Pages

Friday, 2 November 2018

بے بسی




دل زار رک جا۔
رک کہیں سے درد ڈھونڈ کر لاتی ہوں
تیری تشفی کو کسی دکھ پر روتی ہوں۔
کوئی بھوکا بچہ
بے بس ماں
کوئی تنہا بیٹی
اکیلا باپ
یا پھر کہیں لوگوں کے ہجوم میں
تنہا کھڑا انسان
میں کوئی کہانی بنتی ہوں
پھر اس پر روتے ہیں
دل زار تیری تشفی کو
یہ بھی کر گزرتے ہیں۔
کیوں نہ کوئی بولتی تصویر لگائی جائے۔
ہجرت کا دکھ لیے بچہ کوئی۔
موت کے خوف میں لپٹی کوئی تتلی
جگنو جو رستہ بھول گیا ہو۔
آزادی و عشق کے لیے لڑتی ہوئی 
لڑکی کوئی نہتی۔
کسی جنگجو قبیلے میں
نظمیں لکھتا غزلیں کہتا 
شاعر کوئی
مدھرتا میں ڈوبا کوئی 
محبت بھرا دل۔
کہیں کھو جائیں 
چھینے جائیں۔
اور کہیں ستائے جائیں۔
ہم لفظوں کے سوداگر
بولتی چلاتی تصویریں لگا کر
"کسی دکھ پر اکھٹے روئیں"
جیسے ماتم کرنے والیاں
گریباں کھولے
بال پھیلائے ماتم کیا کرتی ہیں۔
جیسے جنگلوں پر گدھ منڈلاتے ہیں۔
دل زار یہ سب کرتے ہیں۔
اوروں کے غموں پر
دلفگار ماتم کناں ہوتے ہیں۔
دل زار تیری بے کلی کا 
کوئی درماں کرتے ہیں۔
علاج فسردگی درد کا درماں۔
کچھ تو ایسا کرتے ہیں
جو یہ بے دلی نکلے۔
دل زار تیری بے کلی نکلے۔
کرب و بلا، یہ بے بسی نکلے۔



سحرش عثمان۔

نشان



سنا ہوگا یہ اکثر
کوئلے کی کانوں میں
ہیرے بنتے رہتے ہیں.
صدیوں سے دفن مادے کی.
کوئی کیمیائی تبدیلی
قسمت بدل دیتی ہے.
پڑے پڑے "کوئلہ"
"قیمتی" کہلاتا ہے.
زندگی کا ہر قصہ.
جگ سے نرالا ہے.
جیسے غم نے اسے
آغوش میں ہی پالا ہے.
زندگی کی کانوں میں 
ہیرے سے موتی لوگ
کوئلہ ہی بنتے ہیں.
صورتیں ان ہیروں کی
روز روز ڈھلتی ہیں
نئے نئے نقش اور
نئی نئی لکیریں بھی.
چہرے بناتی ہیں.
لکیریں آہستہ آہستہ
نقش کھا جاتی ہیں.
جب قسمت کی لکیریں
ہتھیلی سے گرتی ہے.
تو چہرے پہ انمٹ لکیروں
انگنت نشانوں کا جال بنا جاتی ہے.

#سحرش

Wednesday, 3 October 2018

سوشل میڈیا سے نسوانی بیان حصہ تین


مدسی لاکھ برا چاہے ہوتا کیا ہے۔ کے مصداق آنٹیاں چاہے ہزار تعویذ گنڈے کرا لیں یہ بلا قابو آنے کی نہیں۔ بلا کو ہرگز حقیقی نہ سمجھا جائے ہم نے تعویذ گنڈے کے ساتھ ذرا ردیف قافیہ ملاکر ہلکی سی شاعری کی ہے۔ کہ آج ہمارے مہمان ہی ایسے ہیں۔ رکیے رکیے تعارف سے پہلے یوسفی صاحب کا چٹکلہ سنتے جائیے۔ فرما تے ہیں وہ خاتون جو شادی کے کئی سال بعد بھی ہر تقریب میں شوہر کو ساتھ لئے نظر آئے اس کی مثال اس بلی سی ہے جو چوہے کی جان لے کر بھی اٹھکیلیاں کرتی رہتی ہے۔


خیر یہ تو یونہی سنا دیا۔ ہم تو یہ کہنے والے تھے کہ فرح رضوی صاحبہ انکل کو جو شاعرانہ تقریبات میں ساتھ لے جاتی ہیں تو بڑا اچھا کرتی ہیں۔ بڑا ہی اچھا لگتا ہے دونوں کی تصاویر دیکھ کر۔



دیکھیے فرح آپ کو پتا ہے ہم یعنی آنسہ کس قدر شائستہ اطوار خاتون ہمارا مطلب لڑکی ہیں تو ایسا کوئی جوک آپ کے لیے کیسے کرسکتے ہیں ہم۔ تطبیق کرنے والے فسادیوں کی باتوں میں ہرگز مت آئیے گا۔ تو یوں ہے کہ جب ہمیں معلوم پڑا کہ فرح شاعرہ ہیں تو ہم باقاعدہ بری نیت سے ان کی وال پہ جانے لگے اور ان کے کلام کے کمنٹ باکس میں اپنا نمونہ کلام اور نمونے کا کلام پیش کرنے لگے۔ ہمیں اندازہ تھا شاعر لوگ ہلکے سے نازک مزاج ہوتے ہیں لہذا خاتون جلد ہی ہمیں بلاک کردیں گی۔ جیسے کہ پہلے بتایا جاچکا ہے بلاک کرنا اور ہونا ہمارا اولین مقصد ہے یہاں ہونے کا۔ تو بلاک ہونے کی نیت باندھ کر ہم لگے شاعری کرنے۔ پر جب مسلسل کوششوں کے بعد بھی بلاک کر کے نہیں دیا خاتون نے تو ہم ہلکے سے شرمندہ ہوئے اور خود کلامی کی کہ آنسہ وہ پہلے سی بات نہیں رہی شمشیر زنگ آلود ہوگئی ہے۔



ہم نے کچھ دن۔ بریک لینے اور دینے کا فیصلہ کیا اور شاعرہ کی وال پہ جانا کم کردیا تو خاتون ہماری وال پہ پوچھنے لگیں کیا ہوا طبیعت اچھی نہیں کیا۔



کچھ لمحے کے لیے سٹنڈ stunned چھوڑ کر خاتون اگلا کمنٹ کرنے لگیں۔ اور ہم سوچتے رہ گئے کہ کیا ایسے کسی شخص کی کمی بھی محسوس کی جاسکتی ہے بھلا جو روز اریٹیٹ ہی کرتا ہو۔ یہ تھا فرح سے باقاعدہ پہلا تعارف دوستانہ تعارف۔



یوں تو یہ شاعری کرتی ہیں لیکن ویسی شاعرہ ہرگز نہیں جیسی آجکل مارکیٹ میں آتی ہیں۔ یعنی زود رنج نہیں ہیں، مسلسل نحوست پھیلانے پر یقین نہیں رکھتیں۔ محبت کی شاعری تو کرتی ہیں لیکن 147دو لینوں148 والے شعر بہت کم کہتی ہیں۔ جے ڈاٹ کے کپڑے پہنتی ہیں اور پوچھنے پر فریش ارییول مینشن کرنا نہیں بھولتیں۔ سیل والی آنٹی مت سمجھا جائے انہیں اور نہ ہی پھوکٹ شاعرہ سمجھا جائے۔ شاعرہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ پٹوار خانے کو ڈانٹ بھی شاعری میں پلاتی ہیں۔ حالانکہ جانتی ہیں کہ مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک اُکا بے اثر۔ لیکن سمجھتی نہیں ہیں۔



آزاد نظم ابھی کچی ہے ان کی اندر اندر سے آنسہ کو بہت آئڈیلائز کرتی ہیں۔ کہنے سے جھجکتی ہیں۔ کم و بیش ساری خواتین کی دوست ہیں۔ اسی بات سے اندازہ کرلیں خاتون کس قدر چالاک ہیں۔



خواتین کے گروپ میں جب جب یہ آن لائن آتی ہیں خواتین چپکے چپکے کھسکنا شروع ہوجاتی ہیں اس کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہوسکا۔ قرین از قیاس شاعری ہی وجہ ہے۔ اکثر اپنی شاعری شئیر کر کے اپنی ہی چار پانچ آئڈیز سے چپکے سے اس کی تعریف فرما دیتی ہیں۔ اور دو گھنٹے بعد اصلی آئڈی سے آن لائن آکر نہ صرف اپنا شکریہ ادا کرتی ہیں بلکہ عاجزانہ اظہار خیال بھی کہ ایسی خاص پسند نہیں ہمیں یہ نظم، آپ کہیں تو دو چار اچھی غزلیں شیئر کروں؟ اور اس جال میں پھنسا کوئی معصوم ضرور ضرور کہہ دیتا ہے اور شاعرہ صاحبہ سارا دن وال پہ اس معصوم کو شاعری سناتی رہتی ہیں۔ خیر یہ کوئی ایسی بری بات بھی نہیں۔ اتنی محنت کے بعد اتنا سا تو بنتا ہے ان کا۔ محنت تخلیق والی۔ ۔ آئڈیز والی نہیں۔ ۔ کس قدر فسادی ہیں آپ سب۔ ہنہہہ



تو خاتون اتنی اچھی انسان ہیں کہ نہ۔ بلاک کرتی ہیں نہ ہوتی ہیں۔ بلکہ ہم سے شمیشر زن کو بھی درازی عمر کی دعا دیتی ہیں۔ اور اتنی سادہ ہیں کہ کسی بھی۔ چلتے پھڈے میں جا کر کہہ آتی ہیں ہمیں کیوں نہیں ڈالا۔



یقینا خاتون اب آپ کی شکایت دور ہو گئی ہوگی۔ ان کو ایڈ اپنے رسک پر کریں کیونکہ اتنی سوییٹ ہیں کہ بعد میں کبھی جو آپ کا اپنی آئیڈی بند کرنے کا بھی جی چاہا تو نہ کر پائیں گے۔ اسقدر محبت اپنائیت اور نرمی سے روکیں گی کہ انکار نہ کر پائیں گے۔ ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسانے کا مفہوم سمجھ آئے گا۔ کبھی جو بیمار پڑ گئے آپ تو اسقدر خلوص سے دعا دیں گی کہ جی چاہے گا آپ یوں ہی بیمار پڑے رہیں اور خاتون دعائیں دیتی رہیں۔ اتنا میٹھا ہینڈل کرسکتے ہیں تو بھاگ کر جائیے اور ایڈ کر لیجئے۔



اگلی لڑکی خاتون کون ہیں یہ جاننے سے پہلے یہ جانیے کہ ایسی بہت سی خواتین ہیں جو سائلنٹ ہیروز ہیں۔ خاموشی سے اپنے حصے کا کام کرتی ہوئیں اپنے بچوں کی تصاویر لگاتی ہوئیں اپنی کوکنگ شئیر کرتی ہوئیں۔ تو یہ ساری خواتین کسی طرح کم نہیں۔ نہ ہی ان کے متعلق ہماری رائے کسی طرح کم تر ہے۔ یہاں ان خواتین کا ذکر شائد کم ملے کہ یہ تحریر بھی فساد اور پھڈے کی نیت سے شروع کی تھی کہ یہ لکھاری خواتین جوابی کاروائی کریں گی۔ اور آتی خزاں کا یہ اداسی والا موسم ذرا اچھا گزر جائے گا۔ لیکن خواتین جانے اتنی چپ چپ کیوں ہیں۔



اگلی خاتون یاسمین فاروق جن کی شاعری کوکنگ اور پیارے بچے ان کی وال پہ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔
اپنے بچوں کی شرارتوں میں محبت کی طرح چھلکتی ہوئی۔ اور اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے اداسی کی طرح چھا جانے والی یہ خاتون لمبے عرصے سے دوست ہیں۔



ان سے نے کیلا بریانی اور کچولا کسٹرڈ بنانا سیکھا تھا۔ کم و بیش کسٹرڈ ڈش دیکھ کر پوچھا کیا ہے کہنے لگیں مکس فروٹ این کیک ٹرائفل گارنشڈ ود ایم این یم چاکلیٹ این کیریمل۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہمارے ہاں ایسی چیز کو کچولا کہا جاتا ہے۔ اور ان سے ہم نے ٹیگنگ سیکھی تھی۔ اب تو خیر ہم خاصے ماہر ہوچکے۔



اور ان کی وال پہ ہم نے محبتوں کا شفاف پن ملاحظہ کیا۔ جماعت کے ساتھ جذباتی و دلی وابستگی ہونے کے باوجود ہم لوگ دوست ہیں یہ ہماری ہم ان کی سیاسی باتوں پر غور نہیں کرتے۔ سماج کے دوسرے معاملات میں البتہ ہم ایک پیج پر ہیں۔ لیکن وہ پیج ہے کونسا یہ نہیں معلوم۔ جب تک ہم پتا کرتے ہیں آپ اگلا تعارف پڑھیے۔



مونا رضا
ان سے دوستی کی وجہ تحریک انصاف و سیاست ہے۔ بہت پیاری دوست ہیں باتیں بھی بہت پیاری کرتی ہیں۔ اوور سیز ہیں پاکستان کے ساتھ ان کی محبت دیکھ کر کبھی کبھی شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ہمارا درد سر پالنے کا کیا غم ہے جیتے رہییں اپنی زندگی خوش رنگ زندگی۔ لیکن معصومیت اور خلوص سے گندھے یہ لوگ پھر بھی ہمارے لیے میلوں دور بیٹھے الجھتے اور کڑھتےرہتے ہیں۔



ایک دن ایسی ہی ایک الجھن میں تھیں تو کہنے جاب پہ بھی مسئلہ ہے۔ اب ہم اپنی نالائقی کے ہاتھوں ایسے مسائل حل کرنے سے تو قطعی قاصر ہوتے ہیں لہذا سن لیتے ہیں۔ پر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ دوست صاحبہ ٹیکنیکل جاب کرتی ہیں جس کا ہم سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا نواز شریف کا جمہوریت سے۔ ۔ یعنی نہ ہونے کے برابر۔ اس لیے تسلی کے سے انداز میں کہا کہ حل ہوجائے گا مسئلہ پریشان مت ہوئیے۔ کہہ اٹھیں مسئلہ تو حل ہوجائے گا پر امی نہیں مانیں گیں۔ ۔ پوچھا کیوں کہنے لگیں وہ کہتی ہیں اب بس یہ نوکری کرنی ہی نہیں۔ یقین کیجیے مونا کی یہ بات سن کر جتنی خوشی محسوس ہوئی اتنی تو عامر بھائی کے نااہل ہونے پر ہی مل سکتی ہے دوبارہ۔ خوشی اس بات کی نہیں تھی کہ مونا کی امی نہیں مانتیں۔ خوشی اس بات کی تھی پاکستانی لڑکی امریکن بھی ہو تو امی ابا دیسی ہی رہتے اور دیسی پیرنٹس کا پہلا اصول ہوتا ہے نہ ماننے والا۔ اب ہم اور مونا نہ ماننا بہنیں ہیں۔ جب جب ہماری امیاں نہیں مانتیں تب تب ہم ایک دوسرے کا غم غلط کرنے کو میاں صاحب کو کرپشن پر کوس لیتے ہیں۔ مونا اکثر اداس رہتی ہیں اور پوچھتی ہیں یہ پاکستانی لبرلز این ایس کو کیسے سپورٹ کرلیتے ہیں۔ یاد رہے یہاں نواز شریف کو این ایس پڑھا جائے گا کہ مونا ہلکی سی برگر ہیں۔ خیر جب جب مونا پوچھتی ہیں ہمارا جی چاہتا ہے انہیں جواب دیں کہ اک ایناں دی اکھ کاشنی دوجا رات دے اونیندرے نے ماریا۔ یعنی ایک تو ہیں نہیں۔ لبرل اوپر سے کچی پی پی کر نیست مار لیتے اپنا۔ لیکن کہہ نہیں پاتی کہ مونا کی پنجابی بہت اچھی ہے۔



خیر مونا آپ سے بہت سی نہ کہی جاسکتے والی باتوں میں ایک بات ہے کہ آپ اتنے بھی دیسی پیرنٹس کے ساتھ نہیں رہتیں۔ کیونکہ اصلی سچے سُچے اور کھرے پاکستانی دیسی پیرنٹس کے پاس بیٹیوں کے لیے ہر چیز کا ایک بیک اپ پلین ہوتا ہے۔ ۔ اکا (also known as Shadi) شادی.
جاب میں۔ مسائل ہیں دفع

Tuesday, 28 August 2018

نئی زندگی کا آغاز


دو دن کی اعصاب شکن اور درد ناک لڑائی میں درد خوف تکلیف خدشے واہمے اندیشے ہارگئے۔اور زندگی جیت گئی۔یہ ہی زندگی ہے۔ہر مشکل کے ساتھ آسانی والی۔تمہاری ماں نے بالکل صحیح نام سوچا ہے ابراہیم اس مہینے میں پیدا ہونا اور ابراہیم نام پانا لازم و ملزوم ہے۔آج تمہاری ماں کی تکلیف نے میرے دل میں خیال جگایا تھا کہ تم اسماعیل ہو اپنی ہاجرہ کے ساتھ تپتے صحرا میں اکیلے۔ صرف تم دو تھے۔ اور تمہاری ہاجرہ تمہارے لئے سعی کررہی تھی۔ کرب و وحشت میں۔ جب ڈاکٹر نے کہا تم تھکنے لگے ہو تو مجھے یقین نہیں آیا۔
ڈاکٹر سے کہیں۔زیادہ مجھے ہاجرہ کی سعی پر یقین تھا۔کہ ہاجرہ اپنے اسماعیل کے لیے زم زم نکلوا کے چھوڑتی ہے۔
مجھے آج سمجھ آیا ماں کو ماں کیوں بنایا رب نے اور کیسے۔
جیو ہزاروں سال دودھ نہاو پوتو پھلو خوشیاں پاؤ۔

تین دن سے تم نے جو تنگ کر کے رکھا تھا اس کا حساب تمہاری خالہ چکتا کرے گی۔ 
نرس نے لا،کر شیٹ میں لپٹے تم پکڑائے تو تمہاری خالہ رو پڑی تھی۔ زندگی کے اس موڑ پر کیا اظہار کرنا تھا نہیں۔معلوم تھا۔ رب اپنے بندے کو اس کی اوقات سے کہیں زیادہ نوازتا ہے۔ یہ تمہیں گود میں اٹھانے کے بعد کے احساسات تھے۔
خیر تمہاری خالہ تمہارے لئے کہانیاں لکھتی رہے گی۔ آج کے لیے بس اتنا کہ رب تمہیں صالح اور امیں بنائے۔احساس کی دولت بخشے۔محبت کی رمز سکھائے۔اور علم کا نور عطا کرے۔
ابراہیم کی طرح تم بت شکن بن جاؤ۔ تعصبات کے بت توڑو روآجوں کے مندر ڈھاؤ۔خوش رہو۔
تمہاری آنا خالہ۔

امید


صوفے پر ابا بیٹھے تھے ان کے ساتھ آٹھ سالہ عدن اور چئیر پہ بہن بیٹھی تھی، جب کمرے میں داخل ہوئی تو تین نسلیں آنکھوں میں نمی لیے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔
پہلے سوچا دوسرا ٹی وی لگایا جائے یا پھر یو ٹیوب پر جایا جائے کہ کانوں میں بچت کی آواز پڑی۔ قدم وہیں جم گئے اور کسی کے مضبوط لہجے میں کی گئی گفتگو دھڑکنوں میں اترنے لگی۔
خان صاحب آپ کو ووٹ دیتے اس سے پہلے سوشل میڈیا پر لڑتے کئی بار دل میں خیال آیا ایسی جگہ پر کیا بات کی جائے جہاں استدلال یہ ہو کہ کیا ہمارے ماں باپ غلط تھے یا ہیں؟ کئی بار جی چاہا سب کچھ چھوڑ چھاڑ جنگلوں صحراؤں میں نکل جایا جائے۔ کہ پتھروں سے سر پھوڑنا کب تک ممکن ہوتا۔پر آپ نہیں مایوس ہوئے کبھی۔
اللہ نے ہمارے ہاتھ میں صرف کوشش رکھی ہے کامیابی اس کے ہاتھ میں ہے۔خان صاحب اس بات کو میرے ایمان کا حصہ بنانے کا شکریہ۔
آج نم آنکھوں کے ساتھ آپ کا خطاب سنتے ہوئے سارے منظر یاد آرہے تھے۔ خان صاحب آج بھی مئی دو ہزار تیرہ یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رویا ہے کوئی۔ پہلے خیال یہ تھا کہ مضبوط لوگ روتے نہیں پر خان صاحب جب آپ کو مسکراتے چہرے پر اٹل ارادوں والی آنکھیں صاف کرتے دیکھا تو یقین ہوگیا مضبوط لوگ بھی روتے ہیں پر جنگ جیتنے کے بعد بھلا آپ سے مضبوط کون ہوگا۔ بائیس سالوں کی محنت ہم ہوتے تو کب کا حوصلہ ہار چکے ہوتے۔ اس مضبوطی پر رب کا شکریہ۔ اور اس مضبوط روییے کے اظہار کے لیے آ پکا شکریہ خان صاحب۔
آج جب آپ نے زینب کا ذکر کیا تو آنسوؤں نے ساری سکرین دھندلا دی۔ صرف آنسو پونچھتی عدن نظر آئی۔ وہ آٹھ سالہ بچی جو آج بھی یہ دعا مانگتی ہے کہ جانور قربان کرنے کا کوئی اور طریقہ متعارف کیا جائے کہ چھری سے بہت تکلیف ہوتی ہے خان صاحب۔ اس حساس بچی نے نیوز چیلنز سکول اور گھر کی حفاظتی تدابیر میں زینب کا خوف اور اس کی تکلیف محسوس کی ہے آج اس کی آنکھوں میں آنسو یہ گواہی دے رہے تھے۔
آپ کو پتا ہے آج آپ بولتے ہوئے بارش جیسے لگ رہے تھے۔ اندر باہر سیراب کرتی ہوئی۔ زندگی کی نوید دیتی ہوئی خوشحالی آجاتی ہوئی آپکی آواز بارش کی آواز جیسی لگی کو انوکھی زمینوں پر گرتی ہے تو دھڑکنوں کا جلترنگ بجاتی ہے۔
آپ مدرسے کے بچوں کی بات کر رہے تھے تو مجھے تیمور یاد آیا جو مدرسے میں پڑھتا ہے اور جسے میں ہر دوسرے تیسرے ہفتے مسجد والوں سے جھگڑا کر کے گھر لے آتی ہوں۔ افغانی بچہ ہے چھ سال کا ماں نہیں ہے باپ مسجد کے باہر چھلیاں لگاتا ہے بچہ مسجد میں رہتا ہے۔ جب پہلی بار کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ایک لڑکے کو،اسے دھمکاتے دیکھا گلی میں جا کر اس بڑے لڑکے کی پھینٹی لگائی تھی تو اسوقت بھی دل خون کے آنسو رویا تھا کہ یہ بچہ ریاست کی ذمہ داری کیوں نہیں ہے۔ مسجد والے ہمسایہ سمجھ کہ برداشت کرتے ہیں اور بچہ ہمدرد سمجھ کہ دوڑا آتا ہے۔ پر یہ مسئلے کا حل نہیں تھا۔ آج آپ کو مدرسہ کے بچوں کو اون کرتے دیکھا تو جی چاہا ابھی جاؤں مسجد کا دروازہ کھٹکھٹاوں مدرسہ میں جا کہ تیمور کو بتاؤں دیکھو تمہاری بات کی خان نے۔ دیکھو اب تم باقاعدہ پڑھو گے۔خود مختار ہوگے۔
جی تو اسوقت بھی اڑ کے ناشتہ والی سٹریٹ میں جانے کا چاہا جب آپ نے سٹریٹ چلڈرن اور سکولوں سے باہر بچوں کی بات کی۔میرا جی چاہا ان سارے بچوں کو اکٹھا کر کے بتاؤں کہ تم لوگ اب لاوارث نہیں رہے۔
جب آپ نے کہا نا معذوروں کا خیال رکھیں تو عینی یاد آئی نمرہ یاد آئی عافیہ یاد آئی عائشہ یاد آئی یہ سارے وہ دوست ہیں جن کو ذہنی معذوروں کا معاشرہ معذور سمجھ کر اپنے ظرف کا مظاہرہ کرتا ہے۔ خان صاحب۔ جی چاہا ان سب کو میسج کروں کہ اب تم لوگ بے سہارا نہی رہے۔
جب آپ نے بتایا کہ بیوہ نے خون سے خط لکھا تھا آپکو تو مجھے وہ بیوہ یاد آئی جس کا بچہ میرے پاس آتا تھا۔جب ماں کو دیس نکالا ملا تو وہ بچہ میرا ہاتھ پکڑ کے پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔ اس نے کہا تھا اپنے پاس رکھ لو۔اور میں چاہ کر بھی جواب نہیں دے پائی تھی۔ آج جی چاہتا ہے مظفرآباد کے اس دور افتادہ گاؤں میں فون ملاوں ان سے کہوں ولید سے بات کروائیں اور جب وہ کروائیں تو ولید سے کہوں۔۔۔ دیکھو ہم دونوں اب بے بس نہیں رہے تم لوٹ آؤ مجھے اس احساس جرم سے نکالو میں تمہیں یہاں اسکول بھیجوں گی۔ ہم دونوں خواب دیکھیں گے اسے تعبیر کریں گے۔
میرا جی چاہ رہا ہے میں ساری دنیا کو چلا کر بتاؤں اب ہم لاوارث نہیں رہے۔ اب ہمیں آنکھیں نہ دکھائے کوئی۔ ہم سے برابری کا سلوک کرنا پڑے گا۔کہ اب ہم نے ریوڑ اور ہجوم سے قوم بننے کی طرف سفر کا آغاز کردیا ہے۔
میں یہ ساری باتیں کروں گی۔ لیکن خود کو سنبھال لوں۔ جذبات میں بڑا بول نہیں بولنا چاہتی کہ یہاں تکبر والوں کے سر نیچے ہوتے دکھائے ہمیں رب نے۔
آج دل میں خوف بھی ہے تھوڑا۔۔ توقعات کا،خوف ہوتا ہے نا وہی ہے۔
لوگ کہتے ہیں میں آپ پر تنقید برداشت نہیں کرسکتی۔ کیا کروں خانصاحب خود سے کہیں زیادہ یقین ہے آپ پر اور میرے لیے میرے جیسے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لیے یہ گالی نہیں، آپ سے محبت ہماری سچائی سے اعلی آدرشوں والے نظریات سے محبت ہے۔
فیض کے الفاظ میں یوں کہ
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں یہ اکرام ہی تو ہے
اگلا شعر نہیں لکھوں گی کہ ڈھل چکی شب غم اور شب غم و ہجر کتنی ہی طویل ہو ڈھول جاتی ہے۔ آپ سے سیکھا یہ۔ نکموں کو یہ سیکھانے کا شکریہ۔
یہ قبولیت کی گھڑیاں ہیں رب زمین پر اپنے بندوں کا،حج قربانی اخلاص دیکھ رہا ہوگا وہاں ہی وہ ہمارے بھیگے لہجے نم آنکھیں موم د ل بھی دیکھ رہا ہوگا۔ اس کا شکر ادا کر پانا ممکن ہی نہیں۔ اس سے صرف کرم کی مہربانی کی توفیق ہمت کی دعا کی جاسکتی ہے۔ اس سے مدد و نصرت چاہی جاسکتی ہے۔ اور بے شک وہ اپنے بندے کی سعی و دعا ضایع نہیں کرتا۔ رب ہمارا بھی مددگار ہوجائے۔ رب آپ کو آپکی ٹیم کو سرخرو کرئے آمین۔ ہم سر اٹھا کر جی سکیں۔ میرے بچے بہتر ملک میں جی سکیں۔
اور آپ کے خطاب پر صرف یہ کہا جاسکتا ہے

بھلا یہ فن بھی کہاں ہر کسی کو آتا ہے
وہ گفتگو نہیں کرتا، دیے جلاتا ہے

نقطہ نظر


ہر شخص کی ایک سیاسی وابستگی ہوتی ہے۔ ہونی بھی چاہیے کہ ارسطو کہتا ہے غیر سیاسی صرف جانور ہوتے ہیں۔بالکل ایسے ہی ہمارے بھی سیاسی نظریات ہیں۔ سیاسی وابستگی ہے۔ جو کہ روز روشن کی۔طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ہم عمران خان کو ایک بہتر آپشن سمجھتے ہیں سو اس کے ووٹر ہیں۔ اور تب تک رہیں گے جب تک کہ سیاسی منظر نامے میں کوئی خان سے بہتر شخص جگہ نہ بنا لے۔ اس سیاسی وابستگی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہوں گی/ہیں ایسے ہی ہمارے اردگرد یا یوں کہہ لیجئے سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کے الگ الگ نظریات و وابستگیاں ہیں سب کے پاس اپنی اپنی ریزنز ہوتی ہیں چاہے وہ کسی خاص شخص سے محبت ہی کیوں نہ ہو۔
بہرحال یہ ضمنی باتیں تھیں۔لیکن وضاحت کرنا ضروری تھا کہ دانشواران ملت بات کو غلط رنگ دینے میں اتنے ہی ماہر ہیں جتنا ہمارا نیا ڈائیر دوپٹوں کو صحیح رنگ دینے میں۔یعنی بہت۔
سو ہمارا چونکہ مضمون بھی پولیٹکل سائنس ہے اور پچھلے آٹھ دس سالوں سے پڑھ ہی رہے ہیں اسے لہذا اپنی ایک سیاسی رائے رکھتے اور اس کا،اظہار کرتے ہیں۔
اس تحریر کو لکھنے کا مقصد عمران خان یا اس کی سیاست نہی بلکہ ن لیگ اور اس کی سیاست ہے۔
میرا ن لیگ سے سخت اختلاف ہے میں یہ بھی سمجھتی ہوں یہ کرپٹ فیملی ہے خائن ہیں میاں صاحب بطور حکمران بدیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔بلکہ انہوں نے قومی و ملکی املاک اداروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ میں انہیں گلوریفائی کرنے والے دانشوروں سے الجھتی بھی رہتی ہوں۔ آج ان کی گرفتاری پر اگر خوشی نہیں بھی تھی تو اطمینان ضرور تھا۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں ان کی گرفتاری کے اس قانونی معاملہ پر یوں ہائپ کڑی ایٹ کرنا بھی ان کو سیاسی فائدہ پہنچانے جیسا ہے۔
لیکن ان سب باتوں کے باوجود مجھے آج میاں صاحب سے ہمدردی محسوس ہورہی ہے اس لئے نہی کہ وہ جیل جا رہے ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ انہوں نے اپنے اردگرد جو جغادری لوہے کے چنے اکھٹے کیے ہوئے تھے وہ جن کی زبانیں بھلے زمانوں میں صبح شام زہر اگلا کرتی تھیں۔ آج چپ تھیں آج وہ کہیں نہ تھے۔ اور اس سے کہیں زیادہ افسوس مجھے شہباز شریف پر ہے جو سیاسی فرض تو کیا بھائی ہونے کا حق بھی ادا نہ کرسکا۔
میاں صاحب غلط تھے پھر بھی۔شہباز شریف کو ائیرپورٹ پر کھڑا ہونا چاہیے تھا یہ بتانے کے لیے نہیں کہ وہ سیاسی شہید ہورہے ہیں بلکہ یہ بتانے کے لیے کہ مشکل وقت میں شہباز شریف بھائی پہلے ہے اور سیاستدان بعد میں۔
مشکل وقت میں اگر سبلنگز بھی کام نہ آئیں تو تف ایسے رشتوں پر اور لعنت ایسی سیاست پر۔
شہباز شریف صاحب آپ پر دلی تف۔۔
میاں صاحب آپ نے آج ایک سبق تو ضرور سیکھا ہوگا کہ قوم کو جاہل بنانا اب ایسا آسان نہیں رہا۔ اور اگر آپ نے یا بی بی نے آج بھی یہ نہی سیکھا تو پھر آپ کو کوئی یہ نہیں سکھا سکتا۔
شہباز شریف صاحب کو بھی یاد رکھنا چاہیے مشکل میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔
اور خان صاحب کو بھی کہ مفاد پرست کا کوئی دیں مذہب نہیں ہوتا سوائے اپنے مفاد اور اپنے فائدے کے۔
اور جو لوگ ابھی بھی ن لیگ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں انہیں ایک بار سوچنا چاہئے کیا مفاد پرستی کے ایسے نمونہ کو ووٹ دیں گے؟
ووٹ کو عزت دیجئے کہ کل آپ کو عزت ملے۔
سحرش عثمان

وائے حسرتا


وائے حسرتا!
حسرتوں کی فہرست میں
پہلا نام تیرا ہے۔
دوجی تیری خواہش ہے۔
تیسری محبت ہے
وہ جو مجھ کو تم سے ہے۔
تیری اس مسکراہٹ سے۔
جو زندگی کا سورج ہے
چاندنی لٹاتا ہے۔
میرے سخن کی رمزیں
نکھار جاتا ہے۔
وائے حسرتا!
فینٹسی کے خانے میں
تیرا ہونا اول ہے۔
دوجا عشق موسم کا۔
وہ جو تیری آنکھوں کے سمندروں 
سے اٹھتے ہوئے۔۔
بادلوں کے اس جھرمٹ میں 
ٹھہرے ہوئے پانی کی
بارشوں سے مجھ کو ہے
تیسری محبت ہے
وہ جو تم کو۔۔ 
وہ جو مجھ کو تم سے ہے۔
وائے حسرتا
خواہشوں کی دنیا کی
دنیا تم ہی سے ہے۔
خواہشوں کے موسم کی
بارشیں تمہی سے ہیں۔
خواب نگر کے چندا کی
روپہلی کرنیں
وہاں کے گلاب سارے
ان پر گری شبنم
موتیے کی ٹہنی
حسن کے استعارے
سارے کے سارے
تم ہی سے ہیں
وائے حسرتا!
زندگی کے میلے میں
ملنے والی خوشی تم ہو۔
دوجی وہ محبت ہے
وہ جو تم کو___
تیجا عشق چاہت کا
وہ جو مجھ کو تم سے۔۔۔

سحرش عثمان۔