Pages

Wednesday, 8 February 2017

عورت کا کرب ۔۔۔ تفصیلی خبر




بہت دن ہوئے میں نے آئینہ نہیں دیکھا۔ اب تو خود سے نظریں چرا چرا کر تھک گئی ہوں۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب  اپنے آپ سے بھی کچھ چھپانا پڑے۔ جب کسی بات کو آپ خود سے بھی بیان نہ کر سکیں۔ جیسے  اپنا آپ بھی محرم نہ رہا ہو۔ مجھے معلوم نہیں میرا تخیل تھا یا کوئی خواب، لیکن میں ایمبولینس کی سفاک خاموشی کا حصہ تھی۔ اس کا نام ؟۔۔۔۔ وہ عورت جو ایمبولینس کے اندر لیٹی تھی اس کا نام صائمہ تھا۔۔۔ یا پھر شائد سنبل تھا۔۔بے حسی میری یاداشت کھاتی جا رہی ہے۔ اس عورت کا نام مقدس تھا شائد ۔۔۔ یا پھر بے نام تھی وہ۔ عمر یہی کوئی چھ سال۔
جی ہاں ۔۔۔چھ سال، یا شاید اس سے بھی کم
جب اس عورت کو آئی سی یو میں شفٹ کیا جانے لگا تو میں نے دیکھا کہ اس کی کلائی ہاتھ کی گرفت سے پھسلی جا رہی تھی۔ کلائی پر نبض والی رگ کاٹنا چاہی ہوگی اس حاکم نے۔ عورت کو یوں بھی جینے کا حق کم ہوتا ہے۔ جب سٹریچر کے ساتھ ساتھ چلتے میں نے ڈاکٹر کا یہ جملہ سنا کہ خون کی بھی ضرورت پڑے گی تو مجھبے اچنبھا سا ہوا۔ اس بے جان لاشے کو خون لگائیں گے یہ ڈاکٹرز؟ وہ میری آنکھوں کی حیرانی ہی ہوگی جس کوپڑھ کر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ زندہ ہے۔ کٹی گردن، کٹی کلائی، لٹی عزت، کھویا بچپن، خوف، بے چارگی، بے بسی، بے اختیاری کے ساتھ دس سے بارہ گھنٹے کچرے میں رہ کر کوئی عورت ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ سخت جان، بے حس عورت
مجھے نہیں پتا یہ پڑھ کر آپ کیا تاثر لیں گے۔ مگر اس ایک جملے کے بعد میرا ہاتھ تھم گیا تھا ۔۔۔خدا جانے کتنے زمانوں کے بعد میرا ذہن ان سطروں کو لکھنے پر آمادہ ہوا ہے۔ پر کس قدر خود غرض ہوں نا میں۔ بات میرے تخیل پر آئی ہے تو مجھے درد کا احساس ہوا ہے۔ میرے لفظ،قطرہ قطرہ درد کشید کرتے، ذرہ ذرہ مرنے لگے ہیں تو میرا کرب جاگا ہے ۔ اس کے درد کا کیا؟؟ جو جانے کتنے زمانے درد کے جہنم میں گزار کر لوٹی تھی۔ اس زندگی کا کیا قصور تھا؟ کیا ہم سب اس سوال کے لیے جوابدہ نہیں ہیں؟ کیا ہم سدا یونہی درندگی کے جواز تراشتے رہیں گے؟
 کیا اب بھی ۔۔۔۔ اب بھی نہ جاگیں گے ہم؟ خدا جانے ان سوالوں کی بازگزشت میں کتنے برس لگیں گے ہمیں۔ خدا جانے درندگی کے مزید کتنے باب رقم ہوں گے اور کب ہم اس بات کو قبول کریں گے کہ ہمارے بچوں کو اب آگاہی دینا لازم ہے۔ آگاہی ۔۔
 سرجری ٹیبل پر لیٹے وجود نے سسکی لی تھی اور سرجن نے جھرجھری۔ میں نے گردن گھما کر سرجن کی طرف دیکھا تو پیرا میڈیکل سٹاف میں سے ایک شخص گویا ہوا پچھلے تین گھنٹے سے اس عورت کی سرجری جاری ہے۔ پرت در پرت اس کی جلد کو جوڑتے، ٹانکتے، مرمت کرتے، سرجن جب تھک کے کرسی پر بیٹھے تو کتنے زمانوں کی تھکن رقم تھی ان کی آنکھوں میں۔ جیسے وہ ہمت ہار گئے ہوں پرت در پرت بچپن جوڑتے ۔۔۔۔۔۔۔ بچپن بھی جڑا ہے کبھی؟؟ سائیکولجسٹس کہتے ہیں بچپن کا کوئی ناخوشگوار واقعہ تمام عمر ذہن پر نقش رہتا ہے۔ اور ہم کس قدر سفاکی سے کہہ دیتے ہیں چائلڈ ریپ وکٹم۔ نہیں، بچہ نہیں رہتا وہ فرد نہ ہی وکٹم۔ وہ جیتی جاگتی لاش بن جاتا ہے۔ چلتی پھرتی ممی ۔۔جی چاہتا ہے سارے آرکیالوجسٹس سے پوچھوں وہ اہرام میں کیا تلاش کرتے ہیں؟؟ کیمیکلز لگے بے جان لاشے؟ آئیں تو میں انہیں یہ چلتی پھرتی ممیز دکھاؤں۔ اپنی لاش کا بوجھ اٹھائے دن سے رات کرتے ہوئے وجود، جن کی آنکھوں کے رنج، اداسی کے سامنے ساری دنیا بھر کے درد چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔
میرا جی چاہتا ہے یہاں وہ ساری تفصیلات لکھ دوں۔ تفصیلات___ کتنا حسابی کتابی سا لفظ ہے نا؟؟ نفع کا حساب، نقصان کی تفصیلات، تباہی کا چارٹ۔ مگر کیا کروں، جسمانی درد کی تفصیل اس کے نقصان کے شمار کو تفصیلات ہی کہوں گی۔ بڑی بے درد زبان ہے ہماری بھی۔ کوئی جان سے جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں انتقال فرما گیا ہے۔ لیکن یہ تو اچھا لفظ ہے اس جہانِ خراب سے جانا کوئی ایسا خسارہ بھی نہیں ہے۔ جی چاہتا ہے وہ سب لکھ دوں جو ریپ وکٹم بچے اپنی باقی زندگی میں سہتے رہتے ہیں۔ وہ سارے درد، سارے دکھ، ساری تکلیفیں لکھ دوں۔ جی چاہتا ہے کہ بتاؤں ۔۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ بچیاں مائیں بننے سے انکاری ہو جاتی ہیں۔ پتا ہے عورت کے لیے ماں بننا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کوئی عورت ماں بننے سے انکار ہی کردے تو کوئی تو درد ہوگا نا جو حد سے گزرا ہوگا۔ ہوس کا کیسا انگارہ تھا جو کوکھ جلا کر خاکستر کر گیا؟ اور ہمارے چینلز پر تین وقت خبر چلتی ہے، بخار کی ٹیبلٹ کی طرح ۔۔۔۔۔۔ صبح، دوپہر، شام۔
سرجن نے بہہ چکے خون کا حساب لگا کر کلائی کا بازو سے ناتا بعد میں جوڑنے کا فیصلہ کیا اور شریانوں کو عارضی مرمت کے بعد پٹی میں قید کر دیا۔ نرس نے سرنج میں دوا کا محلول بھرا تو میرا دل حلق میں آ گیا۔ کیا اتنی لمبی سرنج گھسائے گی اس معصوم جان میں؟ اور کسی نے سوال در سوال پوچھا، اب تم سرنج کے چبھنے پر نوحہ خوانی کرو گی؟ سوال کے لہجے کی سفاکی نے میرے لفظوں سے مفہوم کھینچ لیا۔ کبھی کبھی ہم خود سے بھی بے رحمی کے ساتھ پیش آتے ہیں نا۔ جیسے خود سے بھی صلہ رحمی کا تعلق نہ رہا ہو۔ ویسا ہی بے رحمی کا تعلق تھا اس وقت۔ گلے پر پٹی باندھے، آنکھیں موندے، ہوش سے ورا، وہ ننھی جان ۔۔۔۔۔۔ خواب و خیال میں کسی تتلی کے پیچھے بھاگ رہی ہو گی۔ اور تتلی کے اڑ جانے پر انگلیوں پر لگے اس کے پروں کے رنگ دیکھتی ہو گی۔ اسے کیا معلوم کہ ہوش کی دنیا میں اب وہ خود رنگ اڑی تتلی کی مانند ہی جیئے گی۔ یہ سنگدل، بے حس، بے رحم معاشرہ اب اس شیطان صفت درندے کی ہوس کی سزا بھی اسے دے گا۔ اب اس کے لیے سب سے دوستانہ رویہ، کسی کا ترحم بھری نظروں سے دیکھنا ہوگا۔ اڑتالیس گھنٹے بعد وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔ سرجن نے دوسرے ڈاکٹر سے مشورہ لیتی نظروں سے دیکھا۔ ڈاکٹر نے اثبات میں یوں سر ہلایا گویا پوچھ رہے ہوں اڑتالیس گھنٹے گزار پائے گی۔ یہ سخت جان عورت؟
آپریشن تھیٹر سے آئی سی یو میں لے جاتے سارے ڈاکٹرز اور عملہ ایک ایک کر کے او ٹی چھوڑ گیا۔ میرے خیال کے جہنم نے مجھے او ٹی سے اٹھا کر معاشرے کے کرتا دھرتا معزز اشرافیہ کے روشن طبقے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس پر مجھے قدیم روم کے ایوانوں کا گمان گزرا، جہاں طاقت کا قانون پاس ہوا تھا کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ اتنے اختیار کا مالک ہوگا۔
غیر قانونی چھینک آنے پر سؤو موٹو نوٹس لینے والی عدالتیں بھی نظر آئیں۔ جہاں سب بونے سر جوڑے حاکم کی تدبیر کو خدائی حکم ثابت کرنے پر تلے تھے۔ جہاں جا کر صرف ایک بات یاد رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب حشر میں کوئی اٹھ کر پوچھے گا کس جرم میں میری روح تار تار کی گئی تو کیا سارے خدائی فوجدار جواب دے پائیں گے؟ کہ جب ہم ضعیف سے ضعیف حدیث پر حلق کے پورے زور سے تطبیق تطبیق پکارتے تھے تو اپنی مرضی کو رب کا حکم بتاتے تھے، تب ہم اس جرم پر خاموش کیوں رہے؟ اور کیا میں جواب دے پاؤں گی کہ میں ہر معاملے میں ایمان کے کمزور ترین درجے پر ہی فائز رہی___کیوں؟
عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ آئی سی یو سے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ وارڈ میں گئی تو ہاتھ بازو گردن پٹیو‍ں میں جکڑی عورت نیم دراز تھی۔ اسے دیکھا تو ہونٹ خفیف سی مسکراہٹ کے دباؤ سے پھیلے تھے جیسے مجھ سے پوچھ رہی ہو 
تیرے ہر رویے میں بد گمانیاں کیسی؟
جب تلک ہے دنیا میں اعتبارِ دنیا کر

Thursday, 2 February 2017

سیلون میں ہمارا شریکا نکل آیا۔۔۔




گو کہ یہ اپنی ذات میں ایک بڑا واقعہ ہے کہ ہم کسی ایسی جگہ پائے جائیں جہاں جاتے ہوئے عام لڑکیاں انتہائی مسرت کا اظہار کرتی ہوں۔ خیر کسی کام سے ہم پھرتے پھراتے سیلون جا نکلے۔ بیسمنٹ کے کاسمیٹکس سٹور پر باڈی شاپ اور لوریل کی پراڈکٹس کو دیکھتے اور ساشے کی انوینٹر اس معمولی دکاندار کی بیٹی کی اس کاوش پر سر دھنتے، جانے ہم کس دنیا میں جا نکلتے جو سیڑھیاں اترتی ایک عدد ایکس ایل آنٹی سے ٹکراتے ٹکراتے نہ بچتے۔ چونکہ سیلون لے جانے سے قبل ہم سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ ہم کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہیں فرمائیں گے سو ہم آنٹی نما اس لڑکی سے یہ پوچھتے پوچھتے رہ گئے کہ باجی نیو خان یا نیازی ٹریولز؟؟ جی بالکل، انہوں نے ٹرک کے فرنٹ پر لگی، فزکس کے قانون کو مینج کرتی زنجیر کی مانند ایک عدد ماتھا پٹی چہرے پر سجا رکھی تھی۔ آنکھوں پر رنگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ انتہائی نفیس سموکی میک اپ میں چار رنگوں کی بلینڈنگ کسی ہنر مند کی محنت کا پتا دے رہی تھی لیکن ان خاتون نے ساری کسر اورنج لپ سٹک اور بلش آن لگوا کر پوری کر دی تھی خاتون کا ڈریس اور اس پر لگے بے تحاشہ پرلز نے یہ راز کھولا کہ اورنج لپ سٹک بھی ان ہی کا انتخاب ہوگی۔



خیر ہم سیڑھیاں چڑھ کر ہیئر سیکشن میں تشریف لے گئے جہاں ہر طرف گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرنے واسطے مشاطائیں سر توڑ کوششوں میں مصروف پائی گئیں۔ اور چونکہ ہم یہ پوچھنے واسطے تشریف لے گئے تھے کہ یہ جو سر پہ بالوں کا ایک عدد گھونسلہ نما سا ہے اسے انسانی شکل دینے کا کیا قصہ ہے۔ آخر کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے؟ اور یوں بھی آجکل ہمیں کچھ ایسا کرنے کا شوق چڑھا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ بھی لے تو سوچے کتنا بدل گئی ہیں__لیکن جب وہاں سب کو بال کرل کراتے دیکھا تو دل سے بے ساختہ آواز آئی دنیا کسی حال میں خوش نہیں آنا بی۔۔ بہتر ہوگا سٹک لو۔



لیکن وہ آنا بی ہی کیا جو کسی نصیحت پر کان دھر لیں۔ لہٰذا وہاں سے ارادہ ڈگمگایا تو میک اوور سیکشن میں جا پہنچے وہاں جب رنگ و نور کو خواتین کے چہروں پہ برستے دیکھا تو بے ساختہ کسی پیر سے یہ سوال پوچھنے کا جی چاہا کہ ایسی کونسی نیکی ہوگی بھلا ان خواتین کی جو نور ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے؟ اور حسب معمول اس سوال کا جواب بھی دل ہی نے دیا۔ بی بی یہ نیکی نہیں ان کے شوہروں اور اباؤں کی محنت کی کمائی ہے، جو نمود نمائش اور جھوٹے مقابلے کی نذر ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کہ خواتین کے اس مقابلے میں ہمارا وعدہ اپنی طبعی عمر پوری کرجاتا۔ سینئر میک اپ آرٹسٹ نے ہماری آمد کا مقصد پوچھا۔ ہم نے سوال کیا ہمارے چہرے پر کیسا میک اپ اچھا لگے گا کہنے لگیں ہر طرح کا۔ یقین مانیے ہم بھی گویا یہی سننے گئے تھے۔ عرض کیا، جب ہر طرح کا میک اپ سوٹ کرے گا تو ہم گھر میں کر لیں گے۔

وہاں سے جب ہمیں باقاعدہ کھینچ کر باہر نکالا گیا تو فورس اور موشن کے قوانین کے عین مطابق ہم اگلے سیکشن یعنی فیشل این سکن ٹریٹمنٹ سیکشن میں پہنچے۔ پوچھا کیا ٹریٹمنٹ فرماتے ہیں آپ لوگ؟ جوابا چھ عدد بھاری بھرکم انگریزی الفاظ ایک ہی سانس میں بول کر بتایا گیا یہ۔ اور جب ہم نے اس کا ترجمہ اردو میں کر کے پوچھا کہ یہ؟ تو خاتون تقریباً برا مان گئیں ہم نے بہتیرا بتانے کی کوشش کی کہ بی بی انگریزی میں اچھے نہیں ہم۔ لیکن وہ کہنے لگیں کہ آپ ریسیپشن سے سلپ بنوا لیں جو ٹریٹمنٹ لینا ہے۔ ہم خواتین کے اس میک اپ اوبسیشن سے خاصے متاثر ہوئے اور اس سے تحریک پا کر ہم نے بھی اس ہجوم کا حصہ بننا چاہا۔ سیدھے گئے ریسیپشن، خاتون سے کہا مینی کیور کی سلپ بنا دیں۔ کہنے لگیں ساتھ پیڈی کیور مسٹ ہوگا۔ پوچھا کیوں؟ کہنے لگیں پیکج ہے، آپکو ڈسکاونٹ مل جائے گا۔ ہم نے بدتمیزی کا سدباب کرنے والے وعدے کو ایک منٹ کے لیے ہولڈ کرایا اور کہا بی بی آپکا ڈسکاونٹ اتنا اہم نہیں کہ اس کی خاطر میں کسی کی سیلف ایسٹیم پر پاوں رکھوں۔ کہنے لگیں یہ ورکر کی جاب ہے۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے باہر کی طرف چل دی کہ کس قدر بے ضمیر ہوتے جا رہے ہیں ہم مجبور کی مجبوری اور بے بس کی بے بسی کو اس کی جاب کا نام دیتے ہیں۔

یہ تو خیر کمرشل بے حسی ہے۔ آپ لوگ اسے پروفیشنل ایٹیچوڈ، بزنس ڈیمانڈ یا کچھ بھی کہہ کے خود کو تسلی دے سکتے ہیں۔ لیکن اس دوسری بے حسی کا کیا کریں گے؟ وہ جو ہم گھر میں اپنے لوگوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ایک شخص کو اے ٹی ایم بنا کر جو ہم اپنے لیے آسائشیں خریدتے ہیں وہ بھی تو بے حسی ہے۔ جب ہم اسراف کو ضرورت کا اور نمود و نمائش کو رسم دنیا کا نام دیتے ہیں، وہ بھی تو خود غرضی ہی ہے نا۔ اور جب کبھی کسی خاتون سے پوچھ لیا جائے کہ ایسا کیوں؟

تو کیا جواب آتا ہے ؟ شریکا۔

شریکا جینے نہیں دیتا

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اپنی زندگی ان لوگوں کو خوش کرنے میں، ان کے بنائے ہوئے پیمانوں پر پورا اترنے میں صرف کر رہے ہیں، جن کو ہم سرے سے پسند ہی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ہے نا عجیب منطق؟

Friday, 20 January 2017

ہم سے کوئی راہ نہیں نکلی


کبھی کبھی جی چاہتا ہے نا کہ ایسے کسی رستے پر پہروں ننگے پاؤں چلتے رہیں ۔۔۔ اتنا چلیں کہ سڑک کے آخری سرے سے جا ملیں۔ اور جو سڑک کا سرا ہو، وہ میری آپ کی دنیا کا بھی آخری سرا ہو۔ جس کے کنارے پر چپکے سے پاؤں لٹکا کر بیٹھ جایا جائے۔


کچھ کہے سنے بغیر بس خاموشی سے کسی ستارے کی جانب پاؤں لٹکا کر ہم بیٹھے رہیں۔ ہر وابستگی سے پرے، ہر تعلق سے اوپر۔ بس ہم ہوں، تنہائی ہو، خاموشی ہو اور دنیا کا آخری سرا ہو۔ سارے سخت لہجے، سب تلخ جملے اس خاموشی میں گھلتے رہیں۔ آپ کی زمیں کا سورج، آپ کی پشت سے ہوتا ہوا آپ کے سامنے ڈوبنے لگے۔ اس کی مرتی ہوئی روشنی میں آپ کا عکس، پت جھڑ میں درخت پر لگے اس آخری پتے سا ہو، جسے روز گزرنے والا مسافر لمحہ لمحہ مرتا ہوا ۔۔۔۔ سبز سے پیلا ہوتا ہوا دیکھے اور اس کی زندگی کی دعا کرے۔



تمہیں پتا ہے ۔۔۔۔ قریب الموت شخص کو زندگی کی دعا نہیں دیتے لوگ ۔۔۔ آسانی کی دیتے ہیں۔ شاید ترس آجاتا ہے لوگوں کو بیماری میں اس شخص پر اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ اپنے حصے کی زندگی بھگت چکا ہے۔ اب کیا اسے زندگی کی دعا دینا۔ چلو اس کے لیے آسانی مانگتے ہیں رب سے، کہ یہ زندگی سے رہا ہو کر آسانی پا جائے۔ تمہیں پتا ہے میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ زندگی کے ساتھ کوئی اور آپشن بھی ہونا چاہیے تھا۔ یہ جیتے ہی جانا کوئی چوائس نہیں ہے۔ لوگوں کواپنے سامنے بدلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ عہد حاضر کو ڈھلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ کسی خواب کی لاش آنکھوں میں بھر کے، کسی یاد کا کوئلہ سینے میں دہکا کر، کسی مان کی کرچیاں دل میں چھپائے، بس جیئے جاؤ۔ یعنی حد ہے زندگی بھی۔ جیسے پہلا سوال ہے نا کوئسچن پیپر کا ۔۔۔ لازمی اور بنیادی۔



اتنی بڑی کائنات کے اتنے وسیع وعریض انتظام میں زندہ رہنے پر رب نے کمپرومائز نہیں کرنے دیا۔



ایک دفعہ پہلے رب سے کہا تھا کہ میں تیری دنیا کے معیارات سے قطعی مطمئن نہیں۔ آج تو حد ہی ہوگئی۔ دل چاہتا ہے کہوں اس سے، میرا تیری دنیا میں اب جی نہیں لگتا۔ ذرا بھی جو یہ دل آمادہ ہو، اس پہلے بنیادی اور لازمی سوال کو حل کرنے میں۔ اب تیرے بندے مجھے یاسیت کا طعنہ دیں گے۔ پر فرق کسے پڑتا ہے اب؟ انہیں طعنے دینے کے سوا اور آتا بھی کیا ہے؟ اس دنیا سے کوئی چیز اٹھائی جا سکتی ہے کیا؟ ذرا رہنے کے قابل تو لگے۔ ایسے تو دم گھٹتا ہے میرا۔ پھر جو مَیں دم گھٹنے سے مر مرا گئی اور رپورٹس میں کچھ بھی لیم سی ایکسکیوز آگئی تو کون ذمہ دار ہوگا اسکا؟
کیا تجھ کو راس آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟
دیکھ تُو دنیا سے جہالت، بے حسی، خود غرضی کو نہیں اٹھا سکتا تو کم از کم شعور، آگہی اور حساسیت ہی کو اٹھا لے۔ یہ تیرے بندے اپنی ہی آگہی کے ہاتھوں مبتلائے آزار رہیں گے کیا؟؟ بس تُو اب یا تو سب کو بے حس بنا، یا پھر حساسیت کے لیے سزائے موت کا کن کہہ دے۔
تیرے بندوں کے آزار سے سخت پریشان ہیں ہم۔ اب تُو ہی کوئی راہ نکال۔ ہم سے تو کوئی راہ نہیں نکالی جاتی۔ ہمیں توکوئی رستہ نہیں سوجھ رہا اب۔

Friday, 30 December 2016

بندھن کی الجھنیں



شادی سیریز پر ہمارے دوستوں کی دلچسپی نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کر دیا۔وگرنہ اس جاتے سال کی ان آخری چند ساعتوں میں کم از کم سوشل ایشوز پر اپنے نادر خیالات کے اظہار کا ہمارا ایسا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا
لیکن شادی جوکسی بھی سوسائٹی کا  بنیادی انسٹیٹیوٹ ہے  اس پر ہماری رائے اور ہمارے نکتے کو ہمارے دوست جسقدر غیر سنجیدگی عدم دلچسپی بلکہ قدرے استہزائیہ  انداز میں سنتے اور ناک پر سے مکھی کی طرح یہ کہہ کر اڑا دیتے ہیں کہ ہم ناتجربہ کار ہیں لہذا ہماری بات کسی اہمیت کی حامل نہیں۔ان کی یہ ادائیں ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کرتی ہیں ہماری اماں ہمارے بارے میں یونہی نہیں کہتیں کہ جس کام سے ہمیں روکا جائے پھر وہ ہم کر کے چھوڑتے ہیں
سو پہلے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تجربے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اگر تجربے کی آپکی تعریف مان لی جائے تو دنیا بہت سارے علم کی منکر ہوجائے۔ہمارے ہی سبجیکٹ کی مثال لیجیے سترہ یا انیس سال کی عمر میں سقراط نے  زہر پی لیا تھا ۔پچیس سالہ کیٹس دنیا سے جانے کی نظمیں لکھنے لگا تھااور تھری ڈیز ٹو سی لکھتے ہوئے شائدہیلن کیلر پچیس کی بھی نہیں تھیں ۔یاد رہے یہاں پر تقابل نہیں کیا جا رہا بس بتانا یہ مقصود ہے کہ صرف زندگی کے زیادہ سال جینا تجربہ نہیں کہلاتا۔ تجربہ تو وہ بھی ہے جب آپ کسی بات کے مشاہدے میں اسقدر محو ہوں یا وہ مشاہدہ اتنے تسلسل سے کریں کے اس بات کے سقم آپکو نظر آنے لگیں اور اس سے پیدا ہونے والے مسئلوں سے آپکے دل کا کوئی حصہ مسلسل اداس رہنے لگے یا پھر آپ اسے بہتر کرنا چاہیں تو سمجھ لیں آپکا مشاہدہ تجربے کی آنچ پا گیا ہے
اب آتے ہیں شادی کے متعلق ہمارے نکتے پر۔تو وہ دو ٹوک ہے کہ شادی سوشل کانٹریکٹ ہے اور  جب کوئی دو فریق اپنی کچھ آزادیاں اور اپنے کچھ حقوق اپنی رضا مندی سے سرنڈر کرنے پر تیار ہو جائیں تو سوشل کانٹریکٹ ہوتا ہےاور دنیا میں جتنے بھی کانٹریکٹ ہوتے ہیں، وہ سارے زمین پر طے ہوتے ہیں اور رب زمین پر اتر کے اپنے احکامات کا نفاذ نہیں کرتا وہ اپنا قانون بتاتا ہے انسان کو عقل و بصیرت دیتا ہے اور پھر اسے اس کے استعمال کے مشورے دیتا ہے.
تو کانٹریکٹس مادی شئے نہ ہونے کے باوجود مادی ہی ہوتے ہیں۔ زمینی اور حقیقی۔ اسی طرح شادی بھی ایک زمینی حقیقت ہے..اور جملہ معترضہ ہے کہ اس سے فرار ممکن نہیں۔تو جب فرار ممکن نہیں تو پھر کیوں نا، یہ ایک باشعور مہذب انسان کی طرح کی جائے.؟نا کہ دو ٹانگوں والے انسان نما کی طرح۔اور مہذب انسانوں میں جب بھی معاہدے طے پاتے ہیں تو اصول و ضوابط رکھے جاتے ہیں۔ شرائط طے کی جاتی ہیں۔ جو دونوں فریقوں کو منظور ہوں تو معاہدہ ہوجاتا ہے
لیکن ہمارے لوگوں کو چونکہ ہر شئے الٹی نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے اور مجنوں نظر آتی ہے۔لہذا یہ شادی بھی معاہدے سے کہیں زیادہ فیسٹول ہے چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ۔دو چار دن وعدے، قسمیں، دعوے، چھ دن کی تقریبات اور عمر بھر کا رونا..(معذرت کے ساتھ) اور اس پورے فیسٹول میں سب سے زیادہ ہونق وہ دو افراد ہوتے ہیں جنہوں نے آگے چل کے آپ لوگوں کے انسٹیٹیوٹ خاندان کی آبیاری کرنا ہوتی ہے۔اب انہی دو لوگوں کے کپڑوں اور جوتوں سے لے کر پسند نا پسند تک ہر شئے کے متعلق پورا خاندان جانتا ہے سوائے ان دو افراد کے کہ جنہیں جاننا چاہیے۔ایک عجیب شرمندگی نما شرم ہوتی ہے جس کا دونوں شکار ہوتے ہیں۔مائے ڈئیر گرلز اور بوائز بھی گو کہ ڈئیر ذرا نہیں. خیر!! گرو اپ پلیز، یہ شرمندہ ہونے والی بات نہیں جب آپ اپنے پارٹنر کے متعلق سوال کرتے ہیں.بلکہ یہ شرمندہ ہونے والی بات ہے جب آپ نہیں کرتے۔اس پر شرمندہ ہونا نہیں بنتا، جب آپ اپنی شادی کو سیریس لیتے ہیں بلکہ اس پر ہونا بنتا ہے، جب آپ نہیں لیتے
اور پیارے والدین! آپکا بیٹا یا بیٹی جب پسند کی شادی کرنے کے متعلق اظہار خیال کرتے ہیں تو وہ پسند کی بیوی یا پسند کے شوہر سے کہیں زیادہ پسند کے انسان کے متعلق بات کر رہے ہوتے ہیں اور جب آپ سر جھٹک کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ ڈریس ،برگر یا چاکلیٹ نہیں، جس کی ضد کریں گے ۔تو یقین کیجیے آپکے بچے بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں آپکو کہ یہ برگر یا چاکلیٹ نہیں جس پر کمپرومائز کر لیا جائے۔اور جب آپ نے برگر چاکلیٹ پر کمپرومائز کرنا نہیں سیکھایا تو اس پر کیونکہ توقع رکھ رہے ہیں آپ؟ 
رب کے حبیب نے کہا تھا نکاح کو مشکل بناتے جاؤ گے تو زنا آسان ہوتا جائے گا۔تطبیق تو کر ہی لیتے ہیں نا ہم سب؟؟ تو اس بات کے تناظر میں اپنا معاشرہ دیکھ لیں اور یوں بھی آزادی اور شعور کا ریورس گئیر نہیں ہوتا۔آپ آزادیاں دے کر واپس نہیں لے سکتے
خیر
ہم حرفوں کے دیپ جلانے پر معمور ہیں سو جلاتے رہیں گے.باقی آپ لوگوں کی مرضی۔ راہیں، راہیوں کی مرضی، منشاء اور انتخاب ہوا کرتی ہیں 
لیکن.
ایسا بھی ہوا ہے تاریخ کے اوراق میں
لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی


Thursday, 29 December 2016

جوابی خط



تمہارا خط میرے سامنے پڑا ہے.میز پر خط اور کافی کا مگ رکھے میں چئیر پر تقریبا جھول رہی ہوں.جیسے تمہیں خط لکھنے کی ایمپلس آتی ہے نا.ویسے ہی تمہارا خط ملنے پر خوشی کا سرشاری کا احساس جاگتا ہے.
وہ کیا کہا تھا فیض نے جیسے بیمار کو بے وجہ قرارا آجائے.
سنو! یہ قرار کبھی بے وجہ نہیں آتا اس کے لیے وجہ ڈھونڈنی پڑتی ہے چھوٹی بڑی وجہ.یہ تو منحوس ماری اداسی ہوتی ہے جو بے وجہ آتی ہے.کبھی کسی کو کہتے سنا ہے میں بے وجہ سکون میں ہوں؟؟ نہیں نا قرار کے لیے سکون کے لیے وجوہات ڈھونڈنا پڑتی ہیں ان کو ممکن کیا جانا پڑتا ہے.جیسے میرا قرار تمہارے لفظوں میں تمہارے خطوں میں چھپا ہوا ہے سو تمہارا خط ملا اور میں سرشار سی مسکرا رہی ہوں.صبح میری کولیگ نے بھی یہ بات نوٹ کی کہ خوش ہوں میں.
اب اس فرنگن کو کیا بتاتی کہ یہ ہم مشرقی عورتیں رج کے بے وقوف اور جذباتی ہوتی ہیں.اول تو محبت کرتی نہیں کر بیٹھیں تو حشر کی صبح تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں...مجھے پتا ہے تم اس جملے کو دہرا دہرا کر پڑھو گے محبت کا جو ذکر ہے اسمیں.اب یہ مت کہہ دینا کہ مان گئی میں بلآخر اس محبت کو..ہک ہاہ کبھی نہ سمجھو گے.یہ خط میں تمہیں پیار محبت میں ہی لکھتی ہوں اور تم میرے پھپی زاد تو نہیں ہوتے بھی تو نہ لکھتی.
خیر میرے لفظوں میں رنگ رنگوں میں خوشبو اور اس خوشبو کو محسوس کرنے کا احساس اسی محبت کا اعجاز ہے.
شاعر کہتا ہے نا.
بہت مخصوص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں.
محبت معجزہ معجزے کب عام ہوتے ہیں.
اور اسی معجزے کا نتیجہ ہے کہ میں آج بھی تمہارے خطوں کو اسی بے تابی سے پڑھتی ہوں اسی بے چینی سے کھولتی ہوں.
اور یہ کیا تم بالوں میں اترتی چاندی کو زیادہ سیریس نہیں لے گئے؟ ارے بھئی اب ہم تم ایک بینچ کے دو کونوں پر ٹہر گئے تھے تو یہ کہاں لکھا تھا کہ وقت بھی ٹہر ہی جاتا؟ وقت نے تو بہر صورت چلنا ہی ہوتا ہے.اور چاندی اتر بھی آئی تو کیا؟؟ اچھا سا ڈائی لگاؤں گی نا. تم کہیں یہ تو نہیں سوچ رہے کہ میں آنٹی لگنے لگی ہوں؟؟؟ خبردار یہ سوچا بھی تو.ویسے بھی جتنی بھی بڑی ہوجاؤں رہوں گی تو تم سے چھوٹی ہی نا.
تم لکھتے ہو میں آسمان کی ریشمی چادر سے پرے جھانکنے پر اصرار نہ کروں تمہیں خدشہ ہے کہ میں اپنی بسی بسائی جنت تحلیل کر بیٹھوں گی.سنو! اب میں عمر کے اس حصے میں نہیں رہی جب تصور میں صرف جنتیں بسا کرتی ہیں اب میرے تصور کی دنیا کا کینوس بہت وسیع ہو چکا ہے.اب اسمیں اگر جنتیں ہیں تو ساتھ ہی کچھ سٹروک ایسے بھی ہیں جو تصوراتی اس تصویر میں دنیا کا سا مزا دیتے ہیں حقیقی دنیا.
دیکھو میں امید پرست ہوں مجھے پتا ہے راہیں راہیوں کی مرضی منشاء اور انتخاب ہوتی ہیں پر میں اپنی سوچ کے جگنو سے راہوں میں زرا سی روشنی کرنا چاہتی ہوں.تاکہ کوئی بھولا بھٹکا مسافر میری خواب نگری کی طرف آ نکلے تو ٹھوکر کھا کر گرے نہیں.یہ جگنو میری ملکیت ہیں میں انہیں جلاتی رہوں گی.
صحیح کہا صفحے بہرحال پلٹنے پڑتے ہیں لیکن اگلے صفحے پر کسی خوشگوار یاد کا تسلسل بھی قائم رکھا جا سکتا ہے.
اب چلتی ہوں.
تم بس شعر سمجھ کر پڑھو تو ایک شعر لکھتی ہوں.
تمہارا اور ہمارا ساتھ ممکن ہے.
یہ دنیا ہے یہاں ہر بات ممکن ہے.
خدا خافظ.
تمہاری_

ایک خط



 مجھے نہیں پتا میں کس جذبے کے مجبور کرنے پر یہ خط لکھ رہی ہوں تمہیں.خط کی بھی خوب کہی خط کہاں بھئی بس دوچار الٹی سیدھی سطریں ہیں کاغذ ہ گھسیٹنا چاہتی ہوں__ ہاں تو کیا کہہ رہی تھی یہ کہ خدا جانے ایسا کونسا دورہ پڑتا ہے کونسی ایمپلس آتی ہے جو تمہیں چھٹیاں لکھنے بیٹھ جاتی ہوں.شائد میرا کاغذ قلم سے عشق ابھی بھی جوان ہے___ ہسو مت معلوم ہے مجھے تم بھی مجھے مادی دنیا کی باسی سمجھنے لگے ہو.
میں سوچ رہی تھی یہ تحریر اس ٹپے سے شروع کروں.
"میں ایتھے تے ڈھولا پربت پر لکھتے لکھتے" رک گئی کیوں کہ پربت تو میں ہوں نا___ یہاں ہڈیوں میں گودا جمانے والی ٹھنڈ ہے اور پربت بھی ایسے ویسے..
تمہیں پتا ہے میری کھڑکی سے باہر چوٹی کے اوپر آسمان ایسے لگتا ہے جیسے ریشمی چادر ہے جو چوٹی کی نوک سے کسی دن پھٹ جائے گی..اپنا وجود کھو دے گی.میں ً روز اس آس میں کھڑکی سے چوٹی اس کے اوپر اس ریشمی چادر کو تکتی ہوں کہ جب یہ پھٹے تو کیا تماشا ہو؟؟
اب تم کہتے ہو گے میرا تماشا دیکھنے کا شوق بھی ویسا ہے...چچ__ نہیں نا!! یہ ویسا شوق نہیں ہے نا..یہ تو ویسا شوق ہے کہ ریشمی چادر پھٹے اس کے پیچھے سے اک نئی دنیا ہو پیاری دنیا تمہارے ساتھ والی دنیا. یا پھر کچھ بھی نہیں بس خالی سلیٹ ہو میرے ذہن جیسی.تم سوچتے ہو گے اب کیوں لکھ رہی ہوں یہ ساری باتیں.
اس لیے کہ میں تسلیم کرنا چاہتی ہوں وہ ساری باتںیں میری وہ ساری باتیں جو ہمارے تعلق کے درمیان آ گئی تھیں یا ہیں.ہاں مجھے پتا ہے یہ جدائیوں کا فیصلہ بھی میرا تھا..تمہاری محبت کا نظریہ ساتھ میں تھا میرا آسانی میں سہولت میں تعیش میں.
دیکھو ہم دونوں غلط نہیں تھے. پر ہم دونوں ہی اپنے اپنے نظریات کے غلام تھے.اپنی اپنی انا کے قیدی.
تمہیں پتا ہے ہم دونوں کے درمیان کیا ہوا تھا؟؟ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ہم دونوں خود کو صحیح سمجھتے تھے.مسئلہ یہ تھا کہ ہم دونوں دوسرے کو غلط سمجھتے تھے.اور اسے صحیح کرنے پر تلے تھے.
زندگی کی اتنی بہاریں___ ہاہاہا بہاریں لکھ کت بے ساختہ ہنسی ہوں میں پر کیا کروں اب ایسے تو نہیں لکھ سکتی نا کہ زندگی کی اتنی خزائیں دیکھنے کے بعد..سو بہاریں ہی لکھتی ہوں..زندگی کی اتنی بہاریں دیکھنے کے بعد عمر کے اس حصے میں جب بالوں میں چاندی اور رنگت میں تانبا اترنے لگا ہے تو ایک بات سمجھ میں آئی ہے.کہ خود کو صحیح سمجھنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا..جتنا دوسرے کو غلط سمجھنا ہوتا ہے.اور اس سے بھی خطرناک اسے "صحیح" کرنے کی کوشش کرنا.اور سب سے خطرناک دوسروں کو اپنے بنائے ہوئے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کرنا انہیں اپنے مطابق چلانا ہے.لیکن یہ بات بہت دیر سے سمجھ آئی.
اب لوٹنا بھی چاہیں تو نہیں لوٹ سکتے نا؟؟ مجھے معلوم ہے تم اب بھی آنگن کے بینچ پر بیٹھ کر ستارے ڈھونڈتے ہوگے. پر اب میں چاہوں بھی تو اس بینچ کے دوسرے سرے پر بیٹھ کر تمہاری اٹینشن ڈائیورٹ نہیں کر سکتی.
خیر یہ کیا فضول ناسٹیلجیا لے کر بیٹھ گئی میں بھی.میں تمہیں کسی توقع کے بوجھ تلے نہیں دبانا چاہتی اس لیے نہیں تم توقعات پر پورا نہیں اترو گے.اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ تم پورا اترو گے. اب ہم کیسے بھی بے ضمیر سہی بے حس نہیں.
چلو خیر چلتی ہوں اب میں ایک تو یہ صفحہ ختم ہو رہا ہے دوسرا میں ہوسپٹل جا رہی ہوں. آج نائٹ ڈیوٹی ہے..وہ جس سے ہم سخت چڑتے تھے.
چلتی ہوں..
تمہاری_____
#سحرش.

اے سالِ کہن، تیرا شکریہ



ویسے اسے خود کلامی کہا جاسکتا ہے؛ یوں بھی جب سے ہمیں انٹر پرسنل کمیونیکشن کے بارے میں معلوم پڑا ہے، اپنا آپ ہیمنگوے کا کوئی کردار سا لگنے لگا ہے، جو دریا کی لہروں پر ڈولتی کشتی میں بیٹھا یا کسی پہاڑ پر چڑھتا خود سے باتیں کرتا ہو؛ روز شب کے قصے ماہ و سال کی باتیں.

لکھنے کو تو یہ خط ہم خود کو بھی لکھ سکتے تھے. نہ صرف لکھ، بل کہ اپنے ہی نام پوسٹ بھی کرا سکتے تھے، لیکن اب آپ ہی کہیں کیا اچھا لگتا ڈور بیل بجنے پر ہم دروازہ کھول آنے والے کو گھورنے کا شغل فرما رہے ہوتے؟ اور وہ کہتا، 148سحرش عثمان صاحبہ کا خط آیا ہے۔147 پوچھتے کس نے بھیجا ہے، تو جواب ہوتا، سحرش عثمان صاحبہ نے۔ ایسے بندہ تھوڑا سا شوخا لگتا ہے نہیں؟
لہذا ہم نے فیصلہ کیا، یہ دل کی کتھا؛ جانے والے سال کے نام خط لکھ کر بیان کی جائے۔ ایسے بندہ سیریس قسم کا کنسرنڈ رائٹر بھی تو لگتا ہے. سیریس تو خیر ہم یوں بھی بہت ہیں، جیسا کہ آپ سب لوگوں کو اندازہ ہے.

سو! پیارے دو ہزار سولہ، اچھا برا ساتھ رہا ہمارا؛ اب جا ہی رہے ہو، تو کچھ سنتے جاو. دیکھو! جیسے زرداری نے کہا تھا کہ تین سال والے ہمیشہ والوں کو تنگ نہ کیا کریں، تو ٹھیک ہے، بالکل ویسے ہی تم، جو ہم سے اتنی بد سلوکیاں روا نہ رکھتے، تو ہم آج یہ خامہ فرسائی کرتے؟ دیکھو بھئی سالو! خود بھی سمجھو، زندگی کو بھی سمجھاو؛ بھئی تم لوگ دوبارہ نہیں آنے کے؛ جب کہ ہم ایک زمینی حقیقت ہیں .. ارے! ہم نہ ہوں گے، کوئی ہم سا ہوگا. لہذا تم زرا اپنی اداوں پر غور کرو.
اب ان باتوں سے یہ مت سمجھ لینا، کہ بہت ہی کوئی اخیر ٹف ٹائم دیا ہے، تم نے ہمیں؛ اب ایسی بھی کوئی لٹ نہیں مچی، نہ تم ہی پٹواری تھے، نہ ہم پاکستانی قوم خزانہ؛ بچت ممکن تھی سو رہی.
وہ ہم سا ہی ایک کردار خود کلامی کرتا ہے نا، کہ انسان کو مارا جا سکتا ہے، ہرایا نہیں جا سکتا. سو تم بھی ہمیں شکست دینے میں ناکام رہے ہو۔
البتہ تمھاری موجودگی میں بہت سے رویوں کی خاک چھانی، ہم نے؛ بہت سے لہجوں کے دشت دیکھے، بہت سے تعلق مٹھی میں سے ریت کی طرح پھسلتے محسوس کیے؛ بہت سی آنکھوں میں اپنا عکس دھندلاتے دیکھا؛ کئی لفظوں میں لپٹے تیر اور لہجوں میں بچھے زہر بھی برداشت کیے. بے حسی کے مختصر زمانی اور صدیوں پر محیط ذہنی لمحے گزار کر ہم نے ناگوار چیزوں باتوں اور تلخ رویوں سے اوپر اٹھنا سیکھا. اور ہارے نہیں ہم. ہم نے اسی بکھری ہوئی خاک میں نئے منظر تراش لیے۔ انھی ٹھیرے ہوئے پانیوں میں امید کے پتھر پھینک کے زندگی کی ہلچل پیدا کی، اور پھر اس ہلچل میں خوابوں کی کشتیاں بھی چلائیں.

دیکھو تو! ہم آج بھی اتنے ہی خواب پرست ہیں؛ جتنے تمھارے آنے پر تھے. ہم نے کئی تعلقات کی امید نو پر مسکرانا سیکھا اور کئی رشتوں کی بے غرضی محسوس کی.
نئے خواب دیکھے نئے سپنوں کی کاشت کاری کی.
سو مختصر یہ کہ تمھارا شکریہ
تم نے ہمیں نئے خواب دیکھنا، ان پر یقین رکھنا سکھایا.
تمھارا شکریہ تم نے تلخیوں کو گوارا کرنا سکھایا.
خود غرضیوں سے اوپر اٹھنا سکھایا.
تمھارا شکریہ، کہ تم نے مجھے، میرے تعصبات کے دائروں سے باہر کی دنیا دیکھنا سکھائی.
اور تمھارا شکریہ، تم نے بہت سے غلط توقعات کو جلد توڑ دیا؛ تاکہ زندگی اپنے own پر جینا سیکھی جائے.
اور تمھارا شکریہ، کہ تم نے ہارنے نہیں دیا۔