Pages

Saturday, 24 December 2016

فیس بکی ناقدین کے نام کھلا خط یعنی کے پبلک پوسٹ.


تو مائے ڈئیر سو کالڈ "معیار کانشئس" لوگو!!
امید ہے آپ سب ٹھیک ٹھاک پنجے تیز کیے اس تحریر پر تنقید کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہوں گے. یوں تو ہمیں اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ کیا کہتے کیا سوچتے ہیں آپ لیکن کیا کریں آپ ہی کی طرح عادت سے مجبور ہم بھی جب تک آپ لوگوں نے کیڑے نکالتے رہنا ہے تب تک ہم نے آپ کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے رکھنا.
وہ کیا کہتا ہے شاعر
وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں.
سُبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو؟
تو مستقل آزار میں رہنے والے میرے پیارے تنقید نگارو یہ فیس بک ہے یہاں پر لوگ اپنی والز یا گروپس میں لکھتے ہیں یہ کوئی اعلی ادبی معیار کا حامل رسالہ تو نہیں ت
ج-وسب ہی اعلی ترین ادبی تحریریں آپ کی نظر کریں.
ارے بھئی جو پروفیشنل رائٹر ہوگا وہ آپ کے لیے چیزیں لکھ لکھ کے فیس بک پر لگائے گا کیا؟؟ یہاں تو لوگ وہ لکھیں گے جو جی میں آئے گا.سیدھی سی بات ہے بھیا جتنے پیسے آپ زخر برگ کو دیتے ہیں اتنے ہی وہ تو پھر وہ آپ کے بنائے ہوئے معیار پر پورا کیوں اتریں؟
آپ چاہیں تو انہیں پڑھ لیں نہ چاہیں تو نہ پڑھیں.کسی کی کوئی مجبوری تو نہیں کہ لازمی ہی پڑھنا ہے اور پھر یہ بتانا کہ آپ کی تحریر افسانے کی خط کی نثر کی مروجہ تعریف پر پوری نہیں اترتی لہذا مت لکھا کریں؟
ارے بھئی آپ بتائیں ضرور بتائیں علم ضرور بانٹیے.لیکن دوسروں کو ڈی گریڈ کیے بغیر.تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق سمجھیے.اور اپنے ناک کے آگے بھی دنیا دیکھنے کی کوشش کیجیے.
اپنے اندر کے سیڈسٹ کو دو منٹ کے لیے ہولڈ کرائیے اور سوچیے یہ جو لوگ اپنا وقت دے کر لکھتے ہیں نا یہ انسان ہونے کی حثیت سے بہت اہم ہیں ان کی رائے ان کا نکتہ بھی اتناہی اہم ہے جتنا آپکا.سو اگر یہ اپنی رائے کو حرف آخر نہیں سمجھتے تو آپ بھی بار بار اپنے افکار ان پر مسلط کرنا چھوڑ دیجیے..
لوگوں کو سانس لینے کی آزادی دیجیے.آپکو نہیں پسند ان کا طرز تحریر مت پڑھیے پڑھ لیں تو تہذیب سے بتانے کی کوشش کیجیے کہ کہاں کہاں کیا کیا سدھار ممکن ہے.خود کو عقل کل سمجھ کر بتائیں گے تو کوئی خاک سمجھے گا؟
بلکہ الٹا آپ ہی کے کہے ہوئے لفظوں کی وقعت کم ہوگی.
خیر میرا کام تھا بتانا بتادیا اب تمہاری مرضی باز آؤ یا نہیں.
امیدہے ان باتوں کا شدید برا منایا جائے گا.
باقی تنقید نگاروں کو پیار تمہیں صرف سلام..
تم سب کو بہت پیاری :-P 
#سحرش_عثمان

Monday, 19 December 2016

سانحہ اے پی ایس، ابھی انجام باقی ہے



ہم نفرت کے قائل نہیں، نہ نفرت کوئی ایسا قابل تحسین و تعریف جذبہ ہے کہ اسے اپنایا جائے.نہ تم اتنے محترم و معتبر کے تم سے نفرت کا ہی رشتہ یا تعلق رکھا جائے.
پچھلے سال بھی لکھا تھا آج پھر لکھتی ہوں، تمہیں اپنی نفرت سے بھی آزاد کیا، تم ہماری نفرت کے بھی قابل نہیں ہو تم اس قدر غیر انسانی ہو کہ تم ہماری نفرت کے درجے سے بھی گر چکے ہو.
لیکن خوف کے سوداگرو!! آؤ دیکھو میری قوم کی مائیں میرے بچے میری قوم کے باپ بھائی سب زندہ ہیں صرف زندہ نہیں اپنی اپنی زندگیوں کو جیتے ہوئے، گزارتے یا کاٹتے ہوئے نہیں.

اور تم!! تم کہاں ہو؟؟کیا ابھی بھی تم میری زمیں پر سانس لیتے ہو؟؟ اگر ہاں تو آؤ پھر دیکھو تم خوف کی علامت تھے نا؟؟ پھر تم نے اس قدر خوف بیچا کہ ہم بے خوف ہو گئے.
تم ہمارے مزار جلاتے رہے، ہم پھر سے بناتے رہے۔ مسجدیں گرائیں تم نے، ہم تعمیر کے خو سے جت گئے.. تم کالجز یونیورسٹیز مدرسے گراتے رہے، ہم علم کی شمع کی لو بڑھانے کے جتن کرتے رہے. لیکن ہم تم سے مایوس نہیں ہوئے کہیں نا کہیں میرے لوگ تمہیں مسلمان اور انسان کا درجہ دیتے رہے بہت سے تمہارے لوٹ آنے کی آس لگائے بیٹھے رہے.
پر تم پر تو خون سوار تھا. خود کو ثابت کرنے کے چکروں میں تم نے میرے بچوں پر حملہ کیا، بھیانک حملہ۔۔ جس کی تفصیل لکھنے سے میرا قلم انکاری ہے. مجھے معلوم ہے وہ سارے گوشے جو ان آنکھوں نے یاداشت کی سکرین پر دیکھے، مخفوظ کیے ہیں۔ ان کو اگر کبھی میں نے لکھنے کی جرات کی تو میرا قلم روٹھ جائے گا. میرے اندر کا خواب پرست مر جائے گا، جو بعض اوقات حقیقت سے صرف اس لیے آنکھیں پھیر لیتا ہے کہ پھر اتنا درد وہ حرفوں میں کیسے سموئے گا. اور اگر لکھے گا نہیں تو ان کہی کی وحشت اسے مار ڈالے گی. جبکہ ابھی اسے زندہ رہنا ہے، اس خواب پرست کو زندہ رہنا ہے اس نے ان خوابوں کی تعبیر کی راہیں ہموار کرنی ہے جو تم نے، ہاں تم نے میرے ایک سو بتیس بچوں کی آنکھوں سے چھینا تھا..ابھی اس خواب پرست کو ان امنگوں کی آبیاری کرنی ہے جس کا خون تم نے کیا تھا میرے اور اپنے رب کے نام پر.معاف تو تمہیں یوں بھی نہیں کرنا تھا پر یہ جو تم نے رب کے نام پر جبر کا عہد برپا کیا ہے نا اس پر تو رب کی عدالت میں ہم فریق بنیں گے انشاءاللہ.
تمہیں پتا ہے نفرت کی انتہاء پر کیا ہوتا ہے؟ انسان ہر جذبے سے عاری ہوجاتاہے.بلکل ویسے جیسے تمہارے معاملے میں ہم ہیں.سخت نفرت کے بعد کا سکوت ہے.
پچھلے سال بھی لکھا تھا آج میں پھر اپنا عہد دہراتی ہوں، میرے بچوں کے اندھے قاتلو۔۔ میں چاہتی ہوں دنیا کی ساری زبانوں میں سے نفرت کے سارے لفظ اکھٹے کروں اور ان لفظوں سے تمہارے اور تمہارے حمائیتیوں کے لیے ایک مضمون لکھوں، اور روز حشر عادل کے عدل قائم کرنے والے دن میں اس مضمون کو تمہارے اور تمہارے حمائیتیوں کے خلاف درخواست کی صورت جمع کراؤں، پھر میں رب کا عدل ہوتا ہوا دیکھوں.المناک کربناک انجام سے دوچار ہوتا ہوا دیکھوں، ویسا کرب جیسا تین جوان بیٹوں کو دفناتے ہوئے ان کے باپ کی آنکھوں میں تھا.
تمہارے حامی اس بچے کی ماں کی آنکھوں میں ٹہری ہوئی آہ کا شکار ہوں، وہ جس نے کہا تھا دنیا کے کسی قانون سے انصاف کی امید نہیں سوائے رب سے.. اس وقت جب وہ کن کے مالک کو فیکون کہنے کی بھی ضرورت پیش نہ آئے گی، اسوقت تم اور تمہارے حمایتی دینا دلیلیں، منطقیں حوالے، بیان کرنا فلسفے رب کے سامنے.اور یہ صرف متشدد لہجے کی گفتگو ہی نہیں، اب یہ میرے اندر ایمان کی طرح اتر چکا ہے ظلم کی عمر بھی تھوڑی ہے اور اس کے حمایت کی بھی، جبر کا عہد تمام ہونے کو ہے، میرے بچے ایک اجلی اور روشن صبح دیکھنے کو ہیں، جس میں تمہارے دییے ہوئے زخموں سے ہم محبت کے علم کے چراغ جلائیں گے اور اس روشنی میں ہم مبنی بر عدل فیصلہ کریں گے، تمہارے اور تمہارے حمایتیوں کے المناک انجام کا فیصلہ..
کیا کہا؟ علم کی روشنی سے انتقام نہیں پھوٹتا اور کیا کہا میرے لفظوں سے شدت ٹپک رہی ہے۔۔؟؟
تو سنو یہ آخری فیصلہ ہے، قطعی اور اٹل بھی۔ میرے بچوں کے قاتلوں کے لیے لغت سے بھی معافی کا لفظ نکالنا پڑا تو نکالیں گے..
اور سنو تم سے لا تعلقی اور تمہارے حمائیتیوں سے بے زاری برات میں میرے لفظوں سے شدت نہ ٹپکے گی تو یہ توہین ہوگی میرے قلم کی جس کی پاسداری مجھے بہرحال کرنی ہے.

Wednesday, 14 December 2016

جب ہم منظر کا حصہ تھے



سرما کی اس شام کا
ڈھلتا ڈوبتا سورج
سرد ہوا اور چلتی گاڑی
تم اور میں___
منظر یاد ہے؟؟
ٹھہرا ٹھہرا مہکا مہکا
بالکل جیسے رات کی رانی
سیڑھی چڑھتے
تھام کے دامن
رستہ روکے
پوچھ رہی ہو
جا سکتے ہو؟؟
یوں خوشبو کا ہاتھ جھٹک کر
اگلی سیڑھی چڑھ سکتے ہو؟
اور تم!!!
رک کر،
لمحے بھر کو،
ٹھہر کے دیکھو
رات کی رانی کی خوشبو کا ہاتھ پکڑ کر
خواب نگر کی سیر کو نکلو
ہولے ہولے ،مدھم مدھم
دھیمے دھیمے سے لہجے میں
خوشبو جیسا قصہ چھیڑ کے
ہمدم کو وہ گیت سناو
جو پروا نے
دور افق کی گود میں
ڈھلتے، ڈوبتے سورج کی کرنوں پر
رقم کیا تھا
جس سورج کو دیکھ کے تم
گاڑی سے نکلے
کیسی مہکی شام تھی وہ
جب
ہم منظر کا حصہ تھے

Monday, 12 December 2016

ہیپی برتھ ڈے اماں.


آپ اپنے پیرنٹس کا تعارف ہوتے ہیں آپ کے لہجے میں اطوار میں گفتگو میں ان کی محنت محبت ان کا ڈسپلن اور آپ کے متعلق کنسرن نظر آتا ہے.گو کہ ہم اپنے اطوار میں وہ سیلف لیس تاثر نہیں لا پائے شائد کبھی ایسا بے غرضی آ بھی نہ سکے.
پر اگر کوئی کہے نا کہ اپنی اماں کو ایک لفظ میں بیان کرو تو ذہن میں آنے والا پہلا لفظ شائد سیلف لیس ہونا آئے یا پھر پہلا لفظ محبت آئے.
وہ بے غرض محبت جس نے زندگی میں ان کڈیشنل محبت کرنا سیکھایا.
جس نے بہادری سیکھائی جس نے اعتماد بخشا حساسیت دی.محسوسات دییے..میرے تخیل میں رنگ بھرے.
اور یہ اسی محبت کا کرشمہ ہے کہ کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائیوں کے ڈھیر لگانے والی سحرش لفظ لکھتی ہے مٹاتی ہے. کیونکہ ہر لفظ چھوٹا اور بے معنی لگتا ہے جب آپ کا نام لکھتی ہوں.
ہر استعارہ ہر تشبیہ چھوٹی لگتی ہے جب آپ کی شبیہ نظروں میں لہراتی ہے.سارے رنگ کچے اور سارے کینوس چھوٹے لگتے ہیں جب آپ کا سراپا ذہن کے پردے پر ابھرتا ہے.ساری دعائیں سارے جملے سارے اظہار بودے لگتے ہیں جب آپ کے دعا کے لے اٹھے ہوئے ہاتھ یاد آتے ہیں. آپ کے لیے کیا لکھا یا کہا جا سکتا پے سوائے اس کے کہ
آپ کے بچے آپکو حشر کی صبح بھی دائم دیکھنا چاہتےہیں.
ہیپی برتھ ڈے اماں.:-*

ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں


میں منیر نیازی نہیں ہوں ایسا کوئی دعوی بھی نہیں ہے پر معلوم نہیں کیوں گمان گذرتا ہے کہ یہ جو ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں ہے نا تو دراصل یہ الفاظ میرے تھے بیان منیر نیازی کے قلم سے ہوئے یا پھر یوں کہ میرا احساس انہیں الہام ہوا۔
خدا جانے یہ میری سستی، کم علمی ہے یاغیر انسانی حساسیت کے کسی بھی حادثے کو تسلیم کرنے اور اس پر رائے دینے پر جی آمادہ ہی نہیں ہوتا۔ رائے دینا بھی چاہوں تو تب تک اتنی دیر ہو چکی ہوتی ہے کہ حادثہ ہماری روایتی مٹی پاؤ پالیسی کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
پھر لکھنا بھی چاہوں تو لکھ نہیں پاتی کہ حشک ہوتے زحم کریدنا بھی تو غلط ہی ہے نا، دادو کہا کرتی تھیں کہ باری ورسی تیان آئی تے ہسدیاں نو روان آئی ۔ کہ بہت دیر سے تعزیت کرنے آنے والے دراصل ہستے ہوؤں کو رلانے آتے ہیں۔ تو ہنستے ہوؤں کو کوئی کیسے رلا سکتا ہے۔ پر اب کہ درد دل میں سوا تھا۔
گو کہ ہمیشہ ہی دیر کر دیتی ہوں پر اس بار دیر کے بعد بھی میں کہنا چاہتی ہوں کہ میرے لفظ بہت چھوٹے ہیں اور نقصان بہت بڑا ہر جان قیمتی ہر زندگی اہم ہے۔ یر شخص کا جانا ایک خلا ہے ڈی سی چترال بھی جن کا تعلق بھی میرے شہر سے تھا۔ وہ ائیر ہوسٹس جن کی چھ ماہ کی بچی فون کان سے لگائے ماں کو بلاتی ہے۔ ساری عمر وہ بچی محبت کے عظیم لمس سے محروم رہنے والی ہے۔ اور اس کا تین سالہ بھائی جو موت کے ہجے بھی نہیں جانتا ہوگا لیکن پچھلے پانچ دن سے اس نے موت کے پرچھائیوں میں زندگی گزارنا سیکھی ہوگی۔ ہم آپ میں سے کوئی شخص اس بچے سے زیادہ موت کا مفہوم بیان کر سکتا ہے کیا؟
وہ پائلٹ جو فضاؤں میں رستے بنانا جانتا تھا، وہ جب زمین پر آرہا تو کیا بیتی ہوگی اس کی فیملی پر؟
اور ہاں!جنید جمشید وہ جس کا سانولی سلونی پہروں آپ گنگناتے ہوں اور اسی گنگناہٹ پہلی دفعہ آپ کو پتا چلا ہو کہ چوڑیاں چھن نہیں کرتیں شڑنگ کر کے کسی کے ہونے نہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔
اور جب آپ نے ہوش سنبھالنے سے بھی پہلے دل دل پاکستان کی دھن سن لی ہو۔ وہ اڑتا سفید کبوتر اور پیچھے کوئی گاتا تیرا کرم مولا! اور یکایک کرم ہو بھی گیا۔
ایک دن خوبصورت سی آواز کان میں پڑے اور کہے بھکاری بن کے آیا ہوں اور آپ سٹنڈ ہوجائیں۔ کہ یہ تو ہمارا قصہ ہے
بھکاری وہ کہ جس کے پاس جھولی ہے نہ پیالہ ہے۔
بھکاری وہ کہ جس کو حرص و ہوس نے مار ڈالا ہے
واقعی وہ صرف اس کی آواز تو نہ تھی۔ وہ اسمیں چھپی التجا تھی تاثیر تھی جس نے رکنے پر سننے پر مجبور کیا۔ اور پھر سنتے ہی رہنے پر۔
جے ڈاٹ کی شرٹس کے رنگ بھی بھانے لگے ایک دن سنا اس نے کوئی بیان دیا ہے۔ رک کے سوچاکہ اس سے نفرت کی جائے پر اس کے دشمنوں کی زبانوں کے گند نے اس سے تعلق دوبارہ جوڑ دیا۔ مخالفین کی بھی کیا کہیے ہر ابن الوقت نے اپنا بغض نکالاایسا نہیں کے میرا اس کی کسی بات سے اختلاف نہیں تھا بہت سی باتوں پہ بہت سے اختلافات بہت سی ریزرویشنز تھیں پر وہ اس کی زندگی کے ساتھ تھیں وہ جب تک زندہ تھا ہمارا اختلاف زندہ رہا۔ لیکن بدھ کی شام طیارہ گمشدہ ہونے کی خبر سن کر اور یہ سن کر کہ جنید جمشید صاحب بھی موجود ہیں اس طیارے میں،
سارے اختلافات ختم ہو گئے
باقی رہا تو افسوس دکھ اور ملال ایک انسان کے کھونے کا ملال ایک بہترین شخص کے چلے جانے کا دکھ۔ پورا دن سوشل میڈیا سے دور رہنے کے بعد جب لاگ ان ہوئی تو معلوم پڑا ہم گدھوں کے معاشرے میں رہتے ہیں گدھ بھی وہ جو خالق کے نام پہ مذہب کے نام پہ اختیات بانٹتے جنت جہنم کی پلاٹنگ کرتے ہیں۔ جو موت کے بعد بھی نہیں بخشتے کسی کو۔
ہم بعد از مرگ بھی پورا حساب کتاب رکھتے ہیں کہ کون کہاں کہاں پہ کیا کیا کرتا کہتا رہا ہے۔ ہم کسی کی غلطی نہیں بھولتے کہ کہیں فرشتوں کے رجسٹر میں کچھ نوٹ کرنے سے رہ نہ گیا ہو اور کہیں مرنے والا بخشا ہی نہ جائے۔
کیسا دردناک ہے کہ ہم اب ہم آپ احساس کی دولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یقین کریں انسان کی موت پر ہمارا دل دکھ سے نہیں بھر جاتا یہ سراسر نقصان ہمارا نقصان ہے۔ مرنے والے کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس کے پیچھے کون کیا کہتا یا کرتا ہے اس کے سارے حساب کتاب سارے معاملات اس کے پیدا کرنے والے کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔
لیکن پیچھے بچ جانے والوں کو ضرور پڑتا ہے فرق نفرتوں کے زہر میں ڈوبی فضاؤں میں سانس لینا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

کیوں نا اب سے ہم گدھوں کی طرح لاشوں پہ منڈلانا چھوڑ ددیں۔


Saturday, 26 November 2016

بچپن




اچھا تھا بچپن پیارا سا. ٹیکنالوجی نے ابھی دن رات یوں نہیں کھائے تھے کہ ہاتھ میں ٹیبلٹ, آنکھ گیم پر  اور ماں منہ میں نوالہ ٹھونستی ہو کہ جوں جوں گیم چلتی ہے توں توں کھانا ہضم ہوتا ہے۔ دن میں صرف ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھیلنے کی اجازت تھی یا پھر بے بی لونی ٹونز دیکھنے کی۔گو کہ زیادہ پرانی بات نہیں پر جانے کیوں مجھے گمان گزرتا ہے تب وقت بھی یوں پر لگا کر اڑا نہیں کرتا تھا۔سکول سے واپسی پر کام کرکے قاری صاحب سے سیپارہ پڑھنے کے بعد کی ٹوٹل اینٹرٹیمنٹ سارے کزنز کی تخریب کاریاں ہوا کرتی تھیں

کزنز کے معاملے میں بھی ہم خود کفیل تھے ۔ بلکہ دس بارہ چودہ ایکسپورٹ کر دینے کی پوزیشن میں بھی تھے۔ دادا کا بڑا گھر جس کے پیچھے والا زیر تعمیر حصہ جو ہمارا پورا بچپن زیر تعمیر ہی رہا۔سی ایم کا شوق ٹھرک، آئی مین سڑک ہو جیسے. خیر تب نہ تو یہ بکھیڑے نہیں تھے کہ پوچھا کرتے کہ اس کا ٹھیکہ کسی پرائیوٹ کمپنی کو ہی دے ڈالیں۔ پی ایم ڈی سی کے بس کی بات نہیں بابو۔نہ ہی شعور کی یہ خود اذیتی کا دور شروع ہی ہوا تھا۔بلکہ الٹا یہ زیر تعمیر حصہ ہماری جنت تھا۔

تائی امی (رب ان کے درجات بلند کرئے آمین) کو گارڈننگ کا شوق تھا ۔ایک بلی بھی پال رکھی تھی ۔ تو جب اپریل کے شروع میں تائی امی لہسن کے دو تین جوئے زمین میں دبا کر لہسن اگاتی تو ان کے ساتھ ساتھ قطار میں دس پودے مزید لگائے جاتے ۔ہر بچے کا اپنا پودا اور ساتھ میں عہد بھی لیا جاتا کہ اپنی  جان پر کھیل کے ان کی حفاظت  کریں گے۔ اور چار دن بعد جب  پچاسویں بار زمین کھود کے دیکھی جاتی کہ پودا اب کہاں پر ہے تو ہیڈ مالی کزن خبر دیتا کہ یہ پودا نہیں اگنے والا۔ دراصل ہمارے گھر کی زمین لہسن کے لیے موزوں نہیں یوں بھی لہسن کے کچھ خاص فوائد نہیں ہوتے ۔لہذا ہمیں کچھ اور اگانا چاہیے اور یوں قرعہ فال پیاز کے نام نکلتا ۔

پیازوں والی ٹوکری سے دس پیاز چرائے جاتے جو سارے بچوں کی امیوں کی ٹوکریوں سے برابر برابر چرائے جاتے ۔ زمین کھود کر اندر پانی بہایا جاتا ۔ زمین برابر کی جاتی کھاد کے نام پر روٹیوں کے خشک ٹکرے دبائے جاتے اور پیازوں کے دس پودوں کے لیے دس پیاز بو دیے جاتے. بعد میں ہیڈ مالی کزن سے دعا کرائی جاتی ۔یہ وہ کزن تھا جس کے شر سے شیطان بھی پناہ مانگتا تھا لیکن ہم اسے اپنے مدرسے کا امام بنانے پر مجبور تھے کیونکہ پیچھے کھڑا کرنے سے جوتے چوری ہونے کا خدشہ تھ

امام ساب دعا کرانے سے پہلے شرائط طے کر لیتے کہ جو دعا وہ مانگیں گے سب اس پر آمین کہیں گے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق شرائط تسلیم کر لی جاتیں۔ امام ساب دعا کراتے، اے اللہ میرا پودا سب سے لمبا ہو۔اور سارے مقتدی ایسی دعا پر انگشت بدنداں رہ جاتے ۔امام ساب لہجے میں تنبیہ بھر کہ نسبتا بلند آواز میں دعا دہراتے ۔ساتھ ہی کھنکھار کے گویا یہ بھی واضح کرتے کہ وہ ہاٹ لائن پر ون آن ون گفتگو فرما رہے ہیں.لہذا مری مری سی آمین بلند ہوتی

امام ساب ترپ کا پتا پھینکتے کہ یا رب اونچی آمین کہنے والے کا پودا دوسرے نمبر پر ہو اور ساری جنتا آوے ای آوے کے مصداق دیوانہ وار پکارتی آمین۔آمین۔ دعا کا سرا وہیں سے جڑتا۔ اللہ میرے پودے پر سب سے زیادہ لہسن لگے۔مجبوری میں کہا گیا آمین اور اس کے ساتھ ہی مولوی ساب کا آمین کہہ کے منہ پر ہاتھ پھر کر چلتا بننا۔ پیچھے بچی عوام اپنے اپنے پودے کے لیے دعا کرنا بھی چاہتی تو نہ کر پاتی۔   مولانا کزن ساب کا فتوی تھا، اجتماعی دعا کے بعد اکیلے بندے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اور دس دن بعد جب تائی امی اپنے لہسن بارے تشویش کا شکار ہو کہ کھیت کا چکر لگاتیں تو پھر بلا امتیاز، رنگ و نسل، عمر ،جنس و ولدیت سب کی حسب توفیق لتریشن فرماتیں۔ اس عظیم الشان عزت افزائی کے بعد فورا کیبنٹ میٹنگ بلا لی جاتی ۔جو نیم سے لٹکے دو جھولوں تین عدد کرسیوں اور پیڑھیوں پر بیٹھ کر منعقد کی جاتی۔ جس میں کابینہ کے سارے اراکین اسٹیبلشمنٹ کے غیر جمہوری اقدامات کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے اور دادا کی سپریم کورٹ میں ہمارے خلاف مقدمے کو جمہوریت پر حملہ قرار دے کے اس کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لیتے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی طے پا جاتا کی اب ہم چڑیاں طوطے پکڑ لائیو سٹاک کا بزنس کریں گے

اگلی دوپہر ماؤں کے سوجانے کے بعد ساری کابینہ ٹوکری کے نیچے دانہ ڈال کے ٹوکری سے دھاگا باندھ کے دم سادھ بیٹھ جاتی۔ کتنا معصوم شکار تھا۔ شاعر کے بقول چھوٹے تھے تو مکرو فریب بھی چھوٹے تھے۔ دانہ ڈال کے چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور جب ساری دن دھوپ میں گزار کر شام کو ہم ویسٹ انڈیز کے نیشنلٹی کیلئے کوالیفائی کرنے والے ہوتے تو ماؤں کو خبر ہوجاتی۔اگلی دوپہر میں ملیں گے، کی مجسم تصویر بن کر سب چل پڑتے۔اگلے دن جیسے ہی کوئی معصوم پرندہ ہاتھ لگ جاتا تو ہیجڑوں کے گھر پیدا ہونے والے کاکے سا سلوک فرمانا شروع کر دیتے ۔ ہاتھ میں پکڑ پکڑ کے اس کی حالت غیر کر دیتے۔شام تک اس کی حفاظت کرتے اور رات ہونے سے پہلے سیکیورٹی لیکس ہوجاتی کوئی سرل المیڈا سٹوری فائل کرکے چلتا بنتا۔

دادا جان بنفس نفیس آتے سب کی گوشمالی کرتے ہوئے پرندہ اڑاتے اور چل پڑتے۔ ایک دن کے وقفے سے دو خوابوں کے روندے جانے پر ہم سب غم سے رنجور چپ چاپ بیری کو اور انگور کی بیل کو پتھر مارا کرتے۔اور یہشغل تب تک  فرماتے  جب تک نیا کٹا نہ کھول لیتے.اور یوں سارا بچپن کزنز کے چڑیا گھر میں چوں چوں کرتے گزرا.
یہ سب لکھنے کا خیال ایک خبر پڑھ کے آیا کہ ہمارے چالیس فیصد بچوں کو کمیونکیشن ایشوز ہیں۔اور اسکول گوئنگ بچوں کی بڑی تعداد سیریس اٹیٹیوڈ پرابلمز کا شکار ہے۔ پتا نہیں کیوں مجھے ان مسائل کے پیچھے آجکل کی ماؤں کا خود ساختہ سوشل بائیکاٹ بھی ہے جس میں مائیں بچوں کو لے کر شدید آئسولیشن کا شکار ہیں

بھئی سیدھی سی بات ہے جنس با جنس پرواز پانچ پانچ، چھ چھ ،سات سات سال کے بچے جب اپنے ہی جیسے بچوں سے کمیونکیٹ نہیں کریں گے تو لازمی ہے ان کا سکول انہیں کمیونیکیشن سکلز  کے کورسز ہی کرائیں گے اور جب مائیں سارا وقت یہ بتاتی رہیں گی کہ چاچو کے، پھپھو کے، تایا کہ بچے گندے ہیں تو پھر اٹیٹوڈ ایشوز تو ہوں گے ہی۔
 تو میری قوم کی کافی پیاری ماؤں ، سوچیں ذرا بچوں کے نفسیاتی سیشنز کرانے سے کہیں بہتر ہوگا اگر وہ اپنے ہی جیسے بچوں کے ساتھ فیزیکل ایکٹیوٹیز مصروف ہو جائیں۔ مائے ڈئیر لیڈیز کزنز بڑا پیارا رشتہ ہوتا ہے، اسے کم از کم اپنی سیاست کی نظر  نہ کریں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر صرف ایک تعلق باقی رہ جائے سائیکولوجسٹ اور مریض کا.

Wednesday, 23 November 2016

نتھنگ مچ




جب بھی کوئی انکل آنٹی پوچھتی ہیں کے اور کیا کرتی ہیں یا کر لیتی ہیں. تو بے ساختہ جی چاہتا ہے کہ بتاؤں کہ صوفے پہ لیٹ کے میز پر پڑے ریموٹ کو پیروں کے ساتھ چلاسکتی ہوں. دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں اور دونوں انگوٹھوں سے یکساں سپیڈ سے فون یوز کر لیتی ہوں. دو دن کامب نہ کر کے زلف تابدار( کرلی ہیئرز) کو اور بھی تابدار کر لیتی ہوں. دن میں چھ کپ چائے کافی پی سکتی ہوں کزنز کے الٹے سیدھے نام رکھ لیتی ہوں.کسی بھی دوست کو تین منٹ میں اوفینڈ کر سکتی ہوں.صوفے کی بیک پر ٹانگیں ٹکا کر سر نیچے لٹکا کر "چلتے"پنکھے کے پر گن لیتی ہوں. ساکس کے "کپل" کو ایک دن میں سنگل کر لینے کی صلاحیت رکھتی ہوں.
لیکن!!! عجب دستور زبان بندی ہے تیری محفل میں..
جوابا کہتی ہوں تو صرف یہ کہ
نتھنگ مچ._____ اور اس نتھنگ مچ پر میرے اندر کا آرٹسٹ دہائیاں دیتا ہے.
ہے کوئی جو اس نتھنگ مچ کے پیچھے چھپے کرب جو پہچانے اس درد کا درماں بنے اور اس دکھ کا چارہ گر بنے..