Pages

Tuesday, 14 June 2016

وہ ایک لفظ


کوئی لفظ ہو__جو کہا کروں

جو کہوں تو حق پھر ادا ہو.
جو مالکِ عرش کی عطا ہو
جو نہ زندگی سے جدا ہو.
جو درد عشق کا صلہ ہو.
فسوں میں اپنے،جال سا.
وارفتگی میں کمال سا
نہ ہو جو زندگی کہ وبال سا.
تاثیر میں جلال ہو
جسے نہ کہوں تو ملال ہو.
سرمئی ہو کسی شام سا
لب پہ دلربا سے نام سا.
وہ جو میں کہوں تو قبول ہو
اس کہ پاس پہنچے،مقبول ہو.
مجھے فخر اس پہ ہوا کرئے
میں ٹہر ٹہر کے پڑھؤں اسے
میری تشنگی میں کمی نہ ہو
میرا جی کبھی نہ بھرا کرے.
وہ لفظ عاشق کے"حال"سا
وہ لفظ شکاری کے جال سا
وہ لفظ گہرےملال سا
وہ لفظ رب کہ جلال سا.
وہ لفظ بے بس کی آہ سا
وہ لفظ عاجز، دعا سا.
بس ایسا کوئی لفظ ہو..
اور میرے قلم سے ادا ہو.
وہ لفظ عاجز صدا سا
وہ لفظ مفلس ندا سا
وہ لفظ،صحرا میں ٹہری ہوا سا
وہ لفظ لفظوں میں "ماں" سا.
محبت کی اِتراتی ادا سا
محب کے دل کی ردا سا
وارث کے شعروں میں آہ سا
سوہنی کی بہکی ادا سا.
وہ لفظ اک نیا سا
جسے میں کہوں
اور وہ سنا کرے.
سحرش

Sunday, 12 June 2016

تاوان


پتا ہے جاگتے رہنے کہ عذابوں میں سب سے بڑاعذاب کیا ہے_____خواب

جو بلا اجازت نتائج سے یکسر بے پرواہ یکطرفہ محبت کی طرح آنکھوں میں آ گھستے ہیں...سونا تو پہلے ہی بس میں نہیں ہوتا اب جاگتے رہنے کا بھی تاوان بھرنا پڑتا ہے

ہم بھی گویا کسی ساز کہ تار ہیں
سحرش

خوبصورتی


جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سی ہڈیوں پر تھوڑا سا گوشت اور چھلکے جیسی ایپی ڈرمس خوبصورتی کی علامت ہوتی ہے 

تو
یقین کیجیے اس حساب سے
ملوک اور لوکاٹ آپ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں

سہارا


درد کی شدت میں وه شفاء کی امید بن کر اترا ...بے بسی میں میں نے اسے اختیار کی سورت پهچانا....جب دل کی وحشت نے ھر رگے جاں سے دشمنی مول لینا چاھی.....جب دوا اور دعا کے معنی و مفھوم بھی ایک ھو گے تو....قبولیت کی گھڑی کا اکلوتا مالک.....میرے درد کو جاننے والا....وه میرا رب مھربان ھوگیا....اس نے مشکل کو آسانی میں بدلا....

سحرش..

تیری یاد


دل کے سونے آنگن میں

تیرے نام کا جو پیڑ تھا
اب وہ سوکھتا جاتا ہے
اب گھنگھور گھٹائیں جھوم کی آئیں 
یا ساون بھادوں ٹوٹ کہ برسیں
اس پر ہرا سا آخری پتا لرز لرز سا جاتا ہے
جیسے کوئی موم کا شعلہ 
سرد ہوا سے لڑتے لڑتے
آخری سانسیِں گنتا ہو
جیسے راہ کا پتھر
ٹھوکر کھائے 
اور گہری کسی ان دیکھی 
کھائی میں گر جائے
جیسے کسی صحرا کا مسافر
اپنی ہی آواز کہ سائے
ڈھونڈتا ڈھونڈتا مر جائے
لیکن
شعلہ بجھتے بجھتے
پتھر گرتے گرتے
اور "وہ" مرتے مرتے
تیری ذات کو کھوجے 
تیری بات کو سوچے
تیری خوشبو ڈھونڈے
تیری یاد پروسے
اور
مرجائے
سحرش

تعلق


دن میں مرکری اڑتالیس درجے پررہا تھا شام گو دوپہر سے جان لیوا نہ تھی مگر گرمی حبس اور گھٹن میں بدل چکی تھی.

پانی کا جگ میرے سامنے پڑا تھا سولہ گھنٹوں کی آزمائش ہونٹوں پر صدیوں کی پیاس بن کر جم چکی تھی. حاصل میسر موجود ہر نعمت کہ باوجود ہاتھ کسی ان دیکھے ازن کہ انتظار میں ٹہرے ہوئے تھے جیسے صبح صادق سے پہلے آسمان ہوتا ہے سورج کی کرنیں پھیل چکی ہوتی ہیں لیکن اسے نکلنے کا ازن ملنا ابھی باقی ہوتا ہے.
بلکل ایسے ہی اجازت کہ منتظر نگاہیں جب پھیلی ہوئی ہتھیلیوں پر مرکوز ہوئیں تو دل نے صرف ایک ہی صدا لگائی آزمائش کہ مقبول ہوجانے کی پورا اتر پانے کی.
مجھے ہمیشہ سے لگتا ہے کہ ہم تعلق کہ کمزور ترین درجے پر فائز ہیں سوال بھی بہت کرتے ہیں بعض اوقات الجھ بھی جاتے ہیں لیکن پچھلے دو دنوں کے مغرب کی اذان سے پہلے کی دس منٹس نے مجھے سمجھایا ہے کہ ابھی اس میں ہم میں ربط باقی ہے..ابھی تعلق مردہ نہیں ہوا بوجھ نہیں بنا ابھی بھی حد ماننے کا تصور زندہ ہے
اور آخری بات کہ وہ تو ہے جو ہمیں پانی رکھتے جام شیریں بناتے ہوے برف نکالتے کنٹینر میں شفٹ کرتے ہوئے روکے رکھتا ہے وگرنہ اس وقت پیاس کی شدت میں تیرے علاوہ تو کسی اختیار کو نہ مانے تیرا بندا
سحرش

آنٹیاں


ویسے  یہ آج کی ڈیجیٹل آنٹیاں بھی نا ۔ذرا جو ان میں صبر تحمل یا برداشت پائی جاتی ہو۔ایک منٹ سے پہلے لڑنے مرنے پہ تیار ہو جاتی ہیں۔ اور پھر الزام نئی نسل پہ عدم برداشت کا۔
ابھی کل کی بات ہے۔ ایک آنٹی افراط زر اور ملاوٹ پر گفتگو فرما رہی تھیں۔ جب ماحول خوب گرما چکیں تو کہنے لگیں ہم تو بازار سے زہر بھی خرید کر دیکھ چکے ہوں وہ بھی اصلی نہیں ملا۔ہم نے یونہی ازراہ ہمدردی گندم میں رکھنے والی گولیاں استعمال کر نے کا مشورہ دیا تو برا مان گئیں۔.لو بھلا اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے؟؟؟ مشورہ ہی دیا ہے نا...پر نہ جی برداشت ہو تب نا
کچھ دن قبل ایک آنٹی نے فوٹو لگا کہ جب ہمیں بتایا کہ ڈش میں بریانی ہے تو بے ساختہ کہہ بیٹھے کہ آنٹی آپ کہ چاولوں کو سردی لگ رہی ہے۔ جڑ جڑ کہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں کمبل اوڑھا دیں۔ تو بھیا ایسا برا منایا کہ ہمیں بلاک ہی کر چھوڑا
ایک آنٹی نے جب اورنج لپ سٹک میں چوتھی سیلفی پوسٹ کی تو ہم نے کمپنی کا نام اور شیڈ کا نمبر پوچھا۔ اترا کر کہنے لگیں۔۔ کاہے؟؟
ہم نے کہا کہ کمپنی کو ای میل کر کے میبو فیکچرنگ سے منع کرنا ہے۔وہ دن اور آج کا دن وہ ہمیں فیس بک پر دکھتی نہیں۔لگتا ہے اب ہمیں چشمے کا نمبر بدلوانا پڑے گا
ایک آنٹی نے تو حد کر دی اپنے منگیتر کے طوطے کے بچوں کی پیدائش پر فیلنگ بلیسڈ میں ہمیں ٹیگ کر چھوڑا۔ جب ہم نے پوچھا عقیقہ کب ہے؟ خیر سے منے کا۔ تو کہنے لگیں، اچھا مذاق نہیں۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ وہ مذاق نہیں سوال تھا
ایک خاتون نے مہندی لگے ہاتھوں سے منہ چھپ کہ ڈی پی لگائی تو ہم پوچھا کیے کہ ایسا کیا کر بیٹھیں کہ منہ چھپانا پڑگیا۔بس ذرا سی بات پر عمر بھر کے یارانے گئے کہ مصداق ہم سے ناطہ توڑ لیا
ہم ویسے اکثر اس نکتے پر غور و فکر کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے معصوم سوالوں پہ اوفینڈ کیوں کر جاتے ہیں۔پر آج تک سمجھ نہیں آیا
اب آپ ہی انصاف کیجیے۔ اسمیں کچھ اوفینسو ہے کیا؟



نوٹ: آنٹی سے مراد ایک خاص سوچ ہے.