Pages

Monday, 5 March 2018

کیوں ٹھہر گئی دل میں اُس قیام کی آہٹ



جب چاند بھی کھڑکی سے باہر ڈرا سہما سا ٹنگا تھا جب کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی کے لیے چاندنی بھی فسوں جگانے سے انکاری تھی۔ اس رات میرے کمرے میں صرف ایک زندہ چیز تھی۔ کمرہ ہی کیا کائنات کی تمام وسعتوں میں میرے لیے زندگی کا مفہوم بس میری بک شیلف پر رکھی کتابیں تراش رہی تھیں۔ وہ کتابیں جن پر تمہاری پوروں کا لمس ابھی زندہ تھا۔ کہیں جلد پر دو انگلیوں سے کھینچی لمبی لکیر روشنی کا سفر طے کر رہی تھی تو کسی کتاب کے اندر مڑا ہوا کوئی صفحہ شہادت اور انگھوٹھے سے پکڑے جانے پر نازاں تھا۔ کسی صفحے پر جگمگاتے لفظ اس بات کی غمازی تھے کے تم نے پڑھتے پڑھتے بے دھیان ہو کر ان پر ہاتھ رکھ دیا ہوگا۔

سنو وہ میرا ہاتھ ہوتا تو لفظ گھٹن سے مر جاتے۔ وہ تم تھے جو گھٹن سے بھی لفظ نکال لیتے ہو۔
تمہاری پوروں کا یہ لمس میرے دل پر دستک کی صورت بھی محفوظ ہے۔
جب میں احساس کی شکستگی پر خائف سارے آنے سے خفا تھی تو تم تھے جو دل پر دستک دیے اندر چلے آئے تھے۔
دستک پر اونہوں سن کر بھی تم نے ہار نہیں مانی تھی۔
میری روح میں تمہاری روح ایسے حل ہوگئی ہے جیسے پانی میں کسی نے نمک گھول دیا ہو۔ اب اس میں کوئی بھی ذائقہ ملایا جائے نمک کا، ذائقہ آتا رہے گا۔
دل کی سرزمینوں پر بوڑھے برگد کی طرح ایستادہ وجود ہو۔ جس کی جڑیں اتنی گہری اور وسیع رقبے پر پھیل چکی ہیں کہ اب اگر تم یا، میں جڑ در جڑ بھی اسے کاٹنا چاہیں تو سینکڑوں جڑیں کاٹنی پڑیں اور کوئی ایک آدھی پھر بھی اندر رہ جائے گی۔ دوبارہ سے کونپل اس سے کلی پودا اور درخت بننے کو۔

جب احساس کی موت پر میں دعا پر بھی یقین کھو بیٹھی تھی تب تم تھے جس نے دوا کی تھی حرف تسلی سے۔ دعاؤں پر یقین لوٹانے پر کوئی کیسے سپاس گزار ہو؟ سنو فراحی کشادگی میں کی جانےوالی بے پناہ چیئریٹی شائد وہ معنی نہ رکھتی ہو جو تنگ دستی کا ایک روپیہ کرتا ہو۔ کرب کے دور میں تمہارا لہجہ میرے اندر پلتے جڑ پکڑتے پروان چڑھتے زہر کا واحد تریاق تھا۔ بالکل ایسے جب کتابوں میں موجود ساری اچھی باتوں پر سے میرا ایمان اٹھ گیا تھا جب لفظوں کے گورکھ دھندے سے اکتاہٹ اپنے عروج پر تھی جب مجھے آسمانی فیصلے بھی زمینی 147سازشوں148 کا حصہ لگنے لگے تھے تم نے اس دور میں ساتھ دیا۔ اس دور میں میری سماعتوں پر اپنے لہجے میں بسے الہاموں کو اتارا۔ کرب کے اس دور میں تمہارے وجود کے گہرے رنگوں نے میری روح کی بے رنگی ڈھانپ لی تھی۔ میرے لہجے کی خفگی ختم کرنے کے لئے تمہارے لمبے لمبے فلسفے اندر سلگتے دل پر پھوار کی طرح برستے رہے اور تم نامحسوس طریقے سے اندر بسی ناراضی نکالتے رہے۔

سنو! مجھے لگتا تھا اندر ایک شعلہ ہے بھڑکتا ہوا میرے مزاج سے میل کھاتا جو میرے اندر باہر کو جلا کر بھسم کردے گا۔
لیکن اس دن جب سفید گلابوں کی کیاری کے پاس کرسی پر بیٹھے میں خلاوں کے سفر پر 147روانہ148 ہونے لگی تھی اور تم نے کافی کے دو مگ درمیان میں رکھتے ہوئے کہا تھا کہہ دو۔ ۔
تمہیں معلوم ہے کیا ہوا تھا ؟ میں نے کافی کے مگ میں آنکھیں کیوں گم کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنو اس دن احساس ہوا تھا کہ اندر شعلہ نہیں جل رہا اندر تو سیہ پارہ ہوتا ہوا ایک انگارہ تھا ہے جو مسلسل سلگ رہا ہے اور اس سے اٹھتا دھواں میری آنکھوں میں چھبنے لگا تھا۔ میں نے اس چھبن سے گھبرا کر مگ میں منہ چھپانا چاہا تھا۔

تم کہتے ہو مجھے بھی اداس کردیتا ہے اپنے نظریات پہ قائم رہنا تو کیا ہوا؟ نظریات پہ جینے کی قیمت اداسی ایسی بری بھی نہیں۔
کیا کیا جائے۔ ۔ ۔ یہ بھرم بھی بڑی ظالم شئے ہوتی ہے اس کو قائم رکھنے کے چکروں میں خدا جانے کہاں کہاں کیا کیا گوارا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں جہاں چینخنے کا چلانے کا موقع ہوتا ہے وہاں مسکرا کر چپ کر جانا پڑتا ہے۔ جہاں سامنے پڑی ہر شئے تلپٹ کردینے پر جی پوری طرح آمادہ ہوتا ہے وہاں چپ چاپ ہاتھ سینے پہ باندھے اٹس اوکے کہہ دینا پڑتا ہے۔ اور وہاں جہاں اجارہ داروں کے خلاف اندر کا وحشی آمادہ برجنگ ہوجاتا ہے تب اس کی سونتی ہوئی تلوار کو نظر انداز کرکے جگہ چھوڑ دینی پڑتی ہے۔
اس ایک بھرم کو قائم رکھنے کو۔
لیکن برا ہو تمہارے اندر لگی اس تیسری آنکھ کا جو میری آنکھ میں در آنے سے بھی پہلے اس آنسو کو سمجھنے دیکھنے سپیس دینے پر تیار ہوجاتی ہے۔
اور بھلا ہو اس ظرف کا جو میرا بھرم ٹوٹنے نہیں دیتا۔

سنو! تم ایک عجیب شخص ہو ٹوٹل عجیب، تم وجدان کی روشنی سے منور بے ریا حقیقت پسند ہو۔ جو خواب میں بنایا تعلق بھی نبھاتا ہے۔
تم کہتے ہو مجھے بھی اداس کردیتا ہے اپنے نظریات پہ قائم رہنا تو کیا ہوا؟ نظریات پہ جینے کی قیمت اداسی ایسی بری بھی نہیں۔ تمہارے خیال میں مستقبل مشکل ہو سکتا ہے۔ دیکھو میں متفق نہیں تم کچھ سال پہلے بھی تو اسی جمود کا شکار ہوئے تھے نا؟ جب پرانے قلعہ میں گھومتے تم سے وہ ٹکرائی تھی۔ جو اتفاقی ٹکر پر گھورنے کی بجائے بے ساختہ ہنس دی تھی اور تم دوڑے دوڑے خول میں جا گھسے کہ اس کی ہنسی سے ڈر گئے تھے تمہیں لگا تھا اس کی ہنسی تمہارے وجود کو تحلیل کردے گی۔ وہ تمہیں کیمسٹری کے کسی ایکسپیریمنٹ کی مانند مختلف عناصر کا مرکب بنا کر کسی دن یونہی لیب میں چھوڑ کر چلی جائے گی۔ اور تم آنکھوں میں وحشت لئے آنے والے زمانوں میں غیر فعال مادے کی صورت پڑے پڑے فنا ہوجاؤ گے۔

پھر کیا ہوا؟ پرانے قلعے میں کسی آوارہ روح کی طرح پھرتی وہ چنچل اندر سے تاریخ کی کتاب کی طرح گہری نکلی نا ؟ وہ جس نے تمہیں موٹروے پر جاتے ہوئے ٹوکا تھا کہ کھڑکی سے باہر دیکھو اور اسوقت جب تم نے باہر دیکھتے ساتھ ہی منظر کیمرے میں قید کیا تھا تو جانتے ہو کیا کہا تھا ؟ تم نے کہا تھا خوبصورت منظروں کے لیے سفر کچھ وقت کو روک بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سنو اب بھی ایسا ہی ہے۔ اب بھی ماضی کی طرح تمہارا مستقبل سے متعلق رویہ منفیت پر مبنی ہے۔
شاعر کہتا ہے
سنو ایسا نہیں کرتے
سفر تنہا نہیں کرتے۔
حالانکہ میں اس سے متفق نہیں کبھی کبھی سفر تنہا بھی کرنا چاہیے۔ پر پھر بھی کہتی ہوں سنو راہ میں آنے والی رکاوٹوں کے خدشوں کے پیش نظر تو منزلیں کھوٹی نہیں کی جا سکتی نا۔
اسے خود غرضی کہو یا کچھ بھی۔ پر سن لو تمہیں اداس دیکھنا میرے اندر کے انسان کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے۔ تمہاری اداسی پر میرے اندر کوئی تڑپ جاتا ہے۔ مجھ پر اس اداسی کا سرا ڈھونڈنے اس ڈور کو سلجھانے کی دھن سوار ہوجاتی ہے۔

تم کو بے یقینی کا شکار دیکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے بے یقینی کے پوائنٹ آف سیچوریشن پر تمہیں بے یقینی کے کرسٹین توڑتے انہیں امید کی آنچ سے پگھلاتے دوبارہ یقین بناتے دیکھا ہے۔
تم کو بے یقینی کا شکار دیکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میں نے بے یقینی کے پوائنٹ آف سیچوریشن پر تمہیں بے یقینی کے کرسٹین توڑتے انہیں امید کی آنچ سے پگھلاتے دوبارہ یقین بناتے دیکھا ہے۔ اب میں یہ کیسے مان لوں وہی بے یقینی تمہیں گھیرے ہوئے ہے۔ ؟ میں غیر انسانی توقعات کا بوجھ نہیں ڈال رہی تم پر۔ میں بس یہ چاہ رہی ہوں کہ تمہارے اندر غیر مشروط محبتوں پر ایمان کی صورت یہ یقین بھی اتر جائے کہ زندگی پر بدگمانیاں مستقبل کے خوف محبتیں نگل جایا کرتے ہیں۔
تم بس محبت زندہ رکھنے کا امید جگانے کا فن زندہ رکھو تم زندگانی کے سارے خوشنما امکانات کے در وا ہوتے دیکھو گے۔
کیونکہ یہ ہی زندگی ہے۔ ۔ ۔ دن سورج کا ہے تو رات بہر صورت چاند ہی کی ہونی ہے۔ تنگی کے دامن سے لپٹی ہوئی آسانی اور جنگ کے بدن سے پیدا ہوتا امن۔ سنو یہ ہی زندگی ہے۔ ۔
بھیگی آنکھوں سے مسکراتی ہوئی۔

بارش کے بعد نکلنے والی دھنک جیسی۔ جس کے الٹے لوپ پر چلتے ہوئے ایک سیارے سے دوسرے پر جانے کی فینٹسی لئے بہت سے تخیل زندہ ہیں۔ اور تخیل کا نہ مرنا ہی تو انسان ہونے کی علامت ہے۔ جب انسان کسی بھی صورت اندر کا تخلیق کار مرنے نہی دیتا۔ جب وہ باہر کی نفرت کسی کردار کو تراش کر نکال لیتا ہے اور جب کوئی میسر نہ ہو تو وہ خود سے گفتگو کر کے خود زندہ رکھ لیتا ہے۔ تو وہ ثابت کردیتا ہے کہ انسان مر سکتا ہے ہار نہیں سکتا۔ (ارنسٹ ہیمنگوے)
سنو!تم میری نفرتوں کے دور کی محبت ہو۔ کرب کے زمانے کا سکون ہو۔ بقول شاعر آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو۔

تبصرہ

#رین_کوٹ
ایک بہترین انڈین آرٹ فلم۔
جس کے لمبے لمبے ڈائیلاگز مشرقی معاشرے کی بھرم قائم رکھنے جیسی سوشل نارم کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
یقینا او ہنری چونکا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی داستاں سے متاثر یہ فلم داستاں گو کا ہی انداز لیے ہوئے ہے۔
ایشوریہ کی خوبصورتی کے ساتھ ڈائلاگز ادا کرنے کے انداز جس میں وہ بھولی بھالی گاؤں کی لڑکی نظر آتی ہے خوبصورتی تخلیق کرتی ہے۔اور اس پر پس منظر میں مسلسل بارش۔۔۔۔گویا جام دو اور دونوں ہی دو آتشہ۔۔۔
خیر مجھے تو بہت اچھی لگی فلم۔
منطقی انجام والی فلمیں پسند کرتے ہیں تو اینڈ سے مت دیکھیں۔
اجے دیوگن بھی بس ٹھیک ہی لگ رہا تھا۔۔خدا جانے کاجل کو اس میں نظر کیا آیا۔۔
خیر فلم اچھی ہے گانے ڈانس کچھ بھی نہیں
ب گلزار ہے۔۔اپنی نظم اور آواز سمیت۔۔جادو جگاتا ہوا۔
مسحور کرتا ہوا۔
سیدھی سادھی کہانی ہے بچھڑی نا آسودہ محبت کی۔۔زندگی کی بھرم کی لحاظ کی۔
دیکھنا چاہیں تو ٹورنٹ پر لنک مل سکتا ہے۔

تبصرہ فلم


جنگ ایک انسانی المیہ ہے۔
اور یہ المیہ زمین پر انسان کی۔معلوم تاریخ جتنا ہی پرانا ہے۔
جنگ اور اس کی ہولناکیوں کوفلمانا ہمیشہ سے فلم سازوں کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔
ویت نام یو ایس ایس آر اور بعد ازاں افغان طالبان کے اوپریسڈ پولیٹیکل سسٹمز کو دنیا تک پہنچانے میں واحد کردار امریکن شوبز انڈسٹری نے ادا کیا۔
پراہیگنڈا سیٹنگ اور اوپینئن میکنگ کی اس سے اچھی مثال نہیں ملتی۔
یو ایس ایس آر کے پولیٹکل سسٹم، مارکسسزم اور کولڈ وار پر بنائی جانے والے ساری فلمیں دیکھنے والے کو یہ بتانے سمجھانے کے لیے بہت ہیں کہ اس دنیا کا واحد نجات دہندہ شری بہادر امریکہ ہے۔
اور یہ امریکہ ہی ہے جس نے ہر قوم کے پیسے ہوئے طبقات کی مدد کی۔
فرسٹ دے ِکل مائے فادر بھی ایسی ہی فلم ہے۔
جو کمبوڈیا کے انقلاب پر بنائی گئی فلم ہے۔
یاد رہے یہ فلمائی نہیں بنائی گئی فلم ہے۔
طاقت کے توازن کے بگڑنے سے دنیا جن مسائل کا شکار ہوتی ہے جنگ ان تمام مسائل کا حل سمجھی جاتی ہے۔ حیرت انگیز تو ہے لایعنی بھی لیکن یہ دنیا ہے اور یہاں کا،اصول یہ ہی طاقت کے استمال کو روکنے کے لیے طاقت استمال کرنا پڑتی ہے۔
فرسٹ دے کلڈ مائے فادر ایک فوجی کی فیملی کے گرد گھومنے والی فلم ہے۔ جسمیں ایک پانچ سالہ بچی جنگ انقلاب کے متعلق اپنے تاثرات بتاتی ہے۔
جنگ کسی بھی شخص سے بچپن اور زندگی چھین سکتی ہے۔
اس فیملی کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ ہجرت گھر بار چھوڑنا اپنوں کا بچھڑنا بھوک نا انصافی انقلابی اشرافیہ کے ظلم اور شناحت چھپا کر جینا۔ بے گھروں کے کیمپس کی زندگی بیماری یہ سارے المیے ایک جگہ جمع دیکھنا ہوں تو یہ فلم دیکھ لیں۔
اس سے متفق ہونا نہ ہونا الگ بات ہے اور کسی بھی قوم پر انڈیجنس لوگوں کی حکمرانی اور حق حکمرانی سے انکار ممکن ہی نہیں۔
لیکن احساسات کو سمجھنے حساسیت سے بے حسی کا سفر اورسروائیول کی جنگ۔ خوبصورتی سے دکھائے گئے ہیں اس میں۔
انتقام اور جنگ کی نفسیات سمجھنے کے لیے عمدہ فلم ہے۔
پروپیگنڈا کی اس دنیا میں کسی کو ولن پینٹ کرنے کے لیے دو اڑھائی گھنٹے بہت ہیں۔یہ فلم اسی پراپیگنڈا کی ایک کڑی ہے۔
جس کی زد پر کبھی فیدل کاسترو کبھی لینن کبھی بن لادن اور کبھی ملا عمر ہوتے ہیں۔اوپینین میکنگ شائد اسی کو کہتے ہیں بم بھی برساؤ مظلوم بھی بن جاؤ۔
گالی بھی دو اور پوتر بھی بن جاؤ۔نوٹ یہ سطر مستند پٹواری حضرات کے لیے قطعی نہیں لکھی گئی۔۔بس پروپیگنڈا ٹول بتایا ہے ایک۔

تبصرہ


اگر آپ نے ابھی تک انیس سو ساٹھ میں ریلیز ہوئی وی فلم سائیکو نہیں دیکھی تو یقین کیجیے آپ ایک عمدہ فلم سے اپنے آپ کو محروم رکھے ہوئے ہیں اینتھنی پارکنز Jeanet Leigh اورAnthony parkins کی خوبصورت فلم جس کا پہلا ہاف مس جینٹ اور دوسرا اینتھنی پارکنز کی جاندار ایکٹنگ کے نام۔
ایک گھنٹہ اڑتالیس منٹ کی یہ فلم کہیں پر بھی دیکھنے والے کی توجہ منتشر نہیں ہونے دیتی۔ دلچسپ اور مربوط انداز سے فلمائی گئی یہ ایک سسپینس فلم ہے۔ جو کہ سسپنس ہونےکے باوجود اگلے سین پر جمپ کرنے پر نہیں اکساتی بلکہ چل رہے سین کی جزئیات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
فلم کا آغاز ایک مالی طور پر غیر مستحکم اوکے بروکن فیملی کے فرد جان گییون کے ڈائلاگز اور اداکاری سے ہوتا ہے اور اختتامی ایکشن بھی جان گییون کے حصے ں ں آتا ہے۔ لیکن انہیں آپ فلم کا ہیرو نہیں کہہ سکتے۔
فلم کا پہلا ہاف ایسی لڑکی کے گرد گھومتا ہے جو اپنے آفس،کے چالیس ہزار ڈالرز سمیت شہر سے باہر کی طرف محو سفر ہے۔
اور اگلا ہاف ایسے لڑکے کے گرد جو اپنی ماں سے شدید محبت اور شدید نفرت کرتا ہے وہ بھی ایک ساتھ۔
محبت اور نفرت کے اس امتزاج کا انجام تو آپ کو فلم دیکھ کر ہی پتا چل سکتا ہے۔
یہاں یہ بتا دوں کہ ہنگامے میوزک بڑے کرداروں اور گلیمر پر مبنی فلمز پسند کرنے والے لوگ اس فلم کو دیکھ کر مایوس ہو سکتے ہیں۔ البتہ ضروری "گرم مصالحہ" ڈالا گیا ہے فلم میں۔
۔

کسی بھی عمدہ حساس موضوع کا نیست مارنا کوئی انڈین فلم میکرز سے اچھا نہ جانتا ہو گا۔ #تنو_ویڈز_منو_ریٹرنز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو اپنے رب کا شکر ادا کر بھائی۔۔ اور اگر دیکھ رکھی ہے تو میں آپ کے غم میں برابر کی شریک ہوں۔
کامن سینس سے عاری اس فلم پر اپنی زندگی کے پورے بیس منٹ ضائع کرنے پر میں شرمندہ ہوں۔
بی بی خود شرمندہ ہے۔۔۔
ایستھٹک سینس کا قاتل زندہ ہے۔۔
جی وہی اس،فلم کو بنانے والا۔

Wednesday, 21 February 2018

تبصرہ


#مووی
انسانی عزم ہمت حوصلہ اور سروائیول کی صلاحیتوں پر کوئی مووی دیکھنی ہو تو کاسٹ اوے اور دی مارشئین سے اچھی موویز شائد ہی کوئی ہوں۔
سمندر اور خلا جیسے ازلی انسانی "دشمن" سے لڑائی پر بنی ہوئی دونوں موویز بے مثال ہیں۔
دی مارٹین ایسے شخص کی کہانی ہے جو خلا میں پھنس جاتا ہے اور پھر تقریبا پانچ سو پچاس دن وہ مارس پر رہتا ہے۔ باٹنوسٹ مارک واٹنی "میٹ ڈیمن" انتہائی خوبصورتی سے اپنے سروائیول کی جنگ لڑی۔ خراب موسم خلائی طوفان آکسیجن کی کمی پانی و خوارک کی عدم دستیابی میں اکیلے زندہ رہنا کتنا مشکل ہے اور اس مشکل کو ہیرو نے کیسے مینج کیا یہ تو فلم دیکھ کر ہی جان سکتے ہیں آپ۔
انسانی عزم پر کو ہرانے کے لیے دنیا میں۔شائد ہی کوئی بیرونی عوامل ہوں۔ انسان کے اندر کا وارئیر اور فائٹر اگر زندہ ہو تو وہ کسی بھی قسم کے حالات میں ایڈجسٹ ہوجاتا ہے اور کیسی بھی مشکل درپیش ہو وہ اس کا حل نکال لیتا ہے۔
مارک واٹنی کی وڈیو ریکارڈنگز انسانی جذبات کی عمدہ عکاسی ہیں۔
سمندر میں ڈوبی کشتی اور بچنے والا اکلوتا مسافر چاروں طرف بے رحم سمندر جزیرے پر پھنسا ہوا وہ اکیلا شخص۔
جس نے اپنی کربناک تنہائی کو ختم کرنے کے لیے ایک کردار تراش لیا تھا۔ ہیمینگوے کے کسی کردار سی مووی ولیم برائلیس سے تعارف کا باعث بنی۔
ٹام ہینکس کی ایکٹنگ اور سولولیکیز فلم کو جاندار بنانے کے لیے بہت ہیں۔
فلم کے دوسرے ہاف میں ہیرو کا بچھڑنے والا "فرد" پر دستبرداری کی وحشت نارسائی کا دکھ کھونے کے احساس پر سمندر کا سارا نمک آپ کے اندر اتر آتا ہے۔
انسانی زندگی کا بہت بڑا ڈر کھونے کا خوف ہوتا ہے۔
اور جب انسان کسی شئے کو کھو بیٹھتا ہے تو اندر برپا شور آپ کو باہر سے کیسے خاموش کردیتے ہیں یہ بات میں نے کاسٹ سوئیں سیکھی۔
پہلی بار مووی دیکھی تو اینڈ نہ دیکھ سکی ایک مقام پر اداسی اتنی بڑھی کہ سکرین گرا کر چپ چاپ سوگوار بس سوچتے رہے۔
خیر عمر کی منزلیں طے کرتے کرتے حساسیت کم ہوگئی اور "حقیقت پسندی" بڑھ گئی تو کاسٹ اوے پوری دیکھی۔۔اور بار بار دیکھی۔
اگر ویک اینڈ پہ فراغت میسر ہے اور اگر شور شرابے والی موویز سے بھاگتے ہیں تو پٹواری یوتھ کے رولے کو ہولڈ کرکے یہ دونوں یا دونوں میں سے ایک مووی ضرور دیکھیں۔
انسانی المیے خواہشات جذبات احساسات سے بھرپور یہ دونوں فلمیں آپ کو ہنسنے رونے پر مجبور کرسکتی ہیں۔
کافی پیتے ہوئے دیکھیں۔
کافی کی کڑواہٹ میں زندگی گھلتی محسوس ہونے لگے گی۔

تبصرہ



منظر عام سے غائب رہنے کی وجوہات میں بکس اور موویز والے موڈ کا آن ہونا بھی ہے۔
کتابوں پر تبصرہ تو بعد میں فلحال فلم۔
بہت عرصے بعد کوئی ہندی فلم دیکھی۔
#دل_دھڑکنے_دو۔
مجھے ٹیکنیکل باتیں تو نہیں بتانا آتیں۔ نہ ہی مووی کی رینکنگ اور بزنس کا پتا ہے مجھے۔
بس اپنی رائے دے دیتی ہوں۔
فرحان اختر اور زویا اختر کی بہت خوبصورت فلم۔
بہت خوبصورت کہانی کانسیپٹ اور پھر پرینکا چوپڑا اور رنویر سنگھ کی ایکٹنگ۔ چار چاند لگانے کو عامر خان کا فل آف ایکسپریشنز وائس اوور۔
ایک اچھا کومبینیشن۔ ہٹ فارمولا۔
فلم میں ایک سین میں وائس اوور چلتا ہے کہ 
"لڑکی یا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بھاگ جائے۔۔
یا پھر جو کرنا چاہتی ہے وہ چوری چھپے کرتی رہے ہمارا سماج اسے کوئی تیسرا رستہ نہیں دیتا۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
ایک اور ڈائیلاگ
صرف محبت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ بلکہ جس سے محبت کی جائے اس کو آزادی دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ 
اسی بات کو شائد محسن نقوی نے ایسے بیان کیا ہے۔

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے۔
دل پر اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا۔

اسی سے ملتی جلتی بات کہ کبھی اپنے بچوں کو اکیلا بھی چھوڑ دیا جائے انہیں فیصلہ لینے کی آزادی دی جائے انہیں مشکل فیصلے لینے پر آپکی زیادہ سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بات یہ ہے کہ کبھی کبھار آپکے بچے آپ کے فیصلے کی مضمرات سے انکاری نہیں ہوتے نہ آپ کے خلوص پر شک ہوتا ہے انہیں۔ بس کبھی یوں ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی پر اپنا،اختیار مانگ بیٹھتے ہیں۔ اور ہم دیسی لوگ۔۔حق اختیار سے جذباتی بلیک میلنگ تک اور زندگی موت سے قبر حشر اور بعد ازاں جنت دوزخ تک کے فیصلے کر گزرتے ہیں۔
یہ صحت مند رویہ نہیں ہے۔
ہر شخص آزادی اظہار کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ چاہے وہ آپ کا بچہ ہے۔۔اپنے بچے کو سنئے اسے سمجھیے
خیر فلم کا میوزک بھی مناسب ہے کاسٹ بھی۔
آخری سین کے ڈائیلاگز لکھتی ہوں۔
کہ کیا ہوا جو کشتی چھوٹی ہے اور کیا ہوا جو اس کے چاروں طرف سمندر ہے۔ کشتی کے مسافر خوش ہیں کیا یہ کافی نہیں۔
محبت اور فیصلوں کی آزادی زندگی کا تناسب برقرار رکھتی ہے۔
وقت ہے تو فلم ضرور دیکھیے۔
انوشکا شرما کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔۔۔ ان کے فینز کے ساتھ

Monday, 12 February 2018

ایک خط کے جواب میں




سلام:
تمہارے خط سے اندازہ ہوا ہے تم ٹھیک ہو چنگے بھلے ہو۔
حیرت ہوئی تم میری تحریر میں ابھی بھی نرم سا احساس ڈھونڈ رہے تھے۔ گویا تمہاری امید پرستی قائم ہے۔
تم کہتے ہو اگر تم مل جاتیں تو عمر بھر یہ ہی سننا پڑتا۔ تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔
ہماری ذہانت ہماری بے حس خوشیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔
سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔
مشرقی عورت اگر ذہین عورت بھی ہو تو بلا کی جھوٹی ہوتی ہے۔ اس کو گھر بنانے عمر گزارنے کے لیے ہر ہر موڑ پہ جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں۔ ماسکنگ کرنا پڑتی ہے۔ وگرنہ گھر نہیں بنتے۔ اور گھر مشرقی عورت کا المیہ ہی تو ہوتا ہے۔
تمہیں معلوم ہے مشرقی مرد کا المیہ کیا ہے ؟ اسے ذہین عورت سے محبت کرنا نہیں آتی۔ کیونکہ اسے ہمیشہ محبت کا ایک ہی فلسفہ پڑھایا جاتا ہے ملکیت والا۔ وہ عورت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا اسے تصرف میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور تمہیں تو پتا ہے۔ تصرف میں آئے تعلقات میں سب سے پہلے محبت مرتی ہے۔
کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔
خیر نظریات پر لمبی بحثوں کا مجھے بھی کوئی شوق نہیں رہا۔
تمہارے ساتھ بحث کب کرتی تھی؟؟؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔ خیر اب جب اندر گھٹن بڑھ جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر بلاگز پر لکھ لیتی ہوں۔ لوگ حسب ذائقہ سراہ دیتے، تنقید کردیتے ہیں۔ میری بھی 147انٹیلکچوئل تھرسٹ148 سیٹسفائی ہوجاتی ہے۔
مصالحہ ٹی وی پر نئی ترکیبیں میں بھی دیکھتی ہوں۔ نئے کھانے بناتی ہوں۔ مجھے بھی کسی سے سننا ہوتا ہے نا 147کھانے تم بہت اچھے بناتی ہو148
گو کہ یہ جملہ امرت تو نہیں لگتا مجھے لیکن سننا ایسا خاص برا بھی نہیں لگتا۔
یوں بھی اب گھر میں کون دیوار برلن، اس کا انہدام، رینیساں اور اقوام متحدہ ڈسکس کرے؟
تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔
سنو! ہم تم مل جاتے تو تمہاری ملکیت اور میری انا دونوں مل کے محبت کا سانس بند کردیتے۔ اور پھر ہم اوروں سے کہتے پھرتے۔ ۔ ۔ ۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔ ۔ ۔
سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔
خوش رہنا سیکھ لیا تم نے؟؟؟ بہت خوب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالوں کی سفیدی سے نہ ڈرا کرو۔ آج کل سلور گرے ان ہے فیشن میں۔ جارج کلونی جیسے ہینڈسم تو نہیں لگ سکتے تم لیکن چلو۔ ۔ ۔ گزارہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
خیر، چلتی ہوں۔ ۔ ۔ میرا مارکیٹ میں سیلیں کھنگالنے کا وقت ہوگیا۔