Pages

Monday, 21 November 2016

لفظوں کا دکھ




اور ان لفظوں کا کیا ہوتا ہے جو جملوں میں نہیں ڈھل پاتے.وہ خیال جو اندر طوفان برپا کر کے چپکے بیٹھ جاتے ہیں.وہ احساس جو حرفوں میں نہیں سماتے.
اس وحشت کا قصہ کون سنائے اور کیسے؟ جسے کوئی روزون نہیں ملتا کھڑکی نہیں ملتی رستہ نہیں ملتا وہ جو اندر ہی اندر لاوا بنتی رہتی ہے..جو اندر ہی بہہ کر من خاکستر کر دیتی ہے.کہنے والوں کے دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں انہی کی طرح. احساس کو گویائی نہ دے پا سکنے کا دکھ.لفظ کے تنہا رہ جانے کا دکھ ان کہی نظموں کا دکھ نہ سنی جا سکنے والی کہانیوں کا دکھ.اور آواز کے گویائی نہ پانے کا دکھ.

Tuesday, 15 November 2016

Can I lay by your side?



نیندسے لڑتے جھگڑتے جب کھڑکی کےپاس جاکر ٹھکانہ بنایا تو باہر اکتوبر کی اولین راتوں کا سحر پھونکتا آسماں منتظر تھا۔گہرا نیلا خاموش آسمان اور چپکے چپکے، چمکتےتارے جیسے ان کے زور سے چمکنے سے منظر ٹوٹ جانے کا خوف لاحق ہو۔  کھڑکی کی گرل کھولنے سے پہلے دیور پہ لگے اے سی کی طرف دھیان گیا جو ہر صورت کمرے کو "رہنے"کے قابل بنائے رکھتا تھا۔ کولنگ خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر بند کھڑکی پر پردے گرا کر خود باہر چلی آئی۔ ٹیرس کی دیوار کے ساتھ ساتھ پھیلتی بوگن ویلیا، 
دیوار کے ساتھ گملوں میں پرپل زینیا جس کے درمیان میں گہرا سبز رنگ تھا۔ جو اس کے پرپپل اور ایمرلڈ گرین ڈریس کا ڈیزائنر بھی تھا۔ گیٹ کے پول پر لگی دودھیا لائٹ کا ہلکا تاثر جو منظر واضح تو نہیں کر پارہی تھی مگر اس کی موجودگی چیزوں کو ان کی ساخت پر قائم رکھے ہوئے تھی۔
لائٹ کو دیکھتے ہی اسے اسکا کا کہا ہوا وہ جملہ بھی یاد آیا کہ تم لان میں لگی لائٹ  جیسی ہو، جسے بجھا دیا جائے تو ہر شئے بے معنی ہو جاتی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمہیں تو اداس ہونے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ تمہارے ساتھ اداسی بالکل نہیں جچتی۔ جیسے چھم چھم برستی بارش میں اچانک سورج نکل آئے اور ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ تک اپنی اہمیت کھو دے
کین کی کرسی پر بیٹھ کر یہ جملے یاد آئے تو مدھم سی مسکراہٹ لمحہ بھر کوچہرے پہ آئی اور پھر معدوم ہو گئی۔ گویا مسکرانا بھی کوشش سے پڑنا ہو۔ اور اب وہ اکثر اداس رہتی ہے۔گویا منظر پگھلاتی رہتی ہے. موم کی صورت جس میں دھاگا جلتا رہتا ہے اور وہ پگھل پگھل کے ہستی کھوتی رہتی ہے۔ناآسودہ خواہشات ان کہے لفظوں کی کوئی نظم اس کے اندر بھی تڑپ تڑپ کے ہستی کھوتی رہتی ہے اور وہ کاغذ قلم پکڑے یہ سوچتی رہتی ہے۔ لکھ دئے وہ سارے احساس جو اسے مسلسل تخلیق کے کرب میں مبتلا رکھتے ہیں۔لیکن لفظ بھی کہاں تک ترجمانی کرتے اس بے انت درد کی۔اور بظاہرکسقدر نارمل زندگی تھی اس کی بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے قابل رشک،
وہاں بیٹھے اس منظر کا حصہ بنے، نہیں معلوم کتنا وقت گزرا تھا۔ بس اتنا معلوم تھا کہ آسما ن پر دمکنے والے ستارے اس کی چشم حیراں میں آن بسے تھے۔وہ سارے ستارے ایک ایک کر کے ٹوٹنے کو تھے۔ وہ جن کو آنکھوں میں بسا کر آغاز سفر کیا تھا۔اس سے پہلے کہ یہ متاع شہاب ثاقب میں بدل کر زمیں کی گہرائیوں میں روح سے عاری جسم کی طرح بسیرا کرتے اس نے بات کرنے کا،سمجھانے کا اور اپنا نکتہ بتانے کا فیصلہ کرلیا
ارادے کے بعد کا اطمینان لیے آسمان کے ستاروں کو چاندنی کے اور زینیا کے سبز اور کاسنی رنگ کو پول پر لگی لائٹ کے حوالے کر کے کمرے میں چلی آئی
اگلی صبح کا سورج ارادے اور عزم کی روشنی لیے ہوئے تھا۔ اسی زینیا   جیسا سوٹ پہنے نفاست سے میک اپ کیے جب وہ گھر سے نکلی تو مصمم ارادے کے ساتھ فتح کی امید سے دل معمور تھا۔ویسے امید بھی کیا بری شئے ہے انسان کو جیتے رہنے پر مجبور کرتی رہتی ہے
شہر کی مصروف سڑک پر موجود اس کے آفس میں بڑی سی میز کہ سرے پر دھری کرسی پر بیٹھی وہ اس مصروف ترین شخص کو دیکھ رہی تھی اور جملے ترتیب دے رہی تھی۔ اس شخص کے لیے جو اس کہ لیے رفتہ رفتہ اے ٹی ایم مشین میں بدلتا جا رہا تھا۔ جس میں سے وہ حسب ضرورت روپے نکال کر " زندگی" خریدتی تھی___ وہ جس کے خواب الگ الگ تھے۔ وہ جسے بسی بسائی دنیا میں اپنا مستقبل "روشن" رکھنا تھا۔ وہ جو چھٹیوں پر بھی جاتا تھا تو دبئی یا لندن۔ کہ چھٹیاں توآسائش سے گزرنی چاہییں ارلی گرے ہوجانے والے بالوں کو سلیقے سے جمائے۔ ارلی گرے بھی خوب اصطلاح ہے...جب دن رات آٹھوں پہر مقابلہ جیت جانے کی دھن سوار ہو تو گرے چھوڑ سلور بھی بچ جائیں تو غنیمت سمجھنا چاہیے__ عینک کہ پیچھے اس کی کسی فائل میں ڈوبی آنکھوں میں خود کو تلاش کی سعی لا حاصل میں وہ کہیں دوور نکل گئی تھی...فائل سے نظریں ہٹا اس نے آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تو حال میں واپس آتے ہوئے بے ساختہ خیال آیا
آہ! تمہیں یہ سمجھانا کسقدر دشوار ہے  کہ مجھے ان بسے بسائے سجے سجائے سیٹلڈ شہروں سے وحشت ہوتی ہے.مجھے لگتا ہے یہ "آسان" زندگی میرے اندر کا خواب پرست مار ڈالے گی...کیا میرے لہجے کی تھکن یہ بتانے کہ لیے ناکافی ہے کہ یہ سہولتوں کا انبار مجھے جینے نہیں دیتا.۔۔ تم نہیں سمجھ پاؤ گئے شائد
مجھے لگتا ہے مجھے سسی ہونا تھا۔پنوں کہ پیچھے تھل کی ریت چھاننا تھی...روحی کے کسی سرد ٹیلے پر زندگی کی شام بتانی تھی
کبھی یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ کسی پہاڑی دریا کہ کنارے کسی ٹری ہاؤس کہ نیچے کرسی ڈالے اکتارہ بجاتے ہوئے سپہریں کاٹنا تھیں..یہ تو نہ چاہا تھا کہ آدمیوں کہ ہجوم میں عمر بسر ہو..پر تم نہیں سمجھ پاؤ گے تمہیں لگتا ہے زندگی آسائش کا دوسرا نام ہے تمہیں یہ بھی لگتا ہے کہ سیٹلٹڈ شہروں کی رونقیں جاگتی راتیں مصروف دن زندگی کی علامت ہیں....
سنو! کسی دن صحرامیں رات گزارو ٹہرے ہوئے آسماں پر فسوں جگاتے ستارے ریت پر منعکس ہوتی چاندنی اور دوور کہیں بجتی بانسری تم۔ سحر کا مفہوم نہ جان جاؤ تو تو جادو کا لفظ ہی لغت سے نکال باہر کرنا۔
سنو تم جاگتی راتوں میں چمکتی، آنکھوں کو خیرہ کرتی مصنوعی روشنیوں کو ہی خوبصورتی سمجھ بیٹھے ہو....خوبصورتی دیکھنا چاہو گے؟؟؟ تو پھر کسی معصوم بچے کی شفاف آنکھوں میں ڈوبتا سورج دیکھو۔ اگر حیرت استعجاب ، خوشی، امید باہم یکساں مجسم خوبصورتی نظر نہ آئیں تو میں خوبصورتی کی تمہاری تعریف کو مان لوں گی
تم ایک دفعہ کسی دوست کا ہاتھ تھام کہ ان شہروں سے نکل کر کسی ویرانے میں جا بسرام تو کرو۔ زندگی کاٹنے اور جینے کہ درمیان فرق سمجھ جاؤ گے..دیکھو!! بڑا گھر بڑی گاڑی، بڑا بینک بیلنس یہ ہی تو زندگی نہیں۔ کسی دن چوٹی پر چھوٹا سا کیمپ اس میں راڈ سے پانی گرم کر کے کافی اور اس کافی میں ڈبوئے سخت بسکٹ کھا کر دیکھو تم زندگی محسوس کرو گے
تم ایک بار ایک بار میرے ساتھ چلو ہم دریا کہ ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ریت پر بیٹھ کہ پانی میں بنتے بگڑتے.بھنور دیکھیں گے۔ اگر یہ سب مایا اس بھنور جیسا نہ لگا تو میں تمہاری دنیا میں پلٹ آؤں گی۔ پر آسائش آسان زندگی والی دنیا میں۔۔ لیکن ایک بار چلو تو سہی۔اس کے اندر کی دیوانی  لڑکی منظروں کی دلیلوں کے انبار لگا رہی تھی اور وہ ہونٹوں پر چپ کی دبیز تہہ لگائے بیٹھی تھی۔اندر کی شوریدہ سری نے سرپٹخا اور اس نے کہنے کے لیے لب کھولے اور تو بس یہ کہا ، دیر ہو گئی ہے۔کیونکہ دیر تو واقعی ہو چکی تھی وہ زندگی کی ان منزلوں کی مسافر ہو چکی تھی جن راہوں کا سب سے بڑا خوف اظہار کے بعد کی بے توقیری ہوتا ہے۔ وہ کہہ کہ لفظوں کا مان نہیں گنوانا چاہتی تھی
اگر اس نے حسب معمول میرے محبتوں کے سارے فلسفے چٹکی میں اڑادیے تو__ کیا اس کے بعد جینا ممکن ہوگا؟ 
چلیں، کی آواز نے اس کے خیال کو بریک لگائی اور وہ دیوانی اس کہ ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی__ کیونکہ سمجھداروں کو دیوانگی سمجھانا کسقدر مشکل ہوتا ہے یہ کوئی "دیوانہ" ہی سمجھ سکتا ہے.

Sunday, 13 November 2016

ورچوئل دھشت گردی


جیسے شہباز شریف نے لاہور میں سڑکوں اور پلوں کااور جیسے کیبل نیٹ ورکس نے ملک میں "فحاشی"کا جال بچھا رکھا ہے.

بلکل ایسے ہی دو جڑواں شہروں میں ہمارے کزنز کا جال بچھا ہوا ہے.
شہر کےکسی بھی کونے میں چلے جائیں کوئی نا کوئی کزن دانت نکالتا ہوا برآمد ہوتا ہے اور امی ابا سمیت پورے خاندان کی خیریت معلوم کرنے لگتا ہے.جیسے ہم سارے خاندان کے جملہ امور صحت و تعلیم کے سپوکس پرسن ہیں .وہ تو بھلا ہو گاگلز ایجاد کرنے والے کا۔۔. رب اس کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین.
جن کو لگائے ہم کینہ توز نظروں سے انہیں گھورنےکے با وجود چہرے پہ جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں کے تاثرات سجائے بے مروت سے پھرنے کی کوشش کرتے ہیں.وگرنہ تو ہمہ وقت واٹس ایپ کی آنکھیں اوپر کی وی سمائیلی جیسا فیس بنا کہ پھرنا پڑتا۔۔.
کبھی کبھی ذہن میں خیال آتا ہے، دل میں اس لیے نہیں آتا کہ جب ذہن میں خیال آ سکتا ہے تو کیوں خوامخواہ دل کو زحمت دی جائے؟ ویسے بھی بیچارہ دن رات صبح شام آٹھوں پہر خون پمپ کر کر کے تھک جاتا ہوگا اوپر سے ہم اس سے ایکسٹرا ڈیوٹیز کراتے پھریں. بھئی ہمارا دل کوئی ڈاکٹر یا ٹیچر نہیں نہ ہم سی ایم، جو اس سے اتنا برا سلوک کریں.لہذا ہم خیال ویال ذہن میں ہی لاتے ہیں.کہ وہاں یوں بھی سارا دن فسادی منصوبے بنتے رہتے ہیں سو کافی وقت مل جاتا ہے وہاں خیال لانے کا.
ہاں تو ہم بتا رہے تھے کہ ذہن میں خیال آتا ہے کہ جانے کون لوگ ہوتے ہیں جن کے دو دو چار چار پانچ پانچ کزنز ہوتے ہیں یہاں تو برائی کی طرح ہر سو پھیلی ہوئی عوام ہمارے کزن کے عہدے پر فائز ہے. اگر ہم صرف آج تک کی، ان کی ہمیں کی گئی سلامیاں ہی گنیں تو شمار مشکل ہو جائے۔۔ اس سے حساب لگائیں اگر سلام دعا کی کوئی فیس رکھ لیتے تو آج چھوٹے سےبل گیٹس ہم بھی ہوتے اور اگر یہ سلامیاں توپوں کی صورت میں ہوتی تو آج اپنے اسلحہ ڈیپو کے مالک ہوتے ہم۔۔.ارے بھئی توپ لے کہ رکھ ہی لیتے نا ہم؟ اب اتنے آتشیں "اسلحے" کے سامنے کون جرات کرتا توپ چلانے کی؟
یادش بخیر جب فیس بک پر اکاؤنٹ بنایا تو تقریبا ہر شام صدماتی کیفیت ہوتی. وہ کزن جن کے آنے پر ہم جوس بھی اماں کی شدید گھوریوں خاموش دھمکیوں کے بعد طوعا کرہا سرو کرتے تھے وہ بھی فرینڈز ریکوسٹ بھجوا رہے تھے اور انباکس میں آ کر تعارف بھی.اس سے پہلے کہ ہم ایک خط بنام مارک زخربرگ لکھتے اور اپنے تخفظات سے اسے آگاہ کرتے کہ بھیا یہ ان سب نمونوں کو کاہے اپنی ویب سائٹ پر دندناتے پھرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کوئی لگام وگام ڈالو انہیں کم از کم ان لوگوں سے انباکس ہی چھین لو کہ کسی نے چپکے سے سرگوشی کی کہ بی بی اگنور کیوں نہیں کرتی ہو سب کو. 
اور بلاک کس نے کری ممنوع
کردو اچھی لگتی ہو.
سو ایک کرائیٹیریا سیٹ کیا ہر انباکس کرنے والے کزن/فیلو کو بلاک کرنا شروع کردیا جس کے بعد سے فیس بک ایسی پرسکون لگنا شروع ہو گئی کہ بس.اس سے پہلے کہ کل عالم کو بلاک کر کے ہم گلیاں سنجیاں کر لیتے۔۔۔ بلاک شدگان و دیگر کو ہم فیس بک پر ویسے ہی لگنے لگے جیسے وہ ہمیں اصل زندگی میں لگتے ہیں یعنی کے زہر.:-P یوں فیس بک پر ہمارا سیلکیٹو سوشل ہونا قائم ہی رہا.
آج یہ سب اس لیے یاد آیا کہ فیس بک کے گزرے ماہ و سال میں بہت اچھے لوگوں سے واسطہ پڑا اچھے لوگ ملے ہمیں اپنی خامہ فرسائیاں لکھنے کا ان پر داد پانے کا موقع ملا ہم بھی تھوڑے کم "فلیم ایبل" ہوگئے.سوشل میڈیا یا فیس بک کا کہہ لیں جو سب سے بڑافائدہ ہوا وہ یہ ہوا کہ پیارے لوگوں سے تعلق بنا سیکھنے کو ملا.
ان سب کے باوجود دو چار دن بعد کہیں نا کہیں سے صدااحتجاج بلند ہوتی ہے ہمارے ریکوسٹس اگنور کرنے کی...تو پیارے دوستو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم کوئی توپ شئے تو ہیں نہیں جن سے کچھ سیکھنے ویکھنے کو ملے بھئی بد تمیز سی لڑکی ہیں سو اس لیے چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں کا وقت توقعات اور رائے کھوٹی نہ کی جائے.
بلکہ آپ سب کو اپنے فسادی منصوبوں سے بھی محفوظ رکھا جائے..کیونکہ یہ بتانا بھول ہی گئی ہمارے دوست ہماری ٹوٹل سوشل سائینسز کی تجربہ گاہ کے عہدے پر بھی فائز ہوتے ہیں۔۔ مین وائل ہم اپنی وال پہ ان کے کامنٹس کو خوش آمدید بروزن تیا پانچہ کرتے رہتے ہیں دوستوں کے خاکے)(الٹے سیدھے) لکھنے اور پھر ان پر قائم.رہنے میں بھی ہمیں خاص قسم کا سکون ملتا ہے.اور وہ دن تو ہم ناکام ناکام محسوس کرتے ہیں انٹرنیٹ استمال کرنے کا مقصد ہی فوت ہوا لگتا ہے جس دن ہم اپنی گوناں گو صلاحیتوں سے کسی نا کسی دوست کو اوفینڈ نہ کر لیں. اور جب کچھ نہیں بن پڑتا تو ہم شاعری کرنے لگتے ہیں الٹی سیدھی نظمیں لکھتے پوسٹ کرتے ہیں اور نہ صرف پوسٹ بلکہ خاموشی کی زبان میں باقاعدہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ اس شاعری نما کو نہ صرف شاعری سمجھا بولا مانا جائے بلکہ اس کی تعریف بھی کی جائے. مختصرا کہیں تو یوں کہ ہمارے ساتھ ایڈ سب معزز لوگ "سواریوں کی طرح اپنے سامان" کی حفاظت کی ذمہ دار خود ہے۔ انتظامیہ کسی قسم کے نقصان کی ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکاری ہے.

پیلے پتوں والا پل


سردیوں کی بارش میں دھندلے بادلوں میں جب پیلے پتوں والے اورنج پل پر ہاتھ تھامے میں اور تم واک کیا کرتے تھے۔ تو کیسا ٹہرا ٹہرا پورا منظر ہوا کرتا تھا۔ہر چیز ہمارے ساتھ سست قدم ہو جاتی تھی۔ بارش کی قطرہ قطرہ مدہم مدہم گرتی پھوار، آہستہ آہستہ محو سفر بادل، بھیگے بھیگے گیلے پتے اور وہ میری سرخ چھتری

تم پوچھتے تھے نا؟ یہ تم سرخ چھتری کیوں لے آتی ہو..تو سنو! مجھے رنگوں سے عشق تھا۔مجھے ہر منظر ہر سو رنگ دکھائی دیتے تھے۔ خوشبو سنائی دیتی تھی۔ اب تم کہو گے پاگل پن ہے یہ۔پر تم نہیں سمجھو گے
عشق وہ ساتویں حس ہےکہ عطا ہو جس کو
رنگ سن جاویں اسے خوشبو دیکھائی دیوے
اور وہ بھی تو عشق کا دیوانہ پن تھا نا روز سر شام اسی پل پر ہاتھ تھام کے چپ چاپ چلتے رہنا۔ خاموشی کی زباں میں سارے جہاں کی باتیں کرنا۔ تم خود ہی سمجھ جاتے تھے کہ موڈ آف ہے میرا۔ تو کبھی میں اچانک پوچھ لیتی، لو  ساؤنڈ کیوں کر رہے ہو؟ تم پوچھتےتھے کیسے اندازہ ہورھا؟؟ میں مسکراتی کہ بولے۔۔۔ اور تم اداسی بھول کر ہنسنے لگتے۔کتنے پیارے دن تھے۔۔۔۔
سنو تم پھر سے اسی ہل سٹیشن پہ پوسٹنگ لے لو۔ اسی ریسٹ ہاؤس کو دوبارہ سے گھر بناتے ہیں۔اور اسی پل پہ چل کر ایک ساتھ نئے خواب بنتے ہیں۔ یہ بڑے شہر ان کے تقاضوں، سہولتوں کی فراہمی نے تو تم سے تمہاری نرمی اور مجھ سے میری دیوانگی ہی چھین لی ہے۔
سنو ہمیں اس دنیا کے معیار فالو نہیں کرنے۔ میں اور تم خواب پرست ہی اچھے۔ کم از کم وہاں سانس لینے کی تو آزادی ہے، سر خوشی توہے اور سب سے بڑھ کر میں اور تم اک دوجے کو میسر تو ہیں.
سحرش

Tuesday, 8 November 2016


شکایت_نامہ


سوچتی ہوں کیا مجھے واقعی شکایت نہیں کیا.ایسا نہیں ہے مجھے شکایت نہیں.پر جان من شکایت تب کروں جب تم شکایت سننے پر آمادہ ہو.تم تو یہ طے کر چکے ہو کہ تم صحیح اور کل عالم غلط ہے.درحقیقت تم صحیح ہونے کے زعم میں مبتلا ہو.تمہیں یہ بھی لگتا ہے کہ تمہارے سوا سب جھوٹے منافق ہیں.

سنو ایسا نہیں ہوتا..اکثر لوگوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں جو وہ چاہ کر بھی اظہارِ تمنا نہیں کر پاتے.اور مجبوریاں نہ بھی ہوں تو بھی ہم آپ کون ہیں بھلا ان پر اپنی مرضی تھوپنے والے انہیں یہ بتانے کہ ہمارے طے کیے ہوئے معیارات پر پورا اترو تو تمہیں "مومن" مانیں.
سنو ایسا نہیں کرتے یہ دنیا ہے جان من میرا تمہارا خواب نہیں جہاں ہر شئے ہماری مرضی کے مطابق ہو...سو لوگوں کو قبول کرنا اور خوبیوں خامیوں سمیت قبول کرنا سیکھ لو تا کہ شکایتیں کم کم ہوں مجھے تمہیں ہم سب کو.

Monday, 31 October 2016

کتاب کا مکالمہ


دوستوں کے درمیاں کتاب دوستی اور کتاب پڑھنے پر بات چل رہی تھی۔ مکالمہ ہو رہا تھا اور چونکہ اپنے دوستوں کی ہر بات سے اختلاف کرنا ہم اپنے فرائض منصبی میں شمار کرتے ہیں۔ سو اس سے بھی بالاآخر اختلاف ہی کیا۔ کیونکہ دوستوں کا خیال تھا کہ کتاب نہیں انسان پڑھنے چاہیں اور یہ کہنے والے ہمارے دوست تھے۔ سو ان کی باتوں سے ہمیں شدید اختلاف تھا۔جیسا کہ کسی سیانے کا قول ہے کہ بات کو دیکھنا چاہیے کہنے والے کو نہیں اور ہر کلاسک پاکستانی کی طرح ہمیں بھی عقل کی ہر بات سے کم و بیش اختلاف ہی ہوتا ہے۔لیکن یہاں مسئلہ یہ تھا کہ مکالمے کے اگلے فریق بھی ہمارے ہی دوست تھے جیسے کہا جاتا ہے جنس بہ جنس پرواز۔۔ تو آسانی سے مان جانا ان کی بھی فطرت میں شامل نہیں۔
 لہذا جب سوال جواب شروع ہوئے تو پوچھا انسان کیسے پڑھے جائیں؟ تو جواب آتا ہے جیسے ہم پڑھتے ہیں۔ جس پر تین کو منٹ ہنسنے کے بعد کہا گویا آپ اتھارٹی ہیں

دنیا کے سارے علوم ایک طرف اور آپکا طریقہ ایک طرف۔ مانا دوست ہیں آپ ہمارے پر ایسا بھی کیا لیوریج لینا
سو ان سب دوستوں کے لیے ہمارا نکتہ نظر جو یہ سمجھتے ہیں کہ کتابیں پڑھنا حقیقت پسندی سے دور لے جاتا ہے
تو دوستو سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ کونسی حقیقت؟ وہ جو آپ نے کتابوں میں پڑھی ہے۔ کتابوں سے سیکھی ہے یا زندگی میں گزارے آپ کے ماہ و سال کے روز شب سے کشید کی ہے آپ نے؟
اگر تو کتابوں والی حقیقت ہے تو پھر مسکرانے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے
لیکن اگر زندگی سے کشید کی ہوئی حقیقتیں ہیں تو پھر آئیے اسی پر بات کر لیتے ہیں۔ہو سکتا ہے میں نے سالوں میں عمر آپ سے کچھ کم گزاری ہو۔لیکن میں نے صدیاں ایسے ہی گزاری ہیں،جس میں زندگی اپنی پوری سفاکی، تلخی کے ساتھ موجود تھی اور جن میں کئی ان کہے درد آنکھوں کے راستے دل میں پیوست ہوتے ہیں
میں نے جنگ کی سفاکی سے متاثر ایک افغانی بچے کی آنکھ کی نفرت کو کتاب کے ذریعے بدلتے دیکھا ہے۔گلی میں پاپ کارن بیچنے والے بچے کو شوز پالش کرنے والے کو میں نے کہانی کی کتاب مل جانے پر مسکراتے دیکھا ہے
پتا ہے افغانی بچے کی آنکھ کی نفرت کو جن دنوں مہربانی میں بدلا تھا تو اس نے پہلا جملہ کیا بولا تھا؟؟ ہم کو پڑھنا سیکھاؤ
اور پاپ کارن والا بچہ جب کتاب واپس کرنے آیا تھا تو یہ پوچھنا نہیں بھولا تھا اور کتابیں ہیں۔ اور میں اس بچے کو عمران سیریز پہ لگانے کے متعلق سوچتے خود ہی مسکراتی رہتی ہوں
یہ تو تھیں وہ مثالیں جن کو سن کے آپ لوگ ہنستےہیں اور ہمیں خواب پرست سمجھتے ہیں۔یوں تو ہمیں خواب پرست کہلوانے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے.لیکن چونکہ آپ لوگوں کے خیال میں خواب پرست "پریکٹیکل" نہیں ہوتا. اور آپکا یہ بھی خیال ہے کتابیں پڑھنے سے ترقی "میٹریل اور فنانشل" ترقی کا سفر رک جاتا ہے.
تو کیوں نا اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر ہی دیا جائے.؟
آپ کو پتا ہے آپ لوگوں کے معیار والی مہذب دنیا میں سالانہ کتنی کتابیں چھپتی ہیں؟
چائنہ سالانہ چار لاکھ چالیس ہزار کتابیں چھاپتا ہے
یو ایس میں یہ تعداد تین لاکھ پچاس ہزار جبکہ یونائیٹڈ کنگڈم میں دو لاکھ کے قریب ہے
جبکہ ہم چونکہ زیادہ پریکٹیکل ہیں لہذا ہم سالانہ صرف چار ہزار کتابیں چھاپتے ہیں
اب آتے ہیں بک ریڈنگ کے ٹرینڈز پر یا ریڈرز کی تعداد پر
تو جناب چائنہ میں ہر شخص سالانہ اوسطا پانچ جبکہ امریکہ برطانیہ میں بلترتیب آٹھ اور دس کتابیں پڑھتا ہے
یہ تو تھا حساب کتاب
چلیے ایک اور بات سنیے آپ کو پتا ہے
مشہور سائیکولوجسٹ ڈاکڑ پال ایکومن مائیکرو ایکسپریشنز کے کو فاؤنڈر  لکھتے ہیں۔ جن بچوں کو بچپن سے کتابیں پڑھنے کی عادت ہو ان کا مشاہدہ دوسرے بچوں کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کتاب پڑھنے والے ٹین ایجرز میں ڈپریشن فرسٹریشن اور ایگریشن کم ہوتا ہے اور مجرمانہ رجحان نہ ہونے کے برابر۔ آپ کو پتا ہے پچھلے دنوں جب ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے منایا گیا تو کس چیز پر فوکس تھا بھلا؟؟ پاکستان میں یوتھ میں بڑھتا ہوا ایگریشن
اور یوتھ کے مجرمانہ رجحان پر کیا کہیں اور کیا نہیں تیرہ چودہ سال کے بچے اغوا برائے تاوان میں ملوث اور سترہ سترہ سال کے بچے قتل کے جرم میں جیلوں میں قید ہیں
خیر یہ تو تھی ضمنی سی حسابی باتیں
اصل بات بتاتی ہوں دنیا کے کامیاب ترین انسانوں کی مشترکہ عادات پر جب تحقیق کی گئی تو پتا ہے سب میں ٹاپ فائیو کامن عادتوں میں ایک کونسی تھی؟؟ ارے یہ ہی موئی کتاب، کتاب دوستی اس سے محبت
تو مختصر کہوں تو اپنے بچپن کی ایک نظم یاد آرہی ہے کہ
کتابیں باتیں کرتی ہیں، ہمیں انساں بنانے کی
کبھی اگلے زمانے کبھی پچھلے زمانے کی
مجھے اس بات کو ختم کرنا نہیں آرہا۔یعنی کتاب پڑھنے پر بھی دلیلں منطقیں اور فلسفے بگھارنا پڑیں گے..اففف کیسے کیسے دوست پائے ہیں ہم نے