Pages

Wednesday, 20 March 2019

الکیمسٹ


ہوتا یوں ہے کہ جب ہم کچھ نہیں کررہے ہوتے لکھنے لکھانے کا موڈ نہیں بنتا کچن ہمارے شر سے محفوظ ہوتا ہے ہم کوئی کوکنگ بیکنگ ایکسپیرمنٹ پر تلے نہیں بیٹھے ہوتے۔


شاعری جی کو نہیں بھا رہی ہوتی۔ کوئی نثر لبھاتی نہیں۔ تو کوئی ہم سے ملنے بھی نہیں آتا اور رحمان فارس کے مصرعے کے مطابق ہم کو کہیں جانا تو ہے نہیں کی مجسم تصویر بنے سارا دن صوفہ توڑتے رہتے ہیں۔
بقول شاعر
گیلے کاغذ کی طرح زندگی ٹہری اپنی۔
کوئی لکھتا بھی نہیں کوئی جلاتا بھی نہیں۔



ہم اپنے اندرونی اضطراب سے مجبور ہوکر یکسانیت کے اس بھنور میں لکھائی پڑھائی کے کنکر پھینک بیٹھتے ہیں۔ لکھنے کی کوئی سیریز شروع کرتے ہی ہیں کہ مختلف اقسام کی مصروفیات، کام ہمارے سر پہ پتھروں کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ دماغ میں مسلسل تحریر چل رہی ہوتی بیک گراؤنڈ میں فیض کا انتساب نیرہ کی زبان میں مسلسل بج رہا ہوتا ہے کچن الگ دہائیاں دیتا ہے اور مارکیٹ ہمارے لیے سراپا امتحان الگ سے بن جاتی ہے۔ یوں جو تحریر ایک دن میں لکھی جانا ہوتی ہے اسے چار دن لگ جاتے ہیں۔



کتابوں کا ہفتہ منانا شروع کیا تو پس منظر میں وہی ٹہرے ہو ئے گیلے کاغذ کو جلانے کہ خواہش تھی۔ اور کاغذ تو کہاں جلتا ہم جل اٹھے انہیں پتھروں کے آزار جن کو کبھی ہم نے بھی خدا رکھا تھا۔
یعنی پہلی ترجیح۔ اب ہمارے عقائد بارے ہرگز ججمنٹل مت ہوئیے گا۔ آنسہ اچھی خاصی وابی طبیعت ہیں۔
خیر کہاں کا سرا کہاں ملا دیا یوں تو ہم نے ہرگز مینشن نہ کیا تھا کہ ہفتہ کتنے دنوں کا ہوگا اور کتنے دن میں ختم کریں گے ہم ہفتہ۔ لیکن ہمارے ایٹی کیٹس ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے قارئین جن کی مجموعی تعداد دو ہندسوں مین داخل نہیں ہوسکی ابھی تک کو وضاحت پیش کردیں۔ سو دوستو قصہ یہ ہے کہ
کج اونج وی راہواں اوکھیاں سن کجھ گل ویچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔
مرنے کے اسی شوق کے پیش نظر ہم نے ہر وہ کام کیا جس پر شوریدہ سری کے زمانے میں جی آمادہ نہ تھا۔

لکھنا تو تبصرہ تھا اور لکھنا بھی پائیلو کے الکیمسٹ پر تھا لیکن بات کسی اور طرف نکل گئی تو ہم بھی نے بھی کی بورڈ کے بہاؤ کے ساتھ تیرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بھئی اب ہروقت حالت جنگ میں کون رہ سکتا ہے ہمہ وقت بہاؤ کے الٹی طرف کون تیرے۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے چپو چھوڑ دیئے جائیں اور ہاتھ کشتی سے باہر نکالے پانی میں ڈالے نیم دراز دھوپ سے لطف اٹھاتے رہیں اور پانی اپنے ساتھ کسی ان دیکھے جزیرے پر لے جائے اور کہیں نہ بھی لے جائے تو ٹھیک ہے وہیں لے آئے گھما پھرا کر جیسے زندگی لے آتی ہے۔ کوشش کے باوجود فرار کے باوجود اسی دائرے میں رکھتی ہے تو کیا کرلیتے ہیں ہم آپ سوائے جلنے اور کڑھنے کے کر ہی کیا سکتا ہے انسان۔
اختیار والا تو بس الوژن ہی کری ایٹ کیا گیا ہے۔ زمین پر رہنے کا کوئی بہانہ ںھی تو رکھنا تھا نا۔
جیسے غالب کہتا ہے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے مصوری۔
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے۔
تو یہ اختیار و طاقت والا الوژن سجا کر تقریب ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ وگرنہ ایسی حسین تو نہ تھی زندگی کے اس کے لیے مصوری سیکھ لے بندا۔

ہمیشہ ایک سوال کرتی ہوں کہ مرضی تھی میری کوئی زمین پر بھیجنے سے پہلے پوچھا تھا کیا۔
جانے کہاں سے جواب آیا تم تمہاری نہیں اسکی مرضی ہو اس کی رضا سے آئی ہو زمین پر۔ اور ہماری خواہش یا مرضی سے کہیں بڑی مرضی ہے بھئی اسکی سو سر تسلیم خم۔
اب چونکہ اس کی مرضی ہے تو اسے ختم بھی نہیں کیا جاسکتا کوشش فرض ہے سو نبھاتے چلے جانا ہے اس عہد کو۔
اسے ختم کرنے کی کئی خیالات آ آ کہ بھٹکاتے ہیں لیکن ایک تو ازلی ڈھیٹ پن دوسرا کمٹمنٹ کا ہوکا ایسا ابھی تک ہو نہیں پایا۔
اب تو یوں ہے کہ چپو چھوڑ کر بہاؤ کے ساتھ تیرتے ہوئے کشتی پر پڑنے والی ہلکی سنہری دھوپ سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ پانی میں ہاتھ ڈال کر ٹمپریچر چیک کرنے کہ خواہش تک ہولڈ پر لگا رکھی ہے۔ حالانکہ یہ عادت و مزاج کے بہت خلاف ہے۔ شوریدہ سری کے زمانے میں تو اتنی بار پانی کو چھوتے ہیں کہ کشتی کو ڈبونے کے خطرات لاحق ہوجائیں۔
لیکن کہا ہے ناں کہ اب ہر وہ کام کر دیکھتے ہیں جن پر آشفتہ سری باقاعدہ اوفنڈ کرتی ہے۔ ہم اسے آزماتے رہتے ہیں اپنے اندر کے جنگلی کو آزماتے رہتے ہیں۔
وہ بھی چوٹ کھائے جاتا ہے گنگنائے جاتا ہے۔ وہی ڈھیٹ پن والا مسئلہ۔
یہ اس لیے نہیں کرتے کہ خود اذیتی جیسے کسی عارضے کا شکار ہیں یہ سب اس لیے کیا جاتا کہ دیکھیں تو برداشت کی حد کیا ہے۔ اور دیکھیں تو ہم میں اپنے خلاف جانے کی کتنی طاقت ہے۔
اپنے خلاف جانے میں بھی لطف ہے آپ اپنے ہی فیصلے کو جھٹلاتے رہتے ہیں۔ یا پھر خود پر تنقید کیے جاتے ہیں۔ یعنی اپنے ساتھ ایک اور زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔
مسجد کے اس مہاجر طالب علم کی طرح وہ جس کو ہجرت کے ہجے نہیں آتے اسے مسجد کہ سیڑھیوں پہ خاموش افسردہ بیٹھے دیکھا تو اسے جا پوچھا بولتے کیوں نہیں ہو۔ اس کی اداس آنکھوں میں جو تاثر تھا اس نے بتایا یہ اپنے ساتھ کوئی اور زندگی بھی جی رہا ہے۔ ںچپن میں ایسی سنجیدگی طاری کر کے یہ شائد گھر کے بڑے ہونے کا حق ادا کررہا ہے۔
جب اسے کہا گھر آجایا کرو کھیلنے تو کہنے لگا ٹائم نہیں ہوتا کھیلنے کا۔ اس وقت زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کی خواہش دھندلا سی گئی۔
زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے۔
درد کی انجمن جو میرا دیس ہے۔
اس میں ہمارے خود ساختہ مسائل کتنے چھوٹے ہیں۔
انڈیجویل سپیس کے پرسنل فریڈم کے فرصت کے نہ ہونے کے۔ ۔ یا پھر مسلسل فرصت کے۔

اب ایسا بھی نہیں کہ شوریدہ سری زندگی نے پٹخ ڈالی ہے۔ اب بھی شوریدہ سر ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ
صرف محبت کا ہی غم تنہا نہیں
ہزاروں غم ہیں اپنے ںھی پرائے ںھی
تو کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے۔
کبھی تو پھر چپو چھوڑنا ہی پڑتے ہیں۔
اور جب چپو چلانے کے باوجود اس کی پزل کے ٹکرے نہ مل رہے ہوں تو کچھ دیر کو کشتی کو بہاؤ پر چھوڑ دینا چاہیے کیا پتا یہ بھنورسے نکال لے جائے۔ یا پھر کسی بھنور میں ڈال دے نئی انرجی کے ساتھ جو بدلنے کی ساری صلاحتیں رکھتی ہو وہ انرجی۔ پتا ہے زندگی سے بڑا الکیمسٹ کوئی نہیں زندگی کی کان میں کئی پارس بنتے بگڑتے دیکھے ہیں یہاں. کئی کوئلے ہیرے بنتے دیکھے ہیں۔
زندگی کیمائی مادوں کی کمپوزیشن کو بہت بہتر سمجھتی ہے۔
یہ زندگی اور وقت ایسا ظالم کیمیا گر ہے کہ بلاول جالب کو پڑھتا ہے۔
ملا اقبال کو
اور لبرل فیض کو۔
سچ ہے زندگی سے بڑا کیمیا گر کوئی نہیں۔
کبھی کبھی ہمیں صرف ہاتھ پیر چھوڑ کر انتظار کرنا ہوتا ہے اور کشتی پر پڑتی ہلکی سنہری دھوپ سے لطف اٹھانا ہوتا ہے

تھری ڈیز ٹو سی


ہفتہ کتب

تھری ڈیز ٹو سی
ہیلن کیلر۔
تصور کریں آپ روز ایک جنگل سے گزر کر پہاڑ عبور کر کے یا ندی پار کر کے دوست سے ملنے جائیں اور دوست پوچھے رستے میں کیا دیکھا آپ کہیں کچھ خاص نہیں۔ تو پوچھنے والے کے تخیل پر کیا گزرتی ہوگی۔
ہم ہر روز ایسے ہی تجربے سے گزرتے ہیں بہت سارے غیر معمولی منظر معمولی انداز میں دیکھ کر گزار دیتے ہیں۔
تھری ڈیز ٹو سی میں وہ ہی سارے منظر ہیں جو ہم روز دیکھتے ہوئے نہیں دیکھ پاتے۔ 
تین دن کے زندگی جینے کہ خواہش اور ان سارے مناظر کو ذہن میں محفوظ کرنے کی جستجو سے بھرپور یہ کتاب پڑھنا ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اپنا تخیل زندہ رکھنا چاہتا ہے
ہیلن کیلر نے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باوجود تخیل میں بسے جن رنگوں کو دیکھنے جن مناظر کو پرکھنے جن تجربات کو کرنے کی خواہش کی ہے اس جستجو پر اور اس کی تڑپ پر کئی آنکھیں قربان کر دینے کا جی چاہتا ہے۔
ڈبلیو ایچ ڈیوس لکھتا ہے 
We have no time to stand n stare..
No time to trun at beauty's glance
And watch her feet how they can dance.



بس یہ ہی ہیلن نے نثر میں بتایا ہے کہ اوئے پاکستانیو کی طرح انھے واہ کم ای نہ کری جاؤ۔
زندگی پر حق ہے آپکا اس کی خوبصورتیوں پر پورا حق ہے انہیں محسوس کریں ان پر غور کریں ان آبجیکٹس کے پیچھے وجوہات ڈھونڈیں اس تجسس کی تڑپ کو محسوس کریں اپنے احساسات کے بل پر اپنے تخیل کا جہاں آباد کرو۔
کی کری جاندے او کیڑے پاسے ٹرے او۔۔
کیوں دائروں میں گھوم گھوم کہ مرجانے جیسی زندگی کاٹتے ہو۔دوبارہ نہیں آنے کے اسی ایک زندگی کو جی لو۔۔
پگلا گئے ہو جو مادی ترقی کے پیچھے کڑوڑوں کی ایک جان ہلکان کیے رکھتے ہو ہمہ وقت۔
جو جو اپنے تخیل کو آباد رکھنا چاہتا ہے زندہ رکھنا چاہتا ہے اس کا تھری ڈیز ٹو سی پڑھنا بہت ضروری ہے۔
اسی بات کو ایک مصرعے میں باجی گلوکارہ نے یوں بھی باندھا تھا 
تیری دو ٹکیا کی نوکری میں_____
اردو سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا
انگریزی لنک

مادری زبان


ان کا استدلال یہ نہیں تھا کہ بچے پڑھتے نہیں، اچھا تخلیقی ذہن تباہ کر بیٹھتے ہیں یا پھر رٹا لگا کر نمبر لیے جانے والے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دلیل یہ تھی کہ گورنمنٹ سکولز میں بچے پنجابی سیکھتے ہیں پنجابی میں گالیاں سیکھتے ہیں۔ گویا ہمارے بچے تخلیقی نہ بن پائیں مسئلہ نہیں، رٹے لگاتے رہیں ہمیں اعتراض نہیں۔ یہ کوئی نئی چیز یا بات سیکھ پائیں یا نہیں، بس پنجابی نہ سیکھیں اور پنجابی گالیاں تو ہرگز نہیں۔ انگریزی میں البتہ سیکھ جائیں کوئی مسئلہ نہیں کمینہ نہ کہے مین کہنے میں کوئی حرج نہیں کتا تو بہت بڑی گالی ہے با______ کہہ لیا کریں کلاسی لگتا ہے۔

بات بات پہ ہر جملے میں چھتیس بار ایف ورڈ بولے ماں باپ کے سامنے فریج سے گری چیز کو، نہ چلنے پہ ریموٹ کو، چلی جانے پر بجلی کو، بند ہوجانے پر بیٹری کو، ہاتھ پر لگ جانے پر گیٹ کو، سامنے آجانے والی گاڑی کو جواب دیر سے دینے پر دوست کو، ایف ورڈ کہہ لے خیر ہے اتنا تو چلتا ہے۔

لیکن گالی اور وہ بھی پنجابی میں نو وے۔۔ بس کہہ دہا تو کہہ دیا نہیں بولیں گے ہمارے بچے پنجابی۔

اس بات سے تو ذہن میں فوراً اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والی پانچ سالہ آئبہ آئی۔ جو اپنے چھوٹے بھائی کے کھیل پر تنگ آگئیں تو کہنے لگیں۔ مینوں تنگ نہ کر میں تے اگے ای موئی پئی آں (مجھے تنگ نہ کرو میں تو پہلے ہی نیم جاں ہوں)۔

اور ہم نے سارے خاندان میں فخریہ یہ بات سنائی تھی اور اس دن سے آج تک آئبہ سے پنجابی میں باتیں کرتے ہیں قصد۔اً کرتے ہیں۔ اپنی زبان میں اظہار کا جو نشہ ہوتا ہے اسے جعلی مہذب بننے کے ہوکے کا شکار کہاں سمجھ پائیں گے۔ جو نشہ آئبہ کے اس جملے میں ہے جب جھنجھلا کر کہتی ہیں اے سیاپے جوگا ٹیسٹ ای نہیں یاد ہوندا۔ یا پھر جب چھوٹی سی ناک سکور کے کہتی ہے میری جان نو کوئی ایک سیاپا اے۔ یا پھر جب وہ پنجابی جملے کا مافی الضمیر اپنی بڑی بہن کو اردو میں بیان کرتے ہوئے پوچھتی ہو تم کسی اور ملک سے آئی ہو۔

جب وہ ایک سو ستر روپے جیب میں ڈال کے کہہ رہی ہوتی ہے میں سارا شہر خریدن چلی آں۔ اس کے یہ سارے جملے اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے اور بھی خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کو ان جملوں کے پیچھے چھپی تہذیب بھی معلوم ہوتی ہے وہ اپنی جڑوں کے ساتھ جڑی ہے اپنے کلچر اپنے لوگوں سے جڑی ہے وہ اپنے ہی سماج میں ایلین نہیں ہے۔ اور یہ سوچ اس دن گہری ہوتی چلی گئی جس دن باوجود کوشش کے میں سیاپے جوگے ٹیسٹ کا اردو ترجمہ نہ کرسکی اور اس کی استانی ہونے کے باوجود کھکلا کر ہنس پڑی اور پوچھا اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ کہنے لگیں مطلب کچھ نہیں ہوتا سیاپا سیاپا ہی ہوتا ہے۔ اور سیدھی بات ہے بھئی، سیاپا سیاپا ہی ہوتا ہے چاہے اپنی زبان نہ سیکھنے کا ہو چاہے اوروں کی زبانون کو برتر سمجھنے کا۔

انگریزی پڑھائیے شوق سے بچوں کو لیکن انہیں اپنی زبان کا اجنبی مت بنائیے۔ اپنی زبان کے مفہوم سے نا آشنائی سے بڑا کرب کوئی نہیں اس حیوان ناطق کے لیے۔
ان سیاپوں نے ہمارے بچوں کو اپنی جڑوں سے کاٹ دیا ہے۔ کسی بچے کو کہیں کولی پھڑائیں تو ہونق بنے دیکھتے رہتے ہیں۔ جب تک ٹرانسلیٹ نہ کردیا جائے کہ گیو می باؤل پلیز۔

اب آپ سب درج بالا خیالات پڑھ کے لازمی سوچتے ہوں گے کہ آنسہ نظام تعلیم پر کڑی تنقید کرنے والی ہیں ساتھ ہی ساتھ مادری زبان کے فضائل پر لیکچر دیں گی اور بچوں کو دوسری زبانیں نہ سیکھانے کی فضیلت بیان فرمائیں گی۔

ویسے تو آنسہ ایسے کر بھی سکتی ہیں۔ لیکن ہم ایسی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں کہ بچے اپنی زبان کے ساتھ ہی ترقی کر سکتے صرف۔ جیسا کہ دوسری طرف والے احساس کمتری کا شکار نہیں کہ بچے انگریزی کے سوا کسی اور زبان میں گالی دیں گے تو اپ شگن ہو جائے گا۔

دیکھئے بلکہ پڑھئیے۔
انگریزی دنیا کی زبان ہے اس کو پڑھے سمجھے جانے بغیر گزارہ نہیں۔ لیکن اس کے پیچھے اپنی زبان کو کمتر سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی زبان آپ کی تاریخ ہوتی۔ تہذیب ہوتی ہے وہ ساری روایات ہوتی ہیں جن پر فخر کرتے ہیں ہم اور زبان وہ سارے ٹیبوز ہوتی ہے جن کے خلاف لڑتے ہیں ہم۔

انگریزی پڑھائیے شوق سے بچوں کو لیکن انہیں اپنی زبان کا اجنبی مت بنائیے۔ شاید آنسہ کے خیالات سے اتفاق نہ فرمائیں آپ لیکن اپنی زبان کے مفہوم سے نا آشنائی سے بڑا کرب کوئی نہیں اس حیوان ناطق کے لیے۔ جب کسی پر یہ ہی نہ کھل سکے اس کے آباو اجداد کیسے سوچتے تھے وہ جن سے نکلا ہے ان کا اظہار کیا تھا۔ وہ محبت کا غصے کا نفرت کا چڑ کا امید کا پیار کا خوف کا اظہار کن الفاظ میں کرتے تھے۔ وہ مایوس ہوتے تو تھے تو اوہ مین! کے سوا کیا کہتے تھے۔ خوشی میں او گاش کے سوا کیا کہتے ہوں گے۔ گیٹ سم لائف کا اظہار کیسے کرتے ہوں گے۔ اور جو کسی کو یو سمارٹی پینٹس کہتے ہوں گے تو کیسے کہتے ہوں گے اور یقین کریں جو مزا مر پراں میں ہے وہ ٹیک آ ہائیک میں کہاں۔ جو لطف ہنہہ میں ہے وہ گیٹ لاسٹ میں کہاں ہے۔ جس کیفیت کا اظہار چل اوئے میں ہوتا ہے اس کے لیے انگریزی متبادل کہاں سے تلاشا جائ

جو محبت امرتا کی شاعری پڑھ کے محسوس ہوتی ہے وہ شیلے کی نظموں میں بھی نہیں ملتی جو لذت بھری کسک شیو کمار بٹالوی کو پڑھ سن کے ملتی ہے وہ کیٹس کی اوڈذ میں کیوں محسوس نہیں ہوتی۔

بے وفائی کا جو درد مائے نی میں اک شکرا یار بنایا میں ہے وہ فریلیٹی دائے نیم آف وومن میں محسوس کیوں نہیں ہوتا۔

خیر کہنا صرف یہ ہے کہ اگر آپ کا بچہ کیڑیاں سپیرا کو منگاں کونج میل دی میں، میل دی کوئی کونج دیوے، کیڑا ایناں غماں دے لوگیاں دے دراں اوتے، وانگ کھڑا جوگیاں رہوے کا مفہوم نہیں سمجھ سکتے تو ان کے ترجمہ بھی مت کیجیے گا۔ کیونکہ ترجمے میں جو تشنگی رہے گی وہ آپ کے بچے کو مفہوم کی مٹھاس سے ہمیشہ نا آشنا ہی رکھے گی اور یہ تشنگی اپنے بچے کے نصیب میں آپ نے خود لکھی ہو گی

اور جاتے جاتے سنیے کانونٹ جاتی ایمل جب پوچھتی ہے آنا میرا سر کیوں کھانی پئیں ایں تو نشے سا جو سرور ملتا ہے۔ ویسا ہی سرور ملتا ہے آپ سب کا سر کھا کہ یہاں لہٰذا اس تحریر کو سر کھانے کے سلسلے کی ہی ایک کڑی سمجھیں۔ اس میں سے مفہوم مت تلاشئے گا کیونکہ دس گرل از جسٹ ایمپوسیبل۔

رسیدی ٹکٹ




ہفتہ کتب 
رسیدی ٹکٹ
امرتا پریتم
صحافی نے امرتا پریتم سے کہا آٹو بائیو کب لکھیں گی۔امرتا نے جواب دیا زندگی تو یوں گزری کے لکھنے بیٹھوں تورسیدی ٹکٹ پر لکھی جائے۔
پوسٹل ٹکٹس میں رسیدی ٹکٹ سب سے چھوٹی ہوتی ہے سائز میں۔
امرتا نے زندگی بھی ایسے ہی بیان کردی۔
کتاب کی پہلی سطر سے آخری سطر تک نہ ربط ٹوٹتا ہے نہ سحر۔
وہی سحر جو ساحر کا تھا امرتا کی زندگی میں جو امرتا کا تھا امروز کی زندگی میں۔
امرتا کی شاعری میں "ہوکے بھرتا"درد پڑھ کر آپ ساحر سے جتنی نفرت کرتے ہیں اس کی نثر پڑھ کے آپ اس سے اتنی ہی محبت کرنے لگتے ہیں۔
سوچیں جو ساحر نہ ہوتا اور ایسا سیلانی نہ ہوتا تو کیا امرتا ہوتی اور کیا ایسے ہی محبت کو امر کرپاتی امرتا۔
اپنی دھرتی کو مخاطب کر کے اپنی زبان میں جس طرح امرتا محبت کے نئے لہجوں میں گنگناتی ہے وہ اسی کا طرہ ہے جس میں تھوڑے سے تھوڑا زیادہ حصہ ساحر کا ہے۔
خیر کتاب میں امرتا کا بیان ہے اس کی زندگی ساحر سے محبت امروز سے شادی بیٹے کی پیدائش امرتا کے سفر سب کچھ موجود ہے۔
اس کے خیال کے ساتھ ساتھ کبھی آپ ماسکو جا پہنچتے ہیں اور کبھی وہ میونخ لے جاتی ہے آپکو۔
اگر رسیدی ٹکٹ نہیں پڑھی تو اس سال کی لسٹ میں لکھ لیں اسے۔
امرتا سے محبت کی مستقل مزاجی سیکھی تھی اور جب اس کی آنکھ سے دیکھا تو یہ جانا سیلانیوں کی قسمت میں مزاج ہی کی طرح مستقل کچھ نہیں ہوتا۔
امرتا کی کتاب کا تعارف ساحر نامہ بن گیا لیکن کیا کیا جائے امرتا کی زندگی و کتاب سے ساحر نکال دیا جائے تو پیچھے کیا بچے گا?
سماج کی ریتوں میں جکڑی دو آزاد روحیں جن کا شعور انہیں سماج کے بیرئیرز بھی توڑنے نہیں دیتا۔



ڈی جے اینرائٹ لکھتا ہے
باغی ہونا بہت ضروری ہے
لیکن تم ہی ںاغی ہو یہ اچھا نہیں
سو ہم بھی کہتے ہیں سیلانی ہونا بہت اچھا ہے لیکن ہم ہی سیلانی ہوں یہ اچھا نہیں۔ 
ہم ڈرے ہوئے لوگ ہیں شائد سیلانی ہونا افورڈ نہیں کرسکتے۔ عشق میں ںھی عقل ساتھ لیے پھرنے والے۔
جنوں میں بھی خرد کا دامن تھامے رکھنے والے سیلانی نہیں ہوسکتے کہ اس کے لیے جو جرات درکار ہے وہ ہم میں آپ میں نہیں۔ لیکن سیلانیوں سے سماج خالی ہو ایسا جمود بھی اچھا نہیں۔
ساحر کا ہونا اور امرتا کی کہانیوں میں ہونا بہت ضروری ہے۔
وصل و فراق ہمارے لفظ ہیں ایک سائیکولجسٹ کے خیال میں زہنی حالتیں ہیں یہ لہذا منطقی انجام کا ہوکا نہ ہو تو رسیدی ٹکٹ بہترین انتخاب ہوگا بئیمان موسم میں چائے کافی کے ساتھ۔
اور اگر منطقی انجام کے خواہاں ہوں تو امرتاکی وہ نظم گنگنا لیجئے۔
میں تینوں فیر ملاں گی​
کِتھے؟ کس طرح؟ پتا نہیں​
شاید تیرے تخیل دی چھنک بن کے​
تیرے کینوس تے اتراں گی​
یا ہورے تیرے کینوس دے اُتے​
اک رہسمئی لکیر بن کے​
خاموش تینوں تکدی رواں گی​
یا ہورے سورج دی لو بن کے​
تیرے رنگاں اچ گھُلا گی​
یا رنگاں دیاں باہنواں اچ بیٹھ کے​
تیرے کینوس نو ولاں گی​
پتا نئیں کس طرح، کتھے​
پر تینوں ضرور ملاں گی​
یا ہورے اک چشمہ بنی ہوواں گی​
تے جیویں جھرنیاں دا پانی اڈ دا​
میں پانی دیاں بُونداں​
تیرے پنڈے تے مَلاں گی​
تے اک ٹھنڈک جئی بن کے​
تیری چھاتی دے نال لگاں گی​
میں ہور کج نئیں جاندی​
پر اینا جاندی آں​
کہ وقت جو وی کرے گا​
اے جنم میرے نال ٹُرے گا​
اے جسم مُکدا اے​
تے سب کج مُک جاندا ​
پر چیتیاں دے تاگے​
کائناتی کنا دے ہوندے​
میں انہاں کنا نو چناں گی​
تاگیاں نو ولاں گی​
تے تینوں میں فیر ملاں گی



امرتا پریتم۔​

یادوں کی برات۔




جوش ملیح آبادی
اگر فیس بکی نرگسیت سے اکتا چکے ہیں میں میرا مجھے سے دل اوب گیا ہے تو خوشخبری ہے کہ مجسم نرگسیت کتابی شکل میں دستیاب ہے یہ یادوں کی برات کے نام سے کسی ںھی بک سٹور سے نام لے کر طلب کی جاسکتی ہے۔
کتاب بچون کی پہنچ سے دور رکھیں طبیعت ہلکی سی بھی خراب ہو تو توبہ استغفار کریں سکنجبین بنا کر پیئں سٹاربریز کھائیں۔۔تاکہ نشہ ہرن ہوسکے۔
نشہ سے یاد آیا ہر طرح کے "پانی" کی معلومات کے لیے یادوں کی برات کو کتابچہ کے طور پر ریفر کیا جاتا ہے۔
زبان و بیاں کا لطف لینا چاہتے ہیں پرانی تہذیب میں جھانکنا چاہتے ہوں۔نوابی شوق جاننے کا شوق ہوں عشق کہ آہ لگ جائے یا کسی کی واہ کتاب پڑھ سکتے ہیں۔شاعری سے بالا خانوں کے بیان تک تو چلیں بات سمجھ آتی ہے۔
لیکن جب کالج کے لونڈوں کی مانند کل عالم کی حسیناؤں کو پلو سے باندھ لینے کی حسرت ناتمام بصورت تحریر سامنے آتی ہے تو آپ انگشت بدنداں ہی رہ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اپنی انگلی چبانے سے احتراز برتئیے گا کہ چلمن سے لگے بیٹھے والی مجموعی صورت احوال میں ایسا ہو ہی جانا ممکن نہیں۔
اب کل کلاں کو آنسہ کہہ ڈالیں پیسا ٹاور مکا مار کہ ٹیڑھا کردیا تھا تو یقین تو نہ فرماویں گے نا آپ? صرف لطف اندوز ہی ہوں گے نا?
تو ایسا ہی معاملہ سمجھئے۔ کتاب سے لطف اٹھائیے اسے سچ سمجھنے کی غلطی ہرگز نہ کیجیے گا کہ انسان سپر ہیومن نہیں ہوتا ہر معاملے میں رب نے اس کی حد بندی کررکھی ہے حتی کے خواہشات کے معاملے میں بھی۔
اور یوں بھی کچھ تو شاعرانہ مبالغہ ہوتا ہی ہے نا۔
https://www.rekhta.org/133/yadon-ki-barat-josh-malihabadi-ebo133

long walk to freedom



آزادی کی طویل راہ گزر 
نیلسن منڈیلا
ٹائٹل کو یوں سمجھ کر پڑھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا ترجمہ غلط کیا ہے۔ اس کا دراصل ترجمہ آذادی کا دشوار رستہ ہونا چاہیے تھا یا پھر آزادی کی انتھک جدوجہد۔
نیلسن منڈیلا آج کی دنیا میں آزادی کا جدوجہد کا خودرادیت کا اپنی قوم کی سربلندی کا استعارہ ہے۔
وہ اپنی بستی کا وہ مجاہد ہے جس نے جس نے اپنے لوگوں کی آنکھوں میں آزادی کا سپنا بھرا تھا۔
کتاب شروع میں تھوڑی سلو ہے بوریت بھی ہوسکتی ہے ابتدائی حالات قبائل کی زندگی رسوم و رواج یہ سب غیر ضروری اور فرد کی ذاتی زندگی لگ سکتے ہیں۔ لیکن کتاب کا دوسرا سیکشن آزادی کی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس حصے کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔
منڈیلا جی ذاتی ذندگی بیوی بچے گھر گھر کی خواہش مذہب مذہب سے لگاؤ جانے بغیر اس کی اپنی قوم کے لیے جدوجہد سمجھی نہیں جاسکتی۔
کتاب میں کہیں کہیں آپ کھو جاتے ہیں ڈپریشن بھی ہوتا ہے اپنے ہی جیسے انسانوں کا صرف رنگ کی بنیاد پر استحصال اداس بھی کردیتا ہے۔ مجموعی طور پر کتاب ایک فرد کے ذاتی محسوسات سے کر قوم کی آزادی کہ خواہش تک ہر شئے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
آزادی ایک مہنگا خواب ہے ایک مستقل جذبہ۔ آزادیوں اور شعور کا کوئی ریورس گئیر نہیں ہوتا جو ایک بار یہ جام چکھ لے وہ پھر مئے کدے کا نہ ہوکر رہ جائے تو جان لیجئے اس کے جام میں کھوٹ تھی یا نیت میں۔آزادی کو برتنے کی اپنانے کی پانے کی خواہش اتنی مضبوط اتنی زور آور ہوتی ہے کہ پھر اس پر اس کی جدوجہد پر کچھ بھی قربان کیا جاسکتا ہے چاہے مثال نیلسن منڈیلا ہو یا جناح اپنی زندگیوں ذاتی زندگی کی خوشیوں کی قربانی ہر اس شخص نے دی جس نے آزادی کا خواب دیکھا۔
ممکن ہے "دانشور"آپ کو کچھ اور بتائیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ آج کے یورپ کے پالشڈ چہرے کے پیچھے ظلم واستحصال کی ایک طویل داستان ہے جو آپ کو جناح کے مضبوط لہجے میں ملے گی نیلسن منڈیلا کے ستائئس سالوں میں ملے گی اور افریقہ کی آزادی کے وقت اس بوڑھی کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں ملے گی کس نے کہا تھا آج کا دن دیکھے بغیر مرجانا بدترین تجربہ ہوتا۔
آزادی کی قدرو منزلت اہمیت سمجھنا ہو تو آزادی کے اس طویل سفر کو ضرور پڑھیں۔
اگر آپ کی انگریزی اچھی ہے اور بار بار ڈکشنری کھولنے سے کوفت نہیں ہوتی تو پی ڈی ایف لنک لیجئے۔
اگر اردو میں پڑھنا چاہتے ہیں تو دو تراجم موجود ہیں بازار میں
پی ڈی ایف بھی موجود ہے۔
https://www.pdfdrive.com/the-long-walk-to-freedom-e4463449.133

سحرش

ہیپی برتھ ڈے ابا جی




آپ کا کوئی بچہ آپ سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر جا کہ اختلاف نہیں کرتا تو آپ کا کوئی بچہ آپ سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر جا کہ محبت بھی نہیں کرتا سوائے ہمارے۔جب آپ سے اختلاف پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے تو جانا کہ زندگی میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کچھ نہیں ہوتا یا کم سے کم محبتوں میں تو نہیں ہوتا۔ کیسا ہی کڑا موڑ کیوں نہ ہو وہاں سے واپس آیا جا سکتا ہے بشرطیکہ واپس آنا چاہے کوئی۔دراصل میں۔کہنا یہ چاہ رہی ہوں کہ آپ کا کوئی بچہ نفسیاتی نہیں ہے سوائے ہمارے۔اس میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ آپ کے تقریبا سارے بچے نارمل ہیں اور تقریبا کے اُس طرف کھڑے ہیں ہم۔ اب اتنا سا کولیکٹرل ڈیمج تو ہو ہی جاتا ہے نا جنگ اور محبت میں۔
خیر آپ سے محبت ثابت کرنا پڑے ایسے بھی حالات نہیں۔اک ذرا سے نفسیاتی ہیں ہم اور تو کوئی بات نہیں۔
میں کہا کرتی ہوں کہ محبت کا ایک رنگ لائٹ براؤن ہے کیونکہ وہ آپ کی آنکھوں کا رنگ ہے۔
محبت کا ایک رنگ کالا بھی ہے وہ جو آپ پہنتے ہیں۔اور محبت کا ایک رنگ فکر مندی کا سرمئی ہے۔ وہ آپ کے چہرے پہ چھایا ہوتا ہے جب آپ گھر آئے بچوں سے پوچھتے ہیں خوش ہو نا خوش تو ہو نا۔
محبت کا نارنجی بھی ہے جو آپ کے چہرے کے سارے تاثرات چھپا لیتا ہے جب آپ بیٹیوں کے "مستقبل" کی بات کرتے ہیں۔
اور محبت کا ایک رنگ وہ گہرے تفکر میں لپٹا گہرا بھورا ہے جو آپ کے اردگرد ہالہ کئے رکھتا ہے جب بیٹی کو "ملنے" کوئی آئے۔
محبت کی ایک رمز وہ پینک ہے جس کی آڑ میں آپ پریشانی چھپاتے ہیں وہ خاموشی ہے جس کے پیچھے اندیشے چھپا لیتے ہیں۔
اور محبت کا ایک رنگ وہ ایگریشن بھی ہے جو بیٹی کے شکایت لگانے پر آپ دکھاتے ہیں دنیا کو۔😁 محبت کا یہ رنگ مجھ میں بھی ہے تھوڑا سا۔
تھوڑا سا تو آپ پر ہی گئے ہیں۔ہم سب۔
آپ کے ایک بچے نے آپ سے دوست بنانا ان پر اندھا اعتماد کرنا سیکھا ہے۔
دوسرے بچے میں ایگریشن آیا ہے اور سٹریٹ فارورڈ ہونا بھی شائد۔ 
آپ کا ایک بچہ آپکی ساری کھانے پینے کی عادات لے کر زمیں پر اترا ہے۔
اور آپ نے ہم نے کسی نے غور نہیں کیا۔آپ کے ایک بچے میں آپ ہی کی طرح پریشانی میں حل سوچنے کی عادت ہے۔ وہ کسی بھی طرح کے حالات میں مایوس نہیں ہوتا۔
ہم سب میں تھوڑے تھوڑے آپ بستے ہیں اور ہم سب مل کر آپ بنتے ہیں۔
ہم دنیا میں تعلقات بھی بناتے ہیں رشتے بھی انہیں نبھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں کوشش میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ایک سرخ لکیر ہے جس کے اس پار کوئی تعلق نہیں۔ جب کوئی اس لکیر کی طرف دھکیلتا ہے جس میں چوائس ایک رکھنی ہو تو آپ کے بچوں کی ایلٹیمیٹ چوائس آپ ہی ہوتے ہیں اور اس پر کیسا کمپرومائز؟
اور ہاں کسی کی براؤن آنکھوں میں کسے کے چہرے کے تل میں کسی کے بلڈ گروپ میں اور کسی کے گھنگھریالے بالوں میں بھی آپ موجود رہتے ہیں۔
اور میرے ہنہہ کہہ کے ناک سکورنے میں جو آپ ہی کی طرح اکثر باتوں کا آفیشل ریسپانس ہوتا ہے۔ان باتوں کا جنہیں ہم درخوئے اعتنا نہیں سمجھتے۔
مجھے یہ مکمل کرنا نہیں آرہی۔تحریر ویسے محبتوں کے اظہار کو نامکمل ہی رہنا چاہیے تاکہ اس میں تکمیل کی خو باقی رہے۔
بس یہ کہ آپ جییں ہزااااروں سال۔
ہم حشر کی صبح بھی آپکو دائم دیکھنا چاہتے ہیں۔ 
اور پلیز میری بک واپس کردیں پڑھ کے دے دوں گی۔ابھی تو شروع ہی کی تھی۔
ہیپی والا برتھڈے ابا۔

اولڈ مین اینڈ سی



ہفتہ کتب
اولڈ مین اینڈ سی
کیا جانے کہان تک شب ہجراں کا دھواں ہو۔
آپ کے ہاتھوں کی گرفت سے زیادہ پھرتیلا شکار ہو آپ کی ہمت سے زیادہ طاقتور آپ کے اعصاب سے زیادہ مضبوط۔ آپکی طبی اور طبعی عمر سے کہیں کم عمر اور جواں سال دشمن۔ لیکن آپ ہارنے سے انکار کردیں۔ شکست تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہوجائیں اڑ جائیں ٹھان لیں ساری طاقتیں آپ کے خلاف متحد ہوجائیں اور آپ سب کو ہرانا شروع کردیں تو یہ انسانی عقل سے ماروا کر دار بنتا ہے ہیمنگوئے کا اولڈ مین۔
میں نے اگر جناح کو نہ جانا ہوتا نیلسن کو نہ پڑھاہوتا اور خان کو نہ پرکھا ہوتا تو ہیمنگوئے کے کردار مجھے ہمیشہ طلسماتی اور خیالی ہی لگتے۔
لیکن اپنے اردگرد ایسے کردار چلتے پھرتے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندگی کے جبڑوں سے اپنا حق چھین کر لیتے دیکھے تو زندگی پر ہیمنگوئے کے کرداروں پہ میرایقین مضبوط تر ہوتا چلا گیا 
چوراسی دن آپ شکار کے بغیر لوٹتے رہیں بستی آپ کو سبز قدم جاننے لگے کھانا تو کھانا شکار کا چارہ بھی نہ ملے آپ کی کشتی نحوست کی علامت سمجھی جانے لگے لیکن پھر بھی آپ چل پڑیں اپنی ہی دھن میں مگن تو آپ کو اولڈ مین این سی نہ پکاراجائے تو کس چیزسے اسیسوسیٹ کیا جائے آپکو۔
ہیمنگوئے کو اس ناول پر کئی ایوارڈ دئیے گئے۔ 
انسانی عزم ہمت حوصلے اور ناقابل شکست ہونے جیسے کئی لازوال اوصاف تو بیان کیے ہی گئے ہیں اس میں۔
لیکن جو بوڑھے کی (سولویکیز)خود کلامیاں ہیں وہ جان لیوا ہیں۔
نیکی سے محبت بدی کی مخالفت ہیرو شپ دشمن کا کردار نا مناسب حالات ان سب کو ایک ہی ناول میں پڑھنا ہو تو اولڈ مین این سی پڑھ لیں۔
اگر فتوے سے امان پاؤں تو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر رب نے مجھ سے ظلم کے خلاف میری کاوشوں کے متعلق سوال کیا تو میں یہ بھی کہوں گی میں نےاولڈ مین این سی کی شارکوں سے نفرت کی تھی۔
کسی بھی لکھاری کہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ قاری ویسا ہی محسوس کرے جیسا وہ محسوا کرانا چاہتا ہے۔تو ہیمنگوئے کے بوڑھے سے محبت اور شارکوں سے نفرت یہ وہ دونوں باتیں ہےجو ہر قاری پہلی سطر سے آخری تک۔محسوس کرتا ہے۔
احساسات کی ٹرین ہے جو ہیمنگوئے کے قلم سےقاری کےذہن پر چلتی ہے۔
سمندر کو جیتاجاگتا کردار بنانا بھی ہیمنگوے کا ہی خاصا ہے۔آسمان دھوپ سورج ہوا طوفان آسمان مین اڑتے پرندے حتی کہ ہواکارخ کھلا سمندراورچھوٹی مچھلیاں کوئی بھی تو ہیمنگوئے کے قلم کہ زد سے محفوظ نہ رہ سکا۔
چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات اور منظر نگاری پر بھرپور توجہ دی ہے۔
ناول کو پڑھنے کے لیے کافی کالی رات اور بیک گراؤنڈ میں اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہولگا ہو تو کیا ہی بات۔
جب آپ بوڑھے کے ساتھ سمندر کو نکلیں تو پٹھانے خان تان اٹھائے 
میں ایک زمانے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
کیونکہ۔۔۔۔
کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کو دھواں ہو۔
کیا جانے زندگی نے کہاں کہاں آزمائش کا دھواں بھرا ہو۔
اسے پڑھ لیں تو اچھاہے۔ اردو سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا۔
انگریزی والا لنک حاضر ہے۔

Sunday, 23 December 2018

امبانی شادی سماج اور ہم۔




پچھلے کچھ ہفتوں مس امبانی کی شادی کا غل ہے۔ غل اس لئے کہ جب بھی نیوز چینل لگایا جائے۔ مس امبانی کی۔نیوز یو ٹیوب بار بار اپڈیٹیس دے رہی کہ کہیں ہم کچھ مس نہ کردیں۔
ایک میگزین پڑھا کرتے ہیں ہم اس میں فلمی ستاروں کی خبریں بھی آتی ہیں پچھلے تین ہفتوں سے وہاں امبانیوں کا قبضہ ہے۔ اور کارڈ سے لے کر چارٹرڈ طیاروں تک ہر شئے کی وڈیوز اور تصاویر تک ہم تک واٹس ائپ کے ذریعے برابر پہنچتی رہی ہیں۔ ہر قسم کے تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ۔
اس سارے ہنگام میں جو تبصرہ سب سے دلچسپ اور جامع تھا وہ ایک مس عثمان نے کہاکہ "لگدی فیر وی غریب پئی اے"
لیجئے ابا کا اتنا خرچا کرا کے ساڑھے چارسو کڑوڑ کا گھر لے کر جہیز میں خاتون پھر بھی غریب لگ رہی تھی۔ یعنی فائدہ کوئی نہ ہوا اس شادی کا۔
یوں تو بظاہر یہ ایک جملہ ہے "لگدی فیر وی غریب پئی اے"(لگ پھر بھی غریب رہی ہے) لیکن درحقیقت یہ پورے برصغیر کی نفسیات کا خلاصہ ہے۔
ہمیں ہر صورت بس امیر لگنا ہوتا ہے۔ 
چاہے اس کے لیے الٹا لٹکنا پڑے۔
ایک بار دوران شاپنگ ایک سیلز گرل جب ہمیں ایک فینسی برینڈ کی لپ سٹک لینے پر مکمل قائل کر چکیں تو ہم نے کہا وہ دراصل ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔اس کے تاثرات جو تھے سو تھے ہماری بہنوں کے چہروں پہ جو وحشت آنکھوں میں جو غصہ تھا وہ ناقابل بیان تھا۔ایک نےتو ایسی زور سے پسلیوں میں کہنی ماری کے چار دن ٹکور کرتے رہے۔ اور ایک صاحبہ تو ہمیں ڈس اون کر کے اگلے سیکشن کی طرف چلتی بن گئیں۔
ہم سوچتے رہ گئے کہ ہمارے بارے میں درست کہا جاتا ہے کہ ہم ہیں بھی غریب اور سوچ بھی غریب ہے۔ ہم نے احتجاج کرنا چاہا کہ کیوں ضائع کئے جائیں اتنے پیسے اس میں تو ہم چار لپ سٹکس خرید لیں گے۔ بہنوں نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اسے کیوں بتایا کہ پیسے نہیں ہیں۔ بندا غریب ہو لیکن لگے تو نہیں۔
ہم ناک آؤٹ کردینے والی اس منطق کے سامنے کیا ہی بولتے چپ ہورہے۔
یعنی بس ہر صورت مالی طور پر بہت امیر نظر آنا ہے۔تاکہ سماج میں عزت ہو آپکی۔ یعنی حد ہےاوہےاور بے حد ہے جب تک اصراف نہ کرلیا جائے یہ۔سماج آپ کی عزت نہیں کرے گا۔
جب تک آپ نمائش اصراف نہیں کریں گے آپ کو انسان ہی کنسیڈر نہیں کیا جائے گا۔
آپ اپنے ہی جیسے کئی انسانوں میں احساس محرومی تقسیم کریں گے تو ہی یہ مرعوب اور احساس کمتری کا مارا ہوا سماج آپکو انسان کے درجے پر فائز کرے گا۔ وگرنہ آپ کیڑے مکوڑے ہیں۔ اور کیڑے مکوڑے کیڑے مکوڑوں کی عزت نہیں کیا کرتے۔
آپ کو "عزت دار" بننے کے لیے امیر لگنا پڑے گا بھئی۔
آپکو ہر صورت زیادہ کیرٹس والا گولڈ پہننا ہے چاہے اس کے رنگ سے الجھن ہوتی رہے آپ کو بھاری بھرکم شرارےغرارے پہننے ہیں جن کا مہنگا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا تربوز کا سرخ اور خربوزے کا میٹھا ہونا ہے دوسری صورت میں تینوں چیزوں کا مقدر کوڑے دان کے سوا کچھ نہیں۔۔
اسقدر لگنا اوبسیسڈ ہیں ہم۔
آپ انٹلیکچوؤل نہیں ہیں لیکن آپ کو انٹیلکچوئل لگنا ہے۔
آپ کمیپیٹینٹ نہیں ہیں لیکن آپ کو لگنا پڑے گا
آپ پروفیشنل نہیں ہیں نہ بننا چاہتے ہیں لیکن اس سماج کےلئے آپکو بننا پڑے گا۔
آپ کو انگریزی میوزک نہیں پسند لیکن آپ کو سننا پڑے گا وگرنہ کیا اچھے لگیں گے آپ۔؟؟
آپ کو جیولری نہیں پسند لیکن آپ کو پہننا پڑے گی۔اب خالی ہاتھ خالی کان کیا خاک اچھے لگیں گے۔
آپ خوش نہیں ہیں 
آپ مطمئن نہیں ہیں لیکن آپ کو خوش اور مطمئن لگنا پڑے گا۔
آپ اپنے ذاتی "مسائل" سوشل میڈیا کہ زینت نہیں بنانا چاہتے لیکن آپ کو بتانا پڑے گا وگرنہ "کلاسی" (کلاسک) نہیں لگتا نا۔
ہر روز ہم ایک اعلان تو کرتے ہی ہیں کہ یہ سماج رہنے کے قابل نہیں رہا اور ہر روز ہم سب اس سماج کو مزید نہ رہنے کے قابل بناتے رہتے ہیں۔
امبانی شادیاں دیکھ دیکھ مرعوب ہوتے ہیں احساس کمتری پالتے ہیں پھر اس کو ختم کرنے کے لیے گدھوں کی دوڑ میں سرپٹ دوڑتے ہیں۔ کامیاب ہوجائیں تو اپنے ہی جیسے کئی لوگوں میں احساس محرومی بانٹنے لگتے ہیں۔
ہماری شادیاں عقیقے پیدائش کے مواقعے کوئی بھی موقع ایسا نہیں ہوتا جہاں ہم انسانوں کی طرح بہیو کرتے ہوں۔
ہم نے خانے در خانے اتنے درجے بنا رکھے ہیں اور ان درجات۔سے باہر تو ہم کسی کو منہ بھی نہیں لگاتے اور ہماری زندگیوں کا مقصد صرف اور صرف اس درجہ بندی میں اگلا درجہ حاصل کرنا ہے۔
کیا ہم دائرے کے اس سفر سے کبھی باہر بھی نکل پائیں گے یا پھر یونہی آنکھوں کے اطراف چمڑے کے ٹکڑے لگائے اپن دھن میں۔سرپٹ دوڑتے رہیں گے۔
کوئی تو ہو جو ہم۔سب کی آنکھوں پر بندھی یہ پٹی کھول کر ہمیں دائروں کی مسافت سے باہر نکالے۔
اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے۔
کوئی تو ہماری مرعوب ذہنی کا علاج کرئے۔
لیکن کوئی کیوں کرے گا اور کیسے کرے پائے گا جب تک ہم خود نہ کرنا چاہیں گے۔ 
اور ہم کرنا ہی نہیں چاہتے۔
آئیے ہم مس امبانی کے لہنگے کی سستی کاپی ڈھونڈتے ہیں کہیں سے۔

Sunday, 16 December 2018

ہر خون معاف کرنے والا نہیں ہوتا



لکھا کرتی ہوں کہ نہ بھولے گے نہ معاف کریں گے۔
اور کیا لکھوں ایسا جو میرے اندر کی حالت کا ترجمان ہو؟
پچھلے چار سال سے میں لکھنے کی کوششوں میں ہوں۔
میرے فون کے لیپ ٹاپ کے جی میل کے گوگل ڈرائیو کے ڈرافٹس میں ان سب کی تصاویر محفوظ ہیں۔ میں ہر بار ان تصاویر کو دیکھتی ہوں اپنے زخم ہرے کرنے واسطے۔ میں اس زخم کو رستا ہوا رکھنا چاہتی ہوں۔ ان سب کی جدائی کا دکھ ایسا دکھ تو نہیں جس پر چند دن رو لیا جائے بس۔
یہ دکھ میری سانس کے ساتھ ختم ہوگا۔ جب تک یہ دل دھڑکتا ہے اُن معصوم چہروں کی روشنی سے جلا پاتا رہے گا۔
جب تک اس زمین پر میرے لیے امن روشنی امید دکھ اداسی محبت اور نفرت کے استعارے باقی ہیں تب تک اے پی ایس یاد ہے مجھے۔ اس کے بعد کا معاملہ اس کے ترازو میں رکھ دیا ہے۔ زندگی کے ہر ہر معاملے میں اس کے ترازو سے خوف آتا ہے چاہے معاملہ میری ذات کا ہو کوئی اسقدر دل دکھا دے کہ جینا مشکل دکھائی دینے لگے وہاں بھی اس سے ہمیشہ رحم آسانی مہربانی مانگی ہے۔ کبھی انصاف نہیں مانگا کہ جب وہ انصاف کرے گا تو کڑا انصاف کرے گا۔ اس کے ترازو میں کھجور کی گھٹلی سے اترے دھاگے جتنی بے انصافی بھی نہیں ہوگی۔
اے پی ایس کے معاملے میں میں اس سے ایسے عدل کی توقع رکھتی ہوں۔
چاہے اس عدل کی زد میں میں ہی کیوں نہ آجاؤں لیکن میرے بچوں کے معاملے میں عدل چاہیے۔ انصاف چاہیے اس معاملے میں تو میں خود کو معاف کرنے پر بھی تیار نہیں۔ کسی قاتل پلینر یا اس کے حمایتی کو کیا خاک کیا جائے معاف۔
معافی کے قابل بھی کہاں ہیں وہ۔ سارے درندے جنہیں خولہ کا نیا یونیفارم امیدوں بھرا بستہ نظر نہیں آیا۔
جنہیں ایمل آفریدی کی آنکھوں میں زندگی کی خواہش نظر نہیں آئی۔ جنہیں ایک سو چونتیس ماؤں کی گود نظر نہیں آئی ایسے درندے معافی کے قابل نہیں ہوسکتے ہرگز نہیں ہوسکتے۔
نہ صرف قاتل بلکہ حمایتی بھی قابل گردن زنی ہیں۔
میرے بچوں کے معصوم ذہنوں میں خوف کی آبیاری کرنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دینا چاہیے۔
ایسی ہر آنکھ نوش ڈالنی چاہیے جس کی نظر میرے بچوں کے خوابوں پر ہو۔
ایسا ہر ذہن اکھاڑ دینا چاہیے جو میری نسلوں سے امید امن چھیننے کے متعلق کوئی سوچ بھی پالتا ہو۔
ہم جب بیلنس آف پاور پڑھتے ہیں یا امن اور جنگوں لے قضیے نمٹاتے ہیں تو پہلی اور آخری بات یہ ہی ہوتی ہے یہ لڑائی صلح پر منتج ہوتی ہے، ہر جنگ کا انجام مذاکرات ہوتے ہیں۔ اس اٹل حقیقت کو پڑھنے کے جاننے سمجھنے باوجود میں سمجھتی ہوں میرے بچوں کے قاتلوں کا درد ناک انجام تک پہنچنا ہر صورت ضروری ہے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے، جائیں۔
ہر خون معاف کرنے والا نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں ہر ذمہ دار یاد رکھے یہ خون معاف کیے گئے یا کمپرومائز کئے گئے تو ہماری نسلیں داغدار دامنوں کے ساتھ پیدا ہوں گی۔
ہمارے بچے خوف کے سائے میں بڑے ہوں گے۔ ہماری مائیں بہادر پیدا نہیں کر پائیں گی۔ ہمارے باپ جواں سال جنازوں کو کندھے دیتے دیتے تھک جائیں گے۔
اور خوف کے سوداگر موت بانٹتے بانٹتے نہیں تھکیں گے۔
یاد رکھئے موت حادثہ نہیں، المیہ بھی نہیں، لیکن کسی سے زندگی کا حق چھین لینا، طمانچہ ہے جو ریاست کے منہ پر پڑتا ہے۔ اس مادر پدر آزاد کی طرف سے جو یہ حق چھینتا ہے۔ اور اگر یہ حق کسی بچے کسی بزرگ کسی خاتون سے چھینا جائے، سماج کی کسی کمزور اکائی سے چھینا جائے تو طمانچہ پورے سماج کے منہ پر پڑتا ہے۔ ہر ذی شعور کے منہ پر پڑتا ہے اور اگر طمانچہ مارنے والے کا ہاتھ نہ پکڑا جائے تو اس طمانچے کی گونج نسلوں کو بہرا کردیتی ہے۔
میرے بچے میرے لیے پیمانہ ہیں وہ سرخ لکیر ہیں جس کے ادھر کھڑے لوگوں سے میں تعلق مختصر کرلیتی ہوں۔
یہ ہمارا آپ کا نہیں ہماری نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے یہ ہماری نسلوں کی زندگی کی بات ہے اس پر جاگتے رہیئے۔
ہمارے بچوں کے قاتل اگر زندہ ہیں تو کیوں زندہ ہیں اور اگر جہنم واصل ہوچکے ہیں تو ان کے حمایتی یوں کیوں منڈلاتے پھرتے ہیں۔
ان کے فکری حمایتی ابھی تک زبانیں دراز لیے کیسے بیٹھے ہیں۔
میں پچھلے چار سال سے یہ تحریر ایک دن کے وقفے سے لکھتی ہوں۔ کیوں کہ یہ دن میرے لیے کچھ اور چہرے بے نقاب کر جاتا ہے۔
میرے بچے میرے لیے پیمانہ ہیں وہ سرخ لکیر ہیں جس کے ادھر کھڑے لوگوں سے میں تعلق مختصر کرلیتی ہوں۔ اس دن اگر مگر چونکہ چنانچہ لیکن کرنے والے ہر شخص پر لعنت بھیجتی ہوں میں۔ ظالموں کے ہر حمایتی کو اس ظلم کا ساتھ دینے کی مزید دعا دیتی ہوں کہ جب بدلے کا وقت آئے تو ان سب کو کسی شک و شبے کی گنجائش یا فائدہ نہ مل سکے۔ اس دنیا میں اگر وہ اپنی منافقت سے بچ بھی گئے تو حشر میں رب ان کو منافقوں کے انجام سے دوچار کرے۔ میرے بچوں کا خون وہ پیمانہ ہے جس سے قاتلوں کا ہر حمایتی پہچانا جاتا ہے۔ یہ وہی حمایتی ہیں جو سارا سال امن کے محبت کے داعی بنے رہتے ہیں جن کے دل درندے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ سب کوفیوں سے بھی بدتر ہیں کہ ان کے دل بھی مظلوم کا ساتھ نہیں دیتے۔
جب تک مجھ میں زندگی اس کی رمق اس کی خواہش باقی ہے تب تک اے پی ایس کے ہر ذمہ دار سے نفرت باقی ہے۔
اور یہ نفرت اتنی شدید ہے کہ حشر میں اگر اس نے موقع دیا گفتگو کا تو کہوں گی ان سب کے دلوں کی سیاہی ان کے چہروں پہ مل دے۔ ان رو سیاہوں کو ان کی رو سیاہی کا امتیاز بخش کر اس افراتفری میں ان کے لیے مشکل بڑھا دے۔
ان سب کو ظالموں کی حمایت کرنے پر اپنی حمایت سے محروم کردے۔ میں اس سے کہوں خولہ جو تجھ سے سوال کرتی ہے نا کہ میں کس جرم میں ماری گئی اس سوال کی گونج سے ان حمایتیوں سے ان۔ کی سماعتیں چھین لے۔ یہ اپنی ہی زبانیں کاٹ کھائیں اور اپنے الفاظ ہی نہ سن پائیں۔ ان کو اتنی کڑی سزا دے اگر پھر کبھی تو نے دنیا بسائی کبھی کوئی تو تیری سزا کے خوف سے کسی قاتل کسی ظالم کو کوئی حمایتی نہ مل سکے
شائد یہ تحریر مختصر نہ ہوسکے شائد ایسی تحریروں کو ختم نہیں ہونا چاہیے ہر ظالم کے انجام تک ایسی تحریروں کو مکمل نہیں لکھا جانا چاہیے۔
ظالموں کا ہر حمایتی جان لے نہ ہم بھولے ہیں نہ معاف کیا ہے۔ کیونکہ نہ بھولا جاسکتا ہے نہ معاف کیا جاسکتا ہے۔
کیسی تحریر ہے کہ کسی شاعر کی زبانی کہی کوئی بات یاد آرہی ہے نہ کسی ادیب کا کوئی قول۔ بس بے ربط خیالات ہیں روتا ہوا دل ہے۔ اور بے بسی میں ڈوبے آنسو وہ جو ان باپوں کے حوصلے کے سامنے لایعنی ہیں جنہوں نے اپنے جواں سال بیٹے دفنائے تھے۔ وہ ان دوستوں کے احساسات کے سامنے بونے ہیں جنہوں نے خالی ڈیسک کے ساتھ نئی زندگی شروع کی تھی۔
اور مائیں؟؟ ماؤں کے جذبات کون لکھے وہ جو بچے کے پیچھے جہنم بھی چلی جائیں جو اولاد کے لیے زم زم نکلوا دیں اور جو رب کی رضا پر بھی دریا میں بہائیں تو پیچھے بہن کو دوڑائیں کہ دیکھو لخت جگر اب کہاں پر ہے۔ ماؤں کے جذبات کون لکھ سکتا ہے وہ صرف محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ اور محسوس وہ تو کرے گا ہی جس کی محبت کا استعارہ ہے ماں دنیا میں۔ کیسے نہیں کرے گا محبتوں کو نامراد نہیں ٹہراتا۔ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے رب ماؤں کی خاطر ظالموں کے انجام ہمیں ضرور دکھائے گا۔ کیونکہ ہم نہ بھول سکتے ہیں نہ معاف کرسکتے ہیں۔

Tuesday, 11 December 2018

ایک جذباتی سیاسی کارکن کے خواب


سیاست پر لکھنے کے لیے جتنی بار قلم اٹھایا یعنی کی بورڈ کھولا اتنی بار رک گئے، ٹھہر گئے یا تحریر درمیان ہی میں چھوڑ دی، ادھوری۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ جب اتنے لوگ سیاست کر رہے ہیں تو بھلا ہمارے کہے کی کیا ضرورت و اہمیت۔ دوسری وجہ ہمارا اپنے دوستوں سے سیاسی اختلاف ہونا ہے۔ تو جب جب ہم سیاست پر لکھتے ہیں انہیں گماں ہوتا ہے ہم ان کو سنا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی رائے سے کہیں زیادہ اپنے دوستوں کی بدگمانی تکلیف دیتی ہے سو ہم چپ کرجاتے ہیں۔
آج یہ تحریر جو پچیس کی شام ہی لکھنا تھی، نہیں لکھی۔ وجہ ہماری بہت زیادہ سستی کے بعد یہ ہی تھی کہ ہمارے دوست غصے میں تھے اداس یا فرسٹریٹ تھے۔ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ایسے میں سنجیدہ باتیں کر کے انہیں مزید اداس کیا جائے۔
خیر یہ کوئی ایسی سنجیدہ تحریر بھی نہیں اسے ایک جذباتی سیاسی کارکن کی خود کلامی کہا سمجھا جائے تو بہتر ہے۔
تو پچیس جولائی کی شام نہیں لکھا ایسا کچھ تو بعد میں تو ہمارا فرض تھا خاموش رہنا, وقت دینا, برداشت کرنا, سو کیا۔ آج یہ تحریر لکھ رہی ہوں کہ سو دن پورے ہوئے حکومت کے۔ حکومت کے اور اس کی پالیسیز کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے ہیں۔ جو یقینا میرے ملک اور میری قوم کے لیے بہترین ہوں گے۔
خان صاحب آپکو سو دن پورے ہونے اقتدار ملنے پر مبارک ہو آپ سے زیادہ کوئی اس مبارک کا مستحق نہیں۔ ہم تو خیر کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ خان صاحب آپ نے میری نسل کو خواب دیکھنا سکھایا کیا اس کا شکریہ ممکن ہے؟ آپ نے ہمیں سطحی باتوں سے اوپر اٹھ کر ملک و قوم کے لیے سوچنا سکھایا کیا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے؟
خان صاحب جب آپ گرے تھے اس ایک لمحے میں خواب چھن جانے کا جو خوف میں نے اور میری نسل نے محسوس کیا تھا اور اس خوف نے جس طرح ہمیں دیوانہ وار آپ کی طرف لپکنے پر مجبور کیا تھا اس فیلنگ کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بس اس خوف سے رہائی کے لیے آپ کا شکریہ۔
خان صاحب جب آپ گرے تھے اس ایک لمحے میں خواب چھن جانے کا جو خوف میں نے اور میری نسل نے محسوس کیا تھا اور اس خوف نے جس طرح ہمیں دیوانہ وار آپ کی طرف لپکنے پر مجبور کیا تھا اس فیلنگ کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
آپ نے ہمیں خود پر یقین کرنا سکھایا اس ملک پر یقین کرنے اور یقین رکھنے کا حوصلہ دیا۔ بے یقینی کے ساتھ بھی بھلا کوئی تعلق بن سکتا ہے کیا؟ یہ بات ہمیں معلوم تھی کہ ہماری بے یقینی اس ملک کوکھوکھلا کررہی ہے۔ لیکن ہم کس کے آسرے یقین کی مالا جپتے؟ اس تعفن زدہ نظام میں جس میں میرے کالج کی کئی ایکڑ زمین پر سابقہ حکومتی جماعت کے کارکنوں کا قبضہ تھا۔ ان پر رکھتے کیا یقین؟ یا ان پر جنہوں نے گردوارے مندروں اور مسجدوں کی زمینوں پر ناجائز ٹھیکے دے کر عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوے گلی گلی محلے محلے بھجوائے تھے۔ یا ان پر یقین رکھتے جن کے پٹرول پمپس کی وجہ سے ہم روز لمبے چکر کاٹ کر اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچتے تھے۔ اور جب جب ٹریفک کے رش میں پھنستے تھے تو اپنے جرم ضیعفی پر نادم ہوتے تھے۔ خیر ہماری اماں کہا کرتی ہیں باری وری روڑی دی وی سنی جاندی اے
یعنی ایک عرصے بعد کچرا کنڈی بھی صاف ہوجاتی ہے۔
تو ہمیں بھی موقع دیا گیا۔ جیسے کہ زندگی بار بار چانس نہیں۔ دیتی لہذا ہم نے اس چانس پر یقین کیا۔ آپ کی صورت میں۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپکی ہر بات پہ آمنا صادقنا کہا ہو یا آپکو اومنی پوٹینٹ سمجھا ہو یا آپکو ہر مسئلے کا اکلوتا حل تصور کیا ہو۔
آپ پر تنقید بھی کی شدید تنقید آپ سے کبھی کبھی دوری بھی ہوئی کبھی غصہ اور کبھی خوش گمانی انسانی تعلقات کی یہ ہی خوبصورتی ہوتی ہے شائد اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ بقول فراز: کبھی تو کشت زعفراں کبھی اداسیوں کے بن
سماج میں تعلقات تب تک قائم رہتے ہیں جب تک ان میں امید برقرار رہتی ہے جب توقع اٹھ جائے تو شاعر لوگ بھی گلہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
شاید ہماری حالت زار پر رحم آیا تھا رب کو۔ یا پھر آپکی مستقل مزاجی نے ہمیں پرامید رکھا ان سارے حالات میں ہم بھئ غصہ کرتے رہے تنقید کرتے رہے لیکن مایوس نہیں ہوئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا خان صاحب ہم سے کئی لوگ ہیں جن کے پاس آپ سے بہتر آپشن نہیں ہے۔ جب بھی انہیں آپ سے بہتر انسان اس منظر نامے میں نظر آیا وہ اس کی طرف چلا جائے گا۔ خان صاحب۔ آپ کے پاس ڈیلیور کرنے اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔
یاد رکھئے گا ہم نے آپکی خاطر عثمان بزدار کو گوارا کیا ہے۔ ہم نے اعظم سواتی سمیت بہت سے ایلیکٹیبلز برداشت کیے ہیں لیکن ہم اگلی ٹرم میں انہیں برداشت نہیں کریں گے اس بار اتنا کام تو کر جائیں گے اگلی بار ہم ایلیکٹیبلز کے بغیر جیت جائیں۔ جو ہماری فتح ہو سچی فتح ہمارے لوگوں کی فتح۔
خان صاحب اتنا کام تو کرنا پڑے گا آپ کو کہ اگلی بار ہمیں ولید اقبال پر ہمایوں اختر کو ترجیح نہ دینا پڑے۔ اتنا کام تو کرلیں کہ میرے حلقے میں امیدوار کو ٹکٹ لینے براستہ سیالکوٹ بنی گالا نہ جانا پڑے۔ آپکو پتا ہے نا خان صاحب سیالکوٹ بنی گالہ کے راستے میں نہیں پڑتا؟
خان صاحب اتنا ڈیلیور کر جائیں کہ شبلی فراز کو سینٹر نہ بنانا پڑے وہ ہمارے وزیر ہوں۔
خان صاحب اتنا کام کرنا پڑے گا آپ کو کہ ٹو تھرڈ میجارٹی ملے آپ کو اگلی ٹرم میں بڑے اور مضبوط فیصلے کرنے کے لیے۔
خان صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے مخالف پر حوالداروں کو بیرکوں تک محدود کرنے کی جنگ لڑیں تو اس کاایک ہی راستہ ہے صاف سیدھا اور کھٹن کام کرنے کا ڈیلیور کرنے کا لوگوں کو راحت پہنچانے کا۔
خان صاحب ہم آپ کے ہر مشکل فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن آپ کو پہلے اس مشکل راستے پر خود چل کر دکھانا پڑے گا۔
خان صاحب آپ کام کریں اپنے وزیروں کو کہئے کام کریں میڈیا کا پراپیگنڈا خود ہی ناکام ہوجائے گا۔
سوشل میڈیا پر آپ کے لیے لڑنے والے بہت لوگ ہیں۔ جن کا حکومت سمیت کسی ادارے سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں سوائے اس کے کہ ان کی آنکھوں میں ایک رنگین خواب کے رنگ چھلکتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے لیے اپنے ملک کے لیے دیکھا ہوا اک سہانا خواب اور آپ ہی تو کہتے ہیں بڑی خواب دیکھنے والے بڑی فائٹ کرتے ہیں۔ یہاں لڑ لیں گے ہم پر کام کرنا پڑے گا آپ کو۔ یاد رکھئے خان صاحب اپنے سارے ایم این ایز ایم پی یز کو بھی بتا دیجئے ہم ہرگز ہرگز جیالے یا پٹواری نہیں۔ نہ۔ ہمارا بھٹو زندہ ہے نہ شیروں پر فخر ہمیں۔ یہ ان سب کا پہلا اور آخری چانس تھا ہم سے اگلی بار ہمدردی کی امید مت رکھے کوئی۔ کام نہیں کریں گے تو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے ہم انہیں۔
خان صاحب اپنے سارے ایم این ایز ایم پی یز کو بھی بتا دیجئے ہم ہرگز ہرگز جیالے یا پٹواری نہیں۔ نہ۔ ہمارا بھٹو زندہ ہے نہ شیروں پر فخر ہمیں۔ یہ ان سب کا پہلا اور آخری چانس تھا ہم سے اگلی بار ہمدردی کی امید مت رکھے کوئی
خان صاحب آپ بھی یاد رکھئے گا شاہ و ترین سمیت ہر شخص کو بتا دیجئے گا اگلی بار ٹکٹس میرٹ پر دی جائیں گی اور میرٹ وہ ہوگا جو ہم طے کریں گے۔ ہماری ووٹ کو عزت نہیں دیں گے تو ان سب کو اٹھا کر ان کے فیورٹس سمیت باہر پھینک دیں گے۔ ہمارے پاس اب نہ تجربوں کے لیے وقت ہے نا موقع کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
اب ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے ایگریسو ہیں۔ اور اب ہمیں ہمارے انسانی حق چاہیے ہیں اور سارے چاہیے ہیں۔
خان صاحب اتنا ڈیلیور کرلیحئے گا کہ اگلی بار ایسی ایگریسو تحریر نہ لکھنی پڑے۔
سماجی ڈھانچہ ابھی بھی آپکی توجہ کا منتظر ہے۔ کوشش کریں یہ اتنا گھٹن زدہ نہ رہے۔ ہمیں انتہائیں مزید یرغمال نہ بنا سکیں۔ ہماری نسلوں کو ملا گردی نہ بھگتنا پڑے اور میرے بچوں کو کوئی سوڈو لبرل یہ نہ بتا سکے کہ ایکسپوییر آف باڈی ماڈرن ازم ہوتا ہے۔
ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے خان صاحب چاہے وہ موقع پانچ سال بعد آئے یا اڑھائی سال بعد اگر رب کے حبیب صلی علیہ وسلم کی ناموس کو دنیا اور یہ ملک اور عدالتیں اور یہاں کے باسی ہمارا سینسٹو کارنر تسلیم کرلیں اور اس حساس ایریا پر اپنی زبانیں دراز کرنے سے پہلے اگر انہیں رٹ آف سٹیٹ کا خوف گھیر لے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
چاہے کوئی بھی سال ہو یا مہینہ۔
شائد یہ تحریر آپ تک نہ پہنچے لیکن یہ کئی لوگوں کے ان کہے خیالات ضرور ہیں وہ جو آپ کے ووٹر ہیں۔

Thursday, 6 December 2018

حقیقی تخیلات



جب میں کچھ نہیں لکھ پاتی یا پھر درد دیتی حقیقیتیں لکھ لکھ کر تھک جاتی ہوں تو فینٹسیز لکھتی ہوں۔ کھلی آنکھ سے دیکھے ہوئے خواب۔ بلکہ اپنے ہاتھوں سے بُنے ہوئے خواب۔ جن میں زندہ رہنا اتنا ہی دلکش اتنا ہی حسین ہے جتنا کسی دل ربا کے ساتھ من مرضی کی حقیقت جینا۔ بلکہ یہ دل رباؤں، حسیناؤں کے ساتھ جینے جیسی حقیقیتیں ہی تو ہوتی ہیں۔
جب مصنوعی لوگوں سے ملتے ملتے آرٹیفیشل تعلقات بناتے بناتے ہم تھکنے لگتے ہیں تو اپنی دنیا بسا لیتے ہیں۔ اپنی پسند کی دنیا۔
جو کبھی ستارے پر پاؤں لٹکا کر بیٹھنے سے مکمل ہوجاتی ہے۔ تو کبھی سٹار ڈسٹ سے اٹے ہاتھ چہرے پر رکھے بے ساختہ ہنسے چلے جانے سے شروع ہو کر دو ستاروں کا درمیانی رستہ دھنک کے پل پر چلتے ہوئے ختم ہوتی ہے۔ کبھی کہکشاؤں کے راستے پر تمہارا ہاتھ تھامے میں اس دنیا کی حدوں سے پرے کہیں دور نکل جاتی ہوں۔ اتنی دور کہ پھر واپس اس دنیامیں آنے کے لئے خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے۔
ویسے سوچو تو اگر خیال کی دنیا بھی میسر نہ ہوتی تو کیسی بے بسی ہوتی۔ قوت گویائی چھن جانے جیسی۔ نہیں یہ اس سے بھی بڑا نقصان ہوتا۔ گویائی چھن جانا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ بول کر کونسے انقلاب لے آتے ہیں ہم۔ گویائی والے بھی تو سکرپٹڈ ورژن ہی بولتے ہیں نا۔ اپنی ذاتی رائے کا اظہار تو گستاخی ہوتی ہے نا۔ سنو! میری ایک فینٹسی خالص رائے کا برملا اظہار بھی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے ہر شخص کو اس کی ذات پر اس کا اختیار مل جائے۔ مجھے معلوم ہے میرے دیکھے ہوئے بُنے ہوئے خوابوں میں یہ سب سے مشکل ہے۔ پر یہ سب سے خوبصورت بھی تو ہے نا۔ میری ذات پر میرا تمہاری پر تمہارا اختیار۔ ہاں پتا ہے تم سوشل سیٹ اپ کا سوشل نارمز کا حوالہ دو گے۔ میں کب سوسائٹی کے بیرئیرز کو توڑنے کا کہہ رہی ہوں۔ میں تو بس تمہارے معاملات میں تمہارے فیصلوں کی بات کر رہی ہوں۔ خیر یہ بھی فینٹسی ہے۔
میری ساری فینٹسیز ستاروں سیاروں چاندنی دھنک لئے ہوئے نہیں ہوتی۔ کچھ کا تعلق حقیقت سے بھی ہوتا ہ
میری ساری فینٹسیز ستاروں سیاروں چاندنی دھنک لئے ہوئے نہیں ہوتی۔ کچھ کا تعلق حقیقت سے بھی ہوتا ہے۔
فینٹسی پر مبنی حقیقت یا پھر حقیقی فینٹسی۔ یہ جملہ پڑھنے کے بعد یقینا آپ سب سنجیدگی سے سائکا ٹرسٹ والے آپشن پر غور کر رہے ہوں گے۔ ٹھہریے سمجھاتی ہوں۔۔۔ میری حقیقی سی فینٹسی ہے کہ کچھ لوگ جب بول رہے ہوں تو ان کو میوٹ پر لگا دوں۔ وہ بولتے رہیں اور آوازیں بند ہوں۔ ویسے کچھ لوگ چپ رہیں تو کسقدر خوبصورت لگتے ہیں نا؟
میرا جی چاہتا برفیلی باتوں والوں کو شعلے گھول کر پلایا کروں تاکہ ان کے لہجے میں گرم جوشی نہ سہی گرمی ِحیات ہی آجائے۔
میں کبھی کبھی چاہتی ہوں اختیار والوں سے ان کا اختیار چھین لوں اور ان کو ان کی ذات کے غرور کے ساتھ جیتے رہنے کا آپشن دوں۔
میری فینٹسی تو یہ بھی ہے ٹراؤٹ فش کی طرح پانی کے بہاؤ کے الٹ تیرنے والے سارے ٹراؤٹسکی الگ سے ایک بستی بساؤں۔
چاہتی تو میں یہ بھی ہوں میری بستی کے سارے بچے تھوڑے بہت تو بہاؤ کی الٹی سمت میں تیرنا سیکھیں۔سارے ہی کہیں نا کہیں ٹیبوز توڑیں تعصبات کے عینکیوں کے بغیر ننگی آنکھوں سے زندگی کو دیکھیں۔ اوروں کے تجرباتکی۔چھتریوں سے چھاؤںکرنے کی بجائے اپنے اپنے حصے کی دھوپ خود برداشت کرنے جتنی ہمت پیدا کریں ہم۔ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے پرکھیں۔
خیر چاہتی تو میں یہ بھی ہوں لمبی گیلی سڑک پر چلتے چلتے زندگی کی شام ہوجائے اور وہ ایک بھیگی خنکی بھری شام رات میں نہ بدلے۔
چاہتوں کی لمبی فہرست ہے جس میں ہر خواہش پہ دم نکلے والی صورتحال ہے۔
میں چاہتی ہیں ساحر کی نظم کبھی ختم نہ ہو۔
وہ اپنی لو دیتی نگاہوں سے گنگناتا رہے۔

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاوں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بے گانہء الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں
انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں
نہ کوئی جادہء منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری
انہی خلاوں میں رہ جاوں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں کہ مری ہم نفس مگر یونہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
اور اس کے اس خیال کا جواب امرتا اپنی مادری زبان کے میٹھے لہجے میں
میں تینوں فیر مِلاں گی کہہ کر دے۔
کبھی کبھی تو یہ بھی چاہتی ہوں ساحر کو جا کر کہوں تمہاری انا نے محبت کی کہانیوں پر کئیوں کا ایمان کمزور کیا ہوگا۔ کچھ احساس ہے تمہیں؟ اب تو خیر لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ ہم تم دیویوں پر ایمان کے وقت میں ہوتے تو محبت کی دیوی کو شکایت کرتی ساحر کی۔ اور پھر اس دیوی کے سبھی ماننے والے ساحر کا داخلہ محبت کے سب ہی مندروں میں ممنوع قرار دے دیتے۔
میں امرتا سے بھی کہتی۔ مرنے والیوں کے بین لکھنے سے حل نہیں ہوگا مسئلہ۔ اب کلام میں جدت لاؤ جینے والوں کا قصہ لکھو زندگی کی بد سلوکیاں رقم کرو۔ ہم بار بار تھوڑی آئیں گے۔ زندگی سے کہو ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آئے ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ ممکن ہے ہم واپس جائیں تو مارکیٹنگ کردیں زندگی کی۔
لیکن افسوس یہ سب میرے وہ خواب ہیں جن کے پورا ہونے میں ایک عمر ایک زمانہ اور ایک قیامت حائل ہے۔
لیکن اب سب خواب تو جنت پر نہیں چھوڑے جا سکتے نا۔ زندہ رہنے کے لیے خواب دیکھنا پڑتے ہیں اور ان کو تعبیر کرنا پڑتا ہے۔
ویسے میرا ایک اور خواب ہے۔
میرا جی چاہتا ہے دھوپ کنارے کبھی ختم نہ ہو۔ اور ڈاکٹر احمر یونہی ضویا کے تصور کو مسکرا کر دیکھا کرے اور یونہی کہتا رہے۔
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے۔
جیسے ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے۔
پر مسئلہ یہ ہے نا بے وجہ قرار آتا نہیں۔
بے وجہ صرف بے چینی آتی ہے، اداسی آتی ہے اور بے بسی آتی ہے۔ قرار کو وجوہات درکار ہوتی ہیں اور بیمار کو دوا۔
بھوکے کو مضافات سے خوشبو آ بھی جائے تو اس کا پیٹ نہیں بھرتا خوشبو لاکھ حسین سہی پر پیٹ کی آگ نہیں بجھاتی۔ شاعر کے خیالات سے زندگی نہیں بسر ہو پاتی۔
ڈاکٹر احمر اور اس کا تصور لاکھ جاذب و جمیل سہی پرہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔
ہم سے پاگل تخیل میں ڈراموں کہانیوں قصوں کے ہیرو ہیروئن کی محبت کی۔دنیا بسا تو سکتے ہیں اس دنیا میں جی نہیں سکتے۔ اور اگر جی بھی لیں تو وہ زندگی چند لمحوں سے زیادہ کی نہیں۔ کہ ساحر و ضویا بوڑھے ہوجاتے ہیں۔اور احمر اور امرتا مر جاتے ہیں۔
یہ ہی زندگی ہے شائد جب ذرا فرصت کا گمان ہونے لگتا ہے تو وعدہ وفا کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔اور اس سے کئے وعدے کو کون توڑے۔ کس کی جرات وعدہ خلافی کرے۔