب آدم کو انہی عناصر سے گوندھا ہے رب نے تو پھر کب تک فطرت سے لڑنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے ہم سب؟ پھر آج بھی ہم کسی کا کسی کے لئے والہانہ پن دیکھ کر تعجب کیوں کرتے ہیں؟ رب کے رسول کا ہی اٹل فرمان ہے نا کہ دو دلوں میں محبت میں نکاح کے خطبے سے بہترین بات کوئی نہیں؟
تو پھر ہم ملانے یا ملنے کی بات پر ایسا انہونا ردعمل کیوں دیتے ہیں؟ جیسے یہ پہلا ہی واقعہ ہوا ہو زمانے میں۔
سوچیں تو فطرت سے اس لڑائی سے بڑا حادثہ نہیں کوئی۔
کلچر کے نام پر ہر بے جان تکلف کی غلامی سے بڑا کوئی حادثہ نہیں۔ معاشرت کے نام پر ہر اختیار رکھنے والے کا اپنے اختیار کا فرعون بن جانا بھی حادثہ ہے۔
اس حادثے کا اپائے سوچنے سے پہلے ہی اس جلد باز نے زمین اپنے ہی بھائی کے خون سے رنگین کرکے نئے حادثوں اور نئے امکانات کا در وا کیا۔
کیسا کیسا خیال آیا ہوگا اس وقت ذہن میں۔ قدیم و اولین ہی سہی، تھا تو انسان ہی نا۔ خدشات، خوف، امید و یاس میں بندھا۔
کھو دینے کا خوف، کچھ ہوجانے کا خدشہ، منزل سے دوری پر یاسیت ۔۔۔ آج بھی تو انہی بندشوں میں جکڑے ہیں نا ہم سب۔ اور رہ گئی امید ۔۔۔ اچھے وقتوں کی امید۔ امید سے بڑی کوئی برائی شاید زمین پر نہ ہو۔ نہ اس سے بڑی کوئی اچھائی ہی ہو گی۔ پینڈورا والی کہانی میں بھی تو اس لڑکی کے ڈبے میں رہ جانے والی "آخری برائی امید ہی تھی۔ جسے لے کر پہاڑی راستے پر نشیب کی طرف گامزن ہوگئی تھی وہ، اچھے دنوں کی آس لئے۔ تو صاحبو، ہماری امید پرستی بھی اور یاسیت بھی حادثہ ہے۔ اور ان دونوں سے جنم لیتے ان گنت حادثے۔
ایک تو شاعر نے بتایا تھا نا کہ
بہت امید رکھنا اور پھر بے آس ہونا بھی
بشر کو مار دیتا ہے بہت حساس ہونا بھی
ویسے بشر کا مر جانا تو کوئی حادثہ نہ ہوا۔ جینا البتہ حادثہ ہو سکتا ہے۔ اور جیے ہی چلے جانا حادثہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ حادثے سے بھی بڑا۔۔۔سانحہ۔ کیسی پستی ہے۔ ساری مخلوق رب کا کنبہ ہے اور اس کنبے کا سب سے افضل فرد انسان بغیر کسی واضح مقصد کے جیے جا رہا ہے۔ اپنی اپنی مرضی کا طوق گلے میں ڈالے۔ اپنے اپنے تعصبات کے تمغے سجائے۔ اپنے اپنے کولہو میں سب جتے ہوئے ہیں۔ اپنی تخلیق کے مقصد سے بے نیاز۔
یہ لایعنی بے نیازی حادثہ ہے لوگو۔ پستی کے ساتھ یہ سیٹلمنٹ حادثہ ہے۔ دنیا جہاں کے فلسفے پڑھ کے جینے کا ڈھنگ نہ سیکھ پانا بھی حادثہ ہے۔ ویسے ڈھنگ سیکھنے والا موقف بھی بڑا عجیب ہے۔ یہ پرٹینڈ کرتی ہوئی "تہذیب بھی تو حادثہ ہے نا۔ کلچر کے نام پر ہر بے جان تکلف کی غلامی سے بڑا کوئی حادثہ نہیں۔ معاشرت کے نام پر ہر اختیار رکھنے والے کا اپنے اختیار کا فرعون بن جانا بھی حادثہ ہے۔
اپنے ذرا ذرا سے فائدے کے لئے۔۔ بلکہ نہیں فائدے کی امید پر اوروں کے احساسات کا قتل سانحہ ہے۔ جو روز ہمارے گرد بیت جاتا ہے اور ہمیں حادثہ نہیں لگتا۔ یہ بےخبری المیہ ہے۔

اردگرد چلتی پھرتی زندہ لاشوں کے گروہ مسکراہٹ سے عاری لب زندگی سے عاری آنکھیں اور لہجے ان سب کو دیکھنا پھر بھی زندگی پر اصرار کرنا بھی حادثہ ہے اور یہ سب جانتے بوجھتے اپنے ہی بزدل انسان دنیا میں لائے ہی چلے جانا حادثہ ہے۔


آسمان سے گرے پٹواری



ویسے پٹواریوں بیماریوں کی سختی کے دن ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے بیچارے۔ آسمان سے گر کے کھجور میں ایسے اٹکے ہیں کہ نہ وہاں چھلانگ لگا پارہے ہیں نہ ٹہر پا رہے ہیں۔ لیکن چونکہ اسٹائل بھی کوئی چیز ہوتی ہے لہذا وہاں بیٹھے ہی ایسے ڈیزائن مار رہے ہیں جیسے بہت ہی مزے میں ہوں۔ لیکن کب تک آخر کب تک اچانک پھٹ پڑتے ہیں۔ بالکل اس موٹی آنٹی کی طرح جو فوٹو میں سمارٹ نظر آنے کے لئے پوری سانس اندر کھینچ کے کھڑی ہو اور فوٹو گرافر کہیں اور بسی ہوجائے اور وہ اپنے ہی سانس کے پریشر تلے آ کر دھڑام سے نیچے جا گرے۔ ہائے بیچارے ہمارے عقلبند پٹواری پونے دو روپے کی تالیاں تم لوگوں کی "لاجکس148 کے لئے اس کے بعد یہ بتانا تھا کہ یہ تم لوگوں کے حواسؤں پر کپتان کب سے سوار ہونے لگے۔ بولے تو کہاں گیا وہ سارا تجربہ جس کے چرچے سن سن کر ہمارےکان تقریبا پک جاتے جو ہم نے غور کیا ہوتا تم لوگوں کی فضولیات پہ۔ کسمے آجکل مجھے اچھا خاصا ترس آجاتا ہے تم لوگوں پہ۔ پہلے پوچھ پوچھ کے گلا خراب کر لیا کہ کیوں نکالا؟ جب مرضی ہماری جیسا ریسپانس دیا تو خود ہی تنخواہ نہ لینے والا جواب گھڑ لیا۔ اس ناراض بہو کی مانند جو ناراض ہو کہ میکے جا بیٹھتی ہے اور جب کافی عرصہ کوئی منانے کے لئے نہیں جاتا تو بھینس کی دم سے لٹکے چلے آتی ہے یہ شور کرتی کہ میں کب آرہی تھی یہ تو بھینس مجھے کھینچے لا رہی ہے۔ کیا؟؟ مثال فٹ نہیں بیٹھ رہی؟ تو تنخواہ والی بات فٹ بیٹھ رہی تھی؟ نہیں نا ؟ ہم نے بھی تو سنی ہی نا۔ خیر آپ سب سے اظہار محبت کی تازہ وجوہات پہ بات کرتے ہیں۔ تو ہوا کچھ یوں کہ نانی نے خصم کیا برا کیا کر کے چھوڑا اور بھی برا کیا والا سین ہو رہا ہے تم لوگوں کے ساتھ۔ حساس ایریاز میں گھسے برا کیا کر کے مکر گئے اور بھی برا کیا۔ پر سب سے برا تب ہوا جب کرائے کا پالتو داماد چھوڑ دیا۔
 یعنی اب مہرالنساء کے ابو ہی رہ گئے تھے ہمیں بھاشن دینے والے۔ پیارے پٹواریو اپنے داماد کو اور اپنے وزیروں کو یہ تو سمجھایا ہوتا کہ مسئلہ کسی کے عقیدے میں نہیں ہے نہ ہمیں کسی کے مذہبی عقائد سے کچھ لینا دینا ہے۔ مسئلہ ان کا ہمارے عقیدے میں گھسنے میں ہے۔ نہیں سمجھے نہ۔ نہیں سمجھے ہوں گے۔ ٹہرو بھیا سمجھاتی ہوں۔ وہ یوں کہ ہم نے یعنی آنسہ سحرش عثمان نے ایک عدد آرگنائزیشن کے ساتھ ایز والنٹیر دوسال کام کیا۔ اپنی جان ماری اپنا بیسٹ دیا تھوڑا بہت دماغ لڑا کہ ایک پراجیکٹ بھی منظور کرا لیا آرگنائزیشن کے لئے۔ لیکن ایک دن ہم یونہی اکتا گئے جی اوب گیا آرگنائزیشن کو،لات ماری اور گھر چلے آئے۔ پھر لگے منصوبے بنانے اپنی آرگنائزیشن بنانے کے۔ اب بظاہر تو ہمارے مقاصد ایک سے تھے۔ آرگنائزیشن کے اصول و ضوابط بھی پتا تھے۔ سو ہمیں ان کا نام استمال کر لینا چاہیے تھا نا؟؟ کیا؟؟ نہیں کر سکتے کسی آرگنائزیشن کا نام اور لوگو؟ کیا ہو گیا بھئی بس ذرا سے ہی تو اختلافات تھے پھر بھی ایسا "کٹر رویہ ایسی انتہاء پسندی ایسی تنگ نظری
 چچ چچچ آپ سے روشن جیالوں سے توقع نہیں تھی اسکی۔ کیا کہا یہ اصول ہے دنیا کا؟ تو بھئ صاف سیدھی بات ہے۔ تم لوگ اپنی دنیاوی آرگنائزیشن کا نام مجھے استمال نہیں کرنے دیتے۔ اور ہم تم لوگوں کو اپنے حساس ایریا میں گھسنے دیں؟ صدقے بھی آپ لوگوں کی ایکسپیکٹیشنز۔۔ بات سنو تم لوگوں کو پتا ہے برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے والے شاہی خاندان کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ہولوکاسٹ پہ بات کرنا جرم ہے۔ وہ کیا نازی کیمپس بنائے تھے ہٹلر نے آج بھی ان پر کچھ کہنے سننے کی تحقیق کر کے آؤٹ آف دا باکس سوچنے کی آزادی نہیں میسر کسی کو۔ تو پھر ہم ہی سے "روشن خیالی کی توقع کیوں ؟ جب ہر قوم ہر مذہب کا حساس ایریا ہے اور وہاں گھسنے کی آزادی نہیں کسی کو تو پھر ہمارے ہی عقیدے کو غریب کی جورو کا درجہ دینے پر تلے رہتے ہو تم لوگ؟ اور کوئی بات نہ ملے تو کہنے لگتے ہو عمران خان چپ ہے اس نے ردعمل نہیں دیا۔ تو بھئ مجھے اپنے عقیدے کی تکریم کرنے کے لئے عمران خان کے رد عمل کی حاجت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسے عقل کے اندھے سپورٹرز ہیں کپتان کے کہ اتنے اہم معاملہ پر رائے کے لئے کسی کا انتظار کریں۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے رہے گا ہمیشہ چاہے دنیا ہمیں انتہاء پسند سمجھے چاہے بنیاد پرست۔ شائد یہ جذباتی گفتگو لگے روشن خیالوں کو۔۔۔پر کیا کریں جذبات کے بغیر محبت نہیں ہوتی نا۔۔نہ اس کا اظہار۔

Saturday, 7 October 2017

ٹانگ کے پلستر سے یوسین بولٹ تک

لکھ دیتے ہیں بھئ ایک ہی بار۔یوں تو یہ بتانا خاصا معیوب ہی لگتا ہے کہ بیمار ہیں ہم۔عیادت کیجئے ہماری۔ لیکن یقین جانیے اس تحریر کا قطعی مقصد اپنی عیادت کرانا مقصود نہیں۔یوں بھی اب ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ تو ہوا کچھ یوں تھا کہ ہم کانوں میں ہینڈز فری لگائے ہاتھ میں یہ موا سارے مسائل کی جڑ۔ نہیں ٹہرییے آپ کو ایسے ہرگز نہیں سمجھ لگی ہوگی ہمیں مزید وضاحت کرنے دیجئے۔ اجی سارے اخلاقی و معاشی و معاشرتی مسائل کی جڑ۔ نوجوان نسل کی گستاخی کی وجہ والدین کے لیے گونا گو مسائل پیدا کرنے والا یہ شیطانی آلہ جی ہاں بالکل صحیح سمجھے آپ یہ موا موبائیل تھا ہاتھ میں۔ اور ہم ہمیشہ کی طرح اندازے سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ اسی اثناءمیں آہا بیماری کی حالت میں ہمارے جملے چیک کیجئے۔ تو ہم کہہ رہے تھے اسی اثنا میں سامنے سے ہمیں ایک منحوس کالی بلی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھائی دی ہم نے ازرہ ہمدردی اسے رستہ دینے کے لئے سائڈ پر ہوئے اور اگلا قدم اٹھاتے ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ جی بالکل ہم اوپر سے پہلی سیڑھی سے پھسلے اور نیچے آخری سیڑھی پر آ قیام کیا۔ آخری سیڑھی پر لیٹے لیٹے ہم نے مدد کے لئے گھر والوں کو پکارا انہوں نے آکر بہتیرا پوچھا کہ یہاں یوں بے سدھ لیٹنے کی وجہ۔ ہم نے اپنے پاؤں اور ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ ہم یہاں شدید تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ یوں تو ہمارے ہونے سے ہر لحظہ ہمارے اردگرد کے لوگ تکلیف میں ہی رہتے ہیں۔ لیکن اسوقت ہماری جسمانی تکلیف کو محسوس کرکے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔جس نے اچھی طر ٹھوک بجا کر ہمارا پاؤں چیک کیا کہ کہیں پلاسٹک کے پیر لگا کر تو نہیں گھوم رہے ہم۔ ہم نے بہت بتایا کہ ڈاکٹر صاحب یہ جو ہمارا پاؤں ہے اس کی فوٹو پچھلے پانچ سال سے فیس بک پر ڈی پی ہے ہماری اور اس پر ہمیں کم و بیس ایک ہزار لائک اور تین سو کامنٹس مل چکے ہیں۔جبکہ ہمارا میسنجر ہر وقت اس کی تعریفوں سے بھرا رہتا ہے خدارا رحم اس کو یوں پلستر لگا کر سفو کیٹ مت کیجئے مت کیجئے مت کیجئے۔۔۔۔ساتھ یہ بھی کہا ڈاکٹر تمہیں خدا کا واسطہ۔ تمہیں ہر صورت مریض کی جان بچانا ہوگی۔ ڈاکٹر کے اسسٹنٹ ک گھوری نے پاوں ٹیبل پر رکھنے پر مجبور کر دیا۔جب ادا ہمیں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے پاس نہ بھجوادیں۔ اچھی طرح تسلی کر لینے کے بعد پاؤں پر پلاسٹر نماء پٹی چڑھا دی گئی۔ حرکات و سکنات پر مکمل پابندی کے ساتھ مسلسل پین کلر۔ یوں تو ہمیں بھی شک تھا کہ یہ ہمیں نظر لگی ہے۔ لیکن عیادت والوں کو ہمارے شک سے کہیں زیادہ یقین تھا۔ اور اسی یقین کے پیش نظر ہمیں جلے ہوئے کوئلے پر کالی مرچوں کی دھونی کی افادیت کا پتا چلا۔ ساتھ ہی ہمیں دی گریٹ اب یہ مت کہہ دینا دی بھی اور گریٹ بھی ارے ہمارا بس چلے تو سپر لیٹو فام کے ساتھ دی لگا کر اس "فوک وزڈم کو لکھیں۔ جو کہ کچھ یوں ہے کہ گڑ کی بھاپ موچ پلک جھپکنے میں ٹھیک کر دیتی ہے۔ اول تو ڈاکٹر کے پاس جانا ہی نہیں چاہیے لیکن اگر بالفرض جانا پڑ ہی جائے باامر مجبوری تو ڈاکٹر کی دی میڈیسن کبھی نہ کھائیں کیونکہ ڈاکٹری دوائیوں سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ خیر دوسرے نسخے کے مطابق نمک والے پانی میں اینٹ گرم کر کے رکھنے اور اس پانی پلس اینٹ کی بھاپ لینے سے ہڈی اپنے آپ جوڑ سے بغلگیر ہوجاتی ہے۔ جب ہم نے ٹوٹکے کی وجوہات پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ شائد نمک کی زیادتی سے ہڈی ہائی بی پی میں جوڑ سے جا ٹکراتی ہو۔ لیکن خدا گواہ ہے اینٹ کا ہڈی جوڑنے میں کردار اب ہی پتا چلا۔ ہم ہمیشہ اسے آلہ ہڈی توڑ ہی سمجھتے رہے۔ کیسا کیسا آزمودہ نسخہ ہمیں آج کل سننے کو مل رہا وہ ہمارے بیان سے باہر ہے۔ جن کو اگر ہم عملی جامہ پہنا لیں تو ایک دن میں یوسین بولٹ بن جائیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ فائزہ بیوٹی کریم مہنگی ہے اور ہم غریب سو اس آئڈیا کو ڈراپ کئے دیتے ہیں۔ بیڈ پر لیٹے پاؤں پر پلاسٹر چڑھائے ہم سوچ رہے۔ کیسا کیسا بزنس پلین ہمارے اردگرد بکھرا پڑا ہے۔ جس میں ہینگ لگنی ہے نا پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آنے والا ہے۔ تو کہنا یہ تھا کہ وہ بس سیڑھیوں سے گر گئی تھی۔۔۔اور یہ چوٹ ہمیں یوسین بولٹ نہ بھی بنا پائی تو بزنس پرسن تو ضرور ہی بنا ڈالے گی۔ آپ سب کی دعاؤں اور نیک خواہشات کا بہت شکریہ۔ بطور عیادت گفٹ ہم چاکلیٹس قبول فرماتے ہیں۔