Pages

Monday, 19 June 2017

سستےدانشوروں کےنام


ویسے تو دیکھو نا جسقدر خوبصورت دن اور پیاری رات ہے آج.اور جسقدر میں نے نرم دلی خوش مزاجی انسان دوستی پائی ہے تو انہیں مد نظر رکھتے ہوئے مجھے تمہیں معاف ہی کردینا چاہیے.

لیکن پتا کیا بات ہے؟ ملزم کو معافی اسے مجرم اور مجرم کو معافی اسے گنہگار بنا دیتی ہے. اور میں تمہیں مزید گنہگار ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی اس لیے تمہیں کہنا چاہتی ہوں کہ آج جس جذبے لگن محنت سے تمہاری اور "دی کوہلی" کی ٹیم نے تمہیارے غرور کا سر نیچا کیا ہے ناں تو یقین کرو مجھے دلی اطیمنان تسلی سکون وغیرہ وغیرہ حاصل ہوئے ہیں.
اسکی وجہ میری تمہاری دوستانہ دشمنی ہرگز نہیں.بلکہ وہ سارے فرعونیت بھرے لہجے اور بڑے بول تھے جو تمہارے ہمنوا لہک لہک کہ گاتے تھے.
اب سنو! یہ جو لوگ اپنی طرف سے انتہائی سمجھدار بن کے اور خود پہ کل عالم کی دانش طاری کر کے کہتے ہیں نا دونوں بھائی ہیں جو بھی جیتے.
میچ ہے اسے جنگ مت بنائیں.
بی میچور.
کھیل میں جذباتیت نہیں ہونی چاہیے وطنیت نہیں ہونی چاہیے جو ٹیم اچھا کھیلے ہم تو اسے سپورٹ کرتے ہیں.
ان سب سے ایک سوال پوچھنا تھا اگر آپ کے بہن بھائی آپکی گرومنگ میں اچھا پرفارم نہ کر رہے ہوں تو باہر ان کے کسی کے ساتھ جھگڑے میں تو آپ باہر والے کو ہی سپورٹ کریں گے نا؟
اچھا چلیں چھوڑیں یہ میرے سے پاکستانی تو ہوتے ہی جذباتی بڑی جذباتی قوم ہیں جی ہم.لیکن دوسری دنیا آپ لوگوں کے ممدوح گورے تو مہذب ہیں نا جی؟ وہ جو ایشنز سیریز میں مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں؟.
رگبی بیس بال کے میچوں میں امریکن سٹیٹس میں باقاعدہ ٹھنی رہتی ہے.
ترکی اور یونان کا فٹ بال میچ ہو تو بارڈر بند کرنا پڑ جاتا ہے.
یونان اور آسٹریا میں کئی سال میچ کے بعد کرفیو لگانا پڑتا رہا.
یہ عصبیت میری یا میرے جیسے بے وقوف پاکستانیوں کی بنائی ہوئی یا گھڑی ہوئی نہیں یہ انسان کی جبلت میں ہے.جب کبھی میری قوم کو جذباتیت کے طعنے سے فرصت مل جائے تب ابن خلدون کی عصبیت پڑھ لینا زرا سوشیالوجی پر دماغ کھلے تمہارا. تمہیں پتا ہے میکس کیا کہتا ہے اسے؟؟ دی بیسٹ بائنڈنٍگ فورس.
پر چونکہ تم سب میکس وائبر سے بڑے دانشور ہو سو یہ سستی جذباتیت ہی ہے.
لیکن سنو یہ اگر سستی جذباتیت بھی ہے نا تو بے شرمی سے کہیں زیادہ بہتر ہے.
وہی بے شرمی وہ جو ملک قوم آپ کے آرٹسٹ کھلاڑی کو نہ چھوڑے آپ اسی کو اپنی قوم پر ترجیح دیں تو تف ایسی دانش پر اور افسوس ایسے علم پر.
خیر اب چونکہ ہم جیت چکے ہیں لہذا تمہاری دانش کی ہمیں فلحال کوئی ضرورت نہیں.
اگلے میچ میں دیکھیں گے ہار گئے تو بھی روئیں گے نہی تم لوگوں کی ممدوح ٹیم کی مانند.
جیت گئے تو اسی ذوق و شوق سے تمہارے سینے پہ مونگ دلیں گے.
والسلام تم سب کی بہت پیاری
سحرش عثمان.

دیوانوں سی نہ بات کرے



تمہیں پتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں کسی دن رب سے کہوں کہ مجھے اک اور آسمان دو تاکہ میں لمبی اڑان بھر سکوں

مجھے اڑنے کے لیے ایک اور فضاءچاہیے.جس میں میں ڈار سے بچھڑی کونج کی طرح زندگی وموت سے بے نیاز نفع و نقصان سے اوپر کہیں بہت دور ،بہت دور ایک نئے جہان کی دریافت کی بے انت مسافتوں میں کھو جاوں

پتا ہے ڈار سے بچھڑی کونج آسمانوں کی طرف کیوں لپکتی ہے؟ کیونکہ اسے کھونے کا خوف لاحق نہیں ہوتا۔ وہ تو پہلے سے ہی اپنا سب کچھ کھو چکی ہوتی ہے۔ اپنا قبیلہ، اپنی شناحت، اپنے لوگ، پھر وہ ان جہانوں کی مسافر بن جاتی ہے جہاں فاصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور جہاں سفر ھی منزل ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی کسی جہاں کی تلاش ہے مجھے بھی۔ جہاں مسافت ایسی لمبی ہو کہ سانس تھمنے لگیں اور شوق سفر نہ جائے۔ جہاں راستے کے پتھر بھی نشان منزل لگیں، جہاں آبلہ پائی اور تیز اور تیز چلنے کا حوصلہ دے۔جہاں منزل کی ہوس نہ ہو، جہاں کھونا ھی پانا ہو-دل چاہتا ہے اس سے کہوں یارب، اب مجھے بدلے ہوے معیارات والی دنیا دے،وہ جس میں کوئی شب نہ ہو،کوئی شب غم۔وہ جس میں کسی کی آنکھ اگر پرنم ہو۔تو  اس کی وجہ اس جیسا  جیتا جاگتا انسان نہ ہو۔
اپنے بندے میں اڑنے کی خواہش بھی تو اسی نے ہی رکھی ہے ۔ پھر اسی کے دوسرے بندے اس پر خفا کیوں ہوتے ہیں؟
ان کو خفا ہونے کا حق ہی کیوں دیا تھا؟ کیا انساں چاند سیاروں ، ستاروں کی طرح اپنے اپنے مدار میں خاموش سفر کرنے والا نہیں ہو سکتا تھا؟ جو کسی کے دائرے میں یہ سوچ کر نہیں گھستا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا تو نقصان اٹھاؤں گا۔
اب کہو گے یہ بات انسان کے ذاتی فیصلوں پر چھوڑ دی گئی۔یہ فیصلے کا اختیار دے کر جو بے اختیاری زمیں پر اتاری گئی ہے ، یہ بھی سخت بے اطمینانی کا باعث ہے۔
مستقل بے چینی ہے فیصلے کے غلط ہونے کا خوف، اپنے فیصلوں سے کسی کی دل آزاری کا ڈر۔سنو وہ چاہتا تو خوف کے بغیر والی دنیا بھی تو بنا سکت تھا نا۔
پتا ہے اس کی دنیا میں سارے جاندار مجھے انسان لگتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے ہر جاندار کے محسوسات ہوتے ہیں۔ جیسے___ جیسے واک کرتے ہوئے مجھے چاندنی دھیمے سروں میں مسکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اور چاند چاندنی سے رومینس کرتا ہوا۔
تم اس لفظ پر مسکرا رہے ہو نا رومینس پر___سنو یہ لفظوں کی تشریحات بھی تو ہماری ذاتی ہی ہیں نا معاشرتی سی۔
خیر مجھے چاند چاندنی کو محبت پاش نظروں سے تکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
محبت کوڈ ہے نا اس کائنات کا؟ جب کبھی بارش ہونے سے پہلے بادل آسماں کو ڈھک لیتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کائنات محبت کے گہرے سرمئی رنگ جیسی ہے۔گہری خاموش اسرار چھپائے ، خود پر نازاں۔
محبت کے بھی کتنے سارے رنگ اور کتنے روپ ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق  محبت کرتا ہے۔ محبت کو سمجھتا برتتا ہے۔کوئی چہرے پر مر مٹتا ہے اور کسی کو چہرے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔
مجھے لگتا ہے محبت بھی ہرشخص پر، ہر شئے پر، اس کے مزاج کے رنگ میں اترتی ہے۔الگ الگ انداز میں۔ کسی پر منصور کی مانند بے باک۔کسی پر سوہنی کی کی طرح نتائج سے بے پرواہ۔کبھی فرہاد کی مانند محنتی تو کبھی بلھے کی طرح عاجز۔
کسی پر محبت بہاروں کا گلابی پن  کر اترتی ہے آنکھ کے ڈوروں سے عارض کی آنچ تک، ہر شئے گلابی لو دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اور کسی کے لیے خزاؤں کا سنہری رنگ بن جاتی ہے، زرد پتوں سے بھی زندگی ٹپکنے لگتی ہے۔
کبھی محبت تپتی دوپہروں کے جوبن جیسی اتر آتی ہے کسی کے من کو جلا کر خاک کر دینے والی۔نہیں بلکہ کندن بنانے والی۔ محبت کبھی خاک نہیں کرتی ۔ نہ رشتوں کو، نہ جذبوں کو، نہ عزت کو، نہ تعلق کو ۔یہ تو نمو دیتی ہے جلا بخشتی ہے۔
جیسے محبت میں رب نے یہ کائنات بنا دی۔
کبھی محبت شاموں کے گلابی پن کی طرح اترتی محسوس کی ہے؟ مدہم مدہم، ہولے ہولے، رفتہ رفتہ کسی کے دل میں گھر کرتی ہوئی جیسے سہ پہر ڈھل کر گہری شام کے درمیان کا وقت ہو۔آسماں کی آنکھ سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا دن کے کٹورے کا آخری منظر۔
محبت بھی مجھے محسوسات کی حامل لگتی ہے جو اترنے سے پہلے بندے کی پہچان کر لیتی ہے۔
تم نے سوہنی کا قصہ پڑھا ہے نا؟ 
کچا گھڑا شوریدہ سر چناب اور ملنے کا وعدہ ۔یہ محبت خالص سوہنی کے لیے اتری تھی اس کے مزاج سے میل کھاتی ہوئی۔اب اس کا مزاج لفظوں میں کیسے لکھ دوں؟؟ یہ تو چناب کے بیلوں میں بسنے والوں کو سمجھ آتا ہے۔اسی کارن تو ہر علاقے ہر خطے کی اپنی لوک کہانی ہوتی ہے۔ محبتوں کی اپنی اپنی داستانیں ہوتی ہیں۔
صحراؤں کے باسی عمروماروی سے واقف ہیں۔یہ کمبخت محبت ماروی پر طنطنہ بن کر اتری تھی۔ورنہ کون تھا جو خیام کو انکار کی جرات کرتا۔
سنو! مجھے لگتا ہے خیام کی رباعیوں میں محبت نے صحرا بھرا ہے۔
تم نے پڑھی ہیں نا خیام کی رباعیاں؟ محبت اور اداسی کی صحیح مقدار لفظوں میں گھول دی جائے ، تو خیام کی رباعی بنتی ہے دھیرے دھیرے من میں اترتی ہوئی۔جیسے سردیوں کی بارش ہوتی ہے۔ مسلسل گرتی رہتی ہے پر پانی جمع نہیں ہوتا۔ خنکی کے احساس میں گھلتا اداسی کا کوئی ساز سا ہوتا ہے جو بجتا رہتا ہے۔
مجھے تو بارش بھی احساسات کا مجموعہ لگتی ہے۔ پہاڑ اور ان پر جمی برف، نیچے بہتی جھیل۔ اس کی تشبیہ کسی کی آنکھیں ۔ یہ سب مجھے قصے کہانیاں سناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
پر تم نہیں سمجھو گے شائد__ یہ دیوانگی کا عالم کوئی دیوانہ ہی سمجھ سکتا ہے۔
تمہیں پتا ہے میں سائیکا ٹرسٹ کو کیوں نہیں ملتی؟؟
کیونکہ میں سمجھتی ہوں دیوانوں سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا؟

Saturday, 3 June 2017

پنجاب یونیورسٹی گرلز ہاسٹل: حقیقت حال


حجاب اوڑھا کرتی تھی وہ ، مکمل پردے والا حجاب، ہاتھوں پر گلووز بھی پہنتی تھی۔دو ایک بار بات چیت کے بعد اس کے جہادی خیالات کے متعلق جانکاری حاصل ہوگئی۔
اب ہم نے اسے "ااوائڈ148 کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلتے اس پر نظر پڑی تو ہم جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں کی عملی تفسیر بنے گزرنے لگے تو اچانک ہمارے نام کی پکار سے فضا گونج اٹھی، ناگواری سے پیچھے مڑ کے دیکھا تو محترمہ ہمیں ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھیں، چارو ناچار ہاتھ ہلانا پڑا حال احوال اور ہم سٹک لیے۔
اگلے دن کیفے ٹیریا میں کوئی اچانک آن ٹکرایا_____ پھر وہی محترمہ سوالیہ نشان بنے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگیں حجاب میں پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے نا۔
یہ میں ہوں__کہا جی؟ کہنے لگیں کیا ہوا ناگواری کو قطعی چھپائے بغیر کہا کچھ نہیں بس موڈ نہی بات چیت کا۔اور دل میں سوچا اب تو ضرور پیچھے ہٹ جائے گی۔
لیکن حیرت کا جھٹکا اسوقت لگا جب کہنے لگیں کوئی بات نہیں میرے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے کبھی کبھی کسی سے بات کرنے کا جی نہیں چاہتا۔
یہ تھا ہاسٹل سے میرا پہلا تعارف۔

وہ پیاری حجابی دوست اب آپ لوگوں کو جھٹکا لگا ہوگا لفظ دوست سے۔وہ ہے ہی ایسی دوست کہے جانے کے قابل۔ 
نہ صرف وہ بلکہ ہاسٹلز کی ساری قرآن کلاس والی دوستیں وہ جب شروع شروع میں خود کو ایک دوسرے کا ایمان کا ساتھی کہا کرتی تھیں تو مجھ جیسے بہت سے زیر لب طنزا مسکرایا کرتے تھے۔
لیکن ہاسٹل کے چار اور کئیوں کے چھ سالوں نے انہیں درست ثابت کیا۔
بہت سی لڑکیاں جنہیں میں ننجا ٹرٹل تو کبھی جہادی آنٹی تو کبھی دہشت گرد کہہ کر پکارا کرتی تھی ان میں سے کسی نے کبھی پلٹ کر مجھے نہیں کہا بی بی یہ جو تم کلاس میں تنک کر لوگوں کو مائے ڈریس مائے پرسنل میٹر کے جواب دے کر لاجواب کرتی ہو تو کیا یہ کلیہ ہمارے لیے بھی قابل عمل ہے؟ بھلا کیوں؟ کیوں کہ وہ لڑکیاں پیس فل کو ایگزسٹینس کی قائل تھیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا ہاسٹلز میں رہ رہی ہیں تو کہیں نا کہیں کسی فضول بات کا حوالہ بننا پڑے گا سو احتیاط لازم__ کلاس میِں حجاب اوڑھنے والی زیادہ تر لڑکیاں ہاسٹلرز تھی __ چھ بجے کے بعد پی یو کہ ہاسٹل کے گیٹ انڈیا پاکستان بارڈر کی طرح بند ہوجاتے ہیں۔
جس پر ہاسٹل کی لڑکیوں اور وارڈن کے درمیاں آئے روز معرکے ہوا کرتے تھے__ ہاسٹل کی لڑکیاں ڈنر کرنے پانچ بجے جایا کرتی تھیں___
اور ویلنٹائنز ڈے اور نیو ائیر نائٹ کا نام سن سن کے اور شریکوں کے لال منہ دیکھ کرخود کو چپیڑیں مارنے والوں کی اطلاع کے لیے بتاتی چلو پی یو میں دونوں مواقع پر باقاعدہ چھٹی ہوا کرتی ہےاور چھٹی پر یاسٹلز میں صرف الو بولتے ہیں یا وہ لڑکیاں جن کا اگلے دن پیپر یوتا ہے۔
خیر یہ سب بتانے سے صفائی دینا یا ایکسپلین کرنا مقصد نہیں تھا بتایا اس لیے کہ مجھے اپنے حصے کا سچ بولنا تھا۔
پر آج یہ لائنز لکھتے ہوئے اپنے حصے کا سچ بولتے یوئے نہایت افسوس اور دکھ ہو رہا ہے۔ وہ ساری لڑکیاں جو ہاسٹلز میں چھ چھ سال گزار کر اس دور ابتلا میں بھی عزت مخفوظ رکھ حیا کا پاس رکھ کر گھروں کو واپس جا چکیں یا جانے والی ہیں وہ سب کسی ڈیسپو کے ناکام اور فرسٹریٹڈ جذبات کی وجہ سے سوالیہ نشان کا شکار ہیں۔
ہاسٹلز میں ہر قسم کی لڑکیاں ہوا کرتی ہیں ہر لڑکی ایک الگ فیملی کی ریپرزینٹیشن۔
الگ ماحول سے آئی ہوئی الگ لڑکی الگ فرد دراصل الگ الگ ماحول اور فیملی گرومنگ کا الگ الگ نمائندہ۔
جن میں زیادہ تر ٹیپیکل پڑھاکو ٹائپ لڑکیاں ہوتی ہیں۔اپنی اپنی کلاس کی ٹاپر نیچرل سائنسز پڑھنے والی اماں ابا کی لاڈلی سیدھا سا کلیہ ہے جس معاشرے میں صرف دو فیصد لڑکیاں یونیورسٹی جا پاتی ہوں اور ان دو فیصد میں بھی پوائنٹ ایٹ پوائنٹ نائن پرسنٹ ہاسٹلرز ہوں بھیا ایسی لڑکیاں پڑھ کے میرٹ پہ آ کہ ہاسٹلز آتی ہیں ابا فیس دیتے ہیں اماں کھانے فریز کر کر کہ لاڈ اٹھاتی ہیں۔بھیا ایسی لڑکیاں میریٹ پی سی میں "ملاقاتیں148 افورڈ نہیں کرسکتیں۔
یہ جملے لکھتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے خود کے لڑکی ہونے پر نہیں آپ کی سو کالڈ علمیت کی مردانہ تشرییحات پر۔
کسی نے ٹیکسی ڈرائیور سے قصہ سنا اگلے دن صبح اٹھا اور فون اٹھایا ٹائپ کیا اور چھپوا دیا ان کی بلا سے ایک ہزار لڑکی ان کے الزام کی زد میں آاءی ہے دو ہزار یا پانچ ہزار انہوں نے تو "سچ148 کا بول بالا کردیا اللہ اللہ خیر صلا۔
کسی نے ثبوت مانگا؟ گواہی چاہی؟ کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا جب ٹیکسی ڈرائیور کا نام بھی نہیں معلوم تو کس برتے پر کہانیاں لکھ رہے ہیں آپ جناب۔
میں نہ تو ماہر قانون ہوں نہ اسلامی فقہ کا علم ہے لیکن کم علمی کے باوجود یہ معلوم ہے مجھے ایسے الزامات پر حد لگتی ہے۔تو کیا اس اسلامی جمہوری ملک میں کسی میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اتنی زیادہ پاک دامن لڑکیوں پر فضول گھٹیا الزام لگانے پر معافی مانگے؟ یا پھر اپنے الزامات ثابت کرنے کے لیے ثبوت مہیا کرے؟ یا پھر آپ سب عبداللہ بن ابی کے قبیلے سے ہیں؟ کیا آپ سب منافق ہیں؟
یہ لکھنا اس لیے ضروری سمجھا کیوں کہ اب کسی پیمبر پر سورہ نور نہیں اترے گی۔اب ہمارے بیچ کسی امام زماں کو نہیں آنا۔
اب میری جنس کی پاک دامنی اپنے اختیار کی حد تک مجھے ثابت کرنا ہے۔
اور اپنے الزامات کو بہرحال آپ ہی نے ثابت کرنا ہے وگرنہ حشر تو برپا ہونا ہی ہے ناں؟ 
آپ کی خوش قسمتی آپ ہم آپ پاکستان جیسے ملک میں رہتے ہیں کوئی مہذب ملک ہوتا جہاں انصاف کی قیمت نہ ہوتی تو اب تک کوئی آپکو سو کر چکا ہوتا۔

Sunday, 28 May 2017

سائیکاٹرسٹ کو ملنے کا وقت ہوا چاہتا ہے


خدا جانے یہ تخیل ہے یا پاگل پن یا پھر دماغ میں چل رہے کسی کیمیکل لوچے کا کیا دھرا۔ یا پھر اس ہمہ وقت آوارگی پر آمادہ دل کا دوش ہے یہ سب۔

یہ فیصلہ کرنے میں شدید مشکل کا سامنا ہے آج کل

کبھی کبھی یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ میں دماغ کی بجائے دل سے سوچتی ہوں__ہاں، دل سے بھی تو سوچا جا سکتا ہے ۔ بلکہ ہم سب ہی کہیں نہ کہیں تھوڑا تھوڑا دل سے سوچتے ہی ہیں۔ جب ہم دوست بناتے ہیں۔آپ خود ہی بتائیے دماغ سے سوچا کریں تو بھلا ایسے دوست ہوں ہمارے؟؟

میرے بھی دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کسی روز شام کے وقت آنکھیں بند کروں اور کھولوں تو کسی ستارے پر پاؤں لٹکا کر بیٹھی دور بسی دنیا کو دیکھتی رہوں۔ گریوٹی کی حد سے باہر نکل کر کسی آوارہ چاند سے اٹھکیلیاں کروں۔ ایک ستارے سے دوسرے ستارے کا درمیانی فاصلہ طے کرنے کے لیے رین بو سا ایک لوپ ہو۔جس میں شب ڈھلے سلور گرے کے سارے شیڈز ہوں،،جس پر میں پاؤں رکھوں تو چاندنی سے پیر اٹ جائیں۔ اور جب کبھی ستارے کے درمیاں ہی ٹھہر کر خاموشی سے گیلکسیز کا ساز سننے کو جی چاہے تو رین بو کے اسی لوپ کو الٹا  کرلوں اور اس کی پینگ پر جھولا جھولوں۔ جب مستی میں سر پیچھے کو جھکا کر جھولا تیز جھلاؤں تو بے خیالی میں پاؤں سامنے سے آتے کسی سیارے سے ٹکرا جائیں۔ وہ مجھے گھور کر دیکھے تو میں گھبرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے سوری کہوں۔ وہ سر جھٹک کر اپنی راہ لے تو کھلکھلا کر ہنس پڑوں۔

کسی ستارے سے دوستی کروں۔۔۔۔ گہری دوستی۔ پھر اس سے پوچھوں دن میں کہاں جا چھپتے ہو؟ اور کیوں؟ کیا سورج کی تپش تمہارا کمپلیکشن خراب کرتی ہے؟ کیا دن میں تمہی‍ں آرام کرنا ہوتا ہے؟ تمام شب چمکتے رہنا۔ہر روز چمکنا بھی ڈیوٹی کی طرح لگتا ہوگا نا تمہیں۔

کسی کہکشاں پر چلوں۔ اس کے رستے میں آنے والی سفید لکیر کا راز تلاش کروں۔

جب تم سے روٹھ جاؤں تو غصے میں کہکشاں کے پیچھے چھپ جاؤں۔ تم ڈھونڈنے آؤ تو ڈھیر ساری سٹار ڈسٹ تمہارے اوپر ڈال دوں۔ تھوڑی سی سٹار ڈسٹ تمہاری آنکھ میں بھی چلی جائے۔ تم آنکھ پر ہاتھ دھرے ریلیف کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑو تو میں ناراضگی بھول بھال کر چاندنی کی پٹی پر اڑتے بادلوں میں سے روئی چرا کر دو بوند بارش ٹپکا کر اسے صورتِ مرہم تمہاری آنکھ پر رکھ دوں۔ اور تم سارا دن، میرا مطلب ہے تمام رات یونہی پائیریٹ بنے گھومتے رہو۔ اور میں اپنے دوست ستاروں سے یوں تعارف کرواؤں

میٹ مائے پائیریٹ

سنو! تم پائیریٹ بن کے بہت کیوٹ لگو گے۔۔۔۔ جانی ڈیپ سے بھی زیادہ کیوٹ۔

ویسے اگر تم پائیریٹ ہوتے  تو ہم نے گہرے سمندروں کے ان دیکھے جزیروں کے باسی ہونا تھا۔

اور پتا ہے ان جزیروں پر تو ہماری تمہاری دنیا کے ضابطے بھی نہیں چلنے تھے۔ یہاں کے اصول بھی بادر نہ کر پاتے ہمیں۔

ہم وہاں اپنا قانون بناتے۔ امن و محبت والا۔ بس محبت و عزت ہی ضابطہ ہوتا ان جزیروں کا۔

اب تم ہنسو گے نا کہ پائیریٹس کا ضابطہ محبت کہاں  ہوتا ہے۔

ہاں تووو!! پائیریٹس محبت نہیں کرتے کیا؟

محبت تو اس کائنات کا کوڈ ہے۔ یہ دنیا کی ہر تہذیب کی لوک کہانی بھلا محبت کی کہانی ہی کیوں ہوتی ہے؟

کیونکہ صرف محبت کی کہانیوں کو دوام حاصل ہے۔

محبت کی ساری کہانیاں ایک جیسی ہوتی ہیں ۔۔۔ گہری۔۔۔ اپنے اندر سمو لینے والی۔۔۔ بظاہر خاموش،،مگر کئی داستانوں کے راز افشاء کرتی ہوئی۔

جیسے ۔۔ سالٹ رینج۔

تمہیں پتا ہے سالٹ رینج کی خصوصیت کیا ہے؟ یہاں سے ایشیا کا ہر فاتح گزرا ہے۔ لیکن تاریخ نے جو مقام جو عزت رانجھے کو دی ہے وہ ان جنگجوؤں کا مقدر کہاں۔

سکندر اعظم سے شیر شاہ سوری تک ہر کسی کے عہد کو مورخ نے سیل کے نرخوں کی طرح ڈیڑھ ڈیڑھ صفحے پر سمیٹ دیا ہے۔

لیکن رانجھے کو تو وارث شاہ کے لہجے نے ہی مکمل جلد میں سمویا ہے۔ وہ بھی آدھا ادھورا۔

سنو! تمہیں گڈریا ہونا چاہیے تھا۔

اور بلوچستان کے کسی پہاڑی گاؤں میں یا سپین کے کسی سبزہ زار میں یا پھر عرب کے صحراؤں میں۔۔۔ تم اچانک مجھ سے آن ٹکراتے اور میں آنکھوں میں سارے صحراؤں کی حیرت سموئے۔کبھی تمہاری سبز آنکھوں میں موجود الہڑ جذبوں کو دیکھتی اور کبھی تمہارے سانسوں کو بانسری میں جاتے سر بنتے ۔۔۔ تم پر دل ہار دیتی۔تمہاری بانسری کے سروں کے پیچھے میں گھر کا سکون چھوڑ کر تمہارے ساتھ صحراؤں کی خاک چھاننے نکل پڑتی۔ تم مجھے پاولو کے الکیمسٹ کے کرداروں سے ملواتے۔ کسی اداس دھن کے سُر اٹھاتے اور اسی دھن کی ایکو میں ساری کائنات تحلیل ہوجاتی۔

تم سیاح ہوتے۔۔۔۔ ہم کندھوں پر مرضی کا بوجھ اٹھائے نگری نگری گھوما کرتے۔ جنگلوں میں خیمے لگائے،چشموں کے ٹھنڈے پانیوں سے چھن کے آتی سورج کی کرنوں میں مندی آنکھوں سے شبنم کی زندگی کے آخری آخری لمحے دیکھتے۔

دن ڈھلے تم کسی سرد ٹیلے پر بیٹھے اکتارہ بجاتے۔ میں محبتوں کی کوئی ان سنی نظم تمہارے کانوں میں گنگناتی۔

پہاڑی دریاؤں کی گہرائیاں ماپتے۔

الاؤ سلگا کر آمنے سامنے بیٹھے کسی عہد رفتہ کی یاد میں گم خاموشی کی زباں میں گفتگو کرتے۔

تم بیگ سے کتاب نکال کر سیجز آف دی ایجز سناتے۔ مجھ سے فلاسفیز پر الجھتے۔ کبھی افلاطون کے یوٹوپیا پر۔کبھی ارسطو کا قانون تمہیں لا قانونیت لگتا۔کبھی جان لاک روسو کا سوشل کانٹریکٹ اور کبھی مارکس کی سرپلس ویلیو۔

اور میں تمہارے خفگی بھرے تاثرات پر مسکراتی۔ تمہیں بتاتی۔ دیکھو یہ دنیا اتنی بری نہیں ہے جتنا اسکو ہم پینٹ کر دیتے ہیں۔ تم یہ فلسفے بند کر کے کسی دن کیٹس کی اوڈز کی نظر سے دنیا کو دیکھو تو جانو۔ کبھی شیلے کی نظموں سے جھانک کر خوبصورتی کو محسوس کرو۔ یہ دنیا خوبصورت لگے گی۔ جیسے رین بو کے الٹے لوپ پر جھولا جھولتی حسینہ۔۔۔۔ جس کے پاؤں چاندنی سے اٹے پڑے ہیں۔




Friday, 19 May 2017

میں نے لکھا ہے بھولی نہیں میں.


ہر اچھا برا فیز ،زندگی کے سارے نشیب و فراز ،سارے اونچ نیچ رویوں کے درشت لہجوں کے صحرا ، بندے کو کچھ نہ کچھ سکھا کر ہی جاتے ہیں۔ کبھی کسی موڑ پر ایسے بھی لگتا ہے کہ یہ موڑ اندھا موڑ ہے آگے کھائی ہےاور سچی بات ہے اس لمحے  تو نظر بھی کچھ نہیں آتا۔بس  کھائی ہی سجھائی دیتی ہے۔ یوں  لگتا ہے کہ اب کے ہم زندگی سے بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ہی مل پائیں۔لیکن ایسا نہیں ہوتا دھند کو بہرحال چھٹنا ہی ہوتا ہے۔ چاہے وہ غلط توقعات کی دھند ہو یا کسی غلط بندے سے صحیح روییے کی امید کی دھند۔ تو معلوم پڑتا ہے وہ ہم جسے کھائی سمجھ کے زندگی کے خوف میں مبتلا تھے۔وہ تو کسی کی بے حسی جیسا چھوٹا گڑھا تھا۔ جسے آپ ظرف کے چھوٹے سے مظاہرے سے پار کرسکتے ہیں

اور پھر اصل جنگ شروع ہوتی ہے انا اور ظرف کی جنگ۔ ظرف کہتا کہ معاف کرو۔ انا بضد ہوتی ہے کہ نہیں اب کے نہیں۔ اس بار اگلے کے کو بتاؤ کہ وہ بھی غلط ہو سکتا ہے اور اسے بتاؤ کہ میری ذات کے پندار کو روندنے کی تم سمیت کسی کو اجازت نہیں۔
ناصح ہوتی تو نصیحت کرتی، انا کو نفس سے تعبیر کرتی، پھر اس کو روندنے کا کوئی حکم خدائی، حکم بنا کر سناتی۔محبت فاتح عالم سی کوئی رنگین تتلی ہاتھ پر دھرتی، کم ظرفی بے حسی کو بھول جانے کا مشورہ دیتی۔ لمبی تقریر کے بعد فضیلتوں کے انبار لگاتی۔ شائد وقت کے حسن و رابعہ بصری ہی کا درجہ دے دیتی
لیکن کیا کروں؟ نہ میں رابعہ بصری نہ مجھے ولایت کا دعوی ہے۔نیکی کی توفیق ملے تو کر گزرتی ہوں وگرنہ پرہیز گاری کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اور کسی غیر انسانی ظرف سے بھی کوئی لینا دینا نہیں مجھے
خود کو حساس  کہلوا لیتی ہوں۔ کبھی کبھار اس لیے نہیں کہ اپنے درد پر آنکھ بھیگ جاتی ہے بلکہ اس لیے کہ مجھے کوڑے سے کاغذ چنتا بچہ بھی انسان کا بچہ لگتا ہے اور گھر مدد کے لیے آنے والی خاتون مجھے اپنے جیسی لگتی ہے۔اس کی بیٹی کو بھی میں کسی خانے میں تقسیم نہیں کرتی اور میں کام آنے سے پہلے لوگوں کے عہدے نہیں دیکھتی نہ ہی عہدوں سے تعلق مجھے فخر میں مبتلا کرتے ہیں۔ سو یہ اگر حساسیت ہے تو میں بھی ہوں اگر نہیں تو لوگ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے میں بے وقوف اور نالائق ہوں
تو سین یہ ہے کہ یہ بے وقوف اور نالائق لڑکی تسلیم کرتی ہے کہ اسے اب لوگوں کو ان کی زبان میں جواب دینے میں اگر عار ہے تو اب وہ ظرف کے کسی مظاہرے کی قائل نہیں رہی
اگر کوئی بے حسی کا جواب بے حسی سے نہیں دے سکتا تو بھی اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ کم ظرفوں سے کنارا کر لے۔ یہ قطعی ضروری نہیں کہ جہاں تیز دھوپ پاؤں جلانے لگے وہاں پلکیں بچھائی جائیں
ایسا بھی کوئی صحیفہ زمین پر نہیں اترا کہ ذات کے غرور میں مبتلا شخص کے غرور کو آپ کی مسکراہٹ گنے کا رس سمجھ کر پلائے جائیں
بھئی ہوگی محبت فاتح عالم۔ لیکن ہر بے حس کو فتح ہم ہی کیوں کریں؟ اب کے وہ بھی تو آئے اپنے لفظوں پر غور کرے وہ جسے "مہرباں" ہونے کا دعوی ہے.جسے خود پر خدائی فوجداری کا گماں گزرتا ہے
جس کو اپنے دل پر ناز ہے ، اب کے اسے اپنی ہی دھڑکنیں آزمانے دیجیے۔جسے اپنے لہجے میں بات کرنا پسند ہے اسے اب اس کا لہجہ بھی سنائیے 
جس کو لگتا ہے کہ اُس کی جنبش لب، حرف آخر ہے۔ اسے اس کے لفظوں کی بازگزشت سننے دیجیے.اور جو سمجھتا ہے اس کے خم ابرو پر دنیا چلتی ہے اسے ذرا چلا لینے دیجیے دنیا.
لوگوں کو اپنے حرفوں کے ذائقے چکھنے دیجیے 
بدلہ نہیں لینا چاہتے ،مت لیجیے معاف کرنا چاہتے ہیں ضرور کیجیے
لیکن بھول کر بھی بھولیے مت۔تاکہ اگلی بار اسی سوراخ سے ڈسے نہ جائیں
اور مجھے اس "فیز" نے یہ ہی سکھایا ہے کہ بھولنا نہیں.
آپ نے پڑھا؟؟ میں نے لکھا ہے بھولی نہیں ہوں میں.

Sunday, 14 May 2017

Mother's Day


یہ دن اس ماں کے نام وہ جو کینسر پیشنٹ بچے کو خون دینے کے بعد یہ جوس پینے سے اس لیے انکاری تھی کہ وہ روزے سے تھی. بیٹے کی صحت یابی کے لیے رب کے سامنے اس کی محبوب عبادت کر رہی تھی.
یہ دن اس ماں کے نام وہ جو اولڈ ہاؤس میں بیٹھی نظریں چراتے ہوئے کہہ رہی تھی بیٹا بہت اچھا ہے میرا آجائے گا لینے.جب اینکر نے اس سے پوچھا اگر نہ آسکا تو کہنے لگیں اللہ اسے زمانے بھر کی خوشیاں دے____نہ آیا تو بھی میرا بیٹامیرا بیٹا ہی رہے گا.
یہ دن اس ماں کے نام وہ جو تپتی دوپہر میں پیدل چلتے ہوئے بچے کو پلو کے نیچے چھپا لیتی ہے.
آج اس دن پر اس ماں کو سلام وہ جو تکلیف کی شدت پر جب موت مانگنے لگتی ہے تو خود سے کہیں زیادہ اپنے وجود کے حصے اپنے چھوٹے سے جگر گوشے کے خیال سے تکلیف کو نجات پر ترجیح دیتی ہے.آج کا دن اس ماں کے نام وہ جو کاکروچ چھپکلی کو دیکھ کے چینخیں مارتی تھی وہ بچے کی جان خطرے میں دیکھ کر اپنا ہر خوف جھٹک کر فولاد کی عورت بن جاتی ہے.
یہ دن اس ماں کے نام وہ جس کو رنگوں سے عشق تھا جو ہر رنگ ناخنوں پر سجائے پھرتی ہے جب اسے معلوم پڑا کہ ایک خاص قسم کے کیمیکل سے اس کا بچہ الرجک ہے تو وہی عورت وہی ماں ہر رنگ اٹھا کر ٹوکری میں ڈال گئی کہ شوق نہیں رہا.
اس ماں کے نام وہ جو کہہ رہی تھی میں اپنے بیٹے کے خون کا حساب رب کی عدالت میں لوں گی..ایک آخری قطرے کا بدلہ بھی نہی چھوڑوں گی.پوچھا کیوں زمینی عدالتوں پر اعتبار نہیں؟ کہنے لگیں نہیں یہاں سزا کم ملے گی.قاتل ظالم نے میرا بچہ مارا ہے.بظاہر کسقدر سادہ جملہ ہے "میرا بچہ مارا ہے" 
لیکن یہ جملہ ہی محبت کی کل داستاں ہے وہ محبت جو دنیا میں کامل محبت ہے ماں کی اپنے بچے کے لیے.
رب نے بھی زمیں پر جب اپنی محبت کی مثال دینا تھی تو ماں کی محبت کی مثال پیش کی وہ جو اپنی ذات اپنا وجود اپنی ہستی اپنے بچوں پر وار کے خوش رہتی ہے.
انگلیوں پر لقمے ٹھنڈے کرتی ہے کہ بچے کی زباں نہ جل جائے. دودھ کے فیڈر کو گرم کرنے کے لیے اپنا ٹھنڈا کمرہ چھوڑتی ہے کہیں بچے کا گلا خراب نہ ہو.
گھر کے سارے ساکٹس پہ ٹیپیں چڑھاتی کچن کی سیٹنگز بدلتی کرسٹلز اٹھاتی کراکری ریپلیس کرتی وہ صرف یہ سوچتی ہے کہیں بچہ زخمی نہ ہوجائے خود کو نقصان نہ پہنچا لے.ایسی بے لوث محبت کے نام.
آج کا دن اس ماں کے نام جس نے جب آگ پورے کمرے میں پھیلتے دیکھی تو اپنا بچہ کھڑکی سے باہر لٹکا دیا آگ میں جلتے ہوئے اس نے صرف ایک بات سوچی کہ کسی صورت اس کے بچے کی جان بچ جائے.
یہ دن اس ماں کے نام جس نے پانی کا آخری گھونٹ اپنے بچے کے لیے بچا رکھا تھا اور خود پیاسی جان سے گئی تھی.اور رپورٹر کی زبانی تھر کی یہ رپورٹ سن کر میری ماں کی آنکھوں میں در آنے والی محبت کے نام یہ دن.
یہ دن امی کے نام جو ہاسپٹل میں سرجری کروا کر لیٹیں اس بات کے لیے فکر مند تھیں کہ ان کی بیٹی کو نیند نہیں آتی.
یہ دن محبت کے بے ریا سچے خالص پن کے نام.
یہ اس دعا کے نام جب رب نے کہا تھا موسی)(علیہ السلام) اب سنبھل کر___ اب بچانے کو ماں کی دعا نہیں آئے گی.
یہ دن اس محبت کے نام وہ جسمیں چڑیا باز سے الجھ جاتی ہے ہرن شیر سے اور فاختہ عقاب سے.
یہ دن اس ماں کے نام جو ڈائبٹک سپیشلسٹ سے پوچھ رہی تو کوئی شوگر فری چاکلیٹس بھی ہوتی ہوں گی__دیکھیں آٹھ ہی سال کا تو ہے چاکلیٹ کے لیے ضد تو کرے گا ن
ا.بلڈ بنک وزٹ کرتے ہوئے جب بلڈ ڈونیٹ کیا اور ایک تھیلیسیمیا پیشنٹ کی ماں نے گلے سے لگا کر دعاؤں کی بوچھاڑ کردی تو گھبرا کر پوچھا کیاـہوا___ کہنے لگیں میرا یونیورسل ڈونر گروپ کا حامل بچہ ہر مہینے یہاں خون لگوانے آتا ہے میں ہر مہینے سٹاف سے پوچھتی ہوں اور اس گروپ کے ڈونرز کو ملتی ہوں.
کہا آنٹی یہ احسان تو نہیں___کہنے لگیں 
میرا بچہ کو لگنے والے ایک ایک قطرے پر میں دعائیں کرتی ہوں. یہ دن اس بے ساختہ محبت کے نام وہ جسمیں ماں اجنبیوں سے محبت کرتی تھی کیونکہ وہ اس کی اولاد کے لیے اہم تھے.
یہ دن اس محبت کے نام جس پر ہمارے رسول( صلی علیہ وسلم) نے کہا تھا اب مت نکالو اس بلی کو یہ ماں بن گئی ہے
یہ دن میری آپکی ہم سب کی ماؤں کے نام.وہ جو سیلف لیس محبت ہے اسکے نام.
یہ الٹے سیدھے جملے لکھنے کا مقصد ماں کی محبت کو ثابت کرنا یا اس کو اکنالج کرنا ہرگز ہرگز نہیں یے یہ میرے لفظوں کی بساط سے باہر ہے.
یہ تو اس لیے لکھا کہ ان ساری مثالوں نے میرے اندر محبت پر ایمان کو مضبوط تر کیا ہے.جب جب یہ سب مجھے معلوم ہوتا گیا.محبت پر میرا فخر بڑھتا گیا.
محبت اس کائنات کا کوڈ ہے ناں رب نے محبت میں تخلیق کی یہ کائنات پھر اپنی محبت کے اظہار کے لیے ہر شخص کی ایک ماں بنائی.
پتا ہے مجھے لگتا ہے اگر رب مامتا تخلیق نہ کرتا ناں تو اس کی کائنات کے سارے رنگ بے رنگ ہونے تھے ساری خوشبوئیں روٹھی روٹھی اور سارے خواب بکھرے بکھرے..یہ مائیں ہی ہوتی ہیں جو بچے کا خواب اس سے پہلے اپنی آنکھوں میں سجا لیتی ہیں پھر اس کی تعبیر کے لیے ہر وقت دعا گو رہتی ہیں.مائیں جو امید کا سرا تھامے اپنی اولاد کو بستر مرگ سے بھی اٹھا لیتی ہیں.اور جواولاد کی محبت کے دامن میں عہد کم ضرف کی ہر بات گوارا کر لیتی ہیں.
اور مجھے یہ بھی لگتا ہے میری ماں رب کی محبت کی جو پرچھائی ہے تو دراصل رب نے یہ بتانا چاہا ہے مجھے کہ وہ بھی معاف کرے گا مجھے رحم ہی کرے گا مجھ پر اور یہ کہ وہ بھی مجھے مشکل میں پریشانی میں دکھ میں نہیں دیکھ سکتا. 
مختصر یہ کہ ماںیں مجھے محبت کرناـاس پر ایمان لانا اور اس پر قائم رہنا سیکھاتی ہیں.
#سحرش_عثمان

Saturday, 6 May 2017

Power Of Dua



تمہیں پتا ہے سب سے خطرناک دعا کیا ہوتی ہے؟ سب سے خوفناک جملہ جو حرفوں کے سنگم سے وجود میں آتا ہے وہ کیا ہے؟

جب تمہاری کسی زیادتی پر تمہارے کسی فعل سے آرزدہ ہوکر کوئی کہہ دے۔میرا اور تمہارا معاملہ رب کے سپرد۔
جب تمہارے ہی جیسا کوئی شخص بدلہ لینے کی بجائے. معاملے کی ڈور رب کے ہاتھ میں دے دے ۔تو سوچو کیا ہوتا ہے؟
 زمینی مثال دوں؟
جیسے الائنس ہوتے ہیں ۔ چھوٹے کمزور ملک بڑی طاقتوں سے الائنس کر لیتے ہیں کہ اردگرد والوں کو جرات نہ ہو فساد کی
ایسے ہی بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ مضبوط صورتحال وجود میں آتی ہے۔جب بندہ اپنے رب کے ساتھ الائنس بنا لیتا ہے۔رب کے ساتھ تو الائنس بھی غیر مشروط ہوتا ہے۔بس عدل چاہنے والا یا آسانی مانگنے والا یا پھر اپنے معاملہ میں اس کو سرپرست  بنانے والا۔
اور پتا ہے کسقدر منصف ہے وہ؟ اس کے عدل کا معیار کیا ہے؟ کھجور کی گھٹلی پر لگے دھاگے کے برابر نا انصافی نہیں کرتا وہ.
تو کیا تمہیں اس جملے سے خوف محسوس نہیں ہوا اب بھی؟
کہ میرے معاملے میں میرا فریق رب ہے
اب تم یہ کہو گے،  بدلہ نہ لے سکنے والے کہا کرتے ہیں ایسے جملے۔ہاں تم سہی کہتے ہو جو بدلہ لینے کی سکت رکھتا ہو وہ تو تمہارا ظلم پر مبنی قانون اٹھا کر تمہارے منہ پر دے مارتا ہے ۔
لیکن جو بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا وہ وہ کیا کرتا ہے اس سے پہلے یہ سوچو
تمہارے لیے اس سے گھٹیا بات کیا ہوگی کہ تم نے ایک ایسے شخص سے زیادتی کی ہے جو تم سے بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا۔کیا یہ طاقت کے اختیار کے اظہار کا کم تر درجہ نہیں؟ اور کم ترین یہ کہ وہ اختیار جس کے بل پر تم زیادتی کی ہے وہ اختیار تمہاری آزمائش ہے اور تم اس کے دائرے کے فرعون بن گئے ہو.
سوچو تو! اس معاملہ کا انجام کیا ہوگا وہ جس میں تمہاری زیادتی، تمہارے ظلم، تمہاری بدزبانی کا شکار شخص دل ہی دل میں رب کو فریق بنا بیٹھا ہے