Pages

Wednesday, 15 March 2017

ویرانی


میں نے پوچھا 'رہتے کہاں ہو؟'
فوراً بولا 'سڑک پہ، باجی ___'
الجھے بالوں، ننگے پیروں
میلے ہاتھوں، خالی آنکھوں والے
چھوٹے سے بچے نے
کیسی کڑوی بات کہی تھی
ہاتھ میں شاپنگ بیگز اٹھائے
سوچ میں ڈوبے
اپنے چہرے پر گرتی
بارش کی ننھی بوندوں سے
جاتی سردی کا لطف اٹھاتے 
چلتے چلتے__
اس کو دیکھ کے ٹھٹھک گئی تھی
جس کی خالی آنکھ نے مجھ کو 
کیا جانے کس خواب نگر سے
لا کر زمین پہ پٹخ دیا تھا
کیسی تلخی اور کیسا دکھ
اس کی آنکھ سے چھلک رہا تھا
بالکل جیسے پھول سے خوشبو
اور تتلی سے رنگ جدا ہو
یا جیسے بےنور ہو سورج
اور حسرت سے دیکھ رہا ہو
ویسا ہی ویران تاثر
اس کی خالی آنکھ میں بھی تھا
#سحرش_عثمان

Wednesday, 8 March 2017

یومِ نسواں؛ لیجیے مبارک باد

آج کے دن، گھر کی چار دیواری میں مستور سے چائے کا کپ بنوا کر، سوشل میڈیا پر باہر والی کے مرد کے ظلم پر ہم دردی جتانے والے تمام نیک دِل مردوں کو خواتین کا عالمی دن بہت بہت مبارک ہو۔
ابا، بھائی، یا شوہر کی کمائی سے انٹرنیٹ پیکج استعمال کرتے ہوئے، مرد کو کوسنے دینے والی، کہ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں، ایسی شیر دِل مسمات کو خواتین کا عالمی دن مبارک۔
آپ لوگ سدا ہنستے کھیلتے خوشیاں بانٹتے رہیں، دوستو۔ آپ ہی کے دم سے رونق ہے؛ وہ جو ہنستے کھیلتے لڑتے جھگڑتے، مستورات کے حقوق کی صدا بلند کرتے رہتے ہیں۔ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
سسرال سے لاکھوں کا جہیز لینے والے، سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق والی پروفائل پکچر لگانے والے، انتہائی شریف مہذب لڑکوں کو بھی یوم نسواں مبارک۔
دو تین لاکھ کا عروسی جوڑا پہن کر شادی کے مسائل پر گفت گو کرنے والی دُلھنوں کو بھی آج کا دن مبارک۔
جہیز میں آئی گاڑی میں بیٹھ کے عورتوں کے اسراف پر درس دینے والوں کو بھی مبارک باد۔
بیٹیوں کو محض ان کا مقام دینے کے لیے بیٹا پکارنے والے، معاشرے کے منافق افراد کا ساتھ دینے والے ماں باپ کو بھی مبارک۔
حلق کے پورے زور سے رب کے حکم سنانے والوں اور اسی حکم کی آڑ میں بیٹی کی اس کی مرضی و منشا کے بغیر شادی کرنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آج کا دن مبارک۔
ڈی پی پر پھول دھنک ستارے سجا کر
ان باکس میں رُخ روشن کا دیدار کروانے والیوں اور جلوہ دیکھنے والوں کو یہ سنہرا دن مبارک۔
کمینہ دیکھتا کیوں نہیں، اور دیکھ کمینی۔ والوں کو بھی مبارک۔
ٹریٹ بلیڈ سے لے کر ٹرک کے ٹائر کے اشتہار تک، خاتون کی موجودی کو مساوی حقوق کا نام دینے والوں کو مارچ کا یہ دن مبارک۔
آنسہ کو ان باکس میں اس کی اوقات بتانے والوں کو۔ بیٹے، بھائی کے لیے اپنی ہی جنس کا رنگ قد دانت بال ماپنے والیوں کو۔ تمھی‍ں، تمھاری جاب پر۔ آج کے خصوصی دن مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔
صاحبہ کو اس کے پروفیشن کے خانوں میں تقسیم کرتی سوچ کو مبارک۔
محبت کے وعدوں میں کسی کے سیلف ایسٹیم کو روندنے والو! تمھیں بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ سو مبارک باد قبول کرو۔ آج کا سورج تمھاری انا کو گنے کا رس پلانے کے واسطے ہی تو طلوع ہوتا ہے۔
اور ہاں۔ کیا کسی کو وہ لفظ یاد ہیں؟
اور تم میں سے کچھ لوگ جب بیٹی کی پیدائش کی خبر پاتے ہیں، تو ان کے چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ 
ان رُوسیاہوں کو بھی مبارک باد۔
آج کا دن ہر دوغلے کے نام۔
ہمیں دوغلے رویوں سے پیار ہے۔ ہم سبھی تھوڑے سے۔ ذرا سے۔ معمولی سے۔ دوغلے ہیں؛ ہے ناں؟

Wednesday, 8 February 2017

عورت کا کرب ۔۔۔ تفصیلی خبر




بہت دن ہوئے میں نے آئینہ نہیں دیکھا۔ اب تو خود سے نظریں چرا چرا کر تھک گئی ہوں۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب  اپنے آپ سے بھی کچھ چھپانا پڑے۔ جب کسی بات کو آپ خود سے بھی بیان نہ کر سکیں۔ جیسے  اپنا آپ بھی محرم نہ رہا ہو۔ مجھے معلوم نہیں میرا تخیل تھا یا کوئی خواب، لیکن میں ایمبولینس کی سفاک خاموشی کا حصہ تھی۔ اس کا نام ؟۔۔۔۔ وہ عورت جو ایمبولینس کے اندر لیٹی تھی اس کا نام صائمہ تھا۔۔۔ یا پھر شائد سنبل تھا۔۔بے حسی میری یاداشت کھاتی جا رہی ہے۔ اس عورت کا نام مقدس تھا شائد ۔۔۔ یا پھر بے نام تھی وہ۔ عمر یہی کوئی چھ سال۔
جی ہاں ۔۔۔چھ سال، یا شاید اس سے بھی کم
جب اس عورت کو آئی سی یو میں شفٹ کیا جانے لگا تو میں نے دیکھا کہ اس کی کلائی ہاتھ کی گرفت سے پھسلی جا رہی تھی۔ کلائی پر نبض والی رگ کاٹنا چاہی ہوگی اس حاکم نے۔ عورت کو یوں بھی جینے کا حق کم ہوتا ہے۔ جب سٹریچر کے ساتھ ساتھ چلتے میں نے ڈاکٹر کا یہ جملہ سنا کہ خون کی بھی ضرورت پڑے گی تو مجھبے اچنبھا سا ہوا۔ اس بے جان لاشے کو خون لگائیں گے یہ ڈاکٹرز؟ وہ میری آنکھوں کی حیرانی ہی ہوگی جس کوپڑھ کر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ زندہ ہے۔ کٹی گردن، کٹی کلائی، لٹی عزت، کھویا بچپن، خوف، بے چارگی، بے بسی، بے اختیاری کے ساتھ دس سے بارہ گھنٹے کچرے میں رہ کر کوئی عورت ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ سخت جان، بے حس عورت
مجھے نہیں پتا یہ پڑھ کر آپ کیا تاثر لیں گے۔ مگر اس ایک جملے کے بعد میرا ہاتھ تھم گیا تھا ۔۔۔خدا جانے کتنے زمانوں کے بعد میرا ذہن ان سطروں کو لکھنے پر آمادہ ہوا ہے۔ پر کس قدر خود غرض ہوں نا میں۔ بات میرے تخیل پر آئی ہے تو مجھے درد کا احساس ہوا ہے۔ میرے لفظ،قطرہ قطرہ درد کشید کرتے، ذرہ ذرہ مرنے لگے ہیں تو میرا کرب جاگا ہے ۔ اس کے درد کا کیا؟؟ جو جانے کتنے زمانے درد کے جہنم میں گزار کر لوٹی تھی۔ اس زندگی کا کیا قصور تھا؟ کیا ہم سب اس سوال کے لیے جوابدہ نہیں ہیں؟ کیا ہم سدا یونہی درندگی کے جواز تراشتے رہیں گے؟
 کیا اب بھی ۔۔۔۔ اب بھی نہ جاگیں گے ہم؟ خدا جانے ان سوالوں کی بازگزشت میں کتنے برس لگیں گے ہمیں۔ خدا جانے درندگی کے مزید کتنے باب رقم ہوں گے اور کب ہم اس بات کو قبول کریں گے کہ ہمارے بچوں کو اب آگاہی دینا لازم ہے۔ آگاہی ۔۔
 سرجری ٹیبل پر لیٹے وجود نے سسکی لی تھی اور سرجن نے جھرجھری۔ میں نے گردن گھما کر سرجن کی طرف دیکھا تو پیرا میڈیکل سٹاف میں سے ایک شخص گویا ہوا پچھلے تین گھنٹے سے اس عورت کی سرجری جاری ہے۔ پرت در پرت اس کی جلد کو جوڑتے، ٹانکتے، مرمت کرتے، سرجن جب تھک کے کرسی پر بیٹھے تو کتنے زمانوں کی تھکن رقم تھی ان کی آنکھوں میں۔ جیسے وہ ہمت ہار گئے ہوں پرت در پرت بچپن جوڑتے ۔۔۔۔۔۔۔ بچپن بھی جڑا ہے کبھی؟؟ سائیکولجسٹس کہتے ہیں بچپن کا کوئی ناخوشگوار واقعہ تمام عمر ذہن پر نقش رہتا ہے۔ اور ہم کس قدر سفاکی سے کہہ دیتے ہیں چائلڈ ریپ وکٹم۔ نہیں، بچہ نہیں رہتا وہ فرد نہ ہی وکٹم۔ وہ جیتی جاگتی لاش بن جاتا ہے۔ چلتی پھرتی ممی ۔۔جی چاہتا ہے سارے آرکیالوجسٹس سے پوچھوں وہ اہرام میں کیا تلاش کرتے ہیں؟؟ کیمیکلز لگے بے جان لاشے؟ آئیں تو میں انہیں یہ چلتی پھرتی ممیز دکھاؤں۔ اپنی لاش کا بوجھ اٹھائے دن سے رات کرتے ہوئے وجود، جن کی آنکھوں کے رنج، اداسی کے سامنے ساری دنیا بھر کے درد چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔
میرا جی چاہتا ہے یہاں وہ ساری تفصیلات لکھ دوں۔ تفصیلات___ کتنا حسابی کتابی سا لفظ ہے نا؟؟ نفع کا حساب، نقصان کی تفصیلات، تباہی کا چارٹ۔ مگر کیا کروں، جسمانی درد کی تفصیل اس کے نقصان کے شمار کو تفصیلات ہی کہوں گی۔ بڑی بے درد زبان ہے ہماری بھی۔ کوئی جان سے جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں انتقال فرما گیا ہے۔ لیکن یہ تو اچھا لفظ ہے اس جہانِ خراب سے جانا کوئی ایسا خسارہ بھی نہیں ہے۔ جی چاہتا ہے وہ سب لکھ دوں جو ریپ وکٹم بچے اپنی باقی زندگی میں سہتے رہتے ہیں۔ وہ سارے درد، سارے دکھ، ساری تکلیفیں لکھ دوں۔ جی چاہتا ہے کہ بتاؤں ۔۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ بچیاں مائیں بننے سے انکاری ہو جاتی ہیں۔ پتا ہے عورت کے لیے ماں بننا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کوئی عورت ماں بننے سے انکار ہی کردے تو کوئی تو درد ہوگا نا جو حد سے گزرا ہوگا۔ ہوس کا کیسا انگارہ تھا جو کوکھ جلا کر خاکستر کر گیا؟ اور ہمارے چینلز پر تین وقت خبر چلتی ہے، بخار کی ٹیبلٹ کی طرح ۔۔۔۔۔۔ صبح، دوپہر، شام۔
سرجن نے بہہ چکے خون کا حساب لگا کر کلائی کا بازو سے ناتا بعد میں جوڑنے کا فیصلہ کیا اور شریانوں کو عارضی مرمت کے بعد پٹی میں قید کر دیا۔ نرس نے سرنج میں دوا کا محلول بھرا تو میرا دل حلق میں آ گیا۔ کیا اتنی لمبی سرنج گھسائے گی اس معصوم جان میں؟ اور کسی نے سوال در سوال پوچھا، اب تم سرنج کے چبھنے پر نوحہ خوانی کرو گی؟ سوال کے لہجے کی سفاکی نے میرے لفظوں سے مفہوم کھینچ لیا۔ کبھی کبھی ہم خود سے بھی بے رحمی کے ساتھ پیش آتے ہیں نا۔ جیسے خود سے بھی صلہ رحمی کا تعلق نہ رہا ہو۔ ویسا ہی بے رحمی کا تعلق تھا اس وقت۔ گلے پر پٹی باندھے، آنکھیں موندے، ہوش سے ورا، وہ ننھی جان ۔۔۔۔۔۔ خواب و خیال میں کسی تتلی کے پیچھے بھاگ رہی ہو گی۔ اور تتلی کے اڑ جانے پر انگلیوں پر لگے اس کے پروں کے رنگ دیکھتی ہو گی۔ اسے کیا معلوم کہ ہوش کی دنیا میں اب وہ خود رنگ اڑی تتلی کی مانند ہی جیئے گی۔ یہ سنگدل، بے حس، بے رحم معاشرہ اب اس شیطان صفت درندے کی ہوس کی سزا بھی اسے دے گا۔ اب اس کے لیے سب سے دوستانہ رویہ، کسی کا ترحم بھری نظروں سے دیکھنا ہوگا۔ اڑتالیس گھنٹے بعد وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔ سرجن نے دوسرے ڈاکٹر سے مشورہ لیتی نظروں سے دیکھا۔ ڈاکٹر نے اثبات میں یوں سر ہلایا گویا پوچھ رہے ہوں اڑتالیس گھنٹے گزار پائے گی۔ یہ سخت جان عورت؟
آپریشن تھیٹر سے آئی سی یو میں لے جاتے سارے ڈاکٹرز اور عملہ ایک ایک کر کے او ٹی چھوڑ گیا۔ میرے خیال کے جہنم نے مجھے او ٹی سے اٹھا کر معاشرے کے کرتا دھرتا معزز اشرافیہ کے روشن طبقے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس پر مجھے قدیم روم کے ایوانوں کا گمان گزرا، جہاں طاقت کا قانون پاس ہوا تھا کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ اتنے اختیار کا مالک ہوگا۔
غیر قانونی چھینک آنے پر سؤو موٹو نوٹس لینے والی عدالتیں بھی نظر آئیں۔ جہاں سب بونے سر جوڑے حاکم کی تدبیر کو خدائی حکم ثابت کرنے پر تلے تھے۔ جہاں جا کر صرف ایک بات یاد رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب حشر میں کوئی اٹھ کر پوچھے گا کس جرم میں میری روح تار تار کی گئی تو کیا سارے خدائی فوجدار جواب دے پائیں گے؟ کہ جب ہم ضعیف سے ضعیف حدیث پر حلق کے پورے زور سے تطبیق تطبیق پکارتے تھے تو اپنی مرضی کو رب کا حکم بتاتے تھے، تب ہم اس جرم پر خاموش کیوں رہے؟ اور کیا میں جواب دے پاؤں گی کہ میں ہر معاملے میں ایمان کے کمزور ترین درجے پر ہی فائز رہی___کیوں؟
عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ آئی سی یو سے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ وارڈ میں گئی تو ہاتھ بازو گردن پٹیو‍ں میں جکڑی عورت نیم دراز تھی۔ اسے دیکھا تو ہونٹ خفیف سی مسکراہٹ کے دباؤ سے پھیلے تھے جیسے مجھ سے پوچھ رہی ہو 
تیرے ہر رویے میں بد گمانیاں کیسی؟
جب تلک ہے دنیا میں اعتبارِ دنیا کر

Thursday, 2 February 2017

سیلون میں ہمارا شریکا نکل آیا۔۔۔




گو کہ یہ اپنی ذات میں ایک بڑا واقعہ ہے کہ ہم کسی ایسی جگہ پائے جائیں جہاں جاتے ہوئے عام لڑکیاں انتہائی مسرت کا اظہار کرتی ہوں۔ خیر کسی کام سے ہم پھرتے پھراتے سیلون جا نکلے۔ بیسمنٹ کے کاسمیٹکس سٹور پر باڈی شاپ اور لوریل کی پراڈکٹس کو دیکھتے اور ساشے کی انوینٹر اس معمولی دکاندار کی بیٹی کی اس کاوش پر سر دھنتے، جانے ہم کس دنیا میں جا نکلتے جو سیڑھیاں اترتی ایک عدد ایکس ایل آنٹی سے ٹکراتے ٹکراتے نہ بچتے۔ چونکہ سیلون لے جانے سے قبل ہم سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ ہم کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہیں فرمائیں گے سو ہم آنٹی نما اس لڑکی سے یہ پوچھتے پوچھتے رہ گئے کہ باجی نیو خان یا نیازی ٹریولز؟؟ جی بالکل، انہوں نے ٹرک کے فرنٹ پر لگی، فزکس کے قانون کو مینج کرتی زنجیر کی مانند ایک عدد ماتھا پٹی چہرے پر سجا رکھی تھی۔ آنکھوں پر رنگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ انتہائی نفیس سموکی میک اپ میں چار رنگوں کی بلینڈنگ کسی ہنر مند کی محنت کا پتا دے رہی تھی لیکن ان خاتون نے ساری کسر اورنج لپ سٹک اور بلش آن لگوا کر پوری کر دی تھی خاتون کا ڈریس اور اس پر لگے بے تحاشہ پرلز نے یہ راز کھولا کہ اورنج لپ سٹک بھی ان ہی کا انتخاب ہوگی۔



خیر ہم سیڑھیاں چڑھ کر ہیئر سیکشن میں تشریف لے گئے جہاں ہر طرف گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرنے واسطے مشاطائیں سر توڑ کوششوں میں مصروف پائی گئیں۔ اور چونکہ ہم یہ پوچھنے واسطے تشریف لے گئے تھے کہ یہ جو سر پہ بالوں کا ایک عدد گھونسلہ نما سا ہے اسے انسانی شکل دینے کا کیا قصہ ہے۔ آخر کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے؟ اور یوں بھی آجکل ہمیں کچھ ایسا کرنے کا شوق چڑھا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ بھی لے تو سوچے کتنا بدل گئی ہیں__لیکن جب وہاں سب کو بال کرل کراتے دیکھا تو دل سے بے ساختہ آواز آئی دنیا کسی حال میں خوش نہیں آنا بی۔۔ بہتر ہوگا سٹک لو۔



لیکن وہ آنا بی ہی کیا جو کسی نصیحت پر کان دھر لیں۔ لہٰذا وہاں سے ارادہ ڈگمگایا تو میک اوور سیکشن میں جا پہنچے وہاں جب رنگ و نور کو خواتین کے چہروں پہ برستے دیکھا تو بے ساختہ کسی پیر سے یہ سوال پوچھنے کا جی چاہا کہ ایسی کونسی نیکی ہوگی بھلا ان خواتین کی جو نور ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے؟ اور حسب معمول اس سوال کا جواب بھی دل ہی نے دیا۔ بی بی یہ نیکی نہیں ان کے شوہروں اور اباؤں کی محنت کی کمائی ہے، جو نمود نمائش اور جھوٹے مقابلے کی نذر ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کہ خواتین کے اس مقابلے میں ہمارا وعدہ اپنی طبعی عمر پوری کرجاتا۔ سینئر میک اپ آرٹسٹ نے ہماری آمد کا مقصد پوچھا۔ ہم نے سوال کیا ہمارے چہرے پر کیسا میک اپ اچھا لگے گا کہنے لگیں ہر طرح کا۔ یقین مانیے ہم بھی گویا یہی سننے گئے تھے۔ عرض کیا، جب ہر طرح کا میک اپ سوٹ کرے گا تو ہم گھر میں کر لیں گے۔

وہاں سے جب ہمیں باقاعدہ کھینچ کر باہر نکالا گیا تو فورس اور موشن کے قوانین کے عین مطابق ہم اگلے سیکشن یعنی فیشل این سکن ٹریٹمنٹ سیکشن میں پہنچے۔ پوچھا کیا ٹریٹمنٹ فرماتے ہیں آپ لوگ؟ جوابا چھ عدد بھاری بھرکم انگریزی الفاظ ایک ہی سانس میں بول کر بتایا گیا یہ۔ اور جب ہم نے اس کا ترجمہ اردو میں کر کے پوچھا کہ یہ؟ تو خاتون تقریباً برا مان گئیں ہم نے بہتیرا بتانے کی کوشش کی کہ بی بی انگریزی میں اچھے نہیں ہم۔ لیکن وہ کہنے لگیں کہ آپ ریسیپشن سے سلپ بنوا لیں جو ٹریٹمنٹ لینا ہے۔ ہم خواتین کے اس میک اپ اوبسیشن سے خاصے متاثر ہوئے اور اس سے تحریک پا کر ہم نے بھی اس ہجوم کا حصہ بننا چاہا۔ سیدھے گئے ریسیپشن، خاتون سے کہا مینی کیور کی سلپ بنا دیں۔ کہنے لگیں ساتھ پیڈی کیور مسٹ ہوگا۔ پوچھا کیوں؟ کہنے لگیں پیکج ہے، آپکو ڈسکاونٹ مل جائے گا۔ ہم نے بدتمیزی کا سدباب کرنے والے وعدے کو ایک منٹ کے لیے ہولڈ کرایا اور کہا بی بی آپکا ڈسکاونٹ اتنا اہم نہیں کہ اس کی خاطر میں کسی کی سیلف ایسٹیم پر پاوں رکھوں۔ کہنے لگیں یہ ورکر کی جاب ہے۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے باہر کی طرف چل دی کہ کس قدر بے ضمیر ہوتے جا رہے ہیں ہم مجبور کی مجبوری اور بے بس کی بے بسی کو اس کی جاب کا نام دیتے ہیں۔

یہ تو خیر کمرشل بے حسی ہے۔ آپ لوگ اسے پروفیشنل ایٹیچوڈ، بزنس ڈیمانڈ یا کچھ بھی کہہ کے خود کو تسلی دے سکتے ہیں۔ لیکن اس دوسری بے حسی کا کیا کریں گے؟ وہ جو ہم گھر میں اپنے لوگوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ایک شخص کو اے ٹی ایم بنا کر جو ہم اپنے لیے آسائشیں خریدتے ہیں وہ بھی تو بے حسی ہے۔ جب ہم اسراف کو ضرورت کا اور نمود و نمائش کو رسم دنیا کا نام دیتے ہیں، وہ بھی تو خود غرضی ہی ہے نا۔ اور جب کبھی کسی خاتون سے پوچھ لیا جائے کہ ایسا کیوں؟

تو کیا جواب آتا ہے ؟ شریکا۔

شریکا جینے نہیں دیتا

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اپنی زندگی ان لوگوں کو خوش کرنے میں، ان کے بنائے ہوئے پیمانوں پر پورا اترنے میں صرف کر رہے ہیں، جن کو ہم سرے سے پسند ہی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ہے نا عجیب منطق؟

Friday, 20 January 2017

ہم سے کوئی راہ نہیں نکلی


کبھی کبھی جی چاہتا ہے نا کہ ایسے کسی رستے پر پہروں ننگے پاؤں چلتے رہیں ۔۔۔ اتنا چلیں کہ سڑک کے آخری سرے سے جا ملیں۔ اور جو سڑک کا سرا ہو، وہ میری آپ کی دنیا کا بھی آخری سرا ہو۔ جس کے کنارے پر چپکے سے پاؤں لٹکا کر بیٹھ جایا جائے۔


کچھ کہے سنے بغیر بس خاموشی سے کسی ستارے کی جانب پاؤں لٹکا کر ہم بیٹھے رہیں۔ ہر وابستگی سے پرے، ہر تعلق سے اوپر۔ بس ہم ہوں، تنہائی ہو، خاموشی ہو اور دنیا کا آخری سرا ہو۔ سارے سخت لہجے، سب تلخ جملے اس خاموشی میں گھلتے رہیں۔ آپ کی زمیں کا سورج، آپ کی پشت سے ہوتا ہوا آپ کے سامنے ڈوبنے لگے۔ اس کی مرتی ہوئی روشنی میں آپ کا عکس، پت جھڑ میں درخت پر لگے اس آخری پتے سا ہو، جسے روز گزرنے والا مسافر لمحہ لمحہ مرتا ہوا ۔۔۔۔ سبز سے پیلا ہوتا ہوا دیکھے اور اس کی زندگی کی دعا کرے۔



تمہیں پتا ہے ۔۔۔۔ قریب الموت شخص کو زندگی کی دعا نہیں دیتے لوگ ۔۔۔ آسانی کی دیتے ہیں۔ شاید ترس آجاتا ہے لوگوں کو بیماری میں اس شخص پر اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ اپنے حصے کی زندگی بھگت چکا ہے۔ اب کیا اسے زندگی کی دعا دینا۔ چلو اس کے لیے آسانی مانگتے ہیں رب سے، کہ یہ زندگی سے رہا ہو کر آسانی پا جائے۔ تمہیں پتا ہے میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ زندگی کے ساتھ کوئی اور آپشن بھی ہونا چاہیے تھا۔ یہ جیتے ہی جانا کوئی چوائس نہیں ہے۔ لوگوں کواپنے سامنے بدلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ عہد حاضر کو ڈھلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ کسی خواب کی لاش آنکھوں میں بھر کے، کسی یاد کا کوئلہ سینے میں دہکا کر، کسی مان کی کرچیاں دل میں چھپائے، بس جیئے جاؤ۔ یعنی حد ہے زندگی بھی۔ جیسے پہلا سوال ہے نا کوئسچن پیپر کا ۔۔۔ لازمی اور بنیادی۔



اتنی بڑی کائنات کے اتنے وسیع وعریض انتظام میں زندہ رہنے پر رب نے کمپرومائز نہیں کرنے دیا۔



ایک دفعہ پہلے رب سے کہا تھا کہ میں تیری دنیا کے معیارات سے قطعی مطمئن نہیں۔ آج تو حد ہی ہوگئی۔ دل چاہتا ہے کہوں اس سے، میرا تیری دنیا میں اب جی نہیں لگتا۔ ذرا بھی جو یہ دل آمادہ ہو، اس پہلے بنیادی اور لازمی سوال کو حل کرنے میں۔ اب تیرے بندے مجھے یاسیت کا طعنہ دیں گے۔ پر فرق کسے پڑتا ہے اب؟ انہیں طعنے دینے کے سوا اور آتا بھی کیا ہے؟ اس دنیا سے کوئی چیز اٹھائی جا سکتی ہے کیا؟ ذرا رہنے کے قابل تو لگے۔ ایسے تو دم گھٹتا ہے میرا۔ پھر جو مَیں دم گھٹنے سے مر مرا گئی اور رپورٹس میں کچھ بھی لیم سی ایکسکیوز آگئی تو کون ذمہ دار ہوگا اسکا؟
کیا تجھ کو راس آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟
دیکھ تُو دنیا سے جہالت، بے حسی، خود غرضی کو نہیں اٹھا سکتا تو کم از کم شعور، آگہی اور حساسیت ہی کو اٹھا لے۔ یہ تیرے بندے اپنی ہی آگہی کے ہاتھوں مبتلائے آزار رہیں گے کیا؟؟ بس تُو اب یا تو سب کو بے حس بنا، یا پھر حساسیت کے لیے سزائے موت کا کن کہہ دے۔
تیرے بندوں کے آزار سے سخت پریشان ہیں ہم۔ اب تُو ہی کوئی راہ نکال۔ ہم سے تو کوئی راہ نہیں نکالی جاتی۔ ہمیں توکوئی رستہ نہیں سوجھ رہا اب۔

Friday, 30 December 2016

بندھن کی الجھنیں



شادی سیریز پر ہمارے دوستوں کی دلچسپی نے ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کر دیا۔وگرنہ اس جاتے سال کی ان آخری چند ساعتوں میں کم از کم سوشل ایشوز پر اپنے نادر خیالات کے اظہار کا ہمارا ایسا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا
لیکن شادی جوکسی بھی سوسائٹی کا  بنیادی انسٹیٹیوٹ ہے  اس پر ہماری رائے اور ہمارے نکتے کو ہمارے دوست جسقدر غیر سنجیدگی عدم دلچسپی بلکہ قدرے استہزائیہ  انداز میں سنتے اور ناک پر سے مکھی کی طرح یہ کہہ کر اڑا دیتے ہیں کہ ہم ناتجربہ کار ہیں لہذا ہماری بات کسی اہمیت کی حامل نہیں۔ان کی یہ ادائیں ہمیں یہ لکھنے پر مجبور کرتی ہیں ہماری اماں ہمارے بارے میں یونہی نہیں کہتیں کہ جس کام سے ہمیں روکا جائے پھر وہ ہم کر کے چھوڑتے ہیں
سو پہلے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تجربے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اگر تجربے کی آپکی تعریف مان لی جائے تو دنیا بہت سارے علم کی منکر ہوجائے۔ہمارے ہی سبجیکٹ کی مثال لیجیے سترہ یا انیس سال کی عمر میں سقراط نے  زہر پی لیا تھا ۔پچیس سالہ کیٹس دنیا سے جانے کی نظمیں لکھنے لگا تھااور تھری ڈیز ٹو سی لکھتے ہوئے شائدہیلن کیلر پچیس کی بھی نہیں تھیں ۔یاد رہے یہاں پر تقابل نہیں کیا جا رہا بس بتانا یہ مقصود ہے کہ صرف زندگی کے زیادہ سال جینا تجربہ نہیں کہلاتا۔ تجربہ تو وہ بھی ہے جب آپ کسی بات کے مشاہدے میں اسقدر محو ہوں یا وہ مشاہدہ اتنے تسلسل سے کریں کے اس بات کے سقم آپکو نظر آنے لگیں اور اس سے پیدا ہونے والے مسئلوں سے آپکے دل کا کوئی حصہ مسلسل اداس رہنے لگے یا پھر آپ اسے بہتر کرنا چاہیں تو سمجھ لیں آپکا مشاہدہ تجربے کی آنچ پا گیا ہے
اب آتے ہیں شادی کے متعلق ہمارے نکتے پر۔تو وہ دو ٹوک ہے کہ شادی سوشل کانٹریکٹ ہے اور  جب کوئی دو فریق اپنی کچھ آزادیاں اور اپنے کچھ حقوق اپنی رضا مندی سے سرنڈر کرنے پر تیار ہو جائیں تو سوشل کانٹریکٹ ہوتا ہےاور دنیا میں جتنے بھی کانٹریکٹ ہوتے ہیں، وہ سارے زمین پر طے ہوتے ہیں اور رب زمین پر اتر کے اپنے احکامات کا نفاذ نہیں کرتا وہ اپنا قانون بتاتا ہے انسان کو عقل و بصیرت دیتا ہے اور پھر اسے اس کے استعمال کے مشورے دیتا ہے.
تو کانٹریکٹس مادی شئے نہ ہونے کے باوجود مادی ہی ہوتے ہیں۔ زمینی اور حقیقی۔ اسی طرح شادی بھی ایک زمینی حقیقت ہے..اور جملہ معترضہ ہے کہ اس سے فرار ممکن نہیں۔تو جب فرار ممکن نہیں تو پھر کیوں نا، یہ ایک باشعور مہذب انسان کی طرح کی جائے.؟نا کہ دو ٹانگوں والے انسان نما کی طرح۔اور مہذب انسانوں میں جب بھی معاہدے طے پاتے ہیں تو اصول و ضوابط رکھے جاتے ہیں۔ شرائط طے کی جاتی ہیں۔ جو دونوں فریقوں کو منظور ہوں تو معاہدہ ہوجاتا ہے
لیکن ہمارے لوگوں کو چونکہ ہر شئے الٹی نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے اور مجنوں نظر آتی ہے۔لہذا یہ شادی بھی معاہدے سے کہیں زیادہ فیسٹول ہے چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ۔دو چار دن وعدے، قسمیں، دعوے، چھ دن کی تقریبات اور عمر بھر کا رونا..(معذرت کے ساتھ) اور اس پورے فیسٹول میں سب سے زیادہ ہونق وہ دو افراد ہوتے ہیں جنہوں نے آگے چل کے آپ لوگوں کے انسٹیٹیوٹ خاندان کی آبیاری کرنا ہوتی ہے۔اب انہی دو لوگوں کے کپڑوں اور جوتوں سے لے کر پسند نا پسند تک ہر شئے کے متعلق پورا خاندان جانتا ہے سوائے ان دو افراد کے کہ جنہیں جاننا چاہیے۔ایک عجیب شرمندگی نما شرم ہوتی ہے جس کا دونوں شکار ہوتے ہیں۔مائے ڈئیر گرلز اور بوائز بھی گو کہ ڈئیر ذرا نہیں. خیر!! گرو اپ پلیز، یہ شرمندہ ہونے والی بات نہیں جب آپ اپنے پارٹنر کے متعلق سوال کرتے ہیں.بلکہ یہ شرمندہ ہونے والی بات ہے جب آپ نہیں کرتے۔اس پر شرمندہ ہونا نہیں بنتا، جب آپ اپنی شادی کو سیریس لیتے ہیں بلکہ اس پر ہونا بنتا ہے، جب آپ نہیں لیتے
اور پیارے والدین! آپکا بیٹا یا بیٹی جب پسند کی شادی کرنے کے متعلق اظہار خیال کرتے ہیں تو وہ پسند کی بیوی یا پسند کے شوہر سے کہیں زیادہ پسند کے انسان کے متعلق بات کر رہے ہوتے ہیں اور جب آپ سر جھٹک کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ ڈریس ،برگر یا چاکلیٹ نہیں، جس کی ضد کریں گے ۔تو یقین کیجیے آپکے بچے بھی یہ ہی کہنا چاہتے ہیں آپکو کہ یہ برگر یا چاکلیٹ نہیں جس پر کمپرومائز کر لیا جائے۔اور جب آپ نے برگر چاکلیٹ پر کمپرومائز کرنا نہیں سیکھایا تو اس پر کیونکہ توقع رکھ رہے ہیں آپ؟ 
رب کے حبیب نے کہا تھا نکاح کو مشکل بناتے جاؤ گے تو زنا آسان ہوتا جائے گا۔تطبیق تو کر ہی لیتے ہیں نا ہم سب؟؟ تو اس بات کے تناظر میں اپنا معاشرہ دیکھ لیں اور یوں بھی آزادی اور شعور کا ریورس گئیر نہیں ہوتا۔آپ آزادیاں دے کر واپس نہیں لے سکتے
خیر
ہم حرفوں کے دیپ جلانے پر معمور ہیں سو جلاتے رہیں گے.باقی آپ لوگوں کی مرضی۔ راہیں، راہیوں کی مرضی، منشاء اور انتخاب ہوا کرتی ہیں 
لیکن.
ایسا بھی ہوا ہے تاریخ کے اوراق میں
لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی


Thursday, 29 December 2016

جوابی خط



تمہارا خط میرے سامنے پڑا ہے.میز پر خط اور کافی کا مگ رکھے میں چئیر پر تقریبا جھول رہی ہوں.جیسے تمہیں خط لکھنے کی ایمپلس آتی ہے نا.ویسے ہی تمہارا خط ملنے پر خوشی کا سرشاری کا احساس جاگتا ہے.
وہ کیا کہا تھا فیض نے جیسے بیمار کو بے وجہ قرارا آجائے.
سنو! یہ قرار کبھی بے وجہ نہیں آتا اس کے لیے وجہ ڈھونڈنی پڑتی ہے چھوٹی بڑی وجہ.یہ تو منحوس ماری اداسی ہوتی ہے جو بے وجہ آتی ہے.کبھی کسی کو کہتے سنا ہے میں بے وجہ سکون میں ہوں؟؟ نہیں نا قرار کے لیے سکون کے لیے وجوہات ڈھونڈنا پڑتی ہیں ان کو ممکن کیا جانا پڑتا ہے.جیسے میرا قرار تمہارے لفظوں میں تمہارے خطوں میں چھپا ہوا ہے سو تمہارا خط ملا اور میں سرشار سی مسکرا رہی ہوں.صبح میری کولیگ نے بھی یہ بات نوٹ کی کہ خوش ہوں میں.
اب اس فرنگن کو کیا بتاتی کہ یہ ہم مشرقی عورتیں رج کے بے وقوف اور جذباتی ہوتی ہیں.اول تو محبت کرتی نہیں کر بیٹھیں تو حشر کی صبح تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں...مجھے پتا ہے تم اس جملے کو دہرا دہرا کر پڑھو گے محبت کا جو ذکر ہے اسمیں.اب یہ مت کہہ دینا کہ مان گئی میں بلآخر اس محبت کو..ہک ہاہ کبھی نہ سمجھو گے.یہ خط میں تمہیں پیار محبت میں ہی لکھتی ہوں اور تم میرے پھپی زاد تو نہیں ہوتے بھی تو نہ لکھتی.
خیر میرے لفظوں میں رنگ رنگوں میں خوشبو اور اس خوشبو کو محسوس کرنے کا احساس اسی محبت کا اعجاز ہے.
شاعر کہتا ہے نا.
بہت مخصوص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں.
محبت معجزہ معجزے کب عام ہوتے ہیں.
اور اسی معجزے کا نتیجہ ہے کہ میں آج بھی تمہارے خطوں کو اسی بے تابی سے پڑھتی ہوں اسی بے چینی سے کھولتی ہوں.
اور یہ کیا تم بالوں میں اترتی چاندی کو زیادہ سیریس نہیں لے گئے؟ ارے بھئی اب ہم تم ایک بینچ کے دو کونوں پر ٹہر گئے تھے تو یہ کہاں لکھا تھا کہ وقت بھی ٹہر ہی جاتا؟ وقت نے تو بہر صورت چلنا ہی ہوتا ہے.اور چاندی اتر بھی آئی تو کیا؟؟ اچھا سا ڈائی لگاؤں گی نا. تم کہیں یہ تو نہیں سوچ رہے کہ میں آنٹی لگنے لگی ہوں؟؟؟ خبردار یہ سوچا بھی تو.ویسے بھی جتنی بھی بڑی ہوجاؤں رہوں گی تو تم سے چھوٹی ہی نا.
تم لکھتے ہو میں آسمان کی ریشمی چادر سے پرے جھانکنے پر اصرار نہ کروں تمہیں خدشہ ہے کہ میں اپنی بسی بسائی جنت تحلیل کر بیٹھوں گی.سنو! اب میں عمر کے اس حصے میں نہیں رہی جب تصور میں صرف جنتیں بسا کرتی ہیں اب میرے تصور کی دنیا کا کینوس بہت وسیع ہو چکا ہے.اب اسمیں اگر جنتیں ہیں تو ساتھ ہی کچھ سٹروک ایسے بھی ہیں جو تصوراتی اس تصویر میں دنیا کا سا مزا دیتے ہیں حقیقی دنیا.
دیکھو میں امید پرست ہوں مجھے پتا ہے راہیں راہیوں کی مرضی منشاء اور انتخاب ہوتی ہیں پر میں اپنی سوچ کے جگنو سے راہوں میں زرا سی روشنی کرنا چاہتی ہوں.تاکہ کوئی بھولا بھٹکا مسافر میری خواب نگری کی طرف آ نکلے تو ٹھوکر کھا کر گرے نہیں.یہ جگنو میری ملکیت ہیں میں انہیں جلاتی رہوں گی.
صحیح کہا صفحے بہرحال پلٹنے پڑتے ہیں لیکن اگلے صفحے پر کسی خوشگوار یاد کا تسلسل بھی قائم رکھا جا سکتا ہے.
اب چلتی ہوں.
تم بس شعر سمجھ کر پڑھو تو ایک شعر لکھتی ہوں.
تمہارا اور ہمارا ساتھ ممکن ہے.
یہ دنیا ہے یہاں ہر بات ممکن ہے.
خدا خافظ.
تمہاری_