Pages

Tuesday, 11 July 2017

اقتباس


ساون نے یک بارگی دستک دی تو کھڑکی کے پٹ یکا یک بج اٹھے.بارش کی پہلی بوند اور بادلوں کے تیور بتا رہے تھے کہ آج دریا اپنی طغیانی میں اضافہ کرنے والے ہیں.
وہ چہرے پہ جھولتی آوارہ لٹ کو پیچھے کرنے کی زحمت کیے بغیر اور کھڑکی کا بجنا نوٹس کیے بغیر باہر چلی آئی.
پہلے اس نے سوچا سارے گھر کو اپنے ہاتھوں سے پکوڑے بنا کہ کھلا ئےجن کی سوندھی سوندھی خوشبو سے بڑے ابا کا نٹ کھٹ شانی بھی چلا آئے گا.☺
لیکن_____ اچانک اسے یاد آیا اس کے تو سرے سے بڑے ابا ہی نہیں ہیں تو شانی کہاں سے اگتا.:-\ 
لہذا اس نے پکوڑوں کو اگنور کیاـاور صحن میں امرود کے درخت تلے آنکھیں موندے بازو پھیلائے کھڑے ہو کر اور بعد ازاں امردو کی ٹہنیوں سے جھول کر بارش کو خوش آمدید کہنے کا سوچا-
لیکن-
لیکن-
لیکن_____کمرے سے باہر آکر اسے پتا چلا اس کے گھر کے صحن میں تو کوئی امرود کا درخت ہی نہیں ہے-
صرف سیڑھیوں میں پڑے گملوں میں ایلو ویرا اگا ہے جسے وہ ہاتھوں پیروں کے لیے ایز بلیچ یوز کرتی ہے-لہذا اس کی ٹہنیوں سے جھولنا زیادہ سود مند نہیں-یوں بھی بن ساجن جھولا جھولے وہ وعدہ کیسے بھولے.;-) 
لہذا "ہیروئن" دو دو سیڑھیاں پھلانگتی چھت پہ پہنچ گئی اور پینتیس منٹ بارش کے پانی میں چھلانگیں لگا کر جب نیچے آئی تو بڑی بہن کا استحقاق استمال کرتے ہوئے چھوٹی بہن سے کافی بنوا کہ پوسٹ لگانے لگی.
ماہنامہ عورت کے دکھ:-P 
افسانہ نام: شانی کا نہ ہونا
مصنفہ

کہنا یہ تھا کہ وہ


کہنا یہ تھا کہ وہ________
خواتین ڈائجسٹ کی ہیروئن کئی سالوں سے مٹروں والے چاولوں کے ساتھ شامی کباب دہی کا رائتہ اور آم کی چٹنی بنا رہی ہے_
کوئی اس کا مینیو ہی بدل دو یار.
اچھا اگر مینیو نہیں بدلنا تو اس کی ڈریسنگ سینس ہی ایمپرو کر دے کوئی تھوڑی
کب تک آخر کب تک وہ سفید چوڑی پائجامے کے ساتھ انگوری رنگ کی چکن کی انارکلی فراک پہنے دوپٹہ کندھے پہ ٹکائے سیڑھیوں سے پھسلتی رہے گی؟ آخر کب تک؟
کب تک ہیرو اسے کندھوں سے تھامتا تاڑتا رہے گا؟
اچھا یہ سب بھی نہیں کرنا؟؟
تو پھر اس پائپ میں ہی کوئی چھید کر دے جسے تھامے وہ پودوں کو پانی لگانے میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ کھلے گیٹ سے اندر آتے "ارمغان حجازی" پر اس کی نظر ہی نہیں پڑتی- اور جب پڑتی ہے تو ارمغان صاحب گہری کالی آنکھوں میں غصہ اور بھوری مونچھوں تلے دبی مسکان لیے تکتے پائے جاتے ہیں؟ کیا ایسا کوئی شیر دل ہے جو ان سائینسدانوں کو بتا سکے کہ آنکھوں اور بالوں کا رنگ ایک سا ہوتا ہے انٹل آپ کے جینز میں کوئی کیمکل لوچا نہ ہو-
نہیں؟
تو پھر فائنل ایک بات چوڑی پیشانی پر تفکر کی لکیریں لیے ہسپتال کے کاریڈور میں ٹہلتا کوئی عباد ڈھونڈ دیا جائے ہمیں جو ہمارے لیے کم از کم بھی ستر اسی کڑوڑ کی ڈیل فائنل ہوتے ہوئے چھوڑ آئے کہ نوڈلز بناتے ہم ہاتھ جلا بیٹھے تھے. اور جو اپنی "فیراری" کا اندازہً دس بارہ بار ایکسڈینٹ کرتے کرتے رکا ہو کہ مرغی ہمارا پاؤ لتاڑ گئی تھی.؟
یہ بھی نہیں؟ 
سحرش

Thursday, 6 July 2017

یک عدد فسادی خیال


شیطان کی آزادی کے ساتھ ہی پیش خدمت ہے ایک عدد فسادی خیال__
ہماری کمینی آبزرویشن اور الحمدللہ "شیطانی" یاداشت نے مل کہ یہ محسوس کیا ہے کہ اکثر ادبی( انٹیلکچوئل) ٹائپ خواتین کو یہ شکایت رہتی ہے ان کے سسرالی انتہائی نا عزیز اور خاص طور پر شریک حیات بروزن بِٹر ہالف ان کے ادب کے ساتھ انتہائی بے ادبی سے پیش آتے ہیں_ جس سے ان کی دل آزاری اداسی اور ناقدری وغیرہ وغیرہ ہوا کرتی ہے_
تو پیاری خواتین پوچھنا یہ تھا کہ آپ نے بحثیت انسان رشتوں کو قبول کیا تھا یا 
بطور ادیب؟
اور یہ کہ اگر آپ اپنے سسرالیوں کے 'نامعقول" معمولات میں بوجہ عدم دلچسپی شرکت نہیں کر پاتیں اور جب آپ اپنے شریک سفر کے ساتھ بیٹھ کے تین چار گھنٹے میچ نہیں دیکھ سکتیں تو اتنی سی سہولت انہیں بھی تو دیا کریں نا_اجی اپنی مرضی دلچسپی رکھنے کی سہولت_نہ بھی دینا چاہیں تو مرضی آپکی ہمارا کام تھا بس ایک عدد فسادی خیال شئیر کر کے بتانا تھا کہ سارا سال جو فسادی سوچیں ہمہ وقت ہمارے ذہن میں پلتی آنکھوں سے ٹپکتی کیبورڈ سے ادا ہوتی رہتی ہیں تو وہ دراصل شیطان ہوتا ہے ہم نہیں_ ہم تو انتہائی مہذب سوچ کے حامل ہیں.
آپ سب کو انتہائی پیاری
#سحرش

ہم کس گلی جا رہے ہیں


ہم کس گلی جا رہے ہیں___ ارے ارے رکیے تو آپ لوگ ہلکا سا صحیح اور ہلکا سا غلط سمجھ رہے ہیں_ ہم ابھی سر لگانے کے موڈ میں نہیں_ گوکہ عاطف اسلم جتنے سریلے تو ہم ہیں ہی اور بولیں تو ایسے ہی لگتا ہے کوئل کوک ووک رہی ہے_ لیکن ایک دفعہ پھر رکیے ہم یہاں اپنے سریلے آہنگ کی ایڈورٹیزمنٹ ہرگز نہیں کرنے والے_ ہم تو یہاں ایڈورٹیزمنٹ کی دنیا کے سُر بلکہ بے سُرے راگ بیان کرنے کی جسارت کرنے لگے ہیں_ بات وہاں سے شروع ہوئی جب ہم حسب عادت حسب معمول اور حسب ذائقہ فون استمال کرتے ہوئے ٹی وی دیکھنے میں بری طرح مصروف تھے_کہ لیمن میکس کا ایڈ نظر سے گزرا جسمیں بیٹا ماں باپ بہن بھائیوں سے چھپا کہ بیوی کے لیے بریانی قورمہ لاتا ہے_ اور جھوٹ بولتا ہے کہ اسے بھوک نہیں بعد میں ‍ سارے گھرانے سے چھپ کے اپنی بیوی کے ساتھ وہ بریانی کھاتا ہے_ واہ کیا ہی خیال آفرینی تھی ایڈ میں_ اگلا ایڈ کیو موبائل کا تھا ماہیرہ خان انتہائی غیر مناسب لباس میں بہترین سیلفی لینے پیرس نیویارک گھوم رہی تھیں_تیسرے ایڈ میں وسیم بادامی آبشار کے سرہانے سے حسن یوسف چرا کر صابن بناتے ہوئے پائے گئے_ کہانی میں ٹوئسٹ آیا اور پیپسی کے بتائے ہوئے ابا جی کے ظلم وستم پر ہماری آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں- اور کوک نے جب میرے چلر کو دگنا کرنے کا بتایا تو جی چاہا جمبو سائز بوتل میں سٹرا ڈال کہ پیا کرو کیا ہی نیک دل لوگ ہیں یہ__ اور جب آخری ایڈ میں سجل خان کے بتانے پر ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ انتہائی واہیات لگنے لگا_ تو ہم نے گھبرا کر ٹی وی بند اور اپنا فون آن کر لیا_ بھئی ہماری بلا سے جو ٹی وی دیکھتے ہیں ان کا ہیڈک ہے ہم کیوں سر کھپاتے پھریں_ لیکن ٹوٹل تین منٹ ہی فون استمال کیا ہوگا کہ اندر کے ہٹ دھرم فسادی نے کانسنٹریٹ کرنے سے انکار کردیا_ اب جیسا کہ تقریبا آپ سبھی کو معلوم ہے کہ سکرین سکرول اپ اور سکرول ڈاؤن کرنا کسقدر توجہ طلب کام ہے- اور اس منتشر خیالی کے ساتھ یہ کرنا ممکن نہیں تھا- لہذا فون گود میں رکھ کر لگے سوچنے کہ یہ ہم کس گلی جا رہے ہیں؟ کہاں گئے وہ سب مشرقی روایات والے سوشل مینرز والے ایٹی کیٹس کے ٹے پر ناک سکورنے والے سب کیا ہوئے؟ یہ ہم ایڈورٹیزمنٹ کے نام پر کیا سلو پوائزن بلکہ سویٹ پوائزن اپنی نسلوں کو دے رہے ہیں چپ چاپ بلکہ ہنسی خوشی؟ کبھی گھی پر پورا خاندان ناچتا ہے تو کبھی اماں ابا سے چھپا بلکہ اپیرنٹلی انہیں دھوکہ دے معاملات سلجھاتا ہے- کولا ڈرنکس پی کر بچے باپ سے زیادہ باشعور ہونے لگتے ہیں- شاعر آج کہتے تو یوں کہتے ہم ایسے کل کمرشلز قابل ضبطی سمجھتے ہیں_ کہ جن کو دیکھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں- یہ ایڈز کسقدر خاموشی سے جھوٹ کو دھوکے کو خوش نماء کر کے پیش کرتے ہیں کہ ہمیں گمان بھی نہیں گزرتا کہ جس بات کی تبلیغ کی جا رہی ہے وہ غلط ہے- آج کی دنیا میں ہمیں تو اپنے بچوں کو سچ بولنا سیکھانا ہے_ تاکہ وہ اپنے معاملات میں کھرے ہوں دنیا انہیں دھوکے باز بدیانت نہ سمجھے. ہمیں تو اپنے بچوں کو کمٹمنٹ نبھانے والا بنانا ہے__تاکہ وہ اوروں کے ساتھ کیے وعدے پورے کریں تاکہ دنیا ان کے ساتھ ڈیلنگز کرتے ہوئے ڈرے نہیں. پر افسوس ہم عجیب قوم ہیں چار چار سال کے بچے کے ہاتھ میں ٹی وی کا ریمورٹ دے کر ہم مطمئن زندگی گزارتے ہیں- باپ اے ٹی ایم مشینں اور مائیں برینڈ ایمبیسڈرز- پھر دو چار سال گزر جائیں تو یہ ماں باپ شکوہ کرتے ہیں بچے بات نہی سنتے.بچے جھوٹ بولتے ہیں بچے دھوکہ دیتے ہیں- بچے ایگریسو ہیں اور بچے غصیلےہیں- کیا ہم پاگل ہیں؟ بند گلی کی مساافرت اختیار کرکے ہم منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں- ذرا سے تھوڑا زیادہ سوچیے!یہ بچے یہ نسلیں میری آپکی ہم سب کی ذمہ داری ہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیے- ورنہ زمانہ تو چال قیامت کی چل ہی رہا ہے-

Monday, 19 June 2017

باپ، والد، یا پدر: ایک دلگداز تذکرہ، خاص دن سے ورا


یہ دن ہر اس شخص کے نام، جو بن باس کاٹ رہا ہے۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے۔ یہ دن ہر اس شخص کے نام، جو بچوں کی پیدائش پر اپنی ضرورتیں مختصر کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ دن ہر اس باپ کے نام، جو دن بھر کی تھکن لیے گھر لوٹتا ہے اور دروازے پر منتظر بچے کی انگلی تھام کر دہلیز سے ہی لوٹ جاتا ہے ۔۔۔ آئسکریم دلانے کے لیے ۔۔۔ کسی کوفت کے بغیر۔ 
یہ دن دنیا کے ہر باپ کے نام!
جیسے مائیں یونیورسل ہوتی ہیں نا، ویسے ہی باپ بھی یونیورسل ہوتے ہیں۔ مینجر، پروائیڈر، ان سنگ ہیروز، لیس ایکسپریسو اور بہت حساس۔
جی بالکل، باپ بھی حساس ہوتے ہیں۔ بس بتاتے نہیں ہیں، کیونکہ بتانے سے ان کے بچے پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہ سوچ کر کہ ان کے ابا ایموشنل ہیں۔ تو ابا ایموشنز سائیڈ پہ کر کے پریکٹیکل ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے بچوں کا احساس تحفظ جڑا ہوتا ہے نا اس سے۔
اور باپ سے جڑے احساس تخفظ کو سمجھنا ہو تو اس بچے کی آنکھ میں جھانک کر دیکھ لیں جو باپ کی انگلی تھامے سڑک کنارے چل رہا ہوتا ہے۔ کبھی انگلی چھڑا کر سڑک پر لگے پودوں کو چھیڑتا ہے تو کبھی آتے جاتے بلیوں کتوں سے الجھتا ہے۔ پتا ہے کیوں؟ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ابا کے ساتھ ہوں ۔۔۔ کچھ ہوا تو سنبھال لیں گے۔
کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر لکھتے ہوئے آپ بلینک ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی انہی میں سے ایک موضوع ہے، جو مجھے بلینک کردیتا ہے۔ کوئی اس شخص کے متعلق کیسے کچھ لکھ سکتا ہے جو زندگی بھر اپنے لیے کسی سے نہ الجھا ہو۔ وہ جس نے اپنے لیے ڈیو سپیس بھی نہ مانگی ہو۔ وہی شخص اپنے بچوں سے محبت ہی تعلق کا معیار بنا لے تو کوئی اس کے بارے میں کیا لکھے؟ خاموش پروائیڈر وہ شخص جب اپنی تکیلف نہیں بتاتا کہ بچے پریشان ہو جائیں گے۔ اس شخص کو لفظوں میں کون بیان کرے اور کیسے؟
پچھلے دو ہفتوں سے میں جملے لکھتی مٹاتی ہوں۔ لفظ تراشتی ہوں۔ ان میں رنگ بھرتی ہوں۔ حرفوں کے ہیر پھیر سے آہنگ بناتی ہوں۔۔۔۔۔اور میں ہار جاتی ہوں۔ اس ایک ایکٹ کے سامنے جب ایک سیلف لیس شخص مجھے ساتھ لگا کر ماتھا چومتا ہے۔
اور میرا سارا تخیل میرے سامنے بے بس کھڑا رہ جاتا ہے۔ میں جو بیٹھے بیٹھے ستاروں سے کہکشاؤں تک کا سفر لفظوں میں طے کر لیا کرتی ہوں، اس ایک جملے کے سامنے گونگی ہو جاتی ہوں جب کوئی کہتا ہے تم لوگ میرے جگر کے ٹکڑے ہو۔
یہ دن ہر اس شخص کے نام، جو بیٹی کی پیشانی چوم کر اسے سر اٹھا کر جینے کا اعتماد بخشتا ہے۔ یہ دن ہر اس شخص کے نام، جو جگر کا ٹکڑا کہہ کر بیٹی کے لہجے میں اعتماد بھرتا ہے۔
یہ دن ہر اس شخص کے نام، جو اپنے بہترین دن کسی کےمستقبل پر وار دیتا ہے ۔۔۔ بغیر کسی صلے کی خواہش کے۔ یہ دن ہر اس شخص کے نام جو سفر، موسم، بیماری، وطن سے دوری کی پروا نہیں کرتا ۔۔۔۔ کیونکہ اس سے اس کے بچوں کی مسکراہٹیں جڑی ہوتی ہیں۔
یہ دن دنیا کہ ہر باپ کے نام، جو انگلی پکڑ کر چلنا سکھانے سے لے کر پرواز کے لیے پر مہیا کرنے تک ہر ہر موڑ پر بچوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ جب جب اس کے بچے تھکنے لگتے ہیں وہ مصنوعی غصے سے ان کی تھکن کو توانائی میں بدل دیتا ہے۔ جب جب اس کے بچے حوصلہ ہارنے لگتے ہیں وہ ان کی پیٹھ تھپک کر، زندگی کی امنگوں کے قصے سنا کر، ڈانٹ کر ان کو زندگی کی طرف لوٹنے کا جواز مہیا کرتا ہے۔ یہ باپ ہی ہوتا ہے جو اپنی محنت کی کمائی اپنے بچوں پہ انوسٹ148 کر کے خوش ہوتا ہے۔ یہ باپ ہی ہو سکتا ہے جو راہ کے سب کانٹے اس لیے سہتا رہتا ہے کہ اس کے پیچھے آنے والے اس کے بچے درد سے ناآشنا رہیں۔
مجھے نہیں پتا اس تحریر کو مکمل سا تاثر کیسے دینا ہے. یا پھر یہ کیسے بتانا ہے کہ ابا کیا ہوتے ہیں۔
لمبے لمبے فقرے لکھ کر مٹا چکی ہوں۔ ذہن پر زور ڈال کر کوئی ایسا منظر ڈھونڈنا چاہتی ہوں جس پر اس تحریر کا خاتمہ کروں۔
لیکن ذہن بار بار بھٹک کر اس منظر کا قیدی بن جاتا ہے ابا، جب بیٹی کی رخصتی پر آپ بے ساختہ کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔
پتا ہے آپکو ۔۔۔ بہت سوں نے تو وہ منظر دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ بہت سوں کے لیے آپ تھک گئے ہوں گے۔ لیکن ایک لمحے کے ہزارویں حصہ میں ۔۔۔۔۔ جب آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر زیاں اور تاسف اور اضطراب کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔ آج چار ماہ بعد بھی میرے اندر اسی منظر کی بازگزشت ہے۔ یہ محبت کا شاید وہی درجہ ہے جسے رب نے قبولیت سے نوازا ہے۔
اس فنکشن پر جب آپ سب کو ڈانٹ رہے تھے اور سب کو آپ بےچین لگ رہے تھے۔
اس وقت آپ کی آنکھوں کی سرخی میں جو کرب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ محبت کی چغلی کھا رہا تھا۔ جس کے سامنے دو جہاں بھی چھوٹے محسوس ہوتے ہیں۔
آپ کو بتانا تھا آپ کے بچے آپ کو رہتی دنیا تک قائم و دائم، خوش و خرم دیکھنا چاہتے ہیں۔

سستےدانشوروں کےنام


ویسے تو دیکھو نا جسقدر خوبصورت دن اور پیاری رات ہے آج.اور جسقدر میں نے نرم دلی خوش مزاجی انسان دوستی پائی ہے تو انہیں مد نظر رکھتے ہوئے مجھے تمہیں معاف ہی کردینا چاہیے.

لیکن پتا کیا بات ہے؟ ملزم کو معافی اسے مجرم اور مجرم کو معافی اسے گنہگار بنا دیتی ہے. اور میں تمہیں مزید گنہگار ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی اس لیے تمہیں کہنا چاہتی ہوں کہ آج جس جذبے لگن محنت سے تمہاری اور "دی کوہلی" کی ٹیم نے تمہیارے غرور کا سر نیچا کیا ہے ناں تو یقین کرو مجھے دلی اطیمنان تسلی سکون وغیرہ وغیرہ حاصل ہوئے ہیں.
اسکی وجہ میری تمہاری دوستانہ دشمنی ہرگز نہیں.بلکہ وہ سارے فرعونیت بھرے لہجے اور بڑے بول تھے جو تمہارے ہمنوا لہک لہک کہ گاتے تھے.
اب سنو! یہ جو لوگ اپنی طرف سے انتہائی سمجھدار بن کے اور خود پہ کل عالم کی دانش طاری کر کے کہتے ہیں نا دونوں بھائی ہیں جو بھی جیتے.
میچ ہے اسے جنگ مت بنائیں.
بی میچور.
کھیل میں جذباتیت نہیں ہونی چاہیے وطنیت نہیں ہونی چاہیے جو ٹیم اچھا کھیلے ہم تو اسے سپورٹ کرتے ہیں.
ان سب سے ایک سوال پوچھنا تھا اگر آپ کے بہن بھائی آپکی گرومنگ میں اچھا پرفارم نہ کر رہے ہوں تو باہر ان کے کسی کے ساتھ جھگڑے میں تو آپ باہر والے کو ہی سپورٹ کریں گے نا؟
اچھا چلیں چھوڑیں یہ میرے سے پاکستانی تو ہوتے ہی جذباتی بڑی جذباتی قوم ہیں جی ہم.لیکن دوسری دنیا آپ لوگوں کے ممدوح گورے تو مہذب ہیں نا جی؟ وہ جو ایشنز سیریز میں مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں؟.
رگبی بیس بال کے میچوں میں امریکن سٹیٹس میں باقاعدہ ٹھنی رہتی ہے.
ترکی اور یونان کا فٹ بال میچ ہو تو بارڈر بند کرنا پڑ جاتا ہے.
یونان اور آسٹریا میں کئی سال میچ کے بعد کرفیو لگانا پڑتا رہا.
یہ عصبیت میری یا میرے جیسے بے وقوف پاکستانیوں کی بنائی ہوئی یا گھڑی ہوئی نہیں یہ انسان کی جبلت میں ہے.جب کبھی میری قوم کو جذباتیت کے طعنے سے فرصت مل جائے تب ابن خلدون کی عصبیت پڑھ لینا زرا سوشیالوجی پر دماغ کھلے تمہارا. تمہیں پتا ہے میکس کیا کہتا ہے اسے؟؟ دی بیسٹ بائنڈنٍگ فورس.
پر چونکہ تم سب میکس وائبر سے بڑے دانشور ہو سو یہ سستی جذباتیت ہی ہے.
لیکن سنو یہ اگر سستی جذباتیت بھی ہے نا تو بے شرمی سے کہیں زیادہ بہتر ہے.
وہی بے شرمی وہ جو ملک قوم آپ کے آرٹسٹ کھلاڑی کو نہ چھوڑے آپ اسی کو اپنی قوم پر ترجیح دیں تو تف ایسی دانش پر اور افسوس ایسے علم پر.
خیر اب چونکہ ہم جیت چکے ہیں لہذا تمہاری دانش کی ہمیں فلحال کوئی ضرورت نہیں.
اگلے میچ میں دیکھیں گے ہار گئے تو بھی روئیں گے نہی تم لوگوں کی ممدوح ٹیم کی مانند.
جیت گئے تو اسی ذوق و شوق سے تمہارے سینے پہ مونگ دلیں گے.
والسلام تم سب کی بہت پیاری
سحرش عثمان.

دیوانوں سی نہ بات کرے



تمہیں پتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں کسی دن رب سے کہوں کہ مجھے اک اور آسمان دو تاکہ میں لمبی اڑان بھر سکوں

مجھے اڑنے کے لیے ایک اور فضاءچاہیے.جس میں میں ڈار سے بچھڑی کونج کی طرح زندگی وموت سے بے نیاز نفع و نقصان سے اوپر کہیں بہت دور بہت دور ایک نئے جہان کی دریافت کی بے انت مسافتوں میں کھو جاوں-
پتا ہے ڈار سے بچھڑی کونج آسمانوں کی طرف کیوں لپکتی ہے؟ کیونکہ _اسے کھونے کا خوف لاحق نہیں ہوتا وہ تو پہلے سے ہی اپنا سب کچھ کھو چکی ہوتی ہے۔ اپناـ قبیلہ اپنی شناحت اپنے لوگ پھر وہ ان جہانوں کی مسافر بن جاتی ہے جہاں فاصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور جہاں سفر ھی منزل ہوتی ہے بالکل ایسے ہی کسی جہاں کی تلاش ہے مجھے بھی۔ جہاں مسافت ایسی لمبی ہو کہ سانس تھمنے لگے اور شوق سفر نہ جائے۔ جہاں راستے کے پتھر بھی نشان منزل لگیں جہاں آبلہ پائی اور تیز اور تیز چلنے کا حوصلہ دے__.جہاں منزل کی ہوس نہ ہو جہاں کھونا ھی پانا ہو-دل چاہتا ہے اس سے کہوں یارب____ اب مجھے بدلے ہوے معیارات والی دنیا دےہےوہ جسمیں کوئی شب نہ ہو شب غم۔
وہ جسمیں کسی کی آنکھ اگر نم ہو بھی تو وجہ اس جیسا ہی جیتا جاگتا انسان نہ ہو۔
یہ اڑنے کی خواہش بھی تو اسی نے ہی رکھی ہے نااپنے بندے میں پھر اسی کے دوسرے بندے اس پر خفا کیوں ہوتے ہیں؟
ان کو خفا ہونے کا حق ہی کیوں دیا تھا کیا انساں چاند سیاروں سا ستاروں سا اپنے اپنے مدار میں خاموش سفر کرنے والا نہی ہو سکتا تھا؟ جو کسی کے دائرے میں یہ سوچ کر نہیں گھستا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا تو نقصان اٹھاؤں گا۔
اب کہو گے یہ بات انسان کے ذاتی فیصلوں پر چھوڑ دی گئی۔یہ فیصلے کا اختیار دے کر جو بے اختیاری زمیں پر اتاری گئی ہے نا یہ بھی سخت بے اطمینانی کا باعث ہے۔
مستقل بے چینی ہے فیصلے کے غلط ہونے کا خوف اپنے فیصلوں سے کسی کی دل آزاری کا ڈر۔سنو وہ چاہتا تو خوف کے بغیر والی دنیا بھی تو بنا سکت تھا نا۔
پتا ہے اس کی دنیا میں سارے جاندار مجھے انسان لگتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے ہر جاندار کے محسوسات ہوتے ہیں۔ جیسے___ جیسے واک کرتے ہوئے مجھے چاندنی دھیمے سروں میں مسکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اور چاند چاندنی سے رومینس کرتا ہوا۔
تم اس لفظ پر مسکرا رہے ہو نا رومینس پر___سنو یہ لفظوں کی تشریحات بھی تو ہماری ذاتی ہی ہیں نا معاشرتی سی۔
خیر مجھے نا133 چاند چاندنی کو محبت پاش نظروں سے تکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
محبت کوڈ ہے ناں اس کائنات کا؟ جب کبھی بارش ہونے سے پہلے بادل آسماں کو ڈھک لیتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کائنات محبت کے گہرے سرمئی رنگ جیسی ہے۔گہری خاموش اسرار چھپائے ، خود پر نازاں۔
محبت کے بھی کتنے سارے رنگ کتنے روپ ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق اسے کرتا سمجھتا برتتا ہے۔کوئی چہرے پر مر مٹتا ہے اور کسی کو چہرے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔
مجھے لگتا ہے محبت بھی ہر شخص پر ہر شئے پر اس کے مزاج کے رنگ میں اترتی ہے الگ انداز میں کسی پر منصور کی مانند بے باک۔کسی پر سوہنی کی کی طرح نتائج سے بے پرواہ۔کبھی فرہاد کی مانند محنتی تو کبھی بلھے کی طرح عاجز۔
کسی پر محبت بہاروں کا گلابی پن بن کر اترتی ہے آنکھ کے ڈوروں سے عارض کی آنچ تک___ ہر شئے گلابی لو دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اور کسی کے لیے خزاؤں کا سنہری رنگ بن جاتی ہے____ زرد پتوں سے بھی زندگی ٹپکنے لگتی ہے۔
کبھی محبت تپتی دوپہروں کے جوبن جیسی اتر آتی ہے کسی کے من میں جلا کر خاک کر دینے والی۔نہیں بلکہ___کندن بنانے والی محبت خاک نہیں کرتی نا نہ رشتوں کو نہ جذبوں کو نہ عزت کو نہ تعلق کو یہ تو نمو دیتی ہے جلا بخشتی ہے۔
جیسے محبت میں رب نے یہ کائنات بنا دی۔
کبھی محبت شاموں کے گلابی پن کی طرح اترتی محسوس کی ہے؟ مدہم مدہم ہولے ہولے رفتہ رفتہ کسی کے دل میں گھر کرتی ہوئی جیسے سپہر ڈھل کر گہری شام کے درمیاں کا وقت ہو۔آسماں کی آنکھ سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا دن کے کٹورے کا آخری منظر۔
محبت بھی مجھے محسوسات کی حامل لگتی ہے جو اترنے سے پہلے بندے کی پہچان کر لیتی ہے۔
تم نے سوہنی کا قصہ پڑھا ہے نا؟ 
کچا گھڑا شوریدہ سر چناب اور ملنے کا وعدہ__یہ محبت خالص سوہنی کے لیے اتری تھی اس کے مزاج سے میل کھاتی ہوئی۔اب اس کا مزاج لفظوں میں کیسے لکھ دوں؟؟ یہ تو چناب کے بیلوں میں بسنے والوں کو سمجھ آتا ہے۔اسی کارن تو ہر علاقے ہر خطے کی اپنی لوک کہانی ہوتی ہے۔ محبتوں کی اپنی اپنی داستانیں ہوتی ہیں۔
صحراؤں کے باسی عمروماروی سے واقف ہیں۔یہ کمبخت محبت ماروی پر طنطنہ بن کر اتری تھی۔ورنہ کون تھا جو خیام کو انکار کی جرات کرتا۔
سنو! مجھے لگتا ہے خیام کی رباعیوں میں محبت نے صحرا بھرا ہے۔
تم نے پڑھی ہیں نا خیام کی رباعیاں؟ محبت اور اداسی کی صحیح مقدار لفظوں میں گھول دی جائے نا تو خیام کی رباعی بنتی ہے دھیرے دھیرے من میں اترتی ہوئی۔جیسے سردیوں کی بارش ہوتی ہے مسلسل گرتی رہتی ہے پر پانی جمع نہیں ہونے پاتا خنکی کے احساس میں گھلتا اداسی ک کوئی ساز سا ہوتا ہے جو بجتا رہتا ہے۔
مجھے تو بارش بھی احساسات کا مجموعہ لگتی ہے۔ پہاڑ ان پر جمی برف نیچے بہتی جھیل اس کی تشبیہ کسی کی آنکھیں یہ سب یہ سب مجھے قصے کہانیاں سناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
پر تم نہیں سمجھو گے شائد__ یہ دیوانگی کا عالم کوئی دیوانہ ہی سمجھ سکتا ہے۔
تمہیں پتا ہے میں سائیکا ٹرسٹ کو کیوں نہیں ملتی؟؟
کیونکہ میں سمجھتی ہوں دیوانوں سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا؟