Pages

Wednesday, 5 April 2017

What do I Feel about the most beautiful girl


اتنے دنوں سے جملے بناتی ہوں مٹاتی ہوں..سوچتی ہوں وہاں سے شروع کروں جب پچھلے سال برتھڈے سے اگلے دن سائیکل چلاتے ہوئے آپ نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا. یا پھر وہاں سے جب آپ اپنی برتھڈے پر سٹرینجرز انگزائٹی کا شکار ہو کے دو منٹ کے لیے منہ بسور کے کندھے سے لگی تھیں.

پر نہیں اسے چھوڑیں..آپکو پتا ہے آپ سات ارب لوگوں میں ایک واحد چھوٹے سے جگنو ہو جس سے ان دو سالوں میں ایک بار بھی محبت کا گراف نیچے نہیں گیا؟
آپ کو انکیوبیٹر میں پہلی دفعہ چھونے سے لے کر ان سطروں کے لکھنے تک آپ سے لگاؤ انسیت زیادہ ہی ہوئی ہے. آپ سے پہلے مجھے لگتا تھا انسان تھک کے محبت کرنا چھوڑ بھی دیتا ہے.پر اب یہ میرے ایمان کا حصہ ہے کہ محبت تھکن کا شکار نہیں ہوتی.
پتا ہے آج کتنی بوڑھوں والی بات آئی ذہن میں؟ میں یہ لکھتے ہوئے مسکرا رہی ہوں. ذہن میں یہ آیا کہ کتنی جلدی دو سال گزر گئے ہیں نا؟ ابھی تو کچھ دیر پہلے ہی تو میں نے پہلی دفعہ گود میں اٹھایا تھا آپکو اور کچھ دیر پہلے ہی تو گھر میں آنے والے ہر مہمان کو بتایا تھا کہ نہیں ایکچوئلی اس کی آنکھیں گرے کلر کی ہیں.. پر اسوقت کھولے گی نہیں رات کو کھولے گی ایک بجے کے بعد. اور لوگوں کے چہروں پر مبہم مسکراہٹ دیکھ کے چڑی تھی میں کہ بھابھی سے پوچھ لیں گرے آنکھیں ہیں ایمی کی.اور کچھ دیر پہلے ہی تو میں نے فیلنگ پھپھو لگائی تھی. اور کچھ دیر پہلے ہی تو آپ نے بیٹھنا سیکھا تھا آئی کانٹیکٹ سیکھا تھا ہاتھ پکڑنا ہلانا ملانا سیکھا تھا.تھوڑے دن پہلے کی بات ہے آپ کرالنگ کرتے ہوئے لاونج سے کچن میں آجاتی تھیں. میوزک کو رسپانس کرنا سیکھا تھا.ٹی سیٹ میں چائے بنانا سیکھی تھی.
پین میں آملیٹ بھی تو بناتی تھیں آپ.
اور آپکے سارے ٹوائز میں بجتا عجیب و غریب میوزک. آپکے بلاکس کاپاؤں میں چھبنا اور میری دھمکی ان سب کو باہر پھینک دوں گی ایمی.
خیر میں کچھ زیادہ ہی ایموشنل ہوگئی.پر کیا کروں جگنو دنیا میں نا کچھ رشتے ہوتے ہیں جنہیں آپ عقل سے دماغ سے ہینڈل نہیں کرسکتے ان کا واحد حل ایموشنز ہی ہوتے ہیں.
آپ کو پتا ہے آپ کی آنکھوں کی ہنسی ہونٹوں تک آنے میں جو ایک پل کا ہزارواں حصہ لگتا ہے نا وقت کے اس حصے نے مجھے ڈبلیو ایچ ڈیوس کی نظم کا مفہوم سمجھایا تھا.آپ کو مسکراتے ہوئے دیکھتےمجھے خوبصورتیاں لکھناآنے لگی ہیں.
مجھے پتا ہے آپ فلحال میری ان باتوں کو پڑھ سمجھ نہیں سکتیں. مجھے یہ بھی پتا ہے آپ پڑھنا سیکھیں گی تو بیسٹ کڈز لٹریچر مہیا کیا جائے گا آپکو..
پر پیارے جگنو می‍ں تھوڑی سیلف سینڈرڈ ہو رہی ہوں میں چاہتی ہوں آپ حرفوں سے لفظ بنانا سیکھیں تو آنا کے جملے بھی پڑھی‍ں
جو آپ کو بتانا چاہتی ہے کہ آپ کی آنکھوں ک تاثرات دنیا ک سب سے قیمتی تاثرات ہیں.اور جو یہ بتانا چاہتی ہے کہ آپکے ہاتھ کا لمس انرجی دیتا ہے جو یہ بتانا چاہتی ہے کہ آپکی آواز میں زندگی بولتی ہے.
آپکو بتاؤں آپکو ڈائریا ہوگیا تھا..اور اس دوراں ڈائپر سے ریشیز بھی تو جب میں نے آپ کو اٹھایا اور ایز یویل ہوا میں اچھالا تو آپ نے بے ساختہ کہا "نئییں پین" جگنو آپکو پتا ہے؟؟ مجھے درد کا مفہوم سمجھ آیا تھا اس دن.
آپ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتیں چلتی میرے پیچھے کچن میں آئیں تھیں ایک دن اور شیلف سے نیچے گرے لیمن کو پکڑ کے جب آپ نے کہا بال اور میں نے آپ کو بتایا کہ بال نہیں یہ لیمن ہے..اور آپ نے گردن ایک طرف جھکا کر دہرایا "اییمن" اور لیمن کا سارا سٹرک اس شرارت میں سمٹ آیا تھا اس دن.
جب آپ ضد پکڑ لیتی تھیں کے فریج کھول کے ہی کھڑے رہنا ہے.یا پھر یہ کہ گھر سے باہر ہی رہنا ہے یا پھر یہ ضد کے فون پر کال کر کے پکڑے رکھنا ہے فون
ساکٹس میں انگلیاں گھسانی ہیں اور چاکیلٹ کا کیچڑ بنا کہ لازمی مجھے کھلانا ہے.تو بھی مجھے آپ پر غصہ نہی آتا تھا.آپ پر کسی کو غصہ آ ہی نہی سکتا پیارے جگنو.
اففف میں شائد پورا سال یہیں سمیٹ دوں..پر پھر سہی ابھی اتنا سنیں___ میں جب پوچھتی ہوں نا آنا کا سب سے پارو جگنو کون ہے اور آپ کہتی ہیں ایمی..اور جب میں پوچھتی ہوں سب سے اچھی تتلی کون ہے تو آپ جواب دیتی ہیں ایمی..تو آپ واقعی تتلی لگتی ہیں جگنو جیسی آنکھوں والی تتلی جو اپنے پروں کے رنگوں سے آنا کے تخیل کو رنگین رکھتی ہے اور جو آنا کو نئے پن سے روشناس کراتی ہے.
سو آنا کے سب سے پیارے سب سے اچھے جان کے حصے جگنو تم جیو ہزاروں سال اور فلک کے ستاروں جتنی خوشیاں پاؤ.
ہیپی برتھڈے پیاری ایمی.
#آنا

Tuesday, 4 April 2017

I have a brother, A wonderful young man


آپ کے ساتھ تعلق کافی عجیب ہے.جسے بیان کرنا شائد میرے لیےآسان نہیں ہے.

کچھ لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے نا ایسا تعلق جو زمینی رشتوں سے تھوڑا اوپر ہوتا ہے؟
جب میں زبان کے آگے موجود کھائی کے باوجود کسی موضوع پر جھجک کر خاموش ہونے لگتی ہوں.یا پھر جب دوستوں جیسی بہنوں اور بہنوں سی دوستوں سے بھی کسی موضوع پر اظہار خیال سے خود کو قاصر پاتی ہوں تو میں بلا جھجک آپ سے پوچھتی ہوں "یہ کیا بدتمیزی ہے بھائی" ہم لوگ بینگ نیشن سک ہیں کیا؟___ اور آپ انتہائی سکون و اطیمنان سے چینل بدلتے ہوئے کہتے ہیں "جی آنا" آپ کو نہیں پتا ہم تھوڑے سے زیادہ سک ہیں؟ تو مجھے کہیں کسی سوال کا جواب مل جاتا ہے شائد.
اور جب میں ارد گرد موجود کسی شخص 
کو نکتہ نظر سمجھا نہیں پاتی ہوں تو مجھے کہیں نا کہیں یہ یقین امید توقع یا خوش گمانی ہوتی ہے کہ آپ سمجھ لیں گے.
ایسا کوئی غیر انسانی سپر ہیومن تعلق نہیں کہ شکوے شکایتیں نہ ہوں..ہوتی ہیں وہ بھی...لیکن وہ اس محبت سے شائد بہت چھوٹی ہوتی ہیں جو میں آپ سے کرتی ہوں.
اور پھر آپ خود ہی تو کہتے ہیں آنے میں بھائی ہوں دوست ہوں ٹیچر ہوں اور جگتیں لگانے کے لیے ہر وقت میسر ہوں. تو ایسے میں تعلق عجیب ہی ہوا نا؟ 
آپ جییں ہزاروں سال بھائی اور یہ رسمی دعا نہیں پتا ہے آپکو.
اللہ پاک آپکو صحت تندرستی عطا کرے آمین.
لمبی زندگی دے..اور دنیا کے ہر شہر میں آپکے دوست ہوا کریں وہ آپکو اپنے شہر بلایا کریں اور آپ ہمیشہ کی طرح بھابھی کو قائل کر لیا کریں... کہ دیکھیں کسی مسلمان کی دعوت ٹھکرانا مسلمان بھائی کا شیوہ نہیں.:-D 
یونہی ہستے مسکراتے رہیں.آمین
دودھو نہائیں پوتوں پھلیں کہہ نہیں سکتی...
کیونکہ دودھ کا دودھ سوڈا پینے والا موسم آ گیا ہے..اور پوتوں پھلنے کے لیے آپکو خود کو سنئیر سٹیزن تسلیم کرنا پڑے گا..جبکہ آپ تو اپنے گرینڈ چلڈرن کے ساتھ بھی کرکٹ کھیلنے کا عزم کیے ہوئے ہیں..
سو درمیانی راہ نکالتے ہیں بیوروکریٹک سی کہ ینگ مین مئے یو لو لانگ..:-D 
خوشیاں تندرستیاں محبتیں پائیں..
نوٹ: بھابھی محبتوں کی ڈیفینیشن بھائی کی اپنی ہو گی.:-D 
اور ایک ایج اور بھی حاصل ہے آپکو...
آپ میرے جگنو کے بابا ہیں..سو ہیییییپییییی والا برتھڈے بھائی.
#آنا.
Shahid Inayat

Wednesday, 15 March 2017

ویرانی


میں نے پوچھا 'رہتے کہاں ہو؟'
فوراً بولا 'سڑک پہ، باجی ___'
الجھے بالوں، ننگے پیروں
میلے ہاتھوں، خالی آنکھوں والے
چھوٹے سے بچے نے
کیسی کڑوی بات کہی تھی
ہاتھ میں شاپنگ بیگز اٹھائے
سوچ میں ڈوبے
اپنے چہرے پر گرتی
بارش کی ننھی بوندوں سے
جاتی سردی کا لطف اٹھاتے 
چلتے چلتے__
اس کو دیکھ کے ٹھٹھک گئی تھی
جس کی خالی آنکھ نے مجھ کو 
کیا جانے کس خواب نگر سے
لا کر زمین پہ پٹخ دیا تھا
کیسی تلخی اور کیسا دکھ
اس کی آنکھ سے چھلک رہا تھا
بالکل جیسے پھول سے خوشبو
اور تتلی سے رنگ جدا ہو
یا جیسے بےنور ہو سورج
اور حسرت سے دیکھ رہا ہو
ویسا ہی ویران تاثر
اس کی خالی آنکھ میں بھی تھا
#سحرش_عثمان

Wednesday, 8 March 2017

یومِ نسواں؛ لیجیے مبارک باد

آج کے دن، گھر کی چار دیواری میں مستور سے چائے کا کپ بنوا کر، سوشل میڈیا پر باہر والی کے مرد کے ظلم پر ہم دردی جتانے والے تمام نیک دِل مردوں کو خواتین کا عالمی دن بہت بہت مبارک ہو۔
ابا، بھائی، یا شوہر کی کمائی سے انٹرنیٹ پیکج استعمال کرتے ہوئے، مرد کو کوسنے دینے والی، کہ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں، ایسی شیر دِل مسمات کو خواتین کا عالمی دن مبارک۔
آپ لوگ سدا ہنستے کھیلتے خوشیاں بانٹتے رہیں، دوستو۔ آپ ہی کے دم سے رونق ہے؛ وہ جو ہنستے کھیلتے لڑتے جھگڑتے، مستورات کے حقوق کی صدا بلند کرتے رہتے ہیں۔ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
سسرال سے لاکھوں کا جہیز لینے والے، سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق والی پروفائل پکچر لگانے والے، انتہائی شریف مہذب لڑکوں کو بھی یوم نسواں مبارک۔
دو تین لاکھ کا عروسی جوڑا پہن کر شادی کے مسائل پر گفت گو کرنے والی دُلھنوں کو بھی آج کا دن مبارک۔
جہیز میں آئی گاڑی میں بیٹھ کے عورتوں کے اسراف پر درس دینے والوں کو بھی مبارک باد۔
بیٹیوں کو محض ان کا مقام دینے کے لیے بیٹا پکارنے والے، معاشرے کے منافق افراد کا ساتھ دینے والے ماں باپ کو بھی مبارک۔
حلق کے پورے زور سے رب کے حکم سنانے والوں اور اسی حکم کی آڑ میں بیٹی کی اس کی مرضی و منشا کے بغیر شادی کرنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آج کا دن مبارک۔
ڈی پی پر پھول دھنک ستارے سجا کر
ان باکس میں رُخ روشن کا دیدار کروانے والیوں اور جلوہ دیکھنے والوں کو یہ سنہرا دن مبارک۔
کمینہ دیکھتا کیوں نہیں، اور دیکھ کمینی۔ والوں کو بھی مبارک۔
ٹریٹ بلیڈ سے لے کر ٹرک کے ٹائر کے اشتہار تک، خاتون کی موجودی کو مساوی حقوق کا نام دینے والوں کو مارچ کا یہ دن مبارک۔
آنسہ کو ان باکس میں اس کی اوقات بتانے والوں کو۔ بیٹے، بھائی کے لیے اپنی ہی جنس کا رنگ قد دانت بال ماپنے والیوں کو۔ تمھی‍ں، تمھاری جاب پر۔ آج کے خصوصی دن مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔
صاحبہ کو اس کے پروفیشن کے خانوں میں تقسیم کرتی سوچ کو مبارک۔
محبت کے وعدوں میں کسی کے سیلف ایسٹیم کو روندنے والو! تمھیں بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ سو مبارک باد قبول کرو۔ آج کا سورج تمھاری انا کو گنے کا رس پلانے کے واسطے ہی تو طلوع ہوتا ہے۔
اور ہاں۔ کیا کسی کو وہ لفظ یاد ہیں؟
اور تم میں سے کچھ لوگ جب بیٹی کی پیدائش کی خبر پاتے ہیں، تو ان کے چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ 
ان رُوسیاہوں کو بھی مبارک باد۔
آج کا دن ہر دوغلے کے نام۔
ہمیں دوغلے رویوں سے پیار ہے۔ ہم سبھی تھوڑے سے۔ ذرا سے۔ معمولی سے۔ دوغلے ہیں؛ ہے ناں؟

Wednesday, 8 February 2017

عورت کا کرب ۔۔۔ تفصیلی خبر




بہت دن ہوئے میں نے آئینہ نہیں دیکھا۔ اب تو خود سے نظریں چرا چرا کر تھک گئی ہوں۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب  اپنے آپ سے بھی کچھ چھپانا پڑے۔ جب کسی بات کو آپ خود سے بھی بیان نہ کر سکیں۔ جیسے  اپنا آپ بھی محرم نہ رہا ہو۔ مجھے معلوم نہیں میرا تخیل تھا یا کوئی خواب، لیکن میں ایمبولینس کی سفاک خاموشی کا حصہ تھی۔ اس کا نام ؟۔۔۔۔ وہ عورت جو ایمبولینس کے اندر لیٹی تھی اس کا نام صائمہ تھا۔۔۔ یا پھر شائد سنبل تھا۔۔بے حسی میری یاداشت کھاتی جا رہی ہے۔ اس عورت کا نام مقدس تھا شائد ۔۔۔ یا پھر بے نام تھی وہ۔ عمر یہی کوئی چھ سال۔
جی ہاں ۔۔۔چھ سال، یا شاید اس سے بھی کم
جب اس عورت کو آئی سی یو میں شفٹ کیا جانے لگا تو میں نے دیکھا کہ اس کی کلائی ہاتھ کی گرفت سے پھسلی جا رہی تھی۔ کلائی پر نبض والی رگ کاٹنا چاہی ہوگی اس حاکم نے۔ عورت کو یوں بھی جینے کا حق کم ہوتا ہے۔ جب سٹریچر کے ساتھ ساتھ چلتے میں نے ڈاکٹر کا یہ جملہ سنا کہ خون کی بھی ضرورت پڑے گی تو مجھبے اچنبھا سا ہوا۔ اس بے جان لاشے کو خون لگائیں گے یہ ڈاکٹرز؟ وہ میری آنکھوں کی حیرانی ہی ہوگی جس کوپڑھ کر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ زندہ ہے۔ کٹی گردن، کٹی کلائی، لٹی عزت، کھویا بچپن، خوف، بے چارگی، بے بسی، بے اختیاری کے ساتھ دس سے بارہ گھنٹے کچرے میں رہ کر کوئی عورت ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ سخت جان، بے حس عورت
مجھے نہیں پتا یہ پڑھ کر آپ کیا تاثر لیں گے۔ مگر اس ایک جملے کے بعد میرا ہاتھ تھم گیا تھا ۔۔۔خدا جانے کتنے زمانوں کے بعد میرا ذہن ان سطروں کو لکھنے پر آمادہ ہوا ہے۔ پر کس قدر خود غرض ہوں نا میں۔ بات میرے تخیل پر آئی ہے تو مجھے درد کا احساس ہوا ہے۔ میرے لفظ،قطرہ قطرہ درد کشید کرتے، ذرہ ذرہ مرنے لگے ہیں تو میرا کرب جاگا ہے ۔ اس کے درد کا کیا؟؟ جو جانے کتنے زمانے درد کے جہنم میں گزار کر لوٹی تھی۔ اس زندگی کا کیا قصور تھا؟ کیا ہم سب اس سوال کے لیے جوابدہ نہیں ہیں؟ کیا ہم سدا یونہی درندگی کے جواز تراشتے رہیں گے؟
 کیا اب بھی ۔۔۔۔ اب بھی نہ جاگیں گے ہم؟ خدا جانے ان سوالوں کی بازگزشت میں کتنے برس لگیں گے ہمیں۔ خدا جانے درندگی کے مزید کتنے باب رقم ہوں گے اور کب ہم اس بات کو قبول کریں گے کہ ہمارے بچوں کو اب آگاہی دینا لازم ہے۔ آگاہی ۔۔
 سرجری ٹیبل پر لیٹے وجود نے سسکی لی تھی اور سرجن نے جھرجھری۔ میں نے گردن گھما کر سرجن کی طرف دیکھا تو پیرا میڈیکل سٹاف میں سے ایک شخص گویا ہوا پچھلے تین گھنٹے سے اس عورت کی سرجری جاری ہے۔ پرت در پرت اس کی جلد کو جوڑتے، ٹانکتے، مرمت کرتے، سرجن جب تھک کے کرسی پر بیٹھے تو کتنے زمانوں کی تھکن رقم تھی ان کی آنکھوں میں۔ جیسے وہ ہمت ہار گئے ہوں پرت در پرت بچپن جوڑتے ۔۔۔۔۔۔۔ بچپن بھی جڑا ہے کبھی؟؟ سائیکولجسٹس کہتے ہیں بچپن کا کوئی ناخوشگوار واقعہ تمام عمر ذہن پر نقش رہتا ہے۔ اور ہم کس قدر سفاکی سے کہہ دیتے ہیں چائلڈ ریپ وکٹم۔ نہیں، بچہ نہیں رہتا وہ فرد نہ ہی وکٹم۔ وہ جیتی جاگتی لاش بن جاتا ہے۔ چلتی پھرتی ممی ۔۔جی چاہتا ہے سارے آرکیالوجسٹس سے پوچھوں وہ اہرام میں کیا تلاش کرتے ہیں؟؟ کیمیکلز لگے بے جان لاشے؟ آئیں تو میں انہیں یہ چلتی پھرتی ممیز دکھاؤں۔ اپنی لاش کا بوجھ اٹھائے دن سے رات کرتے ہوئے وجود، جن کی آنکھوں کے رنج، اداسی کے سامنے ساری دنیا بھر کے درد چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔
میرا جی چاہتا ہے یہاں وہ ساری تفصیلات لکھ دوں۔ تفصیلات___ کتنا حسابی کتابی سا لفظ ہے نا؟؟ نفع کا حساب، نقصان کی تفصیلات، تباہی کا چارٹ۔ مگر کیا کروں، جسمانی درد کی تفصیل اس کے نقصان کے شمار کو تفصیلات ہی کہوں گی۔ بڑی بے درد زبان ہے ہماری بھی۔ کوئی جان سے جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں انتقال فرما گیا ہے۔ لیکن یہ تو اچھا لفظ ہے اس جہانِ خراب سے جانا کوئی ایسا خسارہ بھی نہیں ہے۔ جی چاہتا ہے وہ سب لکھ دوں جو ریپ وکٹم بچے اپنی باقی زندگی میں سہتے رہتے ہیں۔ وہ سارے درد، سارے دکھ، ساری تکلیفیں لکھ دوں۔ جی چاہتا ہے کہ بتاؤں ۔۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ بچیاں مائیں بننے سے انکاری ہو جاتی ہیں۔ پتا ہے عورت کے لیے ماں بننا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور کوئی عورت ماں بننے سے انکار ہی کردے تو کوئی تو درد ہوگا نا جو حد سے گزرا ہوگا۔ ہوس کا کیسا انگارہ تھا جو کوکھ جلا کر خاکستر کر گیا؟ اور ہمارے چینلز پر تین وقت خبر چلتی ہے، بخار کی ٹیبلٹ کی طرح ۔۔۔۔۔۔ صبح، دوپہر، شام۔
سرجن نے بہہ چکے خون کا حساب لگا کر کلائی کا بازو سے ناتا بعد میں جوڑنے کا فیصلہ کیا اور شریانوں کو عارضی مرمت کے بعد پٹی میں قید کر دیا۔ نرس نے سرنج میں دوا کا محلول بھرا تو میرا دل حلق میں آ گیا۔ کیا اتنی لمبی سرنج گھسائے گی اس معصوم جان میں؟ اور کسی نے سوال در سوال پوچھا، اب تم سرنج کے چبھنے پر نوحہ خوانی کرو گی؟ سوال کے لہجے کی سفاکی نے میرے لفظوں سے مفہوم کھینچ لیا۔ کبھی کبھی ہم خود سے بھی بے رحمی کے ساتھ پیش آتے ہیں نا۔ جیسے خود سے بھی صلہ رحمی کا تعلق نہ رہا ہو۔ ویسا ہی بے رحمی کا تعلق تھا اس وقت۔ گلے پر پٹی باندھے، آنکھیں موندے، ہوش سے ورا، وہ ننھی جان ۔۔۔۔۔۔ خواب و خیال میں کسی تتلی کے پیچھے بھاگ رہی ہو گی۔ اور تتلی کے اڑ جانے پر انگلیوں پر لگے اس کے پروں کے رنگ دیکھتی ہو گی۔ اسے کیا معلوم کہ ہوش کی دنیا میں اب وہ خود رنگ اڑی تتلی کی مانند ہی جیئے گی۔ یہ سنگدل، بے حس، بے رحم معاشرہ اب اس شیطان صفت درندے کی ہوس کی سزا بھی اسے دے گا۔ اب اس کے لیے سب سے دوستانہ رویہ، کسی کا ترحم بھری نظروں سے دیکھنا ہوگا۔ اڑتالیس گھنٹے بعد وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔ سرجن نے دوسرے ڈاکٹر سے مشورہ لیتی نظروں سے دیکھا۔ ڈاکٹر نے اثبات میں یوں سر ہلایا گویا پوچھ رہے ہوں اڑتالیس گھنٹے گزار پائے گی۔ یہ سخت جان عورت؟
آپریشن تھیٹر سے آئی سی یو میں لے جاتے سارے ڈاکٹرز اور عملہ ایک ایک کر کے او ٹی چھوڑ گیا۔ میرے خیال کے جہنم نے مجھے او ٹی سے اٹھا کر معاشرے کے کرتا دھرتا معزز اشرافیہ کے روشن طبقے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس پر مجھے قدیم روم کے ایوانوں کا گمان گزرا، جہاں طاقت کا قانون پاس ہوا تھا کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ اتنے اختیار کا مالک ہوگا۔
غیر قانونی چھینک آنے پر سؤو موٹو نوٹس لینے والی عدالتیں بھی نظر آئیں۔ جہاں سب بونے سر جوڑے حاکم کی تدبیر کو خدائی حکم ثابت کرنے پر تلے تھے۔ جہاں جا کر صرف ایک بات یاد رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب حشر میں کوئی اٹھ کر پوچھے گا کس جرم میں میری روح تار تار کی گئی تو کیا سارے خدائی فوجدار جواب دے پائیں گے؟ کہ جب ہم ضعیف سے ضعیف حدیث پر حلق کے پورے زور سے تطبیق تطبیق پکارتے تھے تو اپنی مرضی کو رب کا حکم بتاتے تھے، تب ہم اس جرم پر خاموش کیوں رہے؟ اور کیا میں جواب دے پاؤں گی کہ میں ہر معاملے میں ایمان کے کمزور ترین درجے پر ہی فائز رہی___کیوں؟
عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ آئی سی یو سے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ وارڈ میں گئی تو ہاتھ بازو گردن پٹیو‍ں میں جکڑی عورت نیم دراز تھی۔ اسے دیکھا تو ہونٹ خفیف سی مسکراہٹ کے دباؤ سے پھیلے تھے جیسے مجھ سے پوچھ رہی ہو 
تیرے ہر رویے میں بد گمانیاں کیسی؟
جب تلک ہے دنیا میں اعتبارِ دنیا کر

Thursday, 2 February 2017

سیلون میں ہمارا شریکا نکل آیا۔۔۔




گو کہ یہ اپنی ذات میں ایک بڑا واقعہ ہے کہ ہم کسی ایسی جگہ پائے جائیں جہاں جاتے ہوئے عام لڑکیاں انتہائی مسرت کا اظہار کرتی ہوں۔ خیر کسی کام سے ہم پھرتے پھراتے سیلون جا نکلے۔ بیسمنٹ کے کاسمیٹکس سٹور پر باڈی شاپ اور لوریل کی پراڈکٹس کو دیکھتے اور ساشے کی انوینٹر اس معمولی دکاندار کی بیٹی کی اس کاوش پر سر دھنتے، جانے ہم کس دنیا میں جا نکلتے جو سیڑھیاں اترتی ایک عدد ایکس ایل آنٹی سے ٹکراتے ٹکراتے نہ بچتے۔ چونکہ سیلون لے جانے سے قبل ہم سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ ہم کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہیں فرمائیں گے سو ہم آنٹی نما اس لڑکی سے یہ پوچھتے پوچھتے رہ گئے کہ باجی نیو خان یا نیازی ٹریولز؟؟ جی بالکل، انہوں نے ٹرک کے فرنٹ پر لگی، فزکس کے قانون کو مینج کرتی زنجیر کی مانند ایک عدد ماتھا پٹی چہرے پر سجا رکھی تھی۔ آنکھوں پر رنگوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ انتہائی نفیس سموکی میک اپ میں چار رنگوں کی بلینڈنگ کسی ہنر مند کی محنت کا پتا دے رہی تھی لیکن ان خاتون نے ساری کسر اورنج لپ سٹک اور بلش آن لگوا کر پوری کر دی تھی خاتون کا ڈریس اور اس پر لگے بے تحاشہ پرلز نے یہ راز کھولا کہ اورنج لپ سٹک بھی ان ہی کا انتخاب ہوگی۔



خیر ہم سیڑھیاں چڑھ کر ہیئر سیکشن میں تشریف لے گئے جہاں ہر طرف گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرنے واسطے مشاطائیں سر توڑ کوششوں میں مصروف پائی گئیں۔ اور چونکہ ہم یہ پوچھنے واسطے تشریف لے گئے تھے کہ یہ جو سر پہ بالوں کا ایک عدد گھونسلہ نما سا ہے اسے انسانی شکل دینے کا کیا قصہ ہے۔ آخر کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے؟ اور یوں بھی آجکل ہمیں کچھ ایسا کرنے کا شوق چڑھا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ بھی لے تو سوچے کتنا بدل گئی ہیں__لیکن جب وہاں سب کو بال کرل کراتے دیکھا تو دل سے بے ساختہ آواز آئی دنیا کسی حال میں خوش نہیں آنا بی۔۔ بہتر ہوگا سٹک لو۔



لیکن وہ آنا بی ہی کیا جو کسی نصیحت پر کان دھر لیں۔ لہٰذا وہاں سے ارادہ ڈگمگایا تو میک اوور سیکشن میں جا پہنچے وہاں جب رنگ و نور کو خواتین کے چہروں پہ برستے دیکھا تو بے ساختہ کسی پیر سے یہ سوال پوچھنے کا جی چاہا کہ ایسی کونسی نیکی ہوگی بھلا ان خواتین کی جو نور ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے؟ اور حسب معمول اس سوال کا جواب بھی دل ہی نے دیا۔ بی بی یہ نیکی نہیں ان کے شوہروں اور اباؤں کی محنت کی کمائی ہے، جو نمود نمائش اور جھوٹے مقابلے کی نذر ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کہ خواتین کے اس مقابلے میں ہمارا وعدہ اپنی طبعی عمر پوری کرجاتا۔ سینئر میک اپ آرٹسٹ نے ہماری آمد کا مقصد پوچھا۔ ہم نے سوال کیا ہمارے چہرے پر کیسا میک اپ اچھا لگے گا کہنے لگیں ہر طرح کا۔ یقین مانیے ہم بھی گویا یہی سننے گئے تھے۔ عرض کیا، جب ہر طرح کا میک اپ سوٹ کرے گا تو ہم گھر میں کر لیں گے۔

وہاں سے جب ہمیں باقاعدہ کھینچ کر باہر نکالا گیا تو فورس اور موشن کے قوانین کے عین مطابق ہم اگلے سیکشن یعنی فیشل این سکن ٹریٹمنٹ سیکشن میں پہنچے۔ پوچھا کیا ٹریٹمنٹ فرماتے ہیں آپ لوگ؟ جوابا چھ عدد بھاری بھرکم انگریزی الفاظ ایک ہی سانس میں بول کر بتایا گیا یہ۔ اور جب ہم نے اس کا ترجمہ اردو میں کر کے پوچھا کہ یہ؟ تو خاتون تقریباً برا مان گئیں ہم نے بہتیرا بتانے کی کوشش کی کہ بی بی انگریزی میں اچھے نہیں ہم۔ لیکن وہ کہنے لگیں کہ آپ ریسیپشن سے سلپ بنوا لیں جو ٹریٹمنٹ لینا ہے۔ ہم خواتین کے اس میک اپ اوبسیشن سے خاصے متاثر ہوئے اور اس سے تحریک پا کر ہم نے بھی اس ہجوم کا حصہ بننا چاہا۔ سیدھے گئے ریسیپشن، خاتون سے کہا مینی کیور کی سلپ بنا دیں۔ کہنے لگیں ساتھ پیڈی کیور مسٹ ہوگا۔ پوچھا کیوں؟ کہنے لگیں پیکج ہے، آپکو ڈسکاونٹ مل جائے گا۔ ہم نے بدتمیزی کا سدباب کرنے والے وعدے کو ایک منٹ کے لیے ہولڈ کرایا اور کہا بی بی آپکا ڈسکاونٹ اتنا اہم نہیں کہ اس کی خاطر میں کسی کی سیلف ایسٹیم پر پاوں رکھوں۔ کہنے لگیں یہ ورکر کی جاب ہے۔ اور میں یہ سوچتے ہوئے باہر کی طرف چل دی کہ کس قدر بے ضمیر ہوتے جا رہے ہیں ہم مجبور کی مجبوری اور بے بس کی بے بسی کو اس کی جاب کا نام دیتے ہیں۔

یہ تو خیر کمرشل بے حسی ہے۔ آپ لوگ اسے پروفیشنل ایٹیچوڈ، بزنس ڈیمانڈ یا کچھ بھی کہہ کے خود کو تسلی دے سکتے ہیں۔ لیکن اس دوسری بے حسی کا کیا کریں گے؟ وہ جو ہم گھر میں اپنے لوگوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ ایک شخص کو اے ٹی ایم بنا کر جو ہم اپنے لیے آسائشیں خریدتے ہیں وہ بھی تو بے حسی ہے۔ جب ہم اسراف کو ضرورت کا اور نمود و نمائش کو رسم دنیا کا نام دیتے ہیں، وہ بھی تو خود غرضی ہی ہے نا۔ اور جب کبھی کسی خاتون سے پوچھ لیا جائے کہ ایسا کیوں؟

تو کیا جواب آتا ہے ؟ شریکا۔

شریکا جینے نہیں دیتا

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اپنی زندگی ان لوگوں کو خوش کرنے میں، ان کے بنائے ہوئے پیمانوں پر پورا اترنے میں صرف کر رہے ہیں، جن کو ہم سرے سے پسند ہی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ہے نا عجیب منطق؟

Friday, 20 January 2017

ہم سے کوئی راہ نہیں نکلی


کبھی کبھی جی چاہتا ہے نا کہ ایسے کسی رستے پر پہروں ننگے پاؤں چلتے رہیں ۔۔۔ اتنا چلیں کہ سڑک کے آخری سرے سے جا ملیں۔ اور جو سڑک کا سرا ہو، وہ میری آپ کی دنیا کا بھی آخری سرا ہو۔ جس کے کنارے پر چپکے سے پاؤں لٹکا کر بیٹھ جایا جائے۔


کچھ کہے سنے بغیر بس خاموشی سے کسی ستارے کی جانب پاؤں لٹکا کر ہم بیٹھے رہیں۔ ہر وابستگی سے پرے، ہر تعلق سے اوپر۔ بس ہم ہوں، تنہائی ہو، خاموشی ہو اور دنیا کا آخری سرا ہو۔ سارے سخت لہجے، سب تلخ جملے اس خاموشی میں گھلتے رہیں۔ آپ کی زمیں کا سورج، آپ کی پشت سے ہوتا ہوا آپ کے سامنے ڈوبنے لگے۔ اس کی مرتی ہوئی روشنی میں آپ کا عکس، پت جھڑ میں درخت پر لگے اس آخری پتے سا ہو، جسے روز گزرنے والا مسافر لمحہ لمحہ مرتا ہوا ۔۔۔۔ سبز سے پیلا ہوتا ہوا دیکھے اور اس کی زندگی کی دعا کرے۔



تمہیں پتا ہے ۔۔۔۔ قریب الموت شخص کو زندگی کی دعا نہیں دیتے لوگ ۔۔۔ آسانی کی دیتے ہیں۔ شاید ترس آجاتا ہے لوگوں کو بیماری میں اس شخص پر اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ اپنے حصے کی زندگی بھگت چکا ہے۔ اب کیا اسے زندگی کی دعا دینا۔ چلو اس کے لیے آسانی مانگتے ہیں رب سے، کہ یہ زندگی سے رہا ہو کر آسانی پا جائے۔ تمہیں پتا ہے میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ زندگی کے ساتھ کوئی اور آپشن بھی ہونا چاہیے تھا۔ یہ جیتے ہی جانا کوئی چوائس نہیں ہے۔ لوگوں کواپنے سامنے بدلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ عہد حاضر کو ڈھلتے ہوئے دیکھو، جیئے جاؤ۔ کسی خواب کی لاش آنکھوں میں بھر کے، کسی یاد کا کوئلہ سینے میں دہکا کر، کسی مان کی کرچیاں دل میں چھپائے، بس جیئے جاؤ۔ یعنی حد ہے زندگی بھی۔ جیسے پہلا سوال ہے نا کوئسچن پیپر کا ۔۔۔ لازمی اور بنیادی۔



اتنی بڑی کائنات کے اتنے وسیع وعریض انتظام میں زندہ رہنے پر رب نے کمپرومائز نہیں کرنے دیا۔



ایک دفعہ پہلے رب سے کہا تھا کہ میں تیری دنیا کے معیارات سے قطعی مطمئن نہیں۔ آج تو حد ہی ہوگئی۔ دل چاہتا ہے کہوں اس سے، میرا تیری دنیا میں اب جی نہیں لگتا۔ ذرا بھی جو یہ دل آمادہ ہو، اس پہلے بنیادی اور لازمی سوال کو حل کرنے میں۔ اب تیرے بندے مجھے یاسیت کا طعنہ دیں گے۔ پر فرق کسے پڑتا ہے اب؟ انہیں طعنے دینے کے سوا اور آتا بھی کیا ہے؟ اس دنیا سے کوئی چیز اٹھائی جا سکتی ہے کیا؟ ذرا رہنے کے قابل تو لگے۔ ایسے تو دم گھٹتا ہے میرا۔ پھر جو مَیں دم گھٹنے سے مر مرا گئی اور رپورٹس میں کچھ بھی لیم سی ایکسکیوز آگئی تو کون ذمہ دار ہوگا اسکا؟
کیا تجھ کو راس آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟
دیکھ تُو دنیا سے جہالت، بے حسی، خود غرضی کو نہیں اٹھا سکتا تو کم از کم شعور، آگہی اور حساسیت ہی کو اٹھا لے۔ یہ تیرے بندے اپنی ہی آگہی کے ہاتھوں مبتلائے آزار رہیں گے کیا؟؟ بس تُو اب یا تو سب کو بے حس بنا، یا پھر حساسیت کے لیے سزائے موت کا کن کہہ دے۔
تیرے بندوں کے آزار سے سخت پریشان ہیں ہم۔ اب تُو ہی کوئی راہ نکال۔ ہم سے تو کوئی راہ نہیں نکالی جاتی۔ ہمیں توکوئی رستہ نہیں سوجھ رہا اب۔