Pages

Thursday, 28 January 2016

ننگے سر


حادثوں کے بعد گنتی بھی دردناک ھوتی ھے....
چار بچے تھے....مرنے والوں میں
عورت تھی مٹھی میں بچے کی انگلی دبائے...
باپ تھا کوئی پشت پر بیٹا چھپائے...
اک ننھی پری تھی...خواب آنکھوں میں وحشت بھرئے.....
میرے ھاتھوں پر اپنا خون تلاشتی ھوئی....
بوڑھے تھے دو...کسی کی دعا کا گھر...
حادثے چھین لیے نا تونے..
میرے لوگوں سے عافیت کے در.....
سحرش

پورا منظر


کھڑکی سے بوند بوند سرپٹختی زندگی نئے موسموں کی نوید سناتی ھے__بہاروں کی آمد کے قصے شگوفوں کے پھوٹنے کی باتیں کلی کی پھول تک کے سفر کی داستاں
پتا ھے لوگ بارش میں مسکرانے کیوں لگتے ھیں؟کیوں؟
کیونکہ بارش خوشی ھوتی ھے رب کی خوشی...اپنے بندوں کے ساتھ میوچل خوشی، پورا منظر ھوتی ھے بارش__ جیسے کوئی بچہ جگنو مٹھی میں قید کر کے الوھی مسکان چہرے پر سجائے روشن آنکھوں سے دنیا کو دیکھتا ھو۔۔ بالکل ویسا پورا منظر سرخوشی، پا لینے کی طمانیت مٹھی میں قید "دنیا" پر فخر...ھر جذبہ اپنی شدت کے ساتھ موجود ھوتا ھے.
جیسے کوئی کوه پیماء سخت موسم میں چوٹی سر کرے اور اس چوٹی کے سرے پرایک لحظہ رک کر محسوس کرے زندگی کو اس لمحے میں تاثرات کا جو ھجوم ھوتا ھے نا اس کی آنکھوں میں بالکل  ویسا منظر
کھڑکی کے شیشے سے پرے بوند بوند دھندلاتا ھوا منظر۔۔۔کھڑکی پر قطرے ٹپکاتی بیل شفاف آسمان پرسکون دھرتی دریا میں رک رک کر چلتا ھوایک بوٹ ھاؤس دوور کہیں جنگل میں بجتی ھوئی بانسری جس کی اٹھان پر وائلن کا گماں گزرتا ھو__کسی کی بات کا کوئی جگنو تھامے کھڑکی سے پرے دیکھتے ھوں آپ 
!!!!منظر پورا ہوا نا
سحرش

Tuesday, 26 January 2016

منافقت


میں لکھنا چاھتی تھی کافی دنوں سے....لیکن موضوع میرے قلم کی گرفت میں آنے سے انکاری تھا....میرا ھی قلم مجھے کہتائی شرم ھوتی ھے کوئی حیا ھوتی ھے.....جملے لکھ لکھ کر کاٹتی رھی....بلا آخر میں نے اپنی تمام تر مشرقی روایات کو اٹھا کر طاق پر رکھا اور یہ چار جملے گھسیٹے....
محترمہ آنسہ ایان کی حالت زار اور...اس کے ذمہ دار/مھربان.....اور ھمارا دوغلہ منافق میڈیا اور معاشره....
یہ اسلامی جمھوریہ پاکستان ھےجہاں کاذھب اسلام ھے اور سرکاری "مولانا" فضل الرحمان ھیں....جو تمام کے تمام بیس کروڑحالت ایمانی و اسلام کا فیصلہ عین پرمٹوں کی روشنی میں بلا دریغ کرتے ھیں.....اور پورا میڈیا من عن ایمان لا کے پوری قوم کا قبلہ درست کرتا ھے....
تو خضور والا مانا نیکیوں کی مھینہ ھے آپ سب خضرات اس ناقص العقل گناهگار قوم کے گناه بخشوا رھے ھوں گے...
پر اک ذرا توجہ.....صاحب کوئی فتوی کوئی حد کوئی سزا کا مطالبہ کوئی ڈی این اے کا قصد.....نھیں؟؟؟؟
تو پھر مجھے کھنے دیجے...اگر یھان عمران خان ھوتا اور معاملہ کسی کافر یھودیہ کا ھوتا تو....آپ سب کی زبانیں زھر اگلتیں....میڈیا وه طوفان بد تھزیبی برپا کرتا که پوری قوم رجم کی سزا کے عدم اطلاق پر ھونے والی تباھی سے کانپ کانپ جاتی.....قرون اولی سے مثالیں ڈھونڈ کر لائی جاتی اور ھمارے دماغوں کی بتی جلائی جاتی.....
لیکن اب ایسا نھیں ھے.....
کیوں کہ یہ اسلامی جمھوریہ پاکستان ھے اور زرداری..عمران خان نھیں....مولانا کا اتحادی بھی ھے.....لھذا سب کی زبانوں پر تالے ھیں....
تو پھر یہ تمام تر دوغلہ منافق میڈیا اور سیاسی ملا.....میری طرف سے "در فٹے منہ"قبول کریں ان دوھرے معیاروں پر.....
سحرش

عشق


شدید گرمی.....بے سروسامانی....تین گناه طاقتور دشمن.....آگ اگلتا صحرا...آنکھوں میں چبھتی ریت....اور بقاء کی جنگ....
کون لوگ تھے وه جو بغیر کسی جنگی تیاری کے چل پڑے ایک آواز پر لبیک کھتے ھوئے...کس جذبے نے جوت جگائی تھی ان کے اندر جو اپنے ھی خون کے خلاف برسرپیکار ھو گئے....کوئی تو وجہ ھوگی....کوئی اسم پھونکا ھوگا کسی نے جس کے زیر اثر دیوانہ وار لپکے وه.....اور پھر مقتل کو سرخرو کر کے لوٹے....
وه کون سا اسم تھا جس کے اثرات نے جنگی حکمت عملی کو جنگی پیشین گوئیوں کو تین سو اسی کے زاوئیے سے بدل ڈالا......
کسی نے چپکے سے سرگوشی کی....عشق..وه جو ابراھیم کو آگ میں چھلانگ لگوا دیتا ھے....اسماعیل کو چھری کی دھار سے یوسف کو قیدو بند سے بے خوف کردیتا ھے....وھی عشق 
جو صدیق سے کھلواتا ھے خدا اور اس کا رسول بس..
جو عمر کے تلوار میان سے باھر ننگی تلوار کو جھکا دیتا ھے...
وھی عشق جو ذالنورین کے خریدے ھوئےمیٹھے پانی کے کنوئیں کی بوند بوند سے ٹپکتا ھے حیدر کرار کی کمسن گواھی میں ملتا ھے...حسین کی پیاس میں کربلا کی صعوبت میں ملتا ھے....
ھان یہ عشق ھی تھا جس نے معاذ اور معوذ کو ابو جھل کے مقابلے میں لا کھڑا کیا.....
اور عشق کا انجام بخیر ھی ھوا کرتا ھے....
سحرش.
جس دئیے کی توانائی عرض و سماءکی حرارت بنی..
اس دئیے کا ھمیں بھی حوالہ بھت اور اجالا بھت...
وه اک شجر جس کی شاخوں پہ آکر زمانوں کے موسم بسیرا کریں....
اس شجر کا ھمیں بھی سایہ بھت اور گھنیرا بھت...

دوست

اگر کوئی ایسا دوست ھے نہ تمھارے پاس....وه جو تمھارا نام پتا نہ پوچھے...وه جسے تمھاری حثیت سے فرق نہ پڑتا ھو وه جو....تمھاری خاطر رسموں رواجوں کو خاطر میں لانے پر تیار نہ و....وه جو تمھارے درد پر دکھی ھو اور تمھاری خوشی میں مسکرائے...بغیر غرض کے بغیر مطلب کے.....وه جسے تمھاری اداسی کے الھام ھوں.....تو سمجھ لو.....خوش قسمتی کی معراج پر ھو تم....
سحرش

اشعار


چند متفرق" اشعار" آپ سب کی نظر....
ڈر کے آگے جیت ھے....
پانچ دن بعد عید ھے...
.
اب تو پرمننٹ سٹریٹنگ کرا لو جاناں
کوئی کب تک الجھی ھوئی زلفوں کو سنوارے..
.
.
سنا ھے ربط ھے ان کو گندے ڈیزاینوں سے...
سو ھم بھی اب کے لان نکال کے دیکھتے ھیں...
سنا ھے ان کی سیاه چشمگی قیامت ھے...
سو ھم بھی ھاشمی کاجل لگا کہ دیکھتے ھیں...
سنا ھے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ھیں...
آؤ کسی کو سیلزمین رکھ کہ دیکھتے ھیں...
جب سے شروع ھوا ھے رمضان...
مزاج اور ھی درزی ودرزن کے دیکھتے ھیں..

انجام


ھو سکتا ھے آغاز بہت ھا ھوبہت ندار "بگننگ" ھو....لیکن انجام بخیر نہ ھو....ھو سکتا ھے شروعات میں تمھیں وقت کے ولی دور کے پیغمبر اور مصلح کا ساتھ نصیب ھو اور تم نوح و لوط( علیہ سلام) کی بیویوں کی طرح نامراد رھ جاؤ....تم اپنے ھاتھوں سے اپنا مینار نور مار گراؤ....
ایسا بھی ھو سکتا ھے کہ تمھارا واسطہ وقت کےبدترین شخص سے پڑ جائے...تم کسی زمینی خدا کے ساتھ رھنے پر مجبور کر دیئے جاؤ....اور تمھیں لگے دین و دنیا دونوں گئیں ھاتھ سے....لیکن پھر کیا ھو....تم فرعون کی آسیہ بن جاؤ....تمھارا انجام بخیر ھو....جنت کے فرشتے تمھارے لیے راھیں استوار کریں....
تو....یہ جو دنیا ھے نه یھاں شروعات پر......ظاھری حوالوں پر مت جانا......یہاں اگر انجام بخیر ھے تو سمجھو خیرھے....
کوئی تمام عمر نیکی کی راه پر ایک بلی کو دھتکارے جانے پر بھٹکا دیا جاتا ھے.....اور کوئی کتے کو پانی پلانے پر...."بلا" لیا جاتا ھے....
یھان ھر آن بس انجام کی فکر کرنا....وه جو تم کھتے ھو نہ.....آل از ویل اف اینڈز ویل بس وه قصہ ھے.....
اور کیا ھی خوب ھو جو میں اپنے سے وابستہ ھر شخص کے ساتھ اس "اینڈز ویل" کے ساتھ ملوں....اس شروعات کرنے والے اور انجام دیکھنے والے سے.....
آمین....
سحرش